اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 13

اور میت کے احکام میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وراثت عدت نکاح کفن دفن وغیرہ کی ان میں تعارض پیدا کرنا ہے 

  مسلمان مفسرین کی تفسیر

 لوکانواعندناماماتوا۔ ۔۔۔۔۔

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے یعنی لڑائی پر نہ جاتے تو نہ مرتے یعنی نہ قتل ہوتےتو اللہ تعالی نے جواب دیا  یحیی ویمیت۔ ۔۔۔اللہ زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے منافقین کا قول اور اللہ کی طرف سے جواب  ال العمران کی ہی آیت 156 میں مذکور ہے 

اور دوسرے جواب آیت نمبر 157 اور 158 میں یوں دیا گیا ہے کہ اگر تم فی سبیل اللہ قتل کئے گئے یا جہاد کے راستے میں چلتے ہوئے اپنی موت مرتے تو البتہ اللہ کی رحمت اور مغفرت لوگوں کے مال جمع کرنے سے کئی گناہ بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت مرے یا قتل کئے گئے تو البتہ تم اللہ کی طرف جمع کیے جاؤ گے 

 تفسیر الکبیر جلد 5 صفحہ 53 

 اسی سے ملتا جلتا مضمون تفسیر بن کثیر جلد 1 صفحہ 556 میں آل عمران کی آیت نمبر 156 تا 158 کی تفسیر میں 

 شیعہ تفاسیر میں 

شیعوں کے شیخ طوسی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے مومنین سے خطاب فرمایا اے ایمان والو تم ان کافروں مثلا عبداللہ بن سلول اور ان کے ساتھیوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اپنے بھائیوں کے لیے کہا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو لڑائی میں قتل نہ ہوتے اور سفر میں فوت نہ ہوتے اللہ تعالی نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا  واللہ یحیی ویمیت یعنی موت اور زندگی کا مالک اللہ ہی ہے کسی کا موت سے بھاگنا اور زندگی طلب کرنا کوئی نفع نہیں دے گا اور اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہےاور اگلی آیت میں فرمایا کہ یقینا لوگ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کی راہ کو چھوڑ کر دنیا کی محبت اور کثرت کی سوچ و فکر میں مال جمع کرتے ہیں اے ایمان والو تمہارا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اس راستے میں فوت ہونا جس کا نتیجہ اللہ کی بخشش و مغفرت ہے ان کے مال جمع کرنے سے بہتر ہے اور اگر تم اپنے موت مرو یا قتل کیے جاؤ ہر حال میں اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے نہ کہ دنیا کی طرف واپس آنا 

 ان خیرا فخیرا وان شرا فشرا

یعنی اچھائی کا بدلہ اچھا اور برائی کا بدلہ براہے 

 تفسیر التبیان جلد 3 صفحہ 28 29 

 اسی سے ملتا جلتا بیان تفسیر مجمع البیان جلد 1 صفحہ 526 پر ہے 

 تفسیر نمونہ جلد 2 صفحہ 281 پر 

ان تمام تفاسیر میں موت کا ذائقہ چکھنے کی دو صورتیں بتائی گئی ہیں کسی کے قتل کرنے سے موت کا ذائقہ چکھنا یا بغیر قتل کے مر کر موت کا ذائقہ چکھنا اور اس کے بعد اللہ کے پاس جمع ہونا اور اللہ ہی سے اپنے اعمال کا بدلہ ملنا ذکر کیا گیا ہے اور آیات کا سیاق و سباق بھی اسی پر دال ہے باوجود اس کے غالی شیعوں نے آیات کے سیاق و سباق کی پرواہ کیے بغیر اپنا مصنوی عقیدہ رجعت کو اماموں کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرکے لکھ دیا کہ قتل ہونے والا موت کاذائقہ نہیں جاسکتا اس لئے ان تمام کی رجعت ہوگی جو قتل کئے جاتے ہیں وہ اپنی موت مریں گے اور جو اپنی موت مرے ہیں وہ رجعت کے بعد قتل کیے جائیں گے یعنی تمام انسان رجوع کریں گے 

 نتیجہ ۔۔۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اب عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کی ضروریات میں سے ہوگیا حالانکہ ان آیات میں شیعہ کے مصنوعی عقیدہ رجعت کا اشارہ تک نہیں ہے اور شیعہ نے انتہائی فحش معنوی تحریف کی ہے  

 آیت نمبر 5 

Surat No 40 : Ayat No 11 

 قَالُوۡا رَبَّنَاۤ  اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ  اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبارہ مارا اور دو بارہ ہی جلایا  اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں تو کیا اب کوئی راہ نکلنے کی بھی ہے؟ 

 دراحادیث واردشدہ است کہ یک زندہ گردانیدن در رجعت است ودیگری درقیامت ویک زندہ گردانیدن دررجعت است ودیگرے درقیامت ۔۔۔۔۔۔

 احادیث میں وارد ہے کہ ایک بار زندہ کرنا رجعت  میں اور دوسری بار قیامت میں ہے اور ایک بار مارنا دنیا میں ہے اور دوسری بار رجعت میں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 340 

 شیعہ مفسر امداد حسین کاظمی نے لکھا ہے کہ تفسیر صافی صفحہ 443 پر باحوالہ تفسیر قمی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ان لوگوں کا یہ قول زمانہ رجعت میں ہوگا 

 تفسیر المتقین صفحہ 606 

 ترجمہ و تفسیر مقبول صفحہ 746 

 ترجمہ و تفسیر فرمان علی صفحہ 746 

 تبصرہ۔ 

اس آیت کریمہ میں دو بار مردہ ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا بتایا گیا ہے اور شیعہ مفسرین اس کی ایک تفسیر یہ کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ زندہ کرنا رجعت میں ہے اور دوسری مرتبہ قیامت میں ہے اور ایک مار ڈالنا دنیا میں ہے اور دوسرا رجعت میں 

 حق الیقین صفحہ 340 

 اگر اس تفسیر کو صحیح مان لیا جائے تو اس میں دو موت اور تین زندگیاں بنتی ہیں 

 ایک بار رحم مادر سے لے کر پہلی بار دنیا میں مرنے تک 

 پھر رجعت میں زندہ کیے جانے کے بعد قیامت سے پہلے مرنے تک 

 قیامت کے دن زندہ کر کے اٹھائے جانے کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے جنتیوں کا جنت میں رہنا اور جہنمیوں کا جہنم رہنا 

اور یہ قول

  ربنا امتنا ۔۔۔۔۔

وہ جہنمی لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دیں اور دو مرتبہ زندہ کیا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا تو کیا اب یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے 

یہ اس لیے کہ جب اللہ تعالی کو واحد سمجھ کر صرف اسی کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو ملا کر پکارا جاتا تھا تو تم مانتے تھے بس اب تو بزرگ و برتر اللہ تعالی کا ہی حکم جاری ہوگا 

  المومن آیت نمبر 11 12 

صفحہ 9 از 13