اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 13

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ محققین کی جدید تحقیق یہ ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ شیعوں کا بارہواں امام جو کسی غار میں چھپا ہوا ہے وہ ظاہر ہوگا ۔اس تحقیق کے مطابق کسی مرنے والے کی رجعت نہیں ہوگی بلکہ ایک غائب حاضر ہوگا اور اس کے علاوہ شیعہ محققین رجعت کی ایک اور تاویل بھی کی ہے کے شیعہ امامیہ کی ایک جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ رجعت کے متعلق جتنی روایات ہیں ان کی تاویل یہ ہے 

 رجوع الدولة۔ ۔۔۔۔والامر والنھی دون رجوع الاستخاص والأحياء والأموات

 یعنی رجب کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت امر ونہی کا رجو ع ہوگا نہ کہ کسی شخص کا لوٹانا اور نہ ہی مردوں کا زندہ ہونا 

 تفسیر نورالثقلین جزو رابع صفحہ  111

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 

اگرچہ انہیں مفسرین نے ایسی تاویل کو غلط کہا ہے لیکن اس سے یہ تو معلوم ہوا کہ شیعہ امامیہ کی ایک جماعت مردوں کے زندہ ہونے والی رجت کا انکار کرتی ہے 

یا مفسرین  نے بالآخر یہ بھی لکھا کہ مذکورہ بالا جماعت کاری آرمی مردوں کے زندہ ہونے کا انکار اس وجہ سے ہے کہ 

 لان الرجعت لم تثبت بظواہر الاخبارالمنقولة۔ 

 یعنی عقیدہ رجعت صریح طور پر بظاہر منقولا احادیث سے ثابت نہیں ہے اس کو تاویل سے ثابت کیا جاتا ہے اور اس تاویل پر شیعہ علماء کا اجماع ہے 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 235 

 یہی وجہ ہے کہ بلآخر شیعہ محققین نے مجبورا لکھا کہ عقیدہ رجعت اسلام کی بنیادی شرائط میں سے نہیں ہے جیسا کہ تفسیر نمونہ میں شیعہ محققین نتیجے کے طور پر لکھا ہے کہ اس سلسلےکی آخری بات کے طور پر اپنا یہ عقیدہ مکتبہ اہل بیت اور ائمہ اطہار سے لیا ہے لیکن وہ رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے کیوں کہ رجعت شیعہ ہونے کے لحاظ سے ضروری ہے لیکن مسلمان ہونے کے لئے ضروری شرائط میں سے نہیں اسی بنا پر اس عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں کا اسلامی رشتہ اخوت آپس میں نہیں ٹوٹتا البتہ شیعہ حضرات منطقی طریقہ سے اپنے اس عقیدے کا دفاع ضرور کرتے ہیں 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 730 

 شیعہ مفسرین نے یہ بھی قرار کیا ہے کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے ثابت نہیں صرف خبر سے ثابت ہے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہمارے علما رجعت کو اصول دین میں شامل نہیں کرتے۔

 تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

کیا شیعہ مصنفین کی متضاد بیانیوں کے بعد کوئی صاحب عقل و دانش عقیدہ رجعت کو تسلیم کر سکتا ہے  

ہرگز نہیں 

جبکہ شیعہ مصنفین نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ عقیدہ رجعت نہ اصول دین میں سے ہے اور نہ ہی اسلام کے بنیادی شرائط میں سے ہے اور نہ ہی مسلمان ہونے کے لئے کوئی ضروری شرط ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ دین اسلام کو ماننے والوں کا اس عقیدے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسری بات یہ کہ دابۃ الارض کے بارے میں خودکشیوں کے علامہ شعرانی نے تفسیرمنھج الصادقین پر حاشیہ لگا کر لکھا ہے کہ دابۃ الارض کا خروج صحیح ہے باقی اس کی تفصیل میں روایات اور مفسرین کے اقوال میں بہت بڑا اختلاف ہے 

اس لئے اس کی تحقیق ہم پر واجب نہیں صرف اجمال ایمان رکھنا کافی ہے 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 56 

اس سے معلوم ہوا کہ ایک طرف تو شیعہ مصنفین نے مذکورہ آیت سے عقیدہ رجعت کو سینہ زوری سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رجعت کو ثابت کرنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابہ بنالیا لیکن دوسری طرف خود ہی بتا دیا کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے نہیں 

صرف خبر سے ثابت ہے لیکن خبر  سے بھی نہیں بلکہ تاویل سے ثابت کرتے ہیں اس میں بھی اختلاف کی وجہ سے اس کو نہ اصول دین میں رکھ سکے اور نہ ہی اسلام کی بنیادی شرائط میں اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنے سے بھی ہاتھ اٹھا دیا بلکہ صرف اجمالی ایمان رکھنا کافی سمجھا 

 نتیجے کے طور پر نہ عقیدہ رجعت ثابت کرسکے اور نہ ہی دابۃالارض کو حضرت علی پر چسپاں کر سکے 

 آیت نمبر 2

Surat No 27 : Ayat No 83 

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ  فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ  یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے ۔  

بہت ساری احادیث میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ 

 این ایت دررجعت است ۔۔۔۔۔کہ یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے کہ حق تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو زندہ کرے گا اور قیامت کے بارے میں یہ آیت ہے

   Surat No 18 : Ayat No 47 

وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ  فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾

 اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے  اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو  بھی باقی نہ چھوڑیں گے ۔  

اور فرمایا کہ آیات سے مراد امیرالمومنین اور آئمہ ہیں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 336 

 اور یہی بات شیعوں کے فاضل جلیل حجةالاسلام سید فرمان علی نے اپنے ترجمہ و تفسیر کے صفحہ نمبر 612 پر اسی آیت کی تفسیر میں لکھی ہے 

سوائے اس کے کہ آیت سے مراد امیرالمومنین اور ائمہ معصومین میں یہ نہیں لکھا 

 اور یہی روایت تفسیرقمی میں موجود ہے اس آیت کی تفسیر میں 

 اور ترجمہ مقبول میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ مومنین میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ شہید کیا گیا اور وہ موت کا ذائقہ چکھنے کے لئے رجعت نہ کریں اور جس جس کو رجعت ہوگی وہ یا تو ایمان میں خالص ہوگا یا کفر میں 

 ترجمہ مقبول صفحہ 764 

 تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 720 

 تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 247 

 تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 131 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

  تفسیر نور الثقلین جلد 4 صفحہ 

 تفسیر المیزان جلد 15 صفحہ 582 

ان تمام تفاسیر میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ آیت کریمہ سے عقیدہ رجعت ثابت ہوتا ہے حالانکہ اس میں قیامت سے پہلے کسی کو زندہ کرکے جمع کرنے کا ذکر تک نہیں ہے

صفحہ 5 از 13