اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 7 از 17

 اور یہی بات شیعوں کے فاضل جلیل حجةالاسلام سید فرمان علی نے اپنے ترجمہ و تفسیر کے صفحہ نمبر 612 پر اسی آیت کی تفسیر میں لکھی ہے 

سوائے اس کے کہ آیت سے مراد امیرالمومنین اور ائمہ معصومین میں یہ نہیں لکھا 

 اور یہی روایت تفسیرقمی میں موجود ہے اس آیت کی تفسیر میں 

 اور ترجمہ مقبول میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ مومنین میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ شہید کیا گیا اور وہ موت کا ذائقہ چکھنے کے لئے رجعت نہ کریں اور جس جس کو رجعت ہوگی وہ یا تو ایمان میں خالص ہوگا یا کفر میں 

 ترجمہ مقبول صفحہ 764 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 720 

 تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 247 

 تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 131 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

  تفسیر نور الثقلین جلد 4 صفحہ 

 تفسیر المیزان جلد 15 صفحہ 582 

ان تمام تفاسیر میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ آیت کریمہ سے عقیدہ رجعت ثابت ہوتا ہے حالانکہ اس میں قیامت سے پہلے کسی کو زندہ کرکے جمع کرنے کا ذکر تک نہیں ہے

بلکہ اس آیت کریمہ اور اس کے بعد والی دو آیات میں قیامت کے دن اٹھانے کا ذکر ہے مثلا فرمایا گیا ہے کہ ہر امت میں سے ہماری آیات کو جھٹلانے والوں میں سے ایک سرکش گروہ کو ہم جدا کرکے کھڑا کریں گے حتیٰ کہ جب وہ آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا  اکذبتم بایاتی۔ کیا تم میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟حالانکہ تمہیں کسی علم کا کوئی احاطہ نہیں تھا اور جو کچھ تم کرتے تھے ہمیں معلوم ہے ان کے ظلم نافرمانی کی وجہ سے ان پر ہمارے عذاب کا قول ثابت ہو جائے گا پس وہ بول ہی نہ سکیں گے 

 سورہ نمل آیت نمبر 83 84 85 

ان آیات کو پڑھنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ  یوم نحشر میں قیامت کے دن کا ذکر ہے جیسا کہ دوسری آیات سے اس کی اور بھی وضاحت ہوتی ہے 

 Surat No 37 : Ayat No 22 

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا  کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

ظالموں کو  اور ان کے ہمراہیوں کو  اور ( جن ) جن کی وہ اللہ کے علاوہ پرستش کرتے تھے  ۔  

 Surat No 37 : Ayat No 23 

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ  فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾ ٙ

  ( ان سب کو )  جمع کرکے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو ۔  

 Surat No 37 : Ayat No 24 

وَ قِفُوۡہُمۡ   اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾                

اور انہیں ٹھہرا لو  ( اس لئے ) کہ ان سے ( ضروری  ) سوال کیئے جانے والے ہیں ۔  

اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ ان سے یہی سوال پوچھا جائےگا کہ اکذبتم بآیاتی۔کیا تم ہو جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے؟ 

جیساکہ دوسری آیات میں ہے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے سرکشوں کو الگ کرکے سخت سزا دی جائے گی 

 Surat No 19 : Ayat No 68 

فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَ الشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ  حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾

 تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے ۔  

 Surat No 19 : Ayat No 69 

ثُمَّ  لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ  شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾

ہم پھر ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے ۔  

Surat No 19 : Ayat No 70 

ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمۡ اَوۡلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾

پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں ۔  

ان آیات کی تفسیر میں شیعہ مفسر بھی یہی تفسیر کرتے ہیں مثلا تفسیر  صافی جلد 2 صفحہ 51 میں ہے 

 من کل الشیعة

سے مراد

من کل امة 

 اور تفسیرمیزان جلد نمبر 4 صفحہ 120 پر ہے کہ 

 روساء وامامان ضلالت را بیرون می آوریم 

 ہر جماعت میں سے گمراہ کرنے والوں روسا اور اماموں کو جدا کریں گے

 ترجمہ۔ یعنی سب سے پہلے اس جماعت کو جو کفر اور نافرمانی میں دوسروں سے زیادہ ہوتی تھی جدا کر کے جہنم میں ڈالیں گے اور اس کے بعد وہ لوگ جو کفر اور سرکشی میں ان سے کمتر تھے ان کو جہنم میں ڈالیں گے 

 تبصرہ۔ ۔۔

ان آیات کی تفاسیر نے مذکورہ آیت۔یوم نحشرمن کل امة۔ ۔۔۔۔۔

کی حقیقت کو واضح کر دیا کہ یہ آیت کریمہ اس منظر کو بیان کر رہی ہے جس وقت محشر کے میدان میں سرکش کافروں کو یعنی کافروں کے پیشواؤں کو جدا کرکے ایک جگہ جمع کرکے ان سے سختی سے حساب لیا جائے گا اور ان کو کہا جائے گا  اکذبتم بآیاتی ۔کیا تم ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو سخت سزا دی جائے گی اس طرح کا مفہوم قرآن مجید کی اکثر آیات میں بیان کیا گیا ہے لیکن شیعہ مفسرین جن کا مقصد ہی قرآن  مجید کی اصل حقیقت کو بگاڑنا ہے وہ قرآن کی تفسیر آیات کے مقاصد کو واضح کرنے کے لیے نہیں بلکہ بگاڑنے کے لیے کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے اس آیت کریمہ سے بھی قیامت کے مقصد کو بگاڑ کر اپنا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت کرنے کی فضول کوشش کی ہے لیکن اس آیت کریمہ اور قران مجید کی کسی بھی آیت میں عقیدہ رجعت کا کوئی اشارہ تک نہیں ہے 

 نتیجہ۔۔۔۔۔۔ 

شیعہ مفسرین نے اس آیت کی بھی انتہائی فحش معنوی تحریف کر کے اپنے من گھڑت عقیدے کے لیے باطل تاویل کے زریعے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے 

 چوتھی آیت معنوی تحریف میں  

   Surat No 3 : Ayat No 157 

وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ 

 Surat No 3 : Ayat No 158 

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

  ترجمہ۔اگر تم خدا کی راہ میں مارے جاؤ یا اپنی موت سے مرے ہو تو بے شک خدا کی بخشش اور رحمت اس مال و دولت سے جس کو تم جمع کرتے ہو ضرور بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت سےہی مارےجاؤ آخر کار خدا ہی کی طرف قبروں سے اٹھائے جاؤ گے 

 ترجمہ فرمان علی شیعہ 

صفحہ 7 از 17