اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 13

بلکہ اس آیت کریمہ اور اس کے بعد والی دو آیات میں قیامت کے دن اٹھانے کا ذکر ہے مثلا فرمایا گیا ہے کہ ہر امت میں سے ہماری آیات کو جھٹلانے والوں میں سے ایک سرکش گروہ کو ہم جدا کرکے کھڑا کریں گے حتیٰ کہ جب وہ آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا  اکذبتم بایاتی۔ کیا تم میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟حالانکہ تمہیں کسی علم کا کوئی احاطہ نہیں تھا اور جو کچھ تم کرتے تھے ہمیں معلوم ہے ان کے ظلم نافرمانی کی وجہ سے ان پر ہمارے عذاب کا قول ثابت ہو جائے گا پس وہ بول ہی نہ سکیں گے 

 سورہ نمل آیت نمبر 83 84 85 

ان آیات کو پڑھنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ  یوم نحشر میں قیامت کے دن کا ذکر ہے جیسا کہ دوسری آیات سے اس کی اور بھی وضاحت ہوتی ہے 

 Surat No 37 : Ayat No 22 

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا  کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

ظالموں کو  اور ان کے ہمراہیوں کو  اور ( جن ) جن کی وہ اللہ کے علاوہ پرستش کرتے تھے  ۔  

 Surat No 37 : Ayat No 23 

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ  فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾ ٙ

  ( ان سب کو )  جمع کرکے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو ۔  

 Surat No 37 : Ayat No 24 

وَ قِفُوۡہُمۡ   اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾                

اور انہیں ٹھہرا لو   ( اس لئے ) کہ ان سے ( ضروری  ) سوال کیئے جانے والے ہیں ۔  

اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ ان سے یہی سوال پوچھا جائےگا کہ  اکذبتم بآیاتی۔کیا تم ہو جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے؟ 

جیساکہ دوسری آیات میں ہے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے سرکشوں کو الگ کرکے سخت سزا دی جائے گی 

 Surat No 19 : Ayat No 68 

فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَ الشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ  حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾

 تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے ۔  

 Surat No 19 : Ayat No 69 

ثُمَّ  لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ  شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾

ہم پھر ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے ۔  

Surat No 19 : Ayat No 70 

ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمۡ اَوۡلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾

پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں ۔  

ان آیات کی تفسیر میں شیعہ مفسر بھی یہی تفسیر کرتے ہیں مثلا تفسیر  صافی جلد 2 صفحہ 51 میں ہے 

 من کل الشیعة

سے مراد

من کل امة 

 اور تفسیرمیزان جلد نمبر 4 صفحہ 120 پر ہے کہ 

 روساء وامامان ضلالت را بیرون می آوریم 

 ہر جماعت میں سے گمراہ کرنے والوں روسا اور اماموں کو جدا کریں گے

 ترجمہ۔ یعنی سب سے پہلے اس جماعت کو جو کفر اور نافرمانی میں دوسروں سے زیادہ ہوتی تھی جدا کر کے جہنم میں ڈالیں گے اور اس کے بعد وہ لوگ جو کفر اور سرکشی میں ان سے کمتر تھے ان کو جہنم میں ڈالیں گے 

 تبصرہ۔ ۔۔

ان آیات کی تفاسیر نے مذکورہ آیت۔

یوم نحشرمن کل امة۔ ۔۔۔۔۔

کی حقیقت کو واضح کر دیا کہ یہ آیت کریمہ اس منظر کو بیان کر رہی ہے جس وقت محشر کے میدان میں سرکش کافروں کو یعنی کافروں کے پیشواؤں کو جدا کرکے ایک جگہ جمع کرکے ان سے سختی سے حساب لیا جائے گا اور ان کو کہا جائے گا  اکذبتم بآیاتی ۔کیا تم ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو سخت سزا دی جائے گی اس طرح کا مفہوم قرآن مجید کی اکثر آیات میں بیان کیا گیا ہے لیکن شیعہ مفسرین جن کا مقصد ہی قرآن  مجید کی اصل حقیقت کو بگاڑنا ہے وہ قرآن کی تفسیر آیات کے مقاصد کو واضح کرنے کے لیے نہیں بلکہ بگاڑنے کے لیے کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے اس آیت کریمہ سے بھی قیامت کے مقصد کو بگاڑ کر اپنا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت کرنے کی فضول کوشش کی ہے لیکن اس آیت کریمہ اور قران مجید کی کسی بھی آیت میں عقیدہ رجعت کا کوئی اشارہ تک نہیں ہے 

 نتیجہ۔۔۔۔۔۔ 

شیعہ مفسرین نے اس آیت کی بھی انتہائی فحش معنوی تحریف کر کے اپنے من گھڑت عقیدے کے لیے باطل تاویل کے زریعے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے 

 آیت نمبر 3 

 Surat No 28 : Ayat No 85 

اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ  اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۸۵﴾

جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے  وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے کہہ دیجئے کہ میرا رب اسے  بھی بخوبی جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اور ا سے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے ۔  

 بہت ساری احادیث میں منقول ہے کہ مراد رجعت حضرت رسول است بسوے دنیا

 اس آیت سے مراد حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کی طرف رجعت کرنا یعنی واپس آنا ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 337 

 ترجمہ مقبول صفہ 788 

 تفسیر قمی صفحہ 505 

 تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 280 

 تفسیر نور ثقلین جلد 4 صفحہ 144 

 تفسیر المتقین صفحہ 513 

ان تمام تفاسیر میں شیعہ مفسرین نے اپنے ائمہ معصومین کی طرف روایات منسوب کرکے اس بات پر زور دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجعت کرکے یعنی دنیا میں واپس آئیں گے 

 تبصرہ۔ ۔

شیعہ مصنفین قرآن مجید کی اس آیت کریمہ سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رجعت اپنے اماموں کے اقوال کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں پھر اس رجعت میں اپنے اماموں سے یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارہویں  امام کی بیعت کریں گے  

جیسا کہ ملاباقرمجلسی نے امام محمد باقر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ جب قائم آل محمد غار سے باہر آئیں گے تو خدا اس کی ملائکہ سے مدد کرے گا اور سب سے اول محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم اس کی بیعت کریں گے اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لیکن باوجود اس کے جھوٹ کو کتنا ہی مزین کرکے پیش کیا جائے پھر بھی جھوٹ سچ نہیں ہو سکتا 

صفحہ 6 از 13