اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 13 از 13

 سب سے پہلے ان الذی فرض علیک القران آیت کریمہ سے من گھڑت عقیدہ رجعت عبداللہ بن سبا نے ثابت کرنے کی کوشش کی 

 ناسخ التواریخ جلد 3 صفحہ 234 لیکن بعد میں شیعہ مذہب کا یہ بنیادی عقیدہ بن گیا 

 دنیا میں جو قتل ہوا وہ رجعت میں آکر مرے گا اور جو اپنی موت مرا وہ رجعت میں ائمہ حضرات کی راہ میں قتل ہوگا 

 حق الیقین صفحہ 337   

  تفسیر نور ثقلین جلد 1 صفحہ 403 

 تفسیر الصافی جلد 1 صفہ 302 

 تمام انبیاء علی کی مدد کے لیے دنیا میں آئیں گے اور علی کے ماتحت ہو کر اس کے دشمنوں سے لڑیں گے اور اور خلافت بلافصل دینے کا وعدہ اللہ تعالی کا وہ رجعت کے بعد پورا ہوگا 

 حق الیقین صفحہ 339 

 ترجمہ و تفسیر مقبول و

 تفسیرعیاشی آل عمران آیت 81 کی تفسیر میں 

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ امیر المومنین بلا فصل رجعت کے بعد ہونگے 

  حق الیقین 3 صفحہ 344

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 181 

 شیعوں کا بارہواں امام ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو زندہ کرکے اس پر حد جاری کرے گا نعوذ باللہ 

 حق الیقین صفحہ 346 

 خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی روزہ اقدس سے نکالا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شیعوں کے بارھویں امام کی بیعت کریں گے 

 حق الیقین صفحہ 347 

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رجعت میں بار بار آئیں گے اور آخری بار 44 ہزار سال حکومت کریں گے ہر سال ایک بیٹا پیدا ہوگا 44 ہزار فرزند ہونگے 

 حق الیقین صفحہ 340 

 نتیجہ 

شیعہ مصنفین کا عقیدہ رجعت اور اس کا پس منظر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ان کے بارہ اماموں کو خلافت یعنی حکومت رجعت کے بعد ملے گی باقی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بعد متصل جو خلافت کا عقیدہ رکھ کر پوری امت مسلمہ سے جدا ہوئے اور صحابہ کرام کو خلافت کا غاصب کہہ کر حضرات ثلاثہؓ اور ان کے ماننے والوں کو نعوذ باللہ کافر اور مرتد کہا اور ان پر تبراء کیا وہ سارے کا سارا دروغ جھوٹ اور باطل ہونے کی وجہ سے پورا شیعہ مذہب ہی باطل ہوگیا اور اسی طرح جن آیات میں قیامت برپا ہونے کا ذکر تھا ان آیات کے اصل مفہوم کو بگاڑ کر من مانی تاویل کرکےمصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرتے رہےاور قیامت سے پہلے ایک من گھڑت قیامت کا تصور کیا ان آیات کے بارے میں خود ہی اپنے امام جعفر صادق کا قول نقل کیا کہ وہ آیت قیامت کے برپا ہونے کے متعلق ہیں اس کا نتیجہ بھی یہی ہوا کہ ان کا عقیدہ رجعت بھی من گھڑت اور اپنا اختراع ہے لہذا قرآن مجید کی کسی آیت میں بھی قیامت سے پہلے رجعت کے نام سے کسی اور قیامت کا ذکر تک نہیں ہے ظاہر ہے کہ جس مذہب کے ایمانیات میں کتاب اللہ کو شامل نہیں کیا گیا ہو اس مذہب کے عقائد کتاب اللہ کے مطابق کیسے ہوسکتے ہیں؟؟؟ ہر گز نہیں ۔۔    

  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان دھوکے بازوں کے فریب سے تمام انسانوں کی حفاظت فرمائے آمین  


صفحہ 13 از 13