اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 13

  عهد عتیق 12: 1-3

عہد جدید میں بھی قیامت ثانیہ سے پہلے، مسیح کی  حکومت اور ان کے آباء و اجداد کے زندہ ہوجانے کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔

 مکاشفه یوحنا 20: 4-6

رجعت کی اسناد متواتر ہیں

رجعت کے بارے میں احادیث و اسناد اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر قسم کے شک و شبہے کی نفی ہوجاتی ہے۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں 1600 رجعت کے  سلسلے می نازل اور وارد ہونے والی آیات و روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: "ان لوگوں کے لئے ـ جو ائمہ(ع) کے کلام پر یقین رکھتے ہیں ـ شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ مسئلۂ رجعت حق ہے، اور اس باب میں ائمہ(ع) سے وارد روایات متواتر ہیں اور تقریبا 2000 روایات وارد ہوئی ہیں جو اس امر پر تصریح کرتی ہیں اور ان روایات کو 40 سے زائد اکابرین علماء اور محدثّین نے 50 سے زائد معتبر کتب میں ثبت و ضبط کیا ہے۔ :جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

 شیخ صدوق،

 کلینی رازی،

 شیخ طوسی،

 سید مرتضی علم الہدی،

 احمد بن علی نجاشی،

 محمد بن عمر کشی،

 محمد بن مسعود سمرقندی عیاشی،

 علی بن ابراہیم قمی،

 شیخ مفید،

 ابوالفتح کراجکی،

 محمد بن ابراہیم نعمانی،

 محمد بن حسن صفار قمی،

 ابن قولویہ،

 سید ابن طاؤس،

 فضل بن حسن طبرسی،

 ابن شہر آشوب اور

 سعید بن ہبۃ اللہ راوندی۔

مجلسی بعدازاں ان کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مسئلۂ رجعت پر تالیف ہوئی ہیں۔

 مجلسی، بحارالانوار، ج53، ص96 و 122

 علاوہ ازیں بہت سی زیارات اور دعاؤں میں بھی رجعت کے عقیدے پر تاکید ہوئی ہے جیسے زیارت جامعہ، زیارت وارث، زیارت اربعین، زیارت آل یاسین، زیارت رجبیہ و دعائے وداع اور دعائے عہد

قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، زیارت جامعه کبیره، آل یس و دعای عهد

نکتہ: شیعہ رجعت پر یقین و اعتقاد راسخ رکھنے کے باوجود رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے؛ کیونکہ رجعت مذہب شیعہ کی ضروریات و مسلمات میں سے ہے ۔۔۔  اور جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے رجعت پر ایمان، ایمان کامل اور حقیقی اسلام کی شروط میں سے ہے۔

  مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج15، ص593

 خلاصہ کلام ۔۔۔۔

1۔۔۔عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کے متواتر بالمعنیٰ روایتوں  سے ثابت ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 354 

2۔۔۔۔عقیدہ رجعت  شیعوں کا اجماعی عقیدہ ہے 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 765 

3۔۔۔۔۔جو رجعت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ شیعہ نہیں ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 335 

4۔۔۔۔۔عقیدہ رجعت کا انکار محض بے دینی ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 354 

5۔۔۔شیعہ علما ہر دور میں اپنے عقیدہ رجعت کا دفاع کرتے رہے ہیں 

6۔۔۔۔رجعت کا انکار حشر اور قیامت کے انکار کی طرح ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 354 

7۔۔۔‏رجعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئمہ معصومین خاص خاص مومنین اور خاص خاص منافقین دنیا میں واپس آئیں گے

 تکلیف المکلفین فی اصول دین

صفحہ-25 

8۔۔۔۔رجعت میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم شیعوں کے بارہویں  امام مہدی کی بیعت کریں گے

 حق الیقین فارسی صفحہ 347 

9۔۔۔۔رجعت کا انکار دین شیعہ سے خروج ہے باقی دین اسلام سے خروج نہیں  

 حق الیقین فارسی صفحہ 354

 نتیجہ۔ 

 شیعہ مذہب میں امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم شیعوں کے بارہویں امام مہدی سے مرتبہ اور عظمت میں کم تر اور ان کا بارہواں امام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی برتر ہے۔

 رجعت کا انکار کرنے والا دین شیعہ سےخارج ہو جائے گا باقی دین اسلام سے خارج نہ ہوگا اس سے ظاہر ہے کہ اگر دین شیعہ اور دین اسلام ایک چیز ہوتا تو دونوں کی حدود بھی ایک ہی ہوتے 

معلوم ہوا کہ یہ دونوں جداجدا دین ہیں جب رجعت کاانکارکرنے والا دین شیعہ سےفارغ ہونے کے باوجود دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا تو اس سے معلوم ہوا کہ دخول بھی اسی طرح ہے کہ جو دین شیعہ میں داخل ہے وہ دین اسلام میں داخل نہیں اور جو دین اسلام میں داخل ہے وہ دین شیعہ میں داخل نہیں ہوسکتا ۔یہی سبب ہے کہ امت مسلمہ کے ہر دور کے علماء محققین نے فتوی دیا ہے کہ دین شیعہ اور دین اسلام دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور مذکورہ عبارت میں خود شیعہ مصنفین نے بھی اس بات کا بھی اقرار کیا کہ واقعتاً دین شیعہ سے خارج ہونے والا دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا     

 مقصد رجعت ۔۔

1۔۔۔ملاباقرمجلسی نے رجعت کا مقصد بتایا ہےکہ رجعت کی حیثیت یہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت قائم کے زمانے میں بہت سارے نیک اور بہت سارے بد کار واپس آئیں گے نیکوکار ائمہ کرام کی حکومت دیکھ کر خوش ہوں گے اور اپنی نیکیوں کا بدلہ ان سے دنیا میں حاصل کریں گے اور بدکار دنیا میں عذاب اور سزا پانے کے لئے اور اہلبیت کی حکومت جو وہ پہلے ناپسند کرتے تھے اس کا مشاہدہ کریں گے اور شیعہ ان سے انتقام لیں گے یہ ہے مقصد رجعت کا   

2 ۔۔۔۔شیعہ مصنف فخر العلماء سید نجم الحسن کراروی ۔۔14 ستارےمیں لکھتا ہے حضرت امام مہدی کے عہد میں قیامت سے پہلے زندہ ہونے کو رجعت کہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہور کے بعد بحکم خدا شدید ترین کافر اور منافق اور نیک کار ترین مومنین حضرت رسول اللہ ائمہ طاھرین اور بعض سلف برائے اظہار دولت حق محمدی دنیا میں پلٹ آئیں گے اس میں ظالموں کو ظلم کا بدلہ اور مظلوموں کو انتقام کا موقع دیا جائے گا اور دشمنان آل محمد کو قیامت میں عذاب قبر سے پہلے عذاب ادنیٰ کا مزہ چکھایا جائے گا اور شیطان سرورکائنات کے ہاتھوں سے نہر فرات پر ایک عظیم جنگ کے بعد قتل ہوگا اور ائمہ طاھرین کے ہر عہد حکومت میں اچھے برے زندہ کئے جائیں گے اور امام مہدی کے عہد میں جو لوگ زندہ ہوں گے ان کی تعداد 4000 ہوگی اور اس جہت میں بدعا قرانی آل محمد کو حکومت عامہ عالم دی جائے گی اور زمین کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہوگا جس میں آل محمد کی حکومت نہ ہو اب رہ گیا کہ کائنات کے ظاہری حکومت وراثت آل محمد کے پاس کب تک رہے گی تو اس کے متعلق ایک روایت 8 ہزار سال کا حوالہ دے رہی ہے   ۔ حضرت علی کے ظہور اور نظام عالم پر حکمرانی کے متعلق قرآن مجید میں بصراحت موجود ہے 

 چودہ ستارے ص601۔603

 نوٹ۔ ۔۔

اب ہم شیعہ مصنفین و مفسرین کی وہ عبارتیں اور آیتوں کی تفاسیر نقل کرتے ہیں جو انہوں نے عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کے لئے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں 

 آیت نمبر ١

Surat No 27 : Ayat No 82 

صفحہ 2 از 13