Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

تیسرا اصول دین: قیامت (معاد) پر ایمان

 بنام مفتی عبد العزیز عزیزی دامت برکاتھم 

 ابتدایہ

 رجعت

 رجعت کی لغوی تعریف

 اصطلاحی

 رجعت دیگرادیان میں

 رجعت کی اسنادمتواتر

 خلاصہ کلام

 نتیجہ

 مقصد رجعت

 استلال اہل تشیع

 پہلی آیت 

 تاویلات اہل تشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 دوسری آیت

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین 

 تائیدی شیعی تفاسیر

 تیسری آیت

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 چوتھی آیت

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 پانچویں آیت 

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 متضاد روایات

 روایات کا خلاصہ

 خلاصہ آیات و روایات

 نتیجہ۔ 

ابتدایہ۔۔۔۔

  اسلام میں آخرت پر ایمان لانے کو بڑی تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اس کو روز محشر روز قیامت روز جزاو سزا کہا جاتا ہےاور اس کی حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان جس عقیدے اور عمل پر فوت ہو گا تو اس کو اچھے یا برے عقیدے اورعمل کا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا اگر کسی ظالم کو اللہ تعالی نے دنیا میں ہی اپنے عذاب کا کچھ مزہ چکھایا تو وہ عذاب ادنی یعنی ہلکا ہوگا لیکن وہ بھی اسی ہی زندگی میں نہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں لوٹا کا عذاب دیا جائے گا اس طرح نہیں باقی ہر ظالم کو پورا بدلہ یعنی اصل عذاب قیامت کے دن ہونا ہے جو حقیقت میں فیصلے کا دن یعنی جزا اور سزا کا دن ہے اوراس عذاب کو عذاب  اکبر کہا گیا ہے 

اور قیامت کے دن ہی فیصلہ ہوگا اس کو اللہ تعالی نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے 

  Surat No 22 : Ayat No 69 

اَللّٰہُ  یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ  یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ  فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۶۹﴾

بیشک تمہارے سب کے اختلاف کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی آپ کرے گا ۔  

 Surat No 39 : Ayat No 31 

ثُمَّ  اِنَّکُمۡ  یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۳۱﴾٪                

 پھر تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے ۔  

ان دونوں آیات اور دوسری بہت ساری آیات سے ثابت ہے کہ مرنے کے بعد قیامت کا دن ہی فیصلے کا دن ہے جس میں مومنین کو جنت کا انعام دیا جائے گا اور انکاریوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا کہ یہ تمہارے ان عقائد اور اعمال کا بدلہ ہے جو واقعی تم نے دنیا میں اختیار کئے تھے اور جو اعمال تم نے کیے تھے پوری اسلامی تعلیم میں یہ نہیں ہے کہ قیامت سے پہلے ایک اور قیامت ہونی ہے جس میں دوبارہ زندہ کر کے نیک کاروں کے ہاتھوں سے بدکاروں کو قتل کرایا جائے گا ۔لیکن شیعہ مذہب میں اس کے برعکس قیامت سے پہلے ایک اور قیامت برپا ہونے والی ہے اور وہ قیامت ان کے بارے میں امام محمد مہدی الغائب المنتظر کے غار سے باہر آنے کے بعد ہوگی اور خود وہ جس کو چاہے گا زندہ کرے گا

 اللہ نے آئمہ کو خلیفہ بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ رجعت کے بعد کا ہے نبوت کے بعد بلافصل نہیں ہے   

 رجعت ۔۔ شیعہ کے عقائد خاصہ میں سے ہے جس کے تحت بعض صالحین موت کے بعد مہدی موعود(ع) کی مدد کے  لئے زندہ ہونگے نیز بعض بدکار افراد دنیاوی زندگی میں پلٹ کر آئیں گے تاکہ اپنی سزا پائیں اور اپنے کئے ہوئے مظالم کے بدلے انتقام کا سامنا کریں۔

 ملاں باقر مجلسی لکھتے ہیں 

بداںکہ الرجعة اجماعیات شیعہ بلکہ ضروریات مزہب فریضہ حجة دراثبات رجعت است 

 توجان لے کہ عقیدہ رجعت شیعہ مزہب کے اجماعی عقیدے میں سےبلکہ ضروریات مزہب میں سے عقیدہ رجعت ہے

 حق الیقین ص354 

 اعتقادنا فی الرجعت انھا حق

رجعت کے حق ہونے پر ہمارا یقین ہے 

 عقائد اثنا عشریہ ص49

عقیدہ رجعت شیعہ کے مشہور عقائد میں سے ہے 

 تفسیر نمونہ ج8/726 

 رجعت کے لغوی معنی

لفظ "رجعت" مصدر ہے جو مادہ "ر ـ ج ـ ع" سے مشتق ہے اور اس کے لغوی معنی بازگشت (= لوٹنے اور پلٹنے) کے ہیں۔

  المعجم الوسیط، ذیل ماده رجع

 اس اعتقادی اصول کے لئے آیات قرآن اور احادیث  میں مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں جیسے: "رجعت"، "کرّۃ"، "ردّ" اور "حشر"؛ تاہم لفظ "رجعت" زیادہ مشہور ہے۔ لفظ "مصدر مَرَہ" ہے اور اس کے معنی ایک بار پلٹنے اور واپس ہونے کے ہیں؛ جیسا کہ  اما لفظ رجعت مشهورتر است۔ رجعت مصدر مرّه به معنی یکبار بازگشتن است، چنانکه در لسان العرب آمده است: رجعت مصدر مرّه از ماده رجوع است۔

 ابن منظور، لسان العرب ج8، ص114

  فیومی کہتا ہے: رجعت بفتح عین  بمعنی رجوع کرنے اور لوٹ آنے کے ہیں اور جو رجعت پر یقین رکھتا ہے وہ دنیا میں پلٹ آنے پر ایمان رکھتا ہے

 فیومی مصباح المبین ص84

 رجعت کے اصطلاحی معنی

اصطلاح میں رجعت کے معنی یہ ہیں خداوند متعال ظہور امام مہدی(ع) کے وقت آپ(عج) کے بعض شیعوں کو زندہ  کرے گا اور دنیا میں پلٹا دے گا تا کہ آپ(عج) کی مدد کریں اور آپ(عج) کی حکومت کا مشاہدہ کرنے کی سعادت پائیں۔ نیز آپ(عج) کے بعض دشمنوں کو پلٹا دے گا تا کہ دنیا کا عذاب چکھ لیں اور امام مہدی(عج) کی طاقت و شوکت کو دیکھ لیں اور جان لیں۔

 طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص406

 علامہ طباطبائی اپنی تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں: غیر شیعہ فرقے ـ عامۃ المسلمین ـ اگرچہ ظہور مہدی(عج) پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے سلسلے میں احادیث کو تواتر  کے ساتھ نقل کرچکے ہیں لیکن وہ مسئلۂ رجعت کے منکر ہوئے ہیں اور اس کو شیعہ اعتقادی خصوصیات کا جزو سمجھے ہیں۔

 الطباطبائي، المیزان، ج2، ص106

شیعہ فرقوں میں رجعت کا پس منظر

بعض تاریخی واقعات کے ضمن میں عراق کے بعض لوگوں کی طرف اشارہ ہوا ہے جو امام علی(ع) کی شہادت کے  فورا بعد آپ(ع) کی دنیا میں رجعت اورواپس آنے پر یقین رکھتے تھے

 طبری، جامع البیان عن تاویل القرآن، ج14، ص140

 محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعدامام موسی کاظم(ع) کی شہادت اور امام عسکری(ع) کی شہادت کے بعد بھی بعض شیعہ فرقے ان کی دنیا میں رجعت اور پلٹ آنے پر یقین رکھتے تھے۔

اسی طرح تقریباتمام اماموں کے صاحبزادوں بارے یہی اختلاف شیعہ فرقوں میں ہے 

 نوبختی، فرقة الشیعه، ص25

 نوبختی، فرقة الشیعہ، ص67۔

 نوبختی، فرقة الشیعہ، ص79-80

 رجعت دیگر ادیان میں

عہد عتیق میں رجعت کے موضوع کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ حزقیال نے بنی اسرائیل کے زندہ ہوجانے اور آخر الزمان میں داؤد(ع) کی حکومت کی طرف اشارے کئے ہیں

  عهد عتیق 37: 21-27

 امو دانیال نے بھی کہا ہے: آخر الزمان میں ـ وہ جو مٹی میں سو چکے ہیں ـ جاگ اٹھیں گے

  عهد عتیق 12: 1-3

عہد جدید میں بھی قیامت ثانیہ سے پہلے، مسیح کی  حکومت اور ان کے آباء و اجداد کے زندہ ہوجانے کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔

 مکاشفه یوحنا 20: 4-6

رجعت کی اسناد متواتر ہیں

رجعت کے بارے میں احادیث و اسناد اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر قسم کے شک و شبہے کی نفی ہوجاتی ہے۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں 1600 رجعت کے  سلسلے می نازل اور وارد ہونے والی آیات و روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: "ان لوگوں کے لئے ـ جو ائمہ(ع) کے کلام پر یقین رکھتے ہیں ـ شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ مسئلۂ رجعت حق ہے، اور اس باب میں ائمہ(ع) سے وارد روایات متواتر ہیں اور تقریبا 2000 روایات وارد ہوئی ہیں جو اس امر پر تصریح کرتی ہیں اور ان روایات کو 40 سے زائد اکابرین علماء اور محدثّین نے 50 سے زائد معتبر کتب میں ثبت و ضبط کیا ہے۔ :جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

 شیخ صدوق،

 کلینی رازی،

 شیخ طوسی،

 سید مرتضی علم الہدی،

 احمد بن علی نجاشی،

 محمد بن عمر کشی،

 محمد بن مسعود سمرقندی عیاشی،

 علی بن ابراہیم قمی،

 شیخ مفید،

 ابوالفتح کراجکی،

 محمد بن ابراہیم نعمانی،

 محمد بن حسن صفار قمی،

 ابن قولویہ،

 سید ابن طاؤس،

 فضل بن حسن طبرسی،

 ابن شہر آشوب اور

 سعید بن ہبۃ اللہ راوندی۔

مجلسی بعدازاں ان کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مسئلۂ رجعت پر تالیف ہوئی ہیں۔

 مجلسی، بحارالانوار، ج53، ص96 و 122

 علاوہ ازیں بہت سی زیارات اور دعاؤں میں بھی رجعت کے عقیدے پر تاکید ہوئی ہے جیسے زیارت جامعہ، زیارت وارث، زیارت اربعین، زیارت آل یاسین، زیارت رجبیہ و دعائے وداع اور دعائے عہد

قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، زیارت جامعه کبیره، آل یس و دعای عهد

نکتہ: شیعہ رجعت پر یقین و اعتقاد راسخ رکھنے کے باوجود رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے؛ کیونکہ رجعت مذہب شیعہ کی ضروریات و مسلمات میں سے ہے ۔۔۔  اور جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے رجعت پر ایمان، ایمان کامل اور حقیقی اسلام کی شروط میں سے ہے۔

  مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج15، ص593

 خلاصہ کلام ۔۔۔۔

1۔۔۔عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کے متواتر بالمعنیٰ روایتوں  سے ثابت ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 354 

2۔۔۔۔عقیدہ رجعت  شیعوں کا اجماعی عقیدہ ہے 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 765 

3۔۔۔۔۔جو رجعت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ شیعہ نہیں ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 335 

4۔۔۔۔۔عقیدہ رجعت کا انکار محض بے دینی ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 354 

5۔۔۔شیعہ علما ہر دور میں اپنے عقیدہ رجعت کا دفاع کرتے رہے ہیں 

6۔۔۔۔رجعت کا انکار حشر اور قیامت کے انکار کی طرح ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 354 

7۔۔۔‏رجعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئمہ معصومین خاص خاص مومنین اور خاص خاص منافقین دنیا میں واپس آئیں گے

 تکلیف المکلفین فی اصول دین

صفحہ-25 

8۔۔۔۔رجعت میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم شیعوں کے بارہویں  امام مہدی کی بیعت کریں گے

 حق الیقین فارسی صفحہ 347 

9۔۔۔۔رجعت کا انکار دین شیعہ سے خروج ہے باقی دین اسلام سے خروج نہیں  

 حق الیقین فارسی صفحہ 354

 نتیجہ۔ 

 شیعہ مذہب میں امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم شیعوں کے بارہویں امام مہدی سے مرتبہ اور عظمت میں کم تر اور ان کا بارہواں امام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی برتر ہے۔

 رجعت کا انکار کرنے والا دین شیعہ سےخارج ہو جائے گا باقی دین اسلام سے خارج نہ ہوگا اس سے ظاہر ہے کہ اگر دین شیعہ اور دین اسلام ایک چیز ہوتا تو دونوں کی حدود بھی ایک ہی ہوتے 

معلوم ہوا کہ یہ دونوں جداجدا دین ہیں جب رجعت کاانکارکرنے والا دین شیعہ سےفارغ ہونے کے باوجود دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا تو اس سے معلوم ہوا کہ دخول بھی اسی طرح ہے کہ جو دین شیعہ میں داخل ہے وہ دین اسلام میں داخل نہیں اور جو دین اسلام میں داخل ہے وہ دین شیعہ میں داخل نہیں ہوسکتا ۔یہی سبب ہے کہ امت مسلمہ کے ہر دور کے علماء محققین نے فتوی دیا ہے کہ دین شیعہ اور دین اسلام دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور مذکورہ عبارت میں خود شیعہ مصنفین نے بھی اس بات کا بھی اقرار کیا کہ واقعتاً دین شیعہ سے خارج ہونے والا دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا     

 مقصد رجعت ۔۔

1۔۔۔ملاباقرمجلسی نے رجعت کا مقصد بتایا ہےکہ رجعت کی حیثیت یہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت قائم کے زمانے میں بہت سارے نیک اور بہت سارے بد کار واپس آئیں گے نیکوکار ائمہ کرام کی حکومت دیکھ کر خوش ہوں گے اور اپنی نیکیوں کا بدلہ ان سے دنیا میں حاصل کریں گے اور بدکار دنیا میں عذاب اور سزا پانے کے لئے اور اہلبیت کی حکومت جو وہ پہلے ناپسند کرتے تھے اس کا مشاہدہ کریں گے اور شیعہ ان سے انتقام لیں گے یہ ہے مقصد رجعت کا   

2 ۔۔۔۔شیعہ مصنف فخر العلماء سید نجم الحسن کراروی ۔۔14 ستارےمیں لکھتا ہے حضرت امام مہدی کے عہد میں قیامت سے پہلے زندہ ہونے کو رجعت کہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہور کے بعد بحکم خدا شدید ترین کافر اور منافق اور نیک کار ترین مومنین حضرت رسول اللہ ائمہ طاھرین اور بعض سلف برائے اظہار دولت حق محمدی دنیا میں پلٹ آئیں گے اس میں ظالموں کو ظلم کا بدلہ اور مظلوموں کو انتقام کا موقع دیا جائے گا اور دشمنان آل محمد کو قیامت میں عذاب قبر سے پہلے عذاب ادنیٰ کا مزہ چکھایا جائے گا اور شیطان سرورکائنات کے ہاتھوں سے نہر فرات پر ایک عظیم جنگ کے بعد قتل ہوگا اور ائمہ طاھرین کے ہر عہد حکومت میں اچھے برے زندہ کئے جائیں گے اور امام مہدی کے عہد میں جو لوگ زندہ ہوں گے ان کی تعداد 4000 ہوگی اور اس جہت میں بدعا قرانی آل محمد کو حکومت عامہ عالم دی جائے گی اور زمین کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہوگا جس میں آل محمد کی حکومت نہ ہو اب رہ گیا کہ کائنات کے ظاہری حکومت وراثت آل محمد کے پاس کب تک رہے گی تو اس کے متعلق ایک روایت 8 ہزار سال کا حوالہ دے رہی ہے   ۔ حضرت علی کے ظہور اور نظام عالم پر حکمرانی کے متعلق قرآن مجید میں بصراحت موجود ہے 

 چودہ ستارے ص601۔603

 نوٹ۔ ۔۔

اب ہم شیعہ مصنفین و مفسرین کی وہ عبارتیں اور آیتوں کی تفاسیر نقل کرتے ہیں جو انہوں نے عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کے لئے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں 

 آیت نمبر ١

Surat No 27 : Ayat No 82 

وَ  اِذَا  وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ  دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ  کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾          

جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا ،   ہم زمین سے ان کے لئے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا  کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے ۔  

 بہت ساری احادیث میں مذکور ہے کہ یہ دابہ جانور علی علیہ السلام ہے 

جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا 

 حق الیقین فارسی صفحہ 336 

 تفسیر قمی 

 ترجمہ مقبول 

 تفسیر مجمع البیان 

 ترجمہ فرمان علی 

 تفسیر عیاشی 

ان تمام تفاسیر میں یہی بات لکھی ہوئی ہے اس آیت کی تفسیر میں دابہ یعنی جانور سے مراد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہے جو زمین سے نکلے گا اور اس کے ہاتھ میں عصا موسی اور انگشتری سلیمان ہوگی۔

 تبصرہ۔ 

 ملاباقرمجلسی نے سورہ نمل کی آیت نمبر 82 اور 83 سے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے صرف باقرمجلسی ہی نہیں بلکہ شیعوں کے بہت سارے مفسرین نے ان آیات کو رجعت پر چسپاں کر کے اپنے ائمہ معصومین کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ ان آیات میں رجعت کا ثبوت ہے  جبکہ ہردوایات میں سے کسی ایک میں بھی رجعت کا ذکر نہیں ہے آیت نمبر 83 میں ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے ان میں سے ہر گروہ سے ایک ایک کو جدا کرکے ان کی علیحدہ ٹولیاں کرکے ان کو جمع کیا جائے گا اس سے آگے ہے کہ  حتی اذا جاوء۔ ۔۔۔۔حتیٰ کہ جب وہ سارے آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا  اکذبتم بایاتی کیا تم ہی تھے جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟؟

اور جب ان پر عذاب کا قول ثابت ہوگا اپنے ظلم کی وجہ سے  فھم لا ینطقون ۔تو وہ کچھ بول بھی نہیں سکیں گے 

 النمل آیت 83 84 85 

اس آیت کریمہ کی تفسیر قرآن کی دوسری آیات سے واضح ہوتی ہے 

 کماقال اللہ فوربک لنحشرنھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة

اے رسول تیرے رب کی قسم ہے ہم ان کو اور شیاطین کو اکھٹا کریں گے پھر سب کو جہنم کے گرداگرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے 

 ثم لننزعن من کل شیعة ایھم اشد علی الرحمان عتیا۔ ۔

پھر ہر گروہ میں سے ایسے لوگوں کو علیحدہ کریں گے جو دنیا میں بنسبت دوسروں کے اللہ کے زیادہ نافرمان تھے پھر ان لوگوں میں سے جو زیادہ سزا کے لائق ہیں ہم ان کو بخوبی جانتے ہیں اس لئے انکی جدا ٹولیاں بنا کر جدا سزائیں دیں گے 

 مریم آیت نمبر 68۔69۔70

 اس حقیقت کے ظاہر ہونے کے بعد شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہیں ہوتا 

 اور مجلسی کی پیش کی ہوئی دوسری آیت یعنی سورہ نمل کی آیت نمبر 82 میں زمین سے ایک جاندار کے نکلنے کا ذکر ہے جو اللہ تعالی کی قدرت سے فصیح عربی زبان میں کلام کرے گا لیکن شیعہ مصنفین نے اس جاندار حیوان کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ بناکر اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے 

درحقیقت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بڑی گستاخی ہے لہٰذا ہمیں اس آیت کریمہ کے متعلق مفسرین حضرات کے اقوال نقل کرکے دابۃ الارض کو واضح کرتے ہیں 

شیعہ مفسرین اور مسلمان مفسرین دونوں کے اقوال نقل کریں گے 

 دابۃ الارض کی تحقیق 

 مسلمان مفسرین کے اقوال 

 تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ  ھی دابة ذات نرغب لھا اربع قواعم۔ ۔۔۔۔۔ترجمہ۔ ۔۔دابہ چار پاؤں والا جانور ہے اس کے جسم پر بہت سارے بال ہوں گے اور ابن زبیر نے اس دا بہ کے اوصاف اس طرح بیان فرمائے ہیں۔کہ اس کا سر بیل کی طرح آنکھیں خنزیرکے طرح کان ہاتھی کی طرح سینہ شیر کی طرح گردن نعام پرندے کی طرح اور ٹانگیں اونٹ کی طرح ہیں اس اور اس کے ہر ایک جوڑ کے درمیان 12 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا اس کے ساتھ حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کے انگوٹھی ہوگی وہ لوگوں سے کلام بھی کرے گا اور ان پر نشان بھی لگائے گا۔

اس نشان سے مومنین کے چہرے سے نور چمکے گا اور ان پر لکھا جائے گا  ھٰذا مومن حقا اور کافروں کے چہرے پر لکھ دیا جائے گا  ھذا کافر حقا

 حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ وہ دابہ ایسا ہے کہ اس کے بال ہیں پر ہیں اور داڑھی ہے لیکن دم نہیں 

 تفسیر ابن کثیر جلد 3 ص 499 

 معمولی الفاظ کی تبدیلی سے تفسیر مواہب الرحمٰن جلد 6۔ سورہ نمل کی آیت نمبر 82 کی تفسیر میں 

 تفسیر کوثر اسی آیت کی تفسیر میں 

۔اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ اس دابہ کا نام جصاصہ ہے۔اور یہ پیدا ہوچکا ہے اور بعض صحابہ رضی اللہ انہوں نے اسے دیکھا بھی تھا کہ وہ قید ہے اس لیے اخراجنا فرمایا گیا یعنی قید سے آزاد کر کے اس کو نکالیں گے

 تفسیر روح البیان مذکورہ آیت کی تفسیر میں بحوالہ  نورالعرفان از مفتی احمد یار خان نعیمی 

 اور تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ لوگوں کا گمان ہے کہ دابۃ الارض آپ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا

 واللہ ان دابۃ الارض۔۔۔

 ترجمہ۔ ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم اس دابۃالارض کو پر ہونگے اور جسم پر بہت سے بال ہوں گے اور نہ میرے پر ہیں اور نہ میرے جسم پر اس کی طرح بال ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کے کھرے ہونگے مجھے اس کی طرح کر نہیں

 تفسیر روح المعانی جلد 11 صفحہ 22 

 حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے لکھا ہے کہ بخاری و مسلم اور احادیث کی دیگر کتابوں نے قرب قیامت کی نشانیوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج مسیح علیہ السلام کا نزول زمین میں خسف کا واقع ہونا آگ کا نکلنا اور دابۃ الارض کا خروج شامل ہے ۔اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب قسم کا جانور ہوگا جو لوگوں سے بات چیت کرے گا اور واضح طور پر بتائے گا کہ فلاں سچا مومن ہے اور فلاں منافق اور کافر ہے 

 خلاصہ۔ 

دابۃ الارض کے جسم پر بہت سارے بال چار پاؤں والا جانور اور اس کے پر ہوں گے بیل کی طرح سر خنزیر کی طرح آنکھیں ہاتھی کی طرح کان شیر کی طرح سینہ پرندے کی طرح گردن اونٹ کی طرح ٹانگیں جوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصلہ اور اس کے کھر اور اس کی داڑھی بھی ہوگی        

وہ پیدا کیا جا چکا ہے اس لیے اخرجنا فرمایا وہ عجیب جانور ہے جو باتیں کرے گا ۔موسی علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی سے نشان لگائے گا تو مومن کے چہرے پر سچا مومن اور کافرین کے چہروں پر پکا کافر خود بخود لکھ دیا جائے گا 

  شیعہ تفاسیر میں دابۃ الارض کی تفصیل 

 ۔تفسیر التبیان میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا  دابة الارض دواب اللہ لھا زغب وریش لھا اربعة قوائم ۔

 ترجمہ۔ یعنی وہ دابا اللہ کے جانوروں میں سے ایک ایسا جانور ہے کہ جس کے جسم پر بہت بال ہیں اور اس کے پر بھی ہیں اور اس کے چار پاؤں ہیں 

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 106 

مذکورہ آیت کی تفسیر 

 یہی روایت تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 پر مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھی ہے

 تفسیر کبیر یعنی تفسیر منہج الصادقین میں حضرت ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے سماویہ نشانی مغرب سے طلوع شمس ہوگا۔اور عرض نشانیوں میں سے اسدآباد کا خروج ہو گی جس کا طول ساٹھ گز ہوگا اس کے چار پاؤں ہوں گے اور اس کے جسم پر زرد ان کے بال ہوں گے اور اس کے دو پر ہونگے 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 57 مذکورہ آیت کی تفسیر 

 عین المغانی میں مذکورہ مفسر نے لکھا ہے کہ اس دابہ کی آنکھیں خنزیر کی طرح اور کان ہاتھی کی طرح سینگ پہاڑی گائے کی طرح اور گردن شتر مرغ کی طرح۔اور سینا شیر کے طرح ہوگا اور اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہوں گے اور اس کے دو قدموں کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہوگا 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 57 

 حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ وہ دابہ تین روز تک باہر نکلتا رہے گا لیکن اتنا لمبا ہوگا کہ تین روز تک اس کا تیسرا حصہ بھی باہر نہ نکل پائے گا اور مشہور قول یہ ہے کہ تین دن میں پورا باہر آجائے گا 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

 تفسیر نور ثقلین جلد 6 صفحہ نے مذکورہ آیت کی تفسیر 

 رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دابہ تین بار نکلے گا ایک بار مدینہ کے قریب ۔۔۔۔ دوسری بار مکہ مکرمہ کے قریب ۔۔تیسری بار خود مسجدالحرام سے نکلے گا 

 منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

 تفسیر نورالثقلین جلد 6 صفحہ 99 میں مذکور آیت 

 ۔حضرت حسن علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ وہ دابہ دکھا دیں تو تین راتیں وہ دابہ باہر آکر پھر چلا جاتا تھا حضرت موسی علیہ السلام اس کی عجیب خلقت اور ڈراؤنے منظر کو دیکھ کر ایسے خائف ہوئے کہ اللہ تعالی سے عرض کیا کہ اس کو حکم کریں کہ وہ اپنی جگہ واپس چلا جائے ۔

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

 خلاصہ روایات

 دابۃ الارض کے جسم پر بہت سارے بال اور اس کے دو پر اور چار پاؤں ہیں 

 ایک روایت میں اس کا طول ساٹھ گز ہے 

 ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا لمبا ہے کہ وہ تین دن تک نکلتا رہے گا 

 کعبہ کی خنزیر جیسی آنکھیں ہاتھی جیسے کان پہاڑی گائے جیسے سینگ شترمرغ جیسی گردن شیر جیسا سینہ اور اونٹ جیسی ٹانگیں اور اس کے کھر ہیں 

 وہ دابۃالارض تین بار نکلے گا 

 موسی علیہ السلام کو ہدایت دکھائے گا تو اس کی ایسی ڈراونی صورت تھی کہ دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

 اس دابہ کے دو قدموں کے درمیان 12 گز کا فاصلہ ہوگا

 تبصرہ۔ ۔۔

  کیا شیعہ مفسرین نے جو کیفیت جسامت قدامت اور صورت دابۃ الارض کی ذکر کی ہے اس حقیقت کے کھلنے کے بعد کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت اور عقیدت رکھنے والا حضرت علی کو وہ دابہ تصور کرسکتا ہے ۔ہرگز نہیں 

لیکن باوجود اس کے شیعہ مفسرین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رجعت کو ثابت کرنے کے لئے اس پر انتہائی زور دیا ہے کہ وہ دابہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں مثلا۔ شیعہ مفسر علی بن ابراہیم قمی جو شیعوں کے نزدیک امام حسن عسکری کا شاگرد ہے اس نے لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس اس حالت میں آئے گے مسجد میں سو رہے تھے اور ریت کا ایک ڈھیر کر کے سر مبارک اس پر رکھے ہوئے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائے مبارک سے حرکت دے کر فرمایااے دابۃالارض اٹھ تو اصحاب میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی آپس میں اس نام سے ایک دوسرے کو پکارا کریں فرمایا نہیں واللہ یہ نام خاص طور پر علی ہی کے لیے ہے 

اور علی ہیں وہ دابہ ہے جس کا خدا تعالی اپنی کتاب میں یہ ذکر فرماتا ہے 

 وإذا وقع القول۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر فرمایا اے علی جب آخری زمانہ آئے گا تو خدا تعالی تم کو نہایت ہی حسین صورت میں (جوشیعہ مفسرین نے لکھی ہے )ظاہر کرے گا اور تمہارے پاس نشان لگانے کا ایک اعلی ہوگا جس سے تم اپنے دشمنوں کو نشان دار کرو گے 

 ترجمہ مقبول مذکورہ آیت کی تفسیر میں باحوالہ تفسیر کم اور تفسیر صافی و تفسیر عیاشی 

 تفسیر صافی اور تفسیر عیاشی میں یہی قصہ حضرت ابوذر سے نقل کیا گیا ہے 

 تفسیر المتقین اور

  ترجمہ فرمان علی اور

  تفسیر نمونہ اور  البرہان فی تفسیر القرآن اور  تفسیر نور ثقلین  میں یہی بات موجود ہے

ان تمام تفاسیر میں انتہائی زور دیا گیا ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں تاکہ حضرت علی کا دوبارہ آنا قرآن سے ثابت کیا جائے 

اور عقیدہ رجعت کو قرآن سے ثابت کرکے پختہ بنایا جائے ۔

لیکن باوجود اس کے بعض شیعہ محققین و مفسرین نے  بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امام مہدی کو دابۃالارض لکھا ہے 

 ابوالفتوح رازی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان روایات کی رو سے جو ہمارے علماء کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں کہ دابۃ الارض حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لیے کنایہ ہے 

 تفسیر روح الجنان از ابوالفتوح رازی جلد نمبر 8 صفحہ 423 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 724 

 تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

یاد رہے تفسیرنمونہ شیعہ کی وہ معتبر ترین تفسیر ہے جو ان کے دس محققین آقاؤں نے ملکر اپنی جدید تحقیق کے مطابق تحریر کی ہے اصل میں یہ تفسیر فارسی زبان میں 27 جلدوں پر مشتمل ہے جو مکتبہ حوزہ علمیہ قم ایران سے شائع ہوئی ہے 

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ محققین کی جدید تحقیق یہ ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ شیعوں کا بارہواں امام جو کسی غار میں چھپا ہوا ہے وہ ظاہر ہوگا ۔اس تحقیق کے مطابق کسی مرنے والے کی رجعت نہیں ہوگی بلکہ ایک غائب حاضر ہوگا اور اس کے علاوہ شیعہ محققین رجعت کی ایک اور تاویل بھی کی ہے کے شیعہ امامیہ کی ایک جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ رجعت کے متعلق جتنی روایات ہیں ان کی تاویل یہ ہے 

 رجوع الدولة۔ ۔۔۔۔والامر والنھی دون رجوع الاستخاص والأحياء والأموات

 یعنی رجب کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت امر ونہی کا رجو ع ہوگا نہ کہ کسی شخص کا لوٹانا اور نہ ہی مردوں کا زندہ ہونا 

 تفسیر نورالثقلین جزو رابع صفحہ  111

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 

اگرچہ انہیں مفسرین نے ایسی تاویل کو غلط کہا ہے لیکن اس سے یہ تو معلوم ہوا کہ شیعہ امامیہ کی ایک جماعت مردوں کے زندہ ہونے والی رجت کا انکار کرتی ہے 

یا مفسرین  نے بالآخر یہ بھی لکھا کہ مذکورہ بالا جماعت کاری آرمی مردوں کے زندہ ہونے کا انکار اس وجہ سے ہے کہ 

 لان الرجعت لم تثبت بظواہر الاخبارالمنقولة۔ 

 یعنی عقیدہ رجعت صریح طور پر بظاہر منقولا احادیث سے ثابت نہیں ہے اس کو تاویل سے ثابت کیا جاتا ہے اور اس تاویل پر شیعہ علماء کا اجماع ہے 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 235 

 یہی وجہ ہے کہ بلآخر شیعہ محققین نے مجبورا لکھا کہ عقیدہ رجعت اسلام کی بنیادی شرائط میں سے نہیں ہے جیسا کہ تفسیر نمونہ میں شیعہ محققین نتیجے کے طور پر لکھا ہے کہ اس سلسلےکی آخری بات کے طور پر اپنا یہ عقیدہ مکتبہ اہل بیت اور ائمہ اطہار سے لیا ہے لیکن وہ رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے کیوں کہ رجعت شیعہ ہونے کے لحاظ سے ضروری ہے لیکن مسلمان ہونے کے لئے ضروری شرائط میں سے نہیں اسی بنا پر اس عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں کا اسلامی رشتہ اخوت آپس میں نہیں ٹوٹتا البتہ شیعہ حضرات منطقی طریقہ سے اپنے اس عقیدے کا دفاع ضرور کرتے ہیں 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 730 

 شیعہ مفسرین نے یہ بھی قرار کیا ہے کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے ثابت نہیں صرف خبر سے ثابت ہے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہمارے علما رجعت کو اصول دین میں شامل نہیں کرتے۔

 تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

کیا شیعہ مصنفین کی متضاد بیانیوں کے بعد کوئی صاحب عقل و دانش عقیدہ رجعت کو تسلیم کر سکتا ہے  

ہرگز نہیں 

جبکہ شیعہ مصنفین نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ عقیدہ رجعت نہ اصول دین میں سے ہے اور نہ ہی اسلام کے بنیادی شرائط میں سے ہے اور نہ ہی مسلمان ہونے کے لئے کوئی ضروری شرط ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ دین اسلام کو ماننے والوں کا اس عقیدے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسری بات یہ کہ دابۃ الارض کے بارے میں خودکشیوں کے علامہ شعرانی نے تفسیرمنھج الصادقین پر حاشیہ لگا کر لکھا ہے کہ دابۃ الارض کا خروج صحیح ہے باقی اس کی تفصیل میں روایات اور مفسرین کے اقوال میں بہت بڑا اختلاف ہے 

اس لئے اس کی تحقیق ہم پر واجب نہیں صرف اجمال ایمان رکھنا کافی ہے 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 56 

اس سے معلوم ہوا کہ ایک طرف تو شیعہ مصنفین نے مذکورہ آیت سے عقیدہ رجعت کو سینہ زوری سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رجعت کو ثابت کرنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابہ بنالیا لیکن دوسری طرف خود ہی بتا دیا کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے نہیں 

صرف خبر سے ثابت ہے لیکن خبر  سے بھی نہیں بلکہ تاویل سے ثابت کرتے ہیں اس میں بھی اختلاف کی وجہ سے اس کو نہ اصول دین میں رکھ سکے اور نہ ہی اسلام کی بنیادی شرائط میں اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنے سے بھی ہاتھ اٹھا دیا بلکہ صرف اجمالی ایمان رکھنا کافی سمجھا 

 نتیجے کے طور پر نہ عقیدہ رجعت ثابت کرسکے اور نہ ہی دابۃالارض کو حضرت علی پر چسپاں کر سکے 

 آیت نمبر 2

Surat No 27 : Ayat No 83 

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ  فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ  یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے ۔  

بہت ساری احادیث میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ 

 این ایت دررجعت است ۔۔۔۔۔کہ یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے کہ حق تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو زندہ کرے گا اور قیامت کے بارے میں یہ آیت ہے

   Surat No 18 : Ayat No 47 

وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ  فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾

 اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے  اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو  بھی باقی نہ چھوڑیں گے ۔  

اور فرمایا کہ آیات سے مراد امیرالمومنین اور آئمہ ہیں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 336 

 اور یہی بات شیعوں کے فاضل جلیل حجةالاسلام سید فرمان علی نے اپنے ترجمہ و تفسیر کے صفحہ نمبر 612 پر اسی آیت کی تفسیر میں لکھی ہے 

سوائے اس کے کہ آیت سے مراد امیرالمومنین اور ائمہ معصومین میں یہ نہیں لکھا 

 اور یہی روایت تفسیرقمی میں موجود ہے اس آیت کی تفسیر میں 

 اور ترجمہ مقبول میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ مومنین میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ شہید کیا گیا اور وہ موت کا ذائقہ چکھنے کے لئے رجعت نہ کریں اور جس جس کو رجعت ہوگی وہ یا تو ایمان میں خالص ہوگا یا کفر میں 

 ترجمہ مقبول صفحہ 764 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 720 

 تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 247 

 تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 131 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

  تفسیر نور الثقلین جلد 4 صفحہ 

 تفسیر المیزان جلد 15 صفحہ 582 

ان تمام تفاسیر میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ آیت کریمہ سے عقیدہ رجعت ثابت ہوتا ہے حالانکہ اس میں قیامت سے پہلے کسی کو زندہ کرکے جمع کرنے کا ذکر تک نہیں ہے

بلکہ اس آیت کریمہ اور اس کے بعد والی دو آیات میں قیامت کے دن اٹھانے کا ذکر ہے مثلا فرمایا گیا ہے کہ ہر امت میں سے ہماری آیات کو جھٹلانے والوں میں سے ایک سرکش گروہ کو ہم جدا کرکے کھڑا کریں گے حتیٰ کہ جب وہ آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا  اکذبتم بایاتی۔ کیا تم میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟حالانکہ تمہیں کسی علم کا کوئی احاطہ نہیں تھا اور جو کچھ تم کرتے تھے ہمیں معلوم ہے ان کے ظلم نافرمانی کی وجہ سے ان پر ہمارے عذاب کا قول ثابت ہو جائے گا پس وہ بول ہی نہ سکیں گے 

 سورہ نمل آیت نمبر 83 84 85 

ان آیات کو پڑھنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ  یوم نحشر میں قیامت کے دن کا ذکر ہے جیسا کہ دوسری آیات سے اس کی اور بھی وضاحت ہوتی ہے 

 Surat No 37 : Ayat No 22 

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا  کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

ظالموں کو  اور ان کے ہمراہیوں کو  اور ( جن ) جن کی وہ اللہ کے علاوہ پرستش کرتے تھے  ۔  

 Surat No 37 : Ayat No 23 

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ  فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾ ٙ

  ( ان سب کو )  جمع کرکے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو ۔  

 Surat No 37 : Ayat No 24 

وَ قِفُوۡہُمۡ   اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾                

اور انہیں ٹھہرا لو   ( اس لئے ) کہ ان سے ( ضروری  ) سوال کیئے جانے والے ہیں ۔  

اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ ان سے یہی سوال پوچھا جائےگا کہ  اکذبتم بآیاتی۔کیا تم ہو جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے؟ 

جیساکہ دوسری آیات میں ہے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے سرکشوں کو الگ کرکے سخت سزا دی جائے گی 

 Surat No 19 : Ayat No 68 

فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَ الشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ  حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾

 تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے ۔  

 Surat No 19 : Ayat No 69 

ثُمَّ  لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ  شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾

ہم پھر ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے ۔  

Surat No 19 : Ayat No 70 

ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمۡ اَوۡلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾

پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں ۔  

ان آیات کی تفسیر میں شیعہ مفسر بھی یہی تفسیر کرتے ہیں مثلا تفسیر  صافی جلد 2 صفحہ 51 میں ہے 

 من کل الشیعة

سے مراد

من کل امة 

 اور تفسیرمیزان جلد نمبر 4 صفحہ 120 پر ہے کہ 

 روساء وامامان ضلالت را بیرون می آوریم 

 ہر جماعت میں سے گمراہ کرنے والوں روسا اور اماموں کو جدا کریں گے

 ترجمہ۔ یعنی سب سے پہلے اس جماعت کو جو کفر اور نافرمانی میں دوسروں سے زیادہ ہوتی تھی جدا کر کے جہنم میں ڈالیں گے اور اس کے بعد وہ لوگ جو کفر اور سرکشی میں ان سے کمتر تھے ان کو جہنم میں ڈالیں گے 

 تبصرہ۔ ۔۔

ان آیات کی تفاسیر نے مذکورہ آیت۔

یوم نحشرمن کل امة۔ ۔۔۔۔۔

کی حقیقت کو واضح کر دیا کہ یہ آیت کریمہ اس منظر کو بیان کر رہی ہے جس وقت محشر کے میدان میں سرکش کافروں کو یعنی کافروں کے پیشواؤں کو جدا کرکے ایک جگہ جمع کرکے ان سے سختی سے حساب لیا جائے گا اور ان کو کہا جائے گا  اکذبتم بآیاتی ۔کیا تم ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو سخت سزا دی جائے گی اس طرح کا مفہوم قرآن مجید کی اکثر آیات میں بیان کیا گیا ہے لیکن شیعہ مفسرین جن کا مقصد ہی قرآن  مجید کی اصل حقیقت کو بگاڑنا ہے وہ قرآن کی تفسیر آیات کے مقاصد کو واضح کرنے کے لیے نہیں بلکہ بگاڑنے کے لیے کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے اس آیت کریمہ سے بھی قیامت کے مقصد کو بگاڑ کر اپنا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت کرنے کی فضول کوشش کی ہے لیکن اس آیت کریمہ اور قران مجید کی کسی بھی آیت میں عقیدہ رجعت کا کوئی اشارہ تک نہیں ہے 

 نتیجہ۔۔۔۔۔۔ 

شیعہ مفسرین نے اس آیت کی بھی انتہائی فحش معنوی تحریف کر کے اپنے من گھڑت عقیدے کے لیے باطل تاویل کے زریعے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے 

 آیت نمبر 3 

 Surat No 28 : Ayat No 85 

اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ  اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۸۵﴾

جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے  وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے کہہ دیجئے کہ میرا رب اسے  بھی بخوبی جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اور ا سے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے ۔  

 بہت ساری احادیث میں منقول ہے کہ مراد رجعت حضرت رسول است بسوے دنیا

 اس آیت سے مراد حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کی طرف رجعت کرنا یعنی واپس آنا ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 337 

 ترجمہ مقبول صفہ 788 

 تفسیر قمی صفحہ 505 

 تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 280 

 تفسیر نور ثقلین جلد 4 صفحہ 144 

 تفسیر المتقین صفحہ 513 

ان تمام تفاسیر میں شیعہ مفسرین نے اپنے ائمہ معصومین کی طرف روایات منسوب کرکے اس بات پر زور دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجعت کرکے یعنی دنیا میں واپس آئیں گے 

 تبصرہ۔ ۔

شیعہ مصنفین قرآن مجید کی اس آیت کریمہ سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رجعت اپنے اماموں کے اقوال کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں پھر اس رجعت میں اپنے اماموں سے یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارہویں  امام کی بیعت کریں گے  

جیسا کہ ملاباقرمجلسی نے امام محمد باقر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ جب قائم آل محمد غار سے باہر آئیں گے تو خدا اس کی ملائکہ سے مدد کرے گا اور سب سے اول محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم اس کی بیعت کریں گے اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لیکن باوجود اس کے جھوٹ کو کتنا ہی مزین کرکے پیش کیا جائے پھر بھی جھوٹ سچ نہیں ہو سکتا 

خود شیعہ مصنفین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ عقیدہ بھی عبداللہ بن سبا یہودی کا گھڑا ہوا ہے اس نے اسلام قبول کیا اور علی سے محبت کا اظہار کیا جب وہ یہودی تھا یوشع بن نون سے متعلق یہی کہتا تھا کہ وہ موسی علیہ السلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد اسلام قبول کرکے یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اس شخص نے سب سے پہلے علی بن ابی طالب کی امامت کے لزوم کا قول ذکر کیا اور ان کے دشمنوں سے براة ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیااور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کی رجعت کا سب سے پہلا قائل ہوا اسی بنیاد پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رافضی مذہب دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے 

 المقالات والفرق صفحہ-20 

پھر قمی ذکر کرتا ہے کہ جب ابن سبا کو علی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی تو اس نے دعوی کیا کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ دوبارہ دنیا میں واپس آکر اپنے دشمنوں سے لڑیں گےپھر وہ اس عقیدہ و نظریہ میں غلو کرنے لگا 

 المقالات والفرق صفحہ-21 

یہ ہےوہ حقیقت جووہ ابن سبا سے متعلق بیان کرتا ہے یہ قمی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معرفت روایات میں وسیع النظر ہے 

 الفہرست صفحہ 105 

جامع روایات جلد 1 صفحہ 352 

ان کے نزدیک اس کی معلومات نہایت اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ایک تو وہ زمانے کے اعتبار سے متقدم ہے اور دوسرا  جیسا کہ شیعہ المصدوق بیان کرتا ہے کہ یہ شیعہ کے امام معصوم حسن عسکری سے ملا اور اس نے اس سے سماع کیا ہے 

 اکمال الدین صفحہ 425 435 

اسی طرح ایک اور شیعہ عالم نوبختی ابن سبا سے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس کے بارے میں قمی کے الفاظ سے حرف بحرف اتفاق کرتا ہے

 فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

نوبختی بھی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معتبر عالم ہے  

 الفہرست صفحہ 75 

 جامع روایات جلد 1 صفحہ 228 

 الکنی والالقاب جلد1 صفحہ 141 

 مقتبس الاثر جلد 16 صفحہ 125 

ایک تیسرا علم شیعہ الکشی اپنی معروف کتاب رجال الکشی میں جوشیعہ کی قدیم ترین اور علم رجال میں مواقع المدد کتاب ہے ابن سباءکے ذکر میں چھ روایات نقل کرتا ہے 

 رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

یہ شیعہ کے نزدیک ثقہ اور اخبار و رجال شیعہ پر بہترین نظر رکھنے والا عالم ہے 

 الفرق صفحہ 171 

یہ روایات بیان کرتے ہیں کہ ابن سبا نے نبوت کا دعوی کیا اور یہ نظریہ اپنایا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ہی خدا ہیں نیز ان روایات میں منقول ہے کہ علی رضی اللہ  نے ابن سبا کو ان عقائد سے توبہ کرنے کا حکم دیا لیکن وہ تائب نہ ہوا تو انہوں نے اس کو آگ میں جلا دیا اسی طرح الکشی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ ائمہ و خلفاء پر لعنت کرتا اور علی رضی اللہ عنہ  پر جھوٹ بولا کرتا تھا 

جیسے علی بن حسین فرماتے ہیں ہم پر جھوٹ گھڑنے والے پر اللہ کی لعنت ہو جب مجھے عبداللہ ابن سبا کا خیال آیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ اس نے بہت خطرناک دعویٰ کیا ہے نہ جانے کیوں اس نے ایسا کہا ہے اس پر اللہ کی لعنت اللہ کی قسم علی رضی اللہ عنہٗ تو محض ایک اللہ کے نیک بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے انہیں اللہ تعالی کی طرف سے جتنی بھی عزت و کرامت ملی ہے وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری کی  بدولت نصیب ہوئی ہے 

 رجال کشی صفحہ 108 

پھر الکشی ان روایات کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے 

اہل علم نے ذکر کیاہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کرنے لگا جب وہ یہودی تھا تو یوشع بن نون کے حق میں غلو کرتے ہوئے کہتا تھا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد مسلمان ہوکر علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی بات کہنے لگا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اسی نے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے لزوم کی بات کی ان کے دشمنوں سے براة کااظہار کیا ان کے مخالفین سے دشمنی کا اظہار کیااور انہیں کافر کہا اسی بنا پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رفض و تشیع دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے

 رجال کشی صفحہ 108

  رجال الکشی کی تصحیح وتشریح طوسی نےےکی ہے جو شیعہ کے نزدیک صحاح اربع میں سے دو کتابوں کا مصنف ہے اور ایسے ہی شیعہ کی کتب رجال میں ںسے بھی دو کتابوں کا مولف ہے  

 مقدمہ رجال الکشی صفحہ 18 صفحہ 17 

 لوءلوء البحرین صفحہ 403 

اس کے علاوہ اور شیعہ کتب رجال کی کتابوں میں عبداللہ بن سبا کا ذکر موجود ہے 

 مسائل الامامة صفحہ22 ۔23

 وفیات الاعیان ص 91۔92

 انباءالرواة 2/128/129

 منتھی المقال 

 منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال

 جامع الرواة 1/476

 الحلی ۔الرجال ص 2/71

 قاموس الرجال ص 5/461

 رجال الطوسی ص 51

 من لایحضرالفقیہ 1/213

 الخصال ص628

 تہزیب الاحکام 2/322

 بحار الانوار 25/286

 تنقیح المقال 2/183

 مقتبس الاثر 21/230

 الشیعة فی التاریخ ص 213

 اہلسنت تفاسیر 

امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھا ہے ۔

 انہ علیہ السلام خرج من الغار۔۔۔۔

 ترجمہ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت غار سے نکل کر مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جحفہ۔ پرائے اور مکہ کی طرف جانے والے راستے کو پہچان لیا تو مکہ کی محبت کا جوش و بھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے والد گرامی کی جائے پیدائش کا محبت سے تذکرہ کیا تو جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شہر اور اپنی جائے پیدائش کے اتنے ہی مشتاق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اتنی ہی محبت ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ  ان الذی فرض ۔۔۔۔ایة یعنی جس زات نے قرآن کو پہنچانا آپ پر فرض کیا ہے جس کی وجہ سے آپ مکہ چھوڑنے پر مجبور کئے گئے وہ ذات ضروربالضرور آپ کو اس معاد یعنی مکہ کی طرف لوٹآئے گی وہ بھی اس حال میں کہ آپ ان پر غالب ہوں گے اسلام کی عزت کا اظہار ہوگا اور کافروں کی ذلت ہوگی اور یقینا ہوابھی اسی طرح 

اگرچہ معادسے مرادبعض  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور بعض نے جنت اور بعض نے مقام محمود لیا ہے لیکن سب سے زیادہ آیت کے ظاہری معنیٰ کے اعتبار سے یہی زیادہ موافق ہے کہ اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کی خوشخبری دی گئی ہے  

 تفسیر کبیر جلد 25 صفحہ 21 

 تفسیر البدیع جلد 2 صفحہ 94 

 تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 534 

 تفسیر ابن عباس صفحہ 434 

 صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 703 

 اہل تشیع تفاسیر 

 تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ معادسے مراد مکہ کی طرف لوٹنا ہے 

 وقیل الی معاد الی الموت۔ وقیل الی المرجع یوم القیامة ۔ ۔ 

ترجمہ۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ معاد سے مراد موت کی طرف لوٹنا ہے اور بعض نے کہا کہ قیامت کے دن کو مرجع کہا گیا ہے یعنی موت کے بعد آپ کو وہاں لوٹآئے گا  جہاں سے آپ آئے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کی طرف لوٹآنا مراد ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ آپ کو وفات دے گا اور وہ آپ کے جنت میں داخل ہونے کا باعث ہوگی لیکن آیت کا ظاہر تقاضہ یہ ہے کہ آپ کو مکہ کی طرف لوٹائے گا 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 259 

 تفسیر نمونہ جلد 9 صفحہ 161 

 تفسیر المیزان جلد 16 صفحہ 88 صفحہ 141  

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 162 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 134 

 تفسیر فرمان علی صفحہ 631 

ان تمام تفاسیر میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں معاد  سے مراد موت قیامت جنت مقام محمود مکہ کی طرف لوٹنا  لیکن تمام مفسرین خواہ وہ مسلمان ہوں یا شیعہ مفسر آخر میں سب نے اقتضاءالنص سے مکہ کی طرف لوٹنے کو ترجیح دی ہے اور اس آیت کریمہ کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رسالت پر دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائیں ٹھیک  اسی طرح کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف لوٹے اور ہوا بھی اسی طرح کہ آپ شان و شوکت سے مکہ کی طرف لوٹ آئے اور بغیر کسی لڑائی کے فتح مکہ ہوا اسلام کی عزت ظاہر ہوئی اور کفر ذلیل ہوا یہی ہے اس آیت کی حقیقت جس میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا وفات کے بعد دنیا میں واپس آنے کا اشارہ تک نہیں ہے لیکن شیعہ مفسرین کی کوشش یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کی اصل حقیقت کو بگاڑ کر سینہ زوری سے اپنا مصنوعی  عقیدہ رجعت ثابت کریں لیکن آئی تک یہ حقیقت کھل کر سامنے آئیں اور شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہ ہوسکا 

  آیت نمبر 4 

   Surat No 3 : Ayat No 157 

وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ 

 Surat No 3 : Ayat No 158 

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

  ترجمہ۔اگر تم خدا کی راہ میں مارے جاؤ یا اپنی موت سے مرے ہو تو بے شک خدا کی بخشش اور رحمت اس مال و دولت سے جس کو تم جمع کرتے ہو ضرور بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت سےہی مارےجاؤ آخر کار خدا ہی کی طرف قبروں سے اٹھائے جاؤ گے 

 ترجمہ فرمان علی شیعہ 

قرآن کی ان دو آیات کا ترجمہ جو شیعہ عالم نے کیا ہے اس ترجمے سے ہی  حقیقت کو سمجھنا آسان ہے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں اپنی موت سے مرنا یا قتل ہو کر بھی مرنا ضرور ہے وہاں دنیا کی زندگانی کا جمع کیا ہوا مال کام نہیں آئے گا اور خصوصا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اللہ کی سبیل میں زندگی گزارتے ہوئے خود بخود مر جانے پر جو اللہ کی مغفرت اور رحمت ہے وہ دنیا کے جمع کیے ہوئے مال سے کئی گناہ بہتر ہے اور جس طرح مرنا یقینی ہے تو مرنے کے بعد اللہ کی طرف یعنی قیامت میں جمع ہونا بھی یقینی ہے 

لیکن شیعہ مصنف نے ہر دو آیات کو بگاڑ کر ایک آیت بنائیں اور تفسیر کو بگاڑ کر عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی 

 روایت۔ ملاباقرمجلسی نےدو آیات  کو ملا کرایک آیت بنائیں 

ولئن قتلتم فی ۔۔۔۔۔۔۔تحشرون۔

اور اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ بہت سارے طریقوں سے منقول ہے کہ  ایں آیت در رجعت است۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے اور سبیل اللہ علی کی ولایت اور اس کی زریت کی راہ ہے۔جو کوئی اس آیت پر ایمان رکھے گا اس کو قتل ہونا اور مرنا ہے یعنی اگر دنیا کی زندگی میں قتل کیا گیا اس راہ میں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ مریں اور اگرپہلے وہ مرے ہیں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ ان اماموں کی راہ میں قتل ہو 

اور یہی فرمان کل نفس ذائقۃ الموت کی تفسیر میں ہے یعنی جو قتل ہوئے ہیں انہوں نے موت کا ذائقہ نہیں چکا ہے البتہ رجعت میں ان کو دنیا میں لوٹایا جائے گا تاکہ وہ موت کا ذائقہ چکیں ہیں

 حق الیقین  فارسی صفحہ 337    

 روایت 

امام ابو جعفرسے رجعت کے متعلق ایک لطیف انداز سے سوال کیا میں نے کہا جو قتل ہوتا ہے کیا وہ مرتا ہے

 قال لا۔ الموت موت القتل قتل  

امام نے کہا کہ قتل ہونے والا مرا نہیں موت ہے اور قتل قتل ہے 

 مااحد یقتل الا وقد مات

یعنی جو بھی قتل ہوتا ہے وہی یقینا مرتا ہے تو امام نے فرمایا اس طرح نہیں بلکہ موت ہے اور قتل ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کا فرمان ہے  کل نفس ذائقۃ الموت جو قتل ہوتا ہے وہ موت کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا پھر فرمایا ضروری ہے کہ وہ لوٹ کر آئے اور موت کا ذائقہ چکھے۔

اور یہیں سے مسئلہ رجعت ثابت ہے کہ جس شخص نے موت کا ذائقہ نہیں چکھا یعنی قتل ہوا ضروری ہے کہ وہ دنیا میں رجعت کرے اور موت کا ذائقہ چکھنا ہے 

 ترجمہ مقبول صفحہ 133 

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 202 

 تفسیر المتقین صفحہ 87 

 تفسیر نور الثقلین جلد 1 صفحہ 403 

 تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 302 

 تبصرہ 

ان تمام تفاسیر میں عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی فضول کوشش کی گئی ہے حالانکہ موت کا مزہ چکھنے کے دو طریقے بتائے گئے ہیں یا تو اپنی موت خود مرا یا کسی کے قتل کرنے سے مرجائے دونوں میں سے کسی طریقے سے بھی مرنے والے کو کفن دیا جاتا ہے جنازہ پڑھا جاتا ہے دفن کیا جاتا ہے وراثت تقسیم کی جاتی ہے ازواج کو عدت میں بٹھایا جاتا ہے عدت کے بعد ان کا شادی کرنا جائز ہے لیکن شیعہ مصنفین نے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کے لئے مقتولین کے لئے موت کا ذائقہ چکھنے کا ہی انکار کر دیا  کیا یہ قرآن کی تفسیر کرنا ہے یا آیات کے صحیح مفہوم کو بگاڑنے کی کوشش کرنا 

اور میت کے احکام میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وراثت عدت نکاح کفن دفن وغیرہ کی ان میں تعارض پیدا کرنا ہے 

  مسلمان مفسرین کی تفسیر

 لوکانواعندناماماتوا۔ ۔۔۔۔۔

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے یعنی لڑائی پر نہ جاتے تو نہ مرتے یعنی نہ قتل ہوتےتو اللہ تعالی نے جواب دیا  یحیی ویمیت۔ ۔۔۔اللہ زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے منافقین کا قول اور اللہ کی طرف سے جواب  ال العمران کی ہی آیت 156 میں مذکور ہے 

اور دوسرے جواب آیت نمبر 157 اور 158 میں یوں دیا گیا ہے کہ اگر تم فی سبیل اللہ قتل کئے گئے یا جہاد کے راستے میں چلتے ہوئے اپنی موت مرتے تو البتہ اللہ کی رحمت اور مغفرت لوگوں کے مال جمع کرنے سے کئی گناہ بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت مرے یا قتل کئے گئے تو البتہ تم اللہ کی طرف جمع کیے جاؤ گے 

 تفسیر الکبیر جلد 5 صفحہ 53 

 اسی سے ملتا جلتا مضمون تفسیر بن کثیر جلد 1 صفحہ 556 میں آل عمران کی آیت نمبر 156 تا 158 کی تفسیر میں 

 شیعہ تفاسیر میں 

شیعوں کے شیخ طوسی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے مومنین سے خطاب فرمایا اے ایمان والو تم ان کافروں مثلا عبداللہ بن سلول اور ان کے ساتھیوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اپنے بھائیوں کے لیے کہا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو لڑائی میں قتل نہ ہوتے اور سفر میں فوت نہ ہوتے اللہ تعالی نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا  واللہ یحیی ویمیت یعنی موت اور زندگی کا مالک اللہ ہی ہے کسی کا موت سے بھاگنا اور زندگی طلب کرنا کوئی نفع نہیں دے گا اور اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہےاور اگلی آیت میں فرمایا کہ یقینا لوگ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کی راہ کو چھوڑ کر دنیا کی محبت اور کثرت کی سوچ و فکر میں مال جمع کرتے ہیں اے ایمان والو تمہارا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اس راستے میں فوت ہونا جس کا نتیجہ اللہ کی بخشش و مغفرت ہے ان کے مال جمع کرنے سے بہتر ہے اور اگر تم اپنے موت مرو یا قتل کیے جاؤ ہر حال میں اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے نہ کہ دنیا کی طرف واپس آنا 

 ان خیرا فخیرا وان شرا فشرا

یعنی اچھائی کا بدلہ اچھا اور برائی کا بدلہ براہے 

 تفسیر التبیان جلد 3 صفحہ 28 29 

 اسی سے ملتا جلتا بیان تفسیر مجمع البیان جلد 1 صفحہ 526 پر ہے 

 تفسیر نمونہ جلد 2 صفحہ 281 پر 

ان تمام تفاسیر میں موت کا ذائقہ چکھنے کی دو صورتیں بتائی گئی ہیں کسی کے قتل کرنے سے موت کا ذائقہ چکھنا یا بغیر قتل کے مر کر موت کا ذائقہ چکھنا اور اس کے بعد اللہ کے پاس جمع ہونا اور اللہ ہی سے اپنے اعمال کا بدلہ ملنا ذکر کیا گیا ہے اور آیات کا سیاق و سباق بھی اسی پر دال ہے باوجود اس کے غالی شیعوں نے آیات کے سیاق و سباق کی پرواہ کیے بغیر اپنا مصنوی عقیدہ رجعت کو اماموں کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرکے لکھ دیا کہ قتل ہونے والا موت کاذائقہ نہیں جاسکتا اس لئے ان تمام کی رجعت ہوگی جو قتل کئے جاتے ہیں وہ اپنی موت مریں گے اور جو اپنی موت مرے ہیں وہ رجعت کے بعد قتل کیے جائیں گے یعنی تمام انسان رجوع کریں گے 

 نتیجہ ۔۔۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اب عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کی ضروریات میں سے ہوگیا حالانکہ ان آیات میں شیعہ کے مصنوعی عقیدہ رجعت کا اشارہ تک نہیں ہے اور شیعہ نے انتہائی فحش معنوی تحریف کی ہے  

 آیت نمبر 5 

Surat No 40 : Ayat No 11 

 قَالُوۡا رَبَّنَاۤ  اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ  اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبارہ مارا اور دو بارہ ہی جلایا  اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں تو کیا اب کوئی راہ نکلنے کی بھی ہے؟ 

 دراحادیث واردشدہ است کہ یک زندہ گردانیدن در رجعت است ودیگری درقیامت ویک زندہ گردانیدن دررجعت است ودیگرے درقیامت ۔۔۔۔۔۔

 احادیث میں وارد ہے کہ ایک بار زندہ کرنا رجعت  میں اور دوسری بار قیامت میں ہے اور ایک بار مارنا دنیا میں ہے اور دوسری بار رجعت میں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 340 

 شیعہ مفسر امداد حسین کاظمی نے لکھا ہے کہ تفسیر صافی صفحہ 443 پر باحوالہ تفسیر قمی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ان لوگوں کا یہ قول زمانہ رجعت میں ہوگا 

 تفسیر المتقین صفحہ 606 

 ترجمہ و تفسیر مقبول صفحہ 746 

 ترجمہ و تفسیر فرمان علی صفحہ 746 

 تبصرہ۔ 

اس آیت کریمہ میں دو بار مردہ ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا بتایا گیا ہے اور شیعہ مفسرین اس کی ایک تفسیر یہ کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ زندہ کرنا رجعت میں ہے اور دوسری مرتبہ قیامت میں ہے اور ایک مار ڈالنا دنیا میں ہے اور دوسرا رجعت میں 

 حق الیقین صفحہ 340 

 اگر اس تفسیر کو صحیح مان لیا جائے تو اس میں دو موت اور تین زندگیاں بنتی ہیں 

 ایک بار رحم مادر سے لے کر پہلی بار دنیا میں مرنے تک 

 پھر رجعت میں زندہ کیے جانے کے بعد قیامت سے پہلے مرنے تک 

 قیامت کے دن زندہ کر کے اٹھائے جانے کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے جنتیوں کا جنت میں رہنا اور جہنمیوں کا جہنم رہنا 

اور یہ قول

  ربنا امتنا ۔۔۔۔۔

وہ جہنمی لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دیں اور دو مرتبہ زندہ کیا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا تو کیا اب یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے 

یہ اس لیے کہ جب اللہ تعالی کو واحد سمجھ کر صرف اسی کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو ملا کر پکارا جاتا تھا تو تم مانتے تھے بس اب تو بزرگ و برتر اللہ تعالی کا ہی حکم جاری ہوگا 

  المومن آیت نمبر 11 12 

اللہ تعالی نے جہنمیوں کا قول نقل کرکے ان کا جرم بتا کر ان کو جہنم سے نہ نکلنے کی خبر بتائی ہے کفار کا قول کے دو بار مردہ رہنے دو بار زندہ رہنے اور اس دوسری بار زندہ ہو کر جہنم کے عذاب میں مبتلا کیے گئے ہیں اس لیے وہ جہنم سے نکلنے کی کوئی راہ یا کوئی وقت پوچھ رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے جرم کا اقرار بھی کر رہے ہیں تو اس کے جواب میں پہلے ان کو وہ جرم بتایا جارہا ہے جس کی وجہ سے جہنم سے نکلنے کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور وہ جرم ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ان کو کہا جائے گا کہ تم وہ ہی تو ہو کہ جب صرف اللہ تعالی کو کارساز مشکل کشا حاجت روا اور غیبی مدد گار سمجھ کر غیبی مدد کے لیے پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو کارساز مشکل کشا حاجت روا اور غیبی مدد گار سمجھ کر غیبی مدد کے لیے پکارا جاتا تھا تو تم مانتے تھے لہذا اس جرم کی وجہ سے تم کبھی بھی جہنم سے نہیں نکالے جاؤ گے اب حکم صرف اللہ تعالی کا ہی نافذ ہوگا یہ ہے اس آیت کریمہ کا اصل مفہوم لیکن اگر شیعہ مفسرین کی تفسیر صحیح تسلیم کی جائے تو اس میں دو موت اور تین زندگیاں بنتی ہیں جو ظاہر ظہور اس آیت کریمہ کے خلاف ہے اور شیعہ مفسر سید امداد حسین کاظمی نے تفسیر صافی اور تفسیر قمی کے حوالے سے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا کہ ان لوگوں کا یہ قول ربنا امتنا اثنتین ہیں زمانہ رجعت میں ہوگا 

 تفسیر المتقین صفحہ 606 

لیکن یہ تفسیر بھی خود اس ہی آیت کریمہ کے خلاف ہے کیونکہ اوپر سے ہی جہنمیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے اور ان کا قول  فھل الی خروج من سبیل کہ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے  یہ بھی اس پر دال ہے کہ وہ جہنم سے نکلنے کے لیے دوسری آیت میں  ربنا اخرجنا منھا۔۔۔۔۔۔۔

جہنمی کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمیں اس سے نکال پس اگر ہم پھر ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے خدا کہے گا کہ اس میں پھٹکارے ہوئے پڑے رہو مجھ سے کلام نہ کرو    

 المومنون آیت 107 108 

تو جس طرح اس مقام پر ان آیات میں جہنم سے نکلنے کے لیے جہنمیوں کی پکار ہے اسی طرح   فہل الی الخروج من سبیل ۔۔۔کہنے میں جہنم سے نکلنے کا سوال ہے لہٰذا ان کا یہ کہنا زمانہ شریعت میں بھی قرآن کی آیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے اور نہ ہی اس آیت کریمہ سے عقیدہ رجعت ثابت ہوسکتا ہے 

 آیت کریمہ کا اصل مفہوم 

جس طرح

کیف تکفرون باللہ ۔۔۔۔۔۔

آیت کریمہ میں رحم مادر میں نطفہ پھر علقہ پھر مضغة پھر عظاما پھر فکسون العظام لحما یہ ساری تخلیق انسان کی تھی لیکن اس میں زندگی نہیں تھی تو اس کو موت سے تعبیر کیا گیا اس لئے فرمایا  کنتم امواتا

تم مردہ تھے اور دوسرے آیت کریمہ میں فرمایا

یخرج الحیی من المیت ویخرج۔۔۔۔۔۔

 وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مردہ کوزندہ سے پیدا کرتا ہے اور زمین کو مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے 

 الروم آیت نمبر 19 

اس آیت کریمہ میں بھی ایک تو نطفے کو مردہ کہہ کر اس سے زندہ انسان کو پیدا فرما کر یخرج الحی۔ ۔۔

فرمایا اور دوسرا بنجر زمین کو مردہ کہہ کر اس کے آباد ہونے کو زندگی سے تعبیر فرمایا تو اسی طرح دو موتوں سے مراد ایک موت معنی مردہ ہونا رحم مادر میں زندگی ملنے سے پہلے کو کہا گیا ہے اور دوسری موت دنیا سے جانے کے وقت کے مرنے کو کہا گیا ہے اور ایک زندگی دنیا کی زندگی کو کہا گیا ہے اور دوسرا زندہ ہونا قیامت کے دن اٹھنے کے بعد کو کہا گیا ہے لہٰذا ربنا امتنا آیت کریمہ سے یہی دو موت اور دو زندگیاں مفہوم ہیں اور اس پر یہ بھی قرینہ ہے کہ پہلے موت کو ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد زندہ زندہ ہونا کہا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پہلے موت پھر زندگی پھر موت پھر زندگی لہذا اس آیت کریمہ سے بھی شیعہ مصنفین کا مصنوی عقیدہ رجعت ثابت نہ ہوسکا ۔۔۔

 چند متضاد روایات اہل تشیع 

 روایت1۔۔۔سعد بن عبداللہ نے بصائر میں حضرت صادق سے روایت کی ہے کہ شیطان نےخدا سے سوال کیا کہ اس کو وہ قیامت تک کی مہلت دے جس روز لوگ زندہ ہوں گے حق تعالیٰ نے انکار کیا اور فرمایا کہ میں نے  وقت معلوم تک کی مہلت دی جب وہ روزے وقت معلوم آئے گا تو جس روز سے خدا نے آدم کو خلق کیا اسی روز سے روزے وقت معلوم تک شیطان اپنے تمام پیروی کرنے والوں کے ساتھ ظاہر ہوگا جناب امیرالمومنینؑ واپس آئیں گے اور یہ آپ کی آخری واپسی ہوگی راوی نے پوچھا کیا بہت رجعتیں ہوں گی یعنی حضرت بہت مرتبہ واپس آئیں گے فرمایا ہاں اور ہر امام جس زمانے میں ہونگے یعنی جو امام جس زمانے میں گزرا ہوگا اس زمانے کے نیک اور بدکار واپس آئیں گے تا کہ خداوندعالم مومن کو کافروں پر غالب کر دے اور مومنین ان سے انتقام لیں لہٰذا جب وہ دن آئے گا جناب امیر اپنے اصحاب کے ساتھ واپس آئیں گے اور شیطان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آئے گا اور ان کی باہمی ملاقات کوفہ کے نزدیک دریائے فرات کے کنارے واقع ہوگی پھر ان میں جنگ ہوگی کہ ایسی جنگ کبھی نہ ہوئی ہو گی امام نے فرمایا گویا میں امیر المومنین کےاصحاب کو دیکھ رہا ہوں کہ سو قدم پیچھے ہٹتے ہیں اور بعض کے پیر دریائے فرات میں داخل ہوتے ہیں پھر ایک امر آسمان سے نیچے آتا ھے جس میں فرشتے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جناب رسول خداؐ کے ہاتھ میں ایک اسلحہ ہوگا وہ حضرت اس امر کے آگے آئیں گے جب آنحضرت پر شیطان کی نگاہیں پڑھیں گی تو وہ پیچھے کی طرف بھاگے گا اور اس کے ہمراہی اس سے کہیں گے کہ جب کہ فتح تجھ کو ہو چکی ہے تو اب کہا جاتا ہے وہ کہے گا کہ جو میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے میں اپنے عالمین کے پروردگار سے ڈرتا ہوں اس وقت آنحضرتؐ اس کے پاس پہنچیں گے اور اپنا ہتھیار اسکی دونوں کندھوں کے درمیان ماریں گے تو وہ اوراسکے تمام ساتھی ہلاک ہو جائیں گے اس کے بعد تمام لوگ خدا کو اس کی یکتائی کے ساتھ پرستش کریں گے اور کسی شے کو خدا کا شریک قرار نہں دیں گے اور حضرت امیر المومنین کی صلب سے  44 ہزار فرزند پیدا ہوں گے سب کے سب لڑکے پیدا ہوں گے ہر سال ایک فرزند پھر اس وقت دو باغ سر سبز و شاداب مسجد کوفہ کے دونوں جانب پیدا ہوں گے جن کا ذکر خداوند و برتر نے سورہ رحمان میں فرمایا ہے نیز انھیں حضرت سے روایت ہے خلائق کا حساب قیامت سے پہلے رجعت میں ہوگا 

 حق الیقین فارسی صفحہ 340 

 روایت2 ۔۔۔اور چند سندوں سے امام محمد باقر سے روایت ہے کہ سب سے پہلے رجعت میں جو واپس آئین گے امام حسین ہونگے اور وہ حضرت اس قدر بادشاہی کریں گے کہ پیری کے سبب سے آپ کے ابرو کے بال آپ کی آنکھوں پر لٹک جائیں گے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 341 

 روایت ہے کہ امام جعفر صادق سے لوگوں نے حق تعالی کے اس قول اذجعل فیکم انبیاءوجعلکم ملوکاکی تفسیر دریافت کی حضرت نے فرمایا انبیاء جناب رسول خدا ابراہیم اور اسمٰعیل اور ان کی ذریت ہیں اور ملوک ائمہ اطہار ہیں راوی نے کہا آپ کو کیسی بادشاہی عطا کی ہے تو  فرمایا کہ بہشت کی بادشاہی اور امیرالمومنین کے رجعت کی بادشاہی 

 حق الیقین فار سی 341 

اس آیت میں اللہ تعالی نے حضرت موسی کا وہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے جو اپنی قوم کو اللہ تعالی  کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئےفرمایا تھا اور پوری آیات اس طرح ہے  

  وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاء وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّن الْعَالَمِينَ 

اور اُس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’ اے میری قوم ! اﷲ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کئے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دُنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا

 روایت 3۔۔۔۔۔علی بن ابراہیم نے حضرت امام جعفر سے امام باقر کی روایت نقل کی ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالی نے عذاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں واپس نہ آئے گی اور اس آیت ونرید ان نمن ۔۔۔۔کی تاویل میں فرمایاجس کا معنی یہ ہے کہ ایک مثال ہےجو خدا تعالی نے اہل بیت رسالت کے لیے دی ہے تاکہ انحضرت کی تسلی کا باعث ہو کیونکہ فرعون اور ہامان اور قارون نے بنی اسرائیل پر ستم کئے ہیں اور اور ان کو اور ان کی اولاد کو مار ڈالتے تھے 

 نذیر ایشاں در ایں  امت ابوبکر و عمر و عثمان 

واتباع بودند

اور اس امت میں اول ابوبکر دوم  اور سوم عثمان اور ان کی اتباع کرنے والے تھے جو اہل بیت رسالت کے قتل اور ان کو مار ڈالنے کی کوشش کرتے تھے لہذا آیت کی تاویل یہ ہے یعنی ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جن کو زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے اوروہ اہل بیت رسالت ہیں اور ہم ان کو  واپس کریں گے اور روےزمین کے وارث قرار دیں گے اور روے زمین کی بادشاہی ان کے لیے مسلم ہوگی 

 حق الیقین فارسی صفحہ 342

 روایت4 ۔۔۔۔۔اور عیاشی نے امام جعفر سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ خلفاء جورنے اپنا ایک نام رکھا ہے اور اپنے آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں حالانکہ یہ نام علی ابن ابی طالب کے لیے مخصوص ہے اور ابھی تک اس نام کے معنی اور اس کی تاویل لوگوں پر ظاہر نہیں ہوئی ہے راوی نے پوچھا اس کی تاویل کب ظاہر ہوگی امام نے فرمایا اس وقت جب کہ خداوند عالم ان کے سامنے پیغمبر اور مومنوں کو جمع کرے گا تاکہ ان کی مدد کریں جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا ہے وہ اذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔۔اس روز جناب رسول خدا علم علی بن ابی طالب کو دیں گے وہ تمام خلائق کے امیر ہوں گے اور تمام خلائق آنحضرت کے علم کے نیچے ہوں گے اور وہ سب کے سب امیر اور بادشاہ ہوں گے یہ ہے امیر المومنین کی تاویل اور معنی 

 حق الیقین فارسی  صفحہ 344

 خلاصہ ۔۔۔شیعہ مصنفین جو فہذا علی مولاہ علی لفظ مولا کے معنی پر زور دیتے ہیں وہ اس روایت کے ساتھ اس کو ملا کر غور کریں تو ان کے مذہب کے مطابق یہ نتیجہ نکلے گا کہ حضرت علی کا امیر المومنین ہونا اور تمام مومنین کا مولا ہونا رجعت کے بعد  ہونا ہے 

 روایت 5۔۔

 منتخب البصائر میں امام جعفر سے روایت ہے علی کی زمین میں ان کے فرزند حسین کے ساتھ رجعت ہوگی حضرت علم لیے ہوئے آئیں گے تاکہ بنو امیہ اور معاویہ اور ال معاویہ سے اور ہر اس شخص سے جس نے آنحضرت سے جنگ کی ہوگی انتقام لیں اس وقت خداوندعالم ان کے کوفی دوستوں اور مدد گاروں کو اور تمام لوگوں میں سے ستر ہزار اشخاص کو زندہ کرے گا حضرت ان سے صفین میں پہلی مرتبہ کی طرح ملاقات کریں گے اور سب کو قتل کر دیں گے ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا کہ کسی کو خبر کر سکے پھر دوبارہ امیرالمومنین رسول اللہ کے ساتھ آئیں گے وہ زمین پر خلیفہ ہوں گے اور آئمہ اطہار اطراف میں زمین میں آپ کے اعمال ہوں گے خداوندعالم اپنے پیغمبر کو تمام اہل دنیا پر بادشاہی عطا فرمائے گا اس دن سے جب کہ خدا نے دنیا کو خلق فرمایا ہے اس روز تک جبکہ دوسروں کی سلطنت برطرف ہوئی ہوگی یہاں تک کہ خدا اپنے پیغمبر سے کیے ہوئے وعدے کو کہ ان کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دے گا اگرچہ مشرکین نہ چاہیں اس وعدے کو وفا کریں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 345 

 خلاصہ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رجعت کے بعد خلیفہ ہونگے اس روایت کے مطابق جب دوسرے لوگوں کی سلطنت برطرف ہو گئی اس کے بعد پیغمبر ؐکو تمام اہل دنیا پر بادشاہی عطا کی جائے گی اس کے بعد حضرت علی خلیفہ بلا فصل ہوں گے اس وقت اللہ تعالی کا وعدہ کہ اپنے پیغمبر کے دین کو دوسرے  دینوں پر غالب کرے گا یہ وعدہ پورا ہو گا

روایت۔6

شیخ مفید اورطوسی نے امام باقر سے روایت کی ہے کہ خدا کی قسم ہم اہل بیت میں سے ایک شخص حضرت صاحب الامر کی وفات کے بعد 309 سال بادشاہی کرے گا میں نے عرض کی قائمؑ کتنے دنوں بادشاہی کریں گے فرمایا انیس سال اور حضرت کے بعد خلفشار اور فتنہ و فساد بہت زیادہ پچاس سال تک ہوتا رہے گا  پھر انتقام لینے والا دنیا میں آئے گا جو امام حسینؑ ہیں وہ اپنے اور اپنے اصحاب کے خون کا انتقام طلب کریں گے اور اس قدر منافقوں کا قتل اور

 اسیر کریں گے کہ لوگ کہیں گے کہ اگر یہ حسین پیغمبروں کی ذریت سے ہوتے تو اس قدر آدمیوں کو قتل نہ کرتے اس کے بعد سفاح آئیں گے یعنی جناب امیر  

 حق الیقین فارسی صفحہ 350

 روایت 7۔۔

کلینی اور قمی نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے اپنے رسول کو امام حسین کی ولادت کی خبر دی اور خوشخبری دی قبل اس کے کہ جناب فاطمہ آنحضرت سے حاملہ ہو کہ امامت ان ہی کے فرزندوں میں قیامت تک رہے گی پھر ان باتوں سے آگاہ کیا جو کہ امام حسین اور ان کی اولاد پر مثل قتل و مصائب کے واقع ہوں گی پھر ان مصائب کے آغاز میں ان کو امامت عطا کی جو ان کے عقب میں یعنی بعد والوں میں رہے گی اور آنحضرت کو اطلاع دی کہ وہ قتل کئے جائیں گے لہذا خدا ان کو واپس لائے گا تاکہ اپنے دشمنوں کو قتل کرے اور خدا ان کو تمام روئے زمین کا بادشاہ کرے گا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جن کو زمین پر لوگوں نے کمزور کر دیا ہے ہم ان کو زمین پر امام اور روئے زمین کا مالک بنائیں گے سورہ قصص آیت 5 

 حق الیقین فارسی صفحہ 351

 روایت 8۔

علی بن طاؤوس نے اپنی کتاب  بشارت میں عمران سے روایت کی ہے کہ مجموعہ عمر دنیا صد ہزار سال است بیست ہزار سال دولت سامری مردم است ہشتاد ہزار سال آیام  دولت محمد و آل محمد است دنیا کی تمام عمر ایک لاکھ سال ہے بیس ہزار سال تمام لوگوں کی حکومت ہوگی اور اسی ہزار سال محمد و آل محمد کی حکومت ہوگی 

 خلاصہ۔ ۔۔

 عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کا اجماعی اور متواترات میں سے ہے جو رجعت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ شیعہ ہی نہیں ہے 

 امیر المومنین کا لقب حضرت علیؓ کے لیے خاص ہے لیکن حقیقت میں حضرت علیؓ بھی رجعت کے بعد امیر المومنین ہوں گے رجعت سے پہلے امیرالمومنین ہونا نہیں تھا 

 اللہ تعالی کا وعدہ جوسورہ نور کی آیت 55 میں ہے کہ اللہ ضرور بالضرور مومنین صالحین کو زمین میں خلیفہ بنائے گا ان کا دین مضبوط کرے گا ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا اللہ کا یہ وعدہ آئمہ معصومین سے ہے اس وعدے کو اللہ تعالی  رجعت کے بعد پورا کرے گا 

 اللہ تعالی نے پہلے سے ہی مقرر کیا ہے کہ پہلی زندگی میں ائمہ معصومین کو کمزور کیا جائے گا اور ان پر ظلم کئے جائیں گے ان مصائب و مشکلات کے عوض یعنی بدلے میں اللہ تعالی محمد و آل محمد کو رجعت میں حکومت عطا فرمائے گا 

 عقیدہ رجعت کا مقصد یہ ہے کہ ائمہ معصومین ان لوگوں سے اپنی مظلومیت کا انتقام لے جنہوں نے ان پر پہلی زندگی میں ظلم کیےتھے

اگر اللہ تعالی ان کو پہلی زندگی میں ہی خلیفہ یعنی حکمران بناتا تو نہ ان پر کوئی ظلم کر سکتا اور نہ ہی عقیدہ رجعت کا تصور ہوتا اور نہ ہی آئمہ معصومین کسی سے انتقام لینے کے لئے رجعت کرتے اس طریقے سے وہ تمام آیتیں جن سے شیعہ مصنفین ائمہ معصومین کے اقوال کے ذریعے سے عقیدہ رجعت ثابت کرتے ہیں ان تمام آیات کا جھوٹا ہونا لازم آتا 

 آئمہ معصومین کی خلافت ایک روایت کے مطابق 80 ہزار سال ہوگی ان میں سے حضرت مہدی کی حکومت انیس سال اور اہل بیت میں سے ایک شخص کی حکومت تین سونو سال حضرت علیؓ کی حکومت 44 ہزار سال ہوگی حضرت حسین اتنی حکومت کریں گے کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کے ابرو آپ کی آنکھوں پر لٹک آئیں گے اور ان کے علاوہ باقی ائمہ کو بھی رجعت میں بادشاہی عطا کی جائے گی 

 خلاصہ آیات و روایات 

 شیعہ مفسرین و محدثین اور مؤرخین نے عقیدہ رجعت کے بارے میں آیات قرآن کی تحقیقات کو بگاڑ کر اور اپنے ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے جو من گھڑت روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے 

 زمین سے ایک جانور نکلے گا اس کے دو پر چار پاؤں اس کا طول ساٹھ گز اور ایک روایت کے مطابق تین دن تین رات زمین سے نکلے گا لیکن پورا نہ نکل پائے گا خنزیر جیسی آنکھیں ہاتھی جیسے کان پہاڑی گائے جیسے سینگ شترمرغ جیسی گردن شیر جیسا سینہ اونٹ جیسی ٹانگیں اور اس کے پاؤں میں کھرہوں گےاور یہ دابہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نعوذ باللہ قیامت سے پہلے زمین سے نکل کر باہر آئے گا یہی اس کی رجعت ہوگی 

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 106 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 

 تفسیر نور ثقلین جلد 6 صفحہ 99 

 سب سے پہلے ان الذی فرض علیک القران آیت کریمہ سے من گھڑت عقیدہ رجعت عبداللہ بن سبا نے ثابت کرنے کی کوشش کی 

 ناسخ التواریخ جلد 3 صفحہ 234 لیکن بعد میں شیعہ مذہب کا یہ بنیادی عقیدہ بن گیا 

 دنیا میں جو قتل ہوا وہ رجعت میں آکر مرے گا اور جو اپنی موت مرا وہ رجعت میں ائمہ حضرات کی راہ میں قتل ہوگا 

 حق الیقین صفحہ 337   

  تفسیر نور ثقلین جلد 1 صفحہ 403 

 تفسیر الصافی جلد 1 صفہ 302 

 تمام انبیاء علی کی مدد کے لیے دنیا میں آئیں گے اور علی کے ماتحت ہو کر اس کے دشمنوں سے لڑیں گے اور اور خلافت بلافصل دینے کا وعدہ اللہ تعالی کا وہ رجعت کے بعد پورا ہوگا 

 حق الیقین صفحہ 339 

 ترجمہ و تفسیر مقبول و

 تفسیرعیاشی آل عمران آیت 81 کی تفسیر میں 

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ امیر المومنین بلا فصل رجعت کے بعد ہونگے 

  حق الیقین 3 صفحہ 344

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 181 

 شیعوں کا بارہواں امام ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو زندہ کرکے اس پر حد جاری کرے گا نعوذ باللہ 

 حق الیقین صفحہ 346 

 خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی روزہ اقدس سے نکالا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شیعوں کے بارھویں امام کی بیعت کریں گے 

 حق الیقین صفحہ 347 

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رجعت میں بار بار آئیں گے اور آخری بار 44 ہزار سال حکومت کریں گے ہر سال ایک بیٹا پیدا ہوگا 44 ہزار فرزند ہونگے 

 حق الیقین صفحہ 340 

 نتیجہ 

شیعہ مصنفین کا عقیدہ رجعت اور اس کا پس منظر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ان کے بارہ اماموں کو خلافت یعنی حکومت رجعت کے بعد ملے گی باقی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بعد متصل جو خلافت کا عقیدہ رکھ کر پوری امت مسلمہ سے جدا ہوئے اور صحابہ کرام کو خلافت کا غاصب کہہ کر حضرات ثلاثہؓ اور ان کے ماننے والوں کو نعوذ باللہ کافر اور مرتد کہا اور ان پر تبراء کیا وہ سارے کا سارا دروغ جھوٹ اور باطل ہونے کی وجہ سے پورا شیعہ مذہب ہی باطل ہوگیا اور اسی طرح جن آیات میں قیامت برپا ہونے کا ذکر تھا ان آیات کے اصل مفہوم کو بگاڑ کر من مانی تاویل کرکےمصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرتے رہےاور قیامت سے پہلے ایک من گھڑت قیامت کا تصور کیا ان آیات کے بارے میں خود ہی اپنے امام جعفر صادق کا قول نقل کیا کہ وہ آیت قیامت کے برپا ہونے کے متعلق ہیں اس کا نتیجہ بھی یہی ہوا کہ ان کا عقیدہ رجعت بھی من گھڑت اور اپنا اختراع ہے لہذا قرآن مجید کی کسی آیت میں بھی قیامت سے پہلے رجعت کے نام سے کسی اور قیامت کا ذکر تک نہیں ہے ظاہر ہے کہ جس مذہب کے ایمانیات میں کتاب اللہ کو شامل نہیں کیا گیا ہو اس مذہب کے عقائد کتاب اللہ کے مطابق کیسے ہوسکتے ہیں؟؟؟ ہر گز نہیں ۔۔    

  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان دھوکے بازوں کے فریب سے تمام انسانوں کی حفاظت فرمائے آمین