اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 12 از 13

 منتخب البصائر میں امام جعفر سے روایت ہے علی کی زمین میں ان کے فرزند حسین کے ساتھ رجعت ہوگی حضرت علم لیے ہوئے آئیں گے تاکہ بنو امیہ اور معاویہ اور ال معاویہ سے اور ہر اس شخص سے جس نے آنحضرت سے جنگ کی ہوگی انتقام لیں اس وقت خداوندعالم ان کے کوفی دوستوں اور مدد گاروں کو اور تمام لوگوں میں سے ستر ہزار اشخاص کو زندہ کرے گا حضرت ان سے صفین میں پہلی مرتبہ کی طرح ملاقات کریں گے اور سب کو قتل کر دیں گے ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا کہ کسی کو خبر کر سکے پھر دوبارہ امیرالمومنین رسول اللہ کے ساتھ آئیں گے وہ زمین پر خلیفہ ہوں گے اور آئمہ اطہار اطراف میں زمین میں آپ کے اعمال ہوں گے خداوندعالم اپنے پیغمبر کو تمام اہل دنیا پر بادشاہی عطا فرمائے گا اس دن سے جب کہ خدا نے دنیا کو خلق فرمایا ہے اس روز تک جبکہ دوسروں کی سلطنت برطرف ہوئی ہوگی یہاں تک کہ خدا اپنے پیغمبر سے کیے ہوئے وعدے کو کہ ان کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دے گا اگرچہ مشرکین نہ چاہیں اس وعدے کو وفا کریں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 345 

 خلاصہ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رجعت کے بعد خلیفہ ہونگے اس روایت کے مطابق جب دوسرے لوگوں کی سلطنت برطرف ہو گئی اس کے بعد پیغمبر ؐکو تمام اہل دنیا پر بادشاہی عطا کی جائے گی اس کے بعد حضرت علی خلیفہ بلا فصل ہوں گے اس وقت اللہ تعالی کا وعدہ کہ اپنے پیغمبر کے دین کو دوسرے  دینوں پر غالب کرے گا یہ وعدہ پورا ہو گا

روایت۔6

شیخ مفید اورطوسی نے امام باقر سے روایت کی ہے کہ خدا کی قسم ہم اہل بیت میں سے ایک شخص حضرت صاحب الامر کی وفات کے بعد 309 سال بادشاہی کرے گا میں نے عرض کی قائمؑ کتنے دنوں بادشاہی کریں گے فرمایا انیس سال اور حضرت کے بعد خلفشار اور فتنہ و فساد بہت زیادہ پچاس سال تک ہوتا رہے گا  پھر انتقام لینے والا دنیا میں آئے گا جو امام حسینؑ ہیں وہ اپنے اور اپنے اصحاب کے خون کا انتقام طلب کریں گے اور اس قدر منافقوں کا قتل اور

 اسیر کریں گے کہ لوگ کہیں گے کہ اگر یہ حسین پیغمبروں کی ذریت سے ہوتے تو اس قدر آدمیوں کو قتل نہ کرتے اس کے بعد سفاح آئیں گے یعنی جناب امیر  

 حق الیقین فارسی صفحہ 350

 روایت 7۔۔

کلینی اور قمی نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے اپنے رسول کو امام حسین کی ولادت کی خبر دی اور خوشخبری دی قبل اس کے کہ جناب فاطمہ آنحضرت سے حاملہ ہو کہ امامت ان ہی کے فرزندوں میں قیامت تک رہے گی پھر ان باتوں سے آگاہ کیا جو کہ امام حسین اور ان کی اولاد پر مثل قتل و مصائب کے واقع ہوں گی پھر ان مصائب کے آغاز میں ان کو امامت عطا کی جو ان کے عقب میں یعنی بعد والوں میں رہے گی اور آنحضرت کو اطلاع دی کہ وہ قتل کئے جائیں گے لہذا خدا ان کو واپس لائے گا تاکہ اپنے دشمنوں کو قتل کرے اور خدا ان کو تمام روئے زمین کا بادشاہ کرے گا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جن کو زمین پر لوگوں نے کمزور کر دیا ہے ہم ان کو زمین پر امام اور روئے زمین کا مالک بنائیں گے سورہ قصص آیت 5 

 حق الیقین فارسی صفحہ 351

 روایت 8۔

علی بن طاؤوس نے اپنی کتاب  بشارت میں عمران سے روایت کی ہے کہ مجموعہ عمر دنیا صد ہزار سال است بیست ہزار سال دولت سامری مردم است ہشتاد ہزار سال آیام  دولت محمد و آل محمد است دنیا کی تمام عمر ایک لاکھ سال ہے بیس ہزار سال تمام لوگوں کی حکومت ہوگی اور اسی ہزار سال محمد و آل محمد کی حکومت ہوگی 

 خلاصہ۔ ۔۔

 عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کا اجماعی اور متواترات میں سے ہے جو رجعت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ شیعہ ہی نہیں ہے 

 امیر المومنین کا لقب حضرت علیؓ کے لیے خاص ہے لیکن حقیقت میں حضرت علیؓ بھی رجعت کے بعد امیر المومنین ہوں گے رجعت سے پہلے امیرالمومنین ہونا نہیں تھا 

 اللہ تعالی کا وعدہ جوسورہ نور کی آیت 55 میں ہے کہ اللہ ضرور بالضرور مومنین صالحین کو زمین میں خلیفہ بنائے گا ان کا دین مضبوط کرے گا ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا اللہ کا یہ وعدہ آئمہ معصومین سے ہے اس وعدے کو اللہ تعالی  رجعت کے بعد پورا کرے گا 

 اللہ تعالی نے پہلے سے ہی مقرر کیا ہے کہ پہلی زندگی میں ائمہ معصومین کو کمزور کیا جائے گا اور ان پر ظلم کئے جائیں گے ان مصائب و مشکلات کے عوض یعنی بدلے میں اللہ تعالی محمد و آل محمد کو رجعت میں حکومت عطا فرمائے گا 

 عقیدہ رجعت کا مقصد یہ ہے کہ ائمہ معصومین ان لوگوں سے اپنی مظلومیت کا انتقام لے جنہوں نے ان پر پہلی زندگی میں ظلم کیےتھے

اگر اللہ تعالی ان کو پہلی زندگی میں ہی خلیفہ یعنی حکمران بناتا تو نہ ان پر کوئی ظلم کر سکتا اور نہ ہی عقیدہ رجعت کا تصور ہوتا اور نہ ہی آئمہ معصومین کسی سے انتقام لینے کے لئے رجعت کرتے اس طریقے سے وہ تمام آیتیں جن سے شیعہ مصنفین ائمہ معصومین کے اقوال کے ذریعے سے عقیدہ رجعت ثابت کرتے ہیں ان تمام آیات کا جھوٹا ہونا لازم آتا 

 آئمہ معصومین کی خلافت ایک روایت کے مطابق 80 ہزار سال ہوگی ان میں سے حضرت مہدی کی حکومت انیس سال اور اہل بیت میں سے ایک شخص کی حکومت تین سونو سال حضرت علیؓ کی حکومت 44 ہزار سال ہوگی حضرت حسین اتنی حکومت کریں گے کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کے ابرو آپ کی آنکھوں پر لٹک آئیں گے اور ان کے علاوہ باقی ائمہ کو بھی رجعت میں بادشاہی عطا کی جائے گی 

 خلاصہ آیات و روایات 

 شیعہ مفسرین و محدثین اور مؤرخین نے عقیدہ رجعت کے بارے میں آیات قرآن کی تحقیقات کو بگاڑ کر اور اپنے ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے جو من گھڑت روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے 

 زمین سے ایک جانور نکلے گا اس کے دو پر چار پاؤں اس کا طول ساٹھ گز اور ایک روایت کے مطابق تین دن تین رات زمین سے نکلے گا لیکن پورا نہ نکل پائے گا خنزیر جیسی آنکھیں ہاتھی جیسے کان پہاڑی گائے جیسے سینگ شترمرغ جیسی گردن شیر جیسا سینہ اونٹ جیسی ٹانگیں اور اس کے پاؤں میں کھرہوں گےاور یہ دابہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نعوذ باللہ قیامت سے پہلے زمین سے نکل کر باہر آئے گا یہی اس کی رجعت ہوگی 

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 106 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 

 تفسیر نور ثقلین جلد 6 صفحہ 99 

صفحہ 12 از 13