اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 11 از 13

 روایت1۔۔۔سعد بن عبداللہ نے بصائر میں حضرت صادق سے روایت کی ہے کہ شیطان نےخدا سے سوال کیا کہ اس کو وہ قیامت تک کی مہلت دے جس روز لوگ زندہ ہوں گے حق تعالیٰ نے انکار کیا اور فرمایا کہ میں نے  وقت معلوم تک کی مہلت دی جب وہ روزے وقت معلوم آئے گا تو جس روز سے خدا نے آدم کو خلق کیا اسی روز سے روزے وقت معلوم تک شیطان اپنے تمام پیروی کرنے والوں کے ساتھ ظاہر ہوگا جناب امیرالمومنینؑ واپس آئیں گے اور یہ آپ کی آخری واپسی ہوگی راوی نے پوچھا کیا بہت رجعتیں ہوں گی یعنی حضرت بہت مرتبہ واپس آئیں گے فرمایا ہاں اور ہر امام جس زمانے میں ہونگے یعنی جو امام جس زمانے میں گزرا ہوگا اس زمانے کے نیک اور بدکار واپس آئیں گے تا کہ خداوندعالم مومن کو کافروں پر غالب کر دے اور مومنین ان سے انتقام لیں لہٰذا جب وہ دن آئے گا جناب امیر اپنے اصحاب کے ساتھ واپس آئیں گے اور شیطان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آئے گا اور ان کی باہمی ملاقات کوفہ کے نزدیک دریائے فرات کے کنارے واقع ہوگی پھر ان میں جنگ ہوگی کہ ایسی جنگ کبھی نہ ہوئی ہو گی امام نے فرمایا گویا میں امیر المومنین کےاصحاب کو دیکھ رہا ہوں کہ سو قدم پیچھے ہٹتے ہیں اور بعض کے پیر دریائے فرات میں داخل ہوتے ہیں پھر ایک امر آسمان سے نیچے آتا ھے جس میں فرشتے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جناب رسول خداؐ کے ہاتھ میں ایک اسلحہ ہوگا وہ حضرت اس امر کے آگے آئیں گے جب آنحضرت پر شیطان کی نگاہیں پڑھیں گی تو وہ پیچھے کی طرف بھاگے گا اور اس کے ہمراہی اس سے کہیں گے کہ جب کہ فتح تجھ کو ہو چکی ہے تو اب کہا جاتا ہے وہ کہے گا کہ جو میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے میں اپنے عالمین کے پروردگار سے ڈرتا ہوں اس وقت آنحضرتؐ اس کے پاس پہنچیں گے اور اپنا ہتھیار اسکی دونوں کندھوں کے درمیان ماریں گے تو وہ اوراسکے تمام ساتھی ہلاک ہو جائیں گے اس کے بعد تمام لوگ خدا کو اس کی یکتائی کے ساتھ پرستش کریں گے اور کسی شے کو خدا کا شریک قرار نہں دیں گے اور حضرت امیر المومنین کی صلب سے  44 ہزار فرزند پیدا ہوں گے سب کے سب لڑکے پیدا ہوں گے ہر سال ایک فرزند پھر اس وقت دو باغ سر سبز و شاداب مسجد کوفہ کے دونوں جانب پیدا ہوں گے جن کا ذکر خداوند و برتر نے سورہ رحمان میں فرمایا ہے نیز انھیں حضرت سے روایت ہے خلائق کا حساب قیامت سے پہلے رجعت میں ہوگا 

 حق الیقین فارسی صفحہ 340 

 روایت2 ۔۔۔اور چند سندوں سے امام محمد باقر سے روایت ہے کہ سب سے پہلے رجعت میں جو واپس آئین گے امام حسین ہونگے اور وہ حضرت اس قدر بادشاہی کریں گے کہ پیری کے سبب سے آپ کے ابرو کے بال آپ کی آنکھوں پر لٹک جائیں گے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 341 

 روایت ہے کہ امام جعفر صادق سے لوگوں نے حق تعالی کے اس قول اذجعل فیکم انبیاءوجعلکم ملوکاکی تفسیر دریافت کی حضرت نے فرمایا انبیاء جناب رسول خدا ابراہیم اور اسمٰعیل اور ان کی ذریت ہیں اور ملوک ائمہ اطہار ہیں راوی نے کہا آپ کو کیسی بادشاہی عطا کی ہے تو  فرمایا کہ بہشت کی بادشاہی اور امیرالمومنین کے رجعت کی بادشاہی 

 حق الیقین فار سی 341 

اس آیت میں اللہ تعالی نے حضرت موسی کا وہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے جو اپنی قوم کو اللہ تعالی  کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئےفرمایا تھا اور پوری آیات اس طرح ہے  

  وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاء وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّن الْعَالَمِينَ 

اور اُس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’ اے میری قوم ! اﷲ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کئے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دُنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا

 روایت 3۔۔۔۔۔علی بن ابراہیم نے حضرت امام جعفر سے امام باقر کی روایت نقل کی ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالی نے عذاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں واپس نہ آئے گی اور اس آیت ونرید ان نمن ۔۔۔۔کی تاویل میں فرمایاجس کا معنی یہ ہے کہ ایک مثال ہےجو خدا تعالی نے اہل بیت رسالت کے لیے دی ہے تاکہ انحضرت کی تسلی کا باعث ہو کیونکہ فرعون اور ہامان اور قارون نے بنی اسرائیل پر ستم کئے ہیں اور اور ان کو اور ان کی اولاد کو مار ڈالتے تھے 

 نذیر ایشاں در ایں  امت ابوبکر و عمر و عثمان 

واتباع بودند

اور اس امت میں اول ابوبکر دوم  اور سوم عثمان اور ان کی اتباع کرنے والے تھے جو اہل بیت رسالت کے قتل اور ان کو مار ڈالنے کی کوشش کرتے تھے لہذا آیت کی تاویل یہ ہے یعنی ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جن کو زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے اوروہ اہل بیت رسالت ہیں اور ہم ان کو  واپس کریں گے اور روےزمین کے وارث قرار دیں گے اور روے زمین کی بادشاہی ان کے لیے مسلم ہوگی 

 حق الیقین فارسی صفحہ 342

 روایت4 ۔۔۔۔۔اور عیاشی نے امام جعفر سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ خلفاء جورنے اپنا ایک نام رکھا ہے اور اپنے آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں حالانکہ یہ نام علی ابن ابی طالب کے لیے مخصوص ہے اور ابھی تک اس نام کے معنی اور اس کی تاویل لوگوں پر ظاہر نہیں ہوئی ہے راوی نے پوچھا اس کی تاویل کب ظاہر ہوگی امام نے فرمایا اس وقت جب کہ خداوند عالم ان کے سامنے پیغمبر اور مومنوں کو جمع کرے گا تاکہ ان کی مدد کریں جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا ہے وہ اذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔۔اس روز جناب رسول خدا علم علی بن ابی طالب کو دیں گے وہ تمام خلائق کے امیر ہوں گے اور تمام خلائق آنحضرت کے علم کے نیچے ہوں گے اور وہ سب کے سب امیر اور بادشاہ ہوں گے یہ ہے امیر المومنین کی تاویل اور معنی 

 حق الیقین فارسی  صفحہ 344

 خلاصہ ۔۔۔شیعہ مصنفین جو فہذا علی مولاہ علی لفظ مولا کے معنی پر زور دیتے ہیں وہ اس روایت کے ساتھ اس کو ملا کر غور کریں تو ان کے مذہب کے مطابق یہ نتیجہ نکلے گا کہ حضرت علی کا امیر المومنین ہونا اور تمام مومنین کا مولا ہونا رجعت کے بعد  ہونا ہے 

 روایت 5۔۔

صفحہ 11 از 13