اہل تشیع اور تحریف القران - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع اور تحریف القران

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 17

ان تمام تفاسیر میں موت کا ذائقہ چکھنے کی دو صورتیں بتائی گئی ہیں کسی کے قتل کرنے سے موت کا ذائقہ چکھنا یا بغیر قتل کے مر کر موت کا ذائقہ چکھنا اور اس کے بعد اللہ کے پاس جمع ہونا اور اللہ ہی سے اپنے اعمال کا بدلہ ملنا ذکر کیا گیا ہے اور آیات کا سیاق و سباق بھی اسی پر دال ہے باوجود اس کے غالی شیعوں نے آیات کے سیاق و سباق کی پرواہ کیے بغیر اپنا مصنوی عقیدہ رجعت کو اماموں کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرکے لکھ دیا کہ قتل ہونے والا موت کاذائقہ نہیں جاسکتا اس لئے ان تمام کی رجعت ہوگی جو قتل کئے جاتے ہیں وہ اپنی موت مریں گے اور جو اپنی موت مرے ہیں وہ رجعت کے بعد قتل کیے جائیں گے یعنی تمام انسان رجوع کریں گے 

 نتیجہ ۔۔۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اب عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کی ضروریات میں سے ہوگیا حالانکہ ان آیات میں شیعہ کے مصنوعی عقیدہ رجعت کا اشارہ تک نہیں ہے اور شیعہ نے انتہائی فحش معنوی تحریف کی ہے  

 آیت نمبر پانچ معنوی تحریف میں  

Surat No 40 : Ayat No 11 

 قَالُوۡا رَبَّنَاۤ  اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ  اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبارہ مارا اور دو بارہ ہی جلایا  اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں تو کیا اب کوئی راہ نکلنے کی بھی ہے؟ 

 دراحادیث واردشدہ است کہ یک زندہ گردانیدن در رجعت است ودیگری درقیامت ویک زندہ گردانیدن دررجعت است ودیگرے درقیامت ۔

 احادیث میں وارد ہے کہ ایک بار زندہ کرنا رجعت  میں اور دوسری بار قیامت میں ہے اور ایک بار مارنا دنیا میں ہے اور دوسری بار رجعت میں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 340 

 شیعہ مفسر امداد حسین کاظمی نے لکھا ہے کہ تفسیر صافی صفحہ 443 پر باحوالہ تفسیر قمی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ان لوگوں کا یہ قول زمانہ رجعت میں ہوگا 

 تفسیر المتقین صفحہ 606 

 ترجمہ و تفسیر مقبول صفحہ 746 

 ترجمہ و تفسیر فرمان علی صفحہ 746 

 ۔وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (36)

 ۔اللہ تعالی نے جب بھی کوئی نبی مبعوث کیا تو اسے ہماری ولایت اور احمد براءت کا حکم ضرور دیا ہے 

 تفسیر عیاشی جلد 2 صفہ 261 

 البرھان جلد 2 صفحہ 373  تفسیر صافی جلد 3 صفحہ 143 

 تفسیر نور الثقلین جلد 3 صفحہ 60 

 وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَٰهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (51)

 خلاصہ۔۔۔۔۔شیعہ مفسرین نے انتہائی غلو اور تاویلات باطلہ کے ساتھ قران میں موجود  لفظ الہ سے آئمہ کو مراد لیا یے 

لفظ  رب سے بھی آئمہ مرادلیا ہے لفظ  البحر اورالبحار سے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہؓ مرادلیا ہے  لفظ اللوءوالمرجان 

سے حسن وحسین رضی اللہ عنہما مرادلیاہے  اسماءالحسنی سے مراد بھی آئمہ لیا ہے اسی طرح  لفظ شیطان سے مراد حضرت عمرؓمرادلیاہے  

شیعہ مفسرین کی طرف سے بہت زیادہ کثیر تعداد میں قرانی آیات کی معنوی تحریفات کی گئی ہیں جن کو ہم نے شیعہ کے اصول دین میں بھی زکر کیا ہے

 تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 

227

 تفسیر الصافی جلد 3 

صفحہ 83 

 البرھان جلد2ص 309

 بحار الانوار جلد 3 صفحہ 371 

 تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 261 

نور ثقلین جلد 360 

 تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 115 

 اصول کافی جلد 1 صفحہ 257

 فاستبقواالخیرات

الخیرات سے مراد ولایت ہے 

 البرھان جلد 1 صفحہ 163 

 تفسیر صافی جلد1 صفحہ 200 

 علامات وبالنجم ھم یھتدون۔

علامات سے مراد آئمہ ہیں 

 تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 383 

 تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 255 

 الکافی جلد 1 صفحہ 206 

 البرھان جلد 2 صفحہ ٣٦٢ 

 تفسیر الصافی جلد 3 صفحہ 129 

 تفسیر فرات صفحہ 83 

 مجمع البیان جلد 4 صفحہ 62  

 ان اللہ اصطفی لکم الدین 

دین سےمراد ولایت علی ہے

 فلاتموتن الاوانتم مسلمون 

تمہیں موت آئے تو تم ولایت علی پر اسلام لانے والے ہو 

 البرھان جلد 1 صفحہ 156 

 مراۃ الانوار صفحہ 148 

 تفسیرالقمی میں اس آیت

  ان اقیمواالدین

دین سے مراد امام ہے 

 ولا تتفقروفیہ

یہ امیرالمومنین علی سے کنایا ہے 

 کبرعلی المشرکین ماتفعوھم الیہ۔

اس سے مراد ولایت علی کا مسئلہ ہے 

 اللہ یجتبی الیہ من یشاء 

یہ علی سے کنایہ ہے

 تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 273 

 البرھان جلد 4 صفحہ 120 

 تفسیر صافی جلد 4 صفحہ 368 

 بحارالانوار جلد 36 صفحہ 84  

 بل کذبوابالساعة

سے مراد ولایت علی کی تکذیب ہے 

 الغیبۃ صفحہ 54 

 البرھان جلد 3 صفحہ 157 

 مراۃ الانوار صفحہ 182 

 انالننصررسلنا۔ ۔۔۔۔حیات دنیا سے مراد رجعت ہے  

 تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 258 

 تفسیر الصافی جلد 4 صفحہ 325 

 البرھان جلد 4 صفحہ 600 

 باب انھم جنب اللہ ووجہ اللہ۔ویداللہ وامثالھا

 اس باب میں اللہ کی ذات کے بارےمیں تاویلات ملاحظہ فرمائیں 

 ۔۔۔بحارالانوار جلد 24 صفحہ 191 تا203

 الفحشاء ۔المنکر۔البغی ۔المیسر۔ الخمر۔ الانصاب۔الازلام

۔الاصنام ۔الاوثان ۔الجبت۔ الطاغوت ۔المیتة ۔الدم ۔لحم الخنزیر۔

ان تمام الفاظ سے مراد ہمارے دشمن ہیں 

 ۔بحارالانوار جلد 24 صفحہ 

303  

 روایت۔ ۔۔ہماری حدیث سے دل نفوذ ہوتے ہیں پس جو کوئی اسے گوارا کرلے اس کے سامنے ہماری حدیث اور زبان بیان کرو اور جو اسے ناپسند کرے تو اسے چھوڑ دو اور نہ سناؤ یقینا

 بحارالنوار جلد 2 صفحہ 192 

 روایت۔ ۔۔۔سفیان سے مروی ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے کہا میں آپ پر قربان جاؤں یقینا آپ کی طرف سے ہمارے پاس ایک شخص آتا ہے جو جھوٹ بولنے میں مشہور ہے وہ ہمیں ایسی حدیث سناتا ہے کہ ہم اسے بہت برا سمجھتے ہیں ابو عبداللہ نے فرمایا کیا وہ تمہیں یہ کہتا ہے کہ میں نے رات کو دن کہا یا دن کو رات کہا ہے تو اگر وہ تمہیں یہ کہے کہ میں نے ایسا کہا ہے تو اسے مت جھٹلاو وگرنہ تم مجھے جھٹلاؤ گے 

 بحارالانوار جلد 2 صفحہ 211 

 اللوامع النورانیة صفا 549 550 

 رجال کشی صفحہ 194 

 باب فی ماجاءان حدیثھم صعب مستصعف۔

اس باب میں پانچ روایات ذکر ہوئی ہیں 

 الکافی۔ جلد 1 صفحہ 401 402   

 اسی عنوان کے تحت بحار الانوار کہ مؤلف نے باب قائم کیا ہے اور اس میں 116 روایات کر کی ہیں  

 نتیجہ۔۔۔۔۔  

صفحہ 9 از 17