اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 17

قرآن کی ان دو آیات کا ترجمہ جو شیعہ عالم نے کیا ہے اس ترجمے سے ہی  حقیقت کو سمجھنا آسان ہے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں اپنی موت سے مرنا یا قتل ہو کر بھی مرنا ضرور ہے وہاں دنیا کی زندگانی کا جمع کیا ہوا مال کام نہیں آئے گا اور خصوصا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اللہ کی سبیل میں زندگی گزارتے ہوئے خود بخود مر جانے پر جو اللہ کی مغفرت اور رحمت ہے وہ دنیا کے جمع کیے ہوئے مال سے کئی گناہ بہتر ہے اور جس طرح مرنا یقینی ہے تو مرنے کے بعد اللہ کی طرف یعنی قیامت میں جمع ہونا بھی یقینی ہے 

لیکن شیعہ مصنف نے ہر دو آیات کو بگاڑ کر ایک آیت بنائیں اور تفسیر کو بگاڑ کر عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی 

 روایت۔ ملاباقرمجلسی نےدو آیات  کو ملا کرایک آیت بنائیں  ولئن قتلتم فی ۔۔۔۔۔۔۔تحشرون۔ اور اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ بہت سارے طریقوں سے منقول ہے کہ  ایں آیت در رجعت است۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے اور سبیل اللہ علی کی ولایت اور اس کی زریت کی راہ ہے۔جو کوئی اس آیت پر ایمان رکھے گا اس کو قتل ہونا اور مرنا ہے یعنی اگر دنیا کی زندگی میں قتل کیا گیا اس راہ میں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ مریں اور اگرپہلے وہ مرے ہیں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ ان اماموں کی راہ میں قتل ہو 

اور یہی فرمان کل نفس ذائقۃ الموت کی تفسیر میں ہے یعنی جو قتل ہوئے ہیں انہوں نے موت کا ذائقہ نہیں چکا ہے البتہ رجعت میں ان کو دنیا میں لوٹایا جائے گا تاکہ وہ موت کا ذائقہ چکیں ہیں

 حق الیقین  فارسی صفحہ 337    

 روایت 

امام ابو جعفرسے رجعت کے متعلق ایک لطیف انداز سے سوال کیا میں نے کہا جو قتل ہوتا ہے کیا وہ مرتا ہے

 قال لا۔ الموت موت القتل قتل  

امام نے کہا کہ قتل ہونے والا مرا نہیں موت ہے اور قتل قتل ہے 

 مااحد یقتل الا وقد مات

یعنی جو بھی قتل ہوتا ہے وہی یقینا مرتا ہے تو امام نے فرمایا اس طرح نہیں بلکہ موت ہے اور قتل ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کا فرمان ہے کل نفس ذائقۃ الموت جو قتل ہوتا ہے وہ موت کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا پھر فرمایا ضروری ہے کہ وہ لوٹ کر آئے اور موت کا ذائقہ چکھے۔

اور یہیں سے مسئلہ رجعت ثابت ہے کہ جس شخص نے موت کا ذائقہ نہیں چکھا یعنی قتل ہوا ضروری ہے کہ وہ دنیا میں رجعت کرے اور موت کا ذائقہ چکھنا ہے 

 ترجمہ مقبول صفحہ 133 

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 202 

 تفسیر المتقین صفحہ 87 

 تفسیر نور الثقلین جلد 1 صفحہ 403 

 تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 302 

 تبصرہ 

ان تمام تفاسیر میں عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی فضول کوشش کی گئی ہے حالانکہ موت کا مزہ چکھنے کے دو طریقے بتائے گئے ہیں یا تو اپنی موت خود مرا یا کسی کے قتل کرنے سے مرجائے دونوں میں سے کسی طریقے سے بھی مرنے والے کو کفن دیا جاتا ہے جنازہ پڑھا جاتا ہے دفن کیا جاتا ہے وراثت تقسیم کی جاتی ہے ازواج کو عدت میں بٹھایا جاتا ہے عدت کے بعد ان کا شادی کرنا جائز ہے لیکن شیعہ مصنفین نے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کے لئے مقتولین کے لئے موت کا ذائقہ چکھنے کا ہی انکار کر دیا  کیا یہ قرآن کی تفسیر کرنا ہے یا آیات کے صحیح مفہوم کو بگاڑنے کی کوشش کرنا 

اور میت کے احکام میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وراثت عدت نکاح کفن دفن وغیرہ کی ان میں تعارض پیدا کرنا ہے 

  مسلمان مفسرین کی تفسیر

 لوکانواعندناماماتوا۔ ۔۔۔۔۔

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے یعنی لڑائی پر نہ جاتے تو نہ مرتے یعنی نہ قتل ہوتےتو اللہ تعالی نے جواب دیا ۔ یحیی ویمیت۔ ۔۔۔اللہ زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے منافقین کا قول اور اللہ کی طرف سے جواب  ال العمران کی ہی آیت 156 میں مذکور ہے 

اور دوسرے جواب آیت نمبر 157 اور 158 میں یوں دیا گیا ہے کہ اگر تم فی سبیل اللہ قتل کئے گئے یا جہاد کے راستے میں چلتے ہوئے اپنی موت مرتے تو البتہ اللہ کی رحمت اور مغفرت لوگوں کے مال جمع کرنے سے کئی گناہ بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت مرے یا قتل کئے گئے تو البتہ تم اللہ کی طرف جمع کیے جاؤ گے 

 تفسیر الکبیر جلد 5 صفحہ 53 

 اسی سے ملتا جلتا مضمون تفسیر بن کثیر جلد 1 صفحہ 556 میں آل عمران کی آیت نمبر 156 تا 158 کی تفسیر میں 

 شیعہ تفاسیر میں 

شیعوں کے شیخ طوسی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے مومنین سے خطاب فرمایا اے ایمان والو تم ان کافروں مثلا عبداللہ بن سلول اور ان کے ساتھیوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اپنے بھائیوں کے لیے کہا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو لڑائی میں قتل نہ ہوتے اور سفر میں فوت نہ ہوتے اللہ تعالی نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا واللہ یحیی ویمیت یعنی موت اور زندگی کا مالک اللہ ہی ہے کسی کا موت سے بھاگنا اور زندگی طلب کرنا کوئی نفع نہیں دے گا اور اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہےاور اگلی آیت میں فرمایا کہ یقینا لوگ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کی راہ کو چھوڑ کر دنیا کی محبت اور کثرت کی سوچ و فکر میں مال جمع کرتے ہیں اے ایمان والو تمہارا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اس راستے میں فوت ہونا جس کا نتیجہ اللہ کی بخشش و مغفرت ہے ان کے مال جمع کرنے سے بہتر ہے اور اگر تم اپنے موت مرو یا قتل کیے جاؤ ہر حال میں اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے نہ کہ دنیا کی طرف واپس آنا 

 ان خیرا فخیرا وان شرا فشرا

یعنی اچھائی کا بدلہ اچھا اور برائی کا بدلہ براہے 

 تفسیر التبیان جلد 3 صفحہ 28 29 

 اسی سے ملتا جلتا بیان تفسیر مجمع البیان جلد 1 صفحہ 526 پر ہے 

 تفسیر نمونہ جلد 2 صفحہ 281 پر 

صفحہ 8 از 17