اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 17

ان تمام تفاسیر میں انتہائی زور دیا گیا ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں تاکہ حضرت علی کا دوبارہ آنا قرآن سے ثابت کیا جائے 

اور عقیدہ رجعت کو قرآن سے ثابت کرکے پختہ بنایا جائے ۔

لیکن باوجود اس کے بعض شیعہ محققین و مفسرین نے  بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امام مہدی کو دابۃالارض لکھا ہے 

 ابوالفتوح رازی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان روایات کی رو سے جو ہمارے علماء کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں کہ دابۃ الارض حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لیے کنایہ ہے 

 تفسیر روح الجنان از ابوالفتوح رازی جلد نمبر 8 صفحہ 423 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 724 

 تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

یاد رہے تفسیرنمونہ شیعہ کی وہ معتبر ترین تفسیر ہے جو ان کے دس محققین آقاؤں نے ملکر اپنی جدید تحقیق کے مطابق تحریر کی ہے اصل میں یہ تفسیر فارسی زبان میں 27 جلدوں پر مشتمل ہے جو مکتبہ حوزہ علمیہ قم ایران سے شائع ہوئی ہے 

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ محققین کی جدید تحقیق یہ ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ شیعوں کا بارہواں امام جو کسی غار میں چھپا ہوا ہے وہ ظاہر ہوگا ۔اس تحقیق کے مطابق کسی مرنے والے کی رجعت نہیں ہوگی بلکہ ایک غائب حاضر ہوگا اور اس کے علاوہ شیعہ محققین رجعت نے ایک اور تاویل بھی کی ہے کے شیعہ امامیہ کی ایک جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ رجعت کے متعلق جتنی روایات ہیں ان کی تاویل یہ ہے 

 رجوع الدولة۔ ۔۔۔۔والامر والنھی دون رجوع الاستخاص والأحياء والأموات

 یعنی رجعت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت امر ونہی کا رجوع ہوگا نہ کہ کسی شخص کا لوٹانا اور نہ ہی مردوں کا زندہ ہونا 

 تفسیر نورالثقلین جزو رابع صفحہ 111

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 

اگرچہ انہیں مفسرین نے ایسی تاویل کو غلط کہا ہے لیکن اس سے یہ تو معلوم ہوا کہ شیعہ امامیہ کی ایک جماعت مردوں کے زندہ ہونے والی رجعت کا انکار کرتی ہے 

یا مفسرین  نے بالآخر یہ بھی لکھا کہ مذکورہ بالا جماعت کا مردوں کے زندہ ہونے کا انکار اس وجہ سے ہے کہ 

 لان الرجعت لم تثبت بظواہر الاخبارالمنقولة۔ 

 یعنی عقیدہ رجعت صریح طور پر بظاہر منقولا احادیث سے ثابت نہیں ہے اس کو تاویل سے ثابت کیا جاتا ہے اور اس تاویل پر شیعہ علماء کا اجماع ہے 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 235 

 یہی وجہ ہے کہ بلآخر شیعہ محققین نے مجبورا لکھا کہ عقیدہ رجعت اسلام کی بنیادی شرائط میں سے نہیں ہے جیسا کہ تفسیر نمونہ میں شیعہ محققین نتیجے کے طور پر لکھا ہے کہ اس سلسلےکی آخری بات کے طور پر اپنا یہ عقیدہ مکتبہ اہل بیت اور ائمہ اطہار سے لیا ہے لیکن وہ رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے کیوں کہ حرج شیعہ ہونے کے لحاظ سے ضروری ہے لیکن مسلمان ہونے کے لئے ضروری شرائط میں سے نہیں اسی بنا پر اس عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں کا اسلامی رشتہ اخوت آپس میں نہیں ٹوٹتا البتہ شیعہ حضرات منطقی طریقہ سے اپنے اس عقیدے کا دفاع ضرور کرتے ہیں 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 730 

 شیعہ مفسرین نے یہ بھی قرار کیا ہے کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے ثابت نہیں صرف خبر سے ثابت ہے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہمارے علما رجعت کو اصول دین میں شامل نہیں کرتے۔

 تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

کیا شیعہ مصنفین کی متضاد بیانیوں کے بعد کوئی صاحب عقل و دانش عقیدہ رجعت کو تسلیم کر سکتا ہے  

ہرگز نہیں 

جبکہ شیعہ مصنفین نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ عقیدہ رجعت نہ اصول دین میں سے ہے اور نہ ہی اسلام کے بنیادی شرائط میں سے ہے اور نہ ہی مسلمان ہونے کے لئے کوئی ضروری شرط ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ دین اسلام کو ماننے والوں کا اس عقیدے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسری بات یہ کہ دابۃ الارض کے بارے میں خود شیعوں کے علامہ شعرانی نے تفسیرمنھج الصادقین پر حاشیہ لگا کر لکھا ہے کہ دابۃ الارض کا خروج صحیح ہے باقی اس کی تفصیل میں روایات اور مفسرین کے اقوال میں بہت بڑا اختلاف ہے 

اس لئے اس کی تحقیق ہم پر واجب نہیں صرف اجمالی ایمان رکھنا کافی ہے 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 56 

اس سے معلوم ہوا کہ ایک طرف تو شیعہ مصنفین نے مذکورہ آیت سے عقیدہ رجعت کو سینہ زوری سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رجعت کو ثابت کرنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابہ بنالیا لیکن دوسری طرف خود ہی بتا دیا کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے نہیں 

صرف خبر سے ثابت ہے لیکن خبر سری سے بھی نہیں بلکہ تاویل سے ثابت کرتے ہیں اس میں بھی اختلاف کی وجہ سے اس کو نہ اصول دین میں رکھ سکے اور نہ ہی اسلام کی بنیادی شرائط میں اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنے سے بھی ہاتھ اٹھا دیا بلکہ صرف اجمالی ایمان رکھنا کافی سمجھا 

 نتیجہ۔۔۔۔۔یہ انتہائی فحش معنوی تحریف کی گئی ہیے اور یہ تک خیال نہیں رکھا گیا کہ حضرت علیؓ کودابةالارض کہنےسے ان کی شان میں کتنی بڑی گستاخی ہوسکتی ہے   کے طور پر نہ عقیدہ رجعت ثابت کرسکے اور نہ ہی دابۃالارض کو حضرت علی پر چسپاں کر سکے 

 تیسری آیت معنوی تحریف میں 

Surat No 27 : Ayat No 83 

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ  فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ  یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے ۔  

بہت ساری احادیث میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ 

 این ایت دررجعت است ۔۔۔۔۔کہ یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے کہ حق تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو زندہ کرے گا اور قیامت کے بارے میں یہ آیت ہے

 Surat No 18 : Ayat No 47 

وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ  فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾

 اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے  اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو  بھی باقی نہ چھوڑیں گے ۔  

اور فرمایا کہ آیات سے مراد امیرالمومنین اور آئمہ ہیں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 336 

صفحہ 6 از 17