اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 13

اگرچہ معادسے مرادبعض  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور بعض نے جنت اور بعض نے مقام محمود لیا ہے لیکن سب سے زیادہ آیت کے ظاہری معنیٰ کے اعتبار سے یہی زیادہ موافق ہے کہ اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کی خوشخبری دی گئی ہے  

 تفسیر کبیر جلد 25 صفحہ 21 

 تفسیر البدیع جلد 2 صفحہ 94 

 تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 534 

 تفسیر ابن عباس صفحہ 434 

 صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 703 

 اہل تشیع تفاسیر 

 تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ معادسے مراد مکہ کی طرف لوٹنا ہے 

 وقیل الی معاد الی الموت۔ وقیل الی المرجع یوم القیامة ۔ ۔ 

ترجمہ۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ معاد سے مراد موت کی طرف لوٹنا ہے اور بعض نے کہا کہ قیامت کے دن کو مرجع کہا گیا ہے یعنی موت کے بعد آپ کو وہاں لوٹآئے گا  جہاں سے آپ آئے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کی طرف لوٹآنا مراد ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ آپ کو وفات دے گا اور وہ آپ کے جنت میں داخل ہونے کا باعث ہوگی لیکن آیت کا ظاہر تقاضہ یہ ہے کہ آپ کو مکہ کی طرف لوٹائے گا 

 تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 259 

 تفسیر نمونہ جلد 9 صفحہ 161 

 تفسیر المیزان جلد 16 صفحہ 88 صفحہ 141  

 تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 162 

 تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 134 

 تفسیر فرمان علی صفحہ 631 

ان تمام تفاسیر میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں معاد  سے مراد موت قیامت جنت مقام محمود مکہ کی طرف لوٹنا  لیکن تمام مفسرین خواہ وہ مسلمان ہوں یا شیعہ مفسر آخر میں سب نے اقتضاءالنص سے مکہ کی طرف لوٹنے کو ترجیح دی ہے اور اس آیت کریمہ کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رسالت پر دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائیں ٹھیک  اسی طرح کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف لوٹے اور ہوا بھی اسی طرح کہ آپ شان و شوکت سے مکہ کی طرف لوٹ آئے اور بغیر کسی لڑائی کے فتح مکہ ہوا اسلام کی عزت ظاہر ہوئی اور کفر ذلیل ہوا یہی ہے اس آیت کی حقیقت جس میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا وفات کے بعد دنیا میں واپس آنے کا اشارہ تک نہیں ہے لیکن شیعہ مفسرین کی کوشش یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کی اصل حقیقت کو بگاڑ کر سینہ زوری سے اپنا مصنوعی  عقیدہ رجعت ثابت کریں لیکن آئی تک یہ حقیقت کھل کر سامنے آئیں اور شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہ ہوسکا 

  آیت نمبر 4 

   Surat No 3 : Ayat No 157 

وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ 

 Surat No 3 : Ayat No 158 

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

  ترجمہ۔اگر تم خدا کی راہ میں مارے جاؤ یا اپنی موت سے مرے ہو تو بے شک خدا کی بخشش اور رحمت اس مال و دولت سے جس کو تم جمع کرتے ہو ضرور بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت سےہی مارےجاؤ آخر کار خدا ہی کی طرف قبروں سے اٹھائے جاؤ گے 

 ترجمہ فرمان علی شیعہ 

قرآن کی ان دو آیات کا ترجمہ جو شیعہ عالم نے کیا ہے اس ترجمے سے ہی  حقیقت کو سمجھنا آسان ہے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں اپنی موت سے مرنا یا قتل ہو کر بھی مرنا ضرور ہے وہاں دنیا کی زندگانی کا جمع کیا ہوا مال کام نہیں آئے گا اور خصوصا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اللہ کی سبیل میں زندگی گزارتے ہوئے خود بخود مر جانے پر جو اللہ کی مغفرت اور رحمت ہے وہ دنیا کے جمع کیے ہوئے مال سے کئی گناہ بہتر ہے اور جس طرح مرنا یقینی ہے تو مرنے کے بعد اللہ کی طرف یعنی قیامت میں جمع ہونا بھی یقینی ہے 

لیکن شیعہ مصنف نے ہر دو آیات کو بگاڑ کر ایک آیت بنائیں اور تفسیر کو بگاڑ کر عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی 

 روایت۔ ملاباقرمجلسی نےدو آیات  کو ملا کرایک آیت بنائیں 

ولئن قتلتم فی ۔۔۔۔۔۔۔تحشرون۔

اور اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ بہت سارے طریقوں سے منقول ہے کہ  ایں آیت در رجعت است۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے اور سبیل اللہ علی کی ولایت اور اس کی زریت کی راہ ہے۔جو کوئی اس آیت پر ایمان رکھے گا اس کو قتل ہونا اور مرنا ہے یعنی اگر دنیا کی زندگی میں قتل کیا گیا اس راہ میں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ مریں اور اگرپہلے وہ مرے ہیں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ ان اماموں کی راہ میں قتل ہو 

اور یہی فرمان کل نفس ذائقۃ الموت کی تفسیر میں ہے یعنی جو قتل ہوئے ہیں انہوں نے موت کا ذائقہ نہیں چکا ہے البتہ رجعت میں ان کو دنیا میں لوٹایا جائے گا تاکہ وہ موت کا ذائقہ چکیں ہیں

 حق الیقین  فارسی صفحہ 337    

 روایت 

امام ابو جعفرسے رجعت کے متعلق ایک لطیف انداز سے سوال کیا میں نے کہا جو قتل ہوتا ہے کیا وہ مرتا ہے

 قال لا۔ الموت موت القتل قتل  

امام نے کہا کہ قتل ہونے والا مرا نہیں موت ہے اور قتل قتل ہے 

 مااحد یقتل الا وقد مات

یعنی جو بھی قتل ہوتا ہے وہی یقینا مرتا ہے تو امام نے فرمایا اس طرح نہیں بلکہ موت ہے اور قتل ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کا فرمان ہے  کل نفس ذائقۃ الموت جو قتل ہوتا ہے وہ موت کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا پھر فرمایا ضروری ہے کہ وہ لوٹ کر آئے اور موت کا ذائقہ چکھے۔

اور یہیں سے مسئلہ رجعت ثابت ہے کہ جس شخص نے موت کا ذائقہ نہیں چکھا یعنی قتل ہوا ضروری ہے کہ وہ دنیا میں رجعت کرے اور موت کا ذائقہ چکھنا ہے 

 ترجمہ مقبول صفحہ 133 

 تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 202 

 تفسیر المتقین صفحہ 87 

 تفسیر نور الثقلین جلد 1 صفحہ 403 

 تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 302 

 تبصرہ 

ان تمام تفاسیر میں عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی فضول کوشش کی گئی ہے حالانکہ موت کا مزہ چکھنے کے دو طریقے بتائے گئے ہیں یا تو اپنی موت خود مرا یا کسی کے قتل کرنے سے مرجائے دونوں میں سے کسی طریقے سے بھی مرنے والے کو کفن دیا جاتا ہے جنازہ پڑھا جاتا ہے دفن کیا جاتا ہے وراثت تقسیم کی جاتی ہے ازواج کو عدت میں بٹھایا جاتا ہے عدت کے بعد ان کا شادی کرنا جائز ہے لیکن شیعہ مصنفین نے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کے لئے مقتولین کے لئے موت کا ذائقہ چکھنے کا ہی انکار کر دیا  کیا یہ قرآن کی تفسیر کرنا ہے یا آیات کے صحیح مفہوم کو بگاڑنے کی کوشش کرنا 

صفحہ 8 از 13