اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 10 از 13

اللہ تعالی نے جہنمیوں کا قول نقل کرکے ان کا جرم بتا کر ان کو جہنم سے نہ نکلنے کی خبر بتائی ہے کفار کا قول کے دو بار مردہ رہنے دو بار زندہ رہنے اور اس دوسری بار زندہ ہو کر جہنم کے عذاب میں مبتلا کیے گئے ہیں اس لیے وہ جہنم سے نکلنے کی کوئی راہ یا کوئی وقت پوچھ رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے جرم کا اقرار بھی کر رہے ہیں تو اس کے جواب میں پہلے ان کو وہ جرم بتایا جارہا ہے جس کی وجہ سے جہنم سے نکلنے کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور وہ جرم ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ان کو کہا جائے گا کہ تم وہ ہی تو ہو کہ جب صرف اللہ تعالی کو کارساز مشکل کشا حاجت روا اور غیبی مدد گار سمجھ کر غیبی مدد کے لیے پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو کارساز مشکل کشا حاجت روا اور غیبی مدد گار سمجھ کر غیبی مدد کے لیے پکارا جاتا تھا تو تم مانتے تھے لہذا اس جرم کی وجہ سے تم کبھی بھی جہنم سے نہیں نکالے جاؤ گے اب حکم صرف اللہ تعالی کا ہی نافذ ہوگا یہ ہے اس آیت کریمہ کا اصل مفہوم لیکن اگر شیعہ مفسرین کی تفسیر صحیح تسلیم کی جائے تو اس میں دو موت اور تین زندگیاں بنتی ہیں جو ظاہر ظہور اس آیت کریمہ کے خلاف ہے اور شیعہ مفسر سید امداد حسین کاظمی نے تفسیر صافی اور تفسیر قمی کے حوالے سے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا کہ ان لوگوں کا یہ قول ربنا امتنا اثنتین ہیں زمانہ رجعت میں ہوگا 

 تفسیر المتقین صفحہ 606 

لیکن یہ تفسیر بھی خود اس ہی آیت کریمہ کے خلاف ہے کیونکہ اوپر سے ہی جہنمیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے اور ان کا قول  فھل الی خروج من سبیل کہ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے  یہ بھی اس پر دال ہے کہ وہ جہنم سے نکلنے کے لیے دوسری آیت میں  ربنا اخرجنا منھا۔۔۔۔۔۔۔

جہنمی کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمیں اس سے نکال پس اگر ہم پھر ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے خدا کہے گا کہ اس میں پھٹکارے ہوئے پڑے رہو مجھ سے کلام نہ کرو    

 المومنون آیت 107 108 

تو جس طرح اس مقام پر ان آیات میں جہنم سے نکلنے کے لیے جہنمیوں کی پکار ہے اسی طرح   فہل الی الخروج من سبیل ۔۔۔کہنے میں جہنم سے نکلنے کا سوال ہے لہٰذا ان کا یہ کہنا زمانہ شریعت میں بھی قرآن کی آیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے اور نہ ہی اس آیت کریمہ سے عقیدہ رجعت ثابت ہوسکتا ہے 

 آیت کریمہ کا اصل مفہوم 

جس طرح

کیف تکفرون باللہ ۔۔۔۔۔۔

آیت کریمہ میں رحم مادر میں نطفہ پھر علقہ پھر مضغة پھر عظاما پھر فکسون العظام لحما یہ ساری تخلیق انسان کی تھی لیکن اس میں زندگی نہیں تھی تو اس کو موت سے تعبیر کیا گیا اس لئے فرمایا  کنتم امواتا

تم مردہ تھے اور دوسرے آیت کریمہ میں فرمایا

یخرج الحیی من المیت ویخرج۔۔۔۔۔۔

 وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مردہ کوزندہ سے پیدا کرتا ہے اور زمین کو مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے 

 الروم آیت نمبر 19 

اس آیت کریمہ میں بھی ایک تو نطفے کو مردہ کہہ کر اس سے زندہ انسان کو پیدا فرما کر یخرج الحی۔ ۔۔

فرمایا اور دوسرا بنجر زمین کو مردہ کہہ کر اس کے آباد ہونے کو زندگی سے تعبیر فرمایا تو اسی طرح دو موتوں سے مراد ایک موت معنی مردہ ہونا رحم مادر میں زندگی ملنے سے پہلے کو کہا گیا ہے اور دوسری موت دنیا سے جانے کے وقت کے مرنے کو کہا گیا ہے اور ایک زندگی دنیا کی زندگی کو کہا گیا ہے اور دوسرا زندہ ہونا قیامت کے دن اٹھنے کے بعد کو کہا گیا ہے لہٰذا ربنا امتنا آیت کریمہ سے یہی دو موت اور دو زندگیاں مفہوم ہیں اور اس پر یہ بھی قرینہ ہے کہ پہلے موت کو ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد زندہ زندہ ہونا کہا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پہلے موت پھر زندگی پھر موت پھر زندگی لہذا اس آیت کریمہ سے بھی شیعہ مصنفین کا مصنوی عقیدہ رجعت ثابت نہ ہوسکا ۔۔۔

 چند متضاد روایات اہل تشیع 

صفحہ 10 از 13