Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل

  توقیر احمد

 اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل 

 بنام مفتی عبدالعزیز عزیزی دامت برکاتھم 

 فہرست

 ابتدایہ

 عدل کی تعریف عندالشیعہ

 عدل کےواقعات عندالشیعہ

 تبصرہ

 نتیجہ

 ناصبی کی تعریف

 روایات

 خلاصہ 

 نتیجہ

 طینت کی تعریف

 روایات

 خلاصہ

 نتیجہ

 نقدوتبصرہ

 نتیجہ

 ابتدایہ

تمام امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی عادل ہے اور اس کا کوئی فعل عدل کے خلاف نہیں اور وہ عدل کو پسند کرتا ہے۔اس لیے اس نے اپنے بندوں کو بھی عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔اور جس طرح اللہ تعالی کی ذات پر ایمان لانے سے اس کی تمام صفات پر ایمان لایا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالی کی ذات پر ایمان لانے سے تمام صفتوں کی طرح عدل والی صفت پر بھی ایمان ہو جاتا ہے۔

شریعت نے جس طرح کسی صفت کو اللہ تعالی سے جدا کرکے ایمان لانے کا حکم نہیں کیا اسی طرح شریعت نے عدل والی صفت پربھی علیحدہ ایمان لانے کا حکم نہیں کیا ہے۔لیکن شیعہ مذہب کی ایمانیات میں عدل کو مستقل طور پر علیحدہ شامل کیا گیا ہے لگتا ہے کہ اس میں بھی ان کی کوئی انوکھی بات ہوگی اب ہم شیعہ کتب سے عدل کی تعریف اور کچھ عدل کے واقعات نقل کرتے ہیں۔

تعریف عدل عند شیعہ

 عدل کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا ہر کام انکی حکمت اور مصلحت کے مطابق اور موقع کی مناسبت کے عین موافق ہے۔ان کے افعال میں ظلم و بے اعتدالی ناممکن ہے اس کا نتیجہ ہے کہ بندہ اپنے افعال میں مختار ہے اور ان کا ذمہ دار ہے۔

 تحفہ العوام مقبول جدید صفحہ34 

 عدل کامعنی ہر شے کو اپنے موضوع مقام پر رکھنا اور حقدار کو حق پہنچانا۔عدل مخلوق کے درمیان اللہ کا میزان ہے۔

 شیعیت کا مقدمہ صفحہ 98 

 بحوالہ اصل و اصول شیعہ  

 اب ہم دیکھتے ہیں واقعتا شیعہ مذہب میں یہی عدل ہے جس بندے نے جو عمل کیا اس کے جزا و سزا کا وہی مستحق ہے اس کو حق پہنچانا اللہ تعالی کا عدل ہے یا شیعہ مذہب میں عدل کی حقیقت کچھ اور ہے۔

 عدل کے واقعات عند الشیعہ  

 روایت نمبر 1 ۔۔

 علل الشرائع میں جناب امام محمد باقر سے منقول ہے کہ خدا تعالی جب کسی مومن کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی طینت میں کافر کی طینت کا بھی کچھ حصہ ملا دیتا ہے۔اور مومن سے جو بدی برائی ظاہر ہوتی ہے اس کا باعث وہ طینت کفر ہے اور اس طرح کافر کے پیدا کرنے کا جب ارادہ کرتا ہے تو اس کی طینت میں مومن کی طینت کا حصہ ملا دیتا ہے۔بس کافر سے جو نیکیاں بن پڑتی ہیں ان کا باعث طینت ایمان ہے۔آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دشمن ناصبی سے مومن کی طینت اور اس کے متعلقات مع کل اعمال نیک لے کر مومن کو واپس عنایت کر دے گا۔اور ہر مومن سے ناصبی کی طینت اور اس کے متعلقات مع کل اعمال بد کے لیکرناصبی کو واپس کردیگااور یہی مقتضی عدالت ہے اس لئے کہ ناصبی سے ارشاد فرمائے گا کہ یہ اعمال خبیثہ تیری طینت سے تیرے مزاج کے موافق ہیں۔تو ہی ان کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور یہ اعمال نیک مومن کی طینت سے ہیں اور اس کے مزاج کے موافق ہیں وہ ان کا زیادہ مستحق ہے۔آج کے دن کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا بےشک خدا تعالی جلد حساب لینے والا ہے۔

 ترجمہ مقبول صفحات 288 سوره انفال کی آیت نمبر 37 کی تفسیر 

 اس معنی کی اور روایات۔

 مرآۃ العقول جلد 3 صفحہ 19 

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 85         

 ترجمہ مقبول سوره مومن رکوع نمبر 2 

 ضمیمہ مقبول صفحہ 178 سے 182 سورہ انفال کی آیت 37 رکوع 4 کی تفسیر میں 

 شیعہ مفسر مقبول احمد دہلوی اس روایت کو پختہ بنانے کے لئے قول مترجم کا عنوان دے کر لکھتا ہے۔اس حدیث کو دیکھنے والے شاید شبہ کریں۔جب خداتعالی نے ایسی طینت سے پیدا کیا تو کفار منافقین اور مجرمین کا قصور ہی کیا ہے۔

جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں تو وہ یہ سمجھ لیں کہ ابتدا عالم ارواح میں روحوں کی طینت پر جداگانہ ولایت محمدوآل محمد پیش کی گئی ہے تو حجت ان پر وہی تام ہوچکی اور جن جن چیزوں نے اس ولایت کو قبول نہ کیا انہیں سے کفار و منافقین کی پیدائش کی گئی۔لہذا خدا کی حجت غالب ہے اس پر کسی دوسرے کی حجت غالب نہ آ سکے گی۔

 ضمیمہ مقبول صفحہ 183 

 خلاصہ روایات۔

 اللہ تعالی کا عدل یہ ہے کہ قیامت میں ناصبیوں کے تمام نیک اعمال غضب کرکے شیعوں کو عنایت فرمائےگا۔اور شیعوں کی ہر برائی ناصبیوں پر تھوپ کر تمام ناصبیوں کو جہنم میں ڈالے گا۔

 ترجمہ مقبول صفحہ 288 سوره انفال آیه 37 

ایک بدکار سے بدکار شیعہ جس نے ایک عمل بھی اچھا نہیں کیا ہوگا لایا جائے گا اور اس کے عوض ایک لاکھ متقی پرہیزگار ناصبیوں کو جہنم میں ڈال کر اس بدکار شیعہ کو جنت میں بھیجا جائے گا۔

 ترجمہ مقبول صفحہ 11 سورہ بقرہ آیت 48 کی تفسیر میں 

 نو ربیع الاول سے تین دن تک شیعہ مرد ہو یا عورت مرفوع القلم ہوتے ہیں۔

جتنا چاہے منہ کالا کر لیں ان کا کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 111 

  محمد وآل محمد قیامت کے دن شیعوں کی شفاعت اس طرح کریں گے کہ اللہ کے حکم سے ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو یہ حضرات ان کو جہنم سے شکاری باز کی طرح اچک کر نکال لیں گے۔

 ترجمہ مقبول سورۃ بقرہ آیت نمبر 48 کی تفسیر میں  

 تبصرہ۔۔۔ 

شیعہ مفسر نے امام محمد باقر کی طرف منسوب کرکے جو من گھڑت روایت نقل کرکے اس میں جو اللہ کا عدل بتایا ہو اس پر غور کرنے سے ہر ایک منصف مزاج وذی شعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ عدل نہیں بلکہ یہ سراسر ظلم ہے۔کیا کرے کوئی اور بھرے کوئی اگر یہ ظلم نہیں تو پھر ظلم کی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی جبکہ انصاف یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے 

 يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ

 یعنی اللہ کسی نفس کو اس کے وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اب جو کچھ اس نے اچھا کیا اس کا نفع اس کے لیے ہے اور جو کچھ اس نے برا کیا اس کا نقصان اس کے لئے ہے 

 ترجمہ مقبول احمد شیعہ 

 فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (54)

 بس اس دن نہ تو کسی نفس پر کوئی ظلم کیا جائے گا اور نہ تم کو کوئی بدلہ دیا جائے گا سوائے اس کے جو عمل تم کیا کرتے تھے 

 ترجمہ مقبول احمد شیعہ 

 جس آیت کا حوالہ خود شیعہ مصنف نےروایت میں دیا ہے 

الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ(17)

 ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج کے دن کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔

 ان تمام آیات اور قرآن مجید کی بہت ساری آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ جو کرے گا وہ بھرے گا 

(6) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8)

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ مصنفین کی من گھڑت روایات جھوٹی ہیں ان کا اللہ تعالی کے عدل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مذہب تشیع کی ایمانیات میں جو عدل ہے وہ بھی ایک انوکھا عدل ہے۔مثال کے لئے ایک روایت

وتقو یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا ۔

جناب امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ اس یوم سے مراد یوم الموت ہے کیونکہ تاخیر موت کے بارے میں کوئی شفاعت قبول نہیں ہوسکتی ورنہ قیامت کے دن ہماری شفاعت سے کوئی مستثنی نہیں ہو سکتا پس ہم اور ہمارے کامل شیعہ سلمان مقدار ابوذر عمار وغیرہ کے اپنے کمزور شیعوں کی ہر طرح سے حمایت اور شفاعت کریں گے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی فاطمہ و حسن و حسین اور آئمہ علیہ السلام مقام اعراف پر جو جنت و جہنم کے مابین ہے کھڑے ہوں گے اور گناہ گار شیعوں کی شفاعت کریں گے اور جو کوئی ان میں سے جہنم میں بھیج دیے جائیں گے ان کو جہنم میں سے اس طرح اٹھا لائیں گے جیسے باز اپنے شکار کو اچک لیتا ہے کیسے کبوتر دانے چن لیتا ہے اور ایک شیعہ ہمارا ایسا لایا جائے گا جس نے اعمال صالحہ کچھ بھی نہ کیےہوں گے یعنی اول نمبر کا بدکردار ہوگا مگر ہماری دوستی اس کے دل میں موجود ہوگی اس کو ایک لاکھ ناصبیوں کے مابین کھڑا کیا جائے گا اور اسے یہ کہا جائے گا کہ چونکہ تو امامت کا قائل تھا اس وجہ سے ناصبی تیرے عوض جہنم میں بھیجے جاتے ہیں۔اور یہ خدا کے اس قول سے ثابت ہے

رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ (2)

یعنی بہت سے منکرین ولایت آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی امامت کو تسلیم کرنے والوں میں ہوتے 

 ترجمہ مقبول سورہ بقرہ کی آیت نمبر 48 کی تفسیر میں 

یا مفسر نے جو امام جعفر صادق کی طرف منسوب کرکے من گھڑت روایت سے جو شفاعت کا طریقہ لکھا ہے تو کیا یہ شفاعت ہے تو کیا ادھر اللہ کے حکم سے گنہگار شیعوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور ادھر یہ حضرات شکاری باز کی طرح ان کو اچک کر جہنم سے نکالتے جائیں گے۔یہ شفاعت ہے یا مقابلہ ؟؟؟اور دوسری بات یہ ہے کہ جب پہلی روایت کے مطابق شیعوں کے سارے اعمال بد ناصبیوں پر تھوپے جائیں گے تو پھر شیعوں کو محمد و آل محمد کی شفاعت کی ضرورت کب ہو سکتی ہے؟؟؟اور تیسری بات یہ کہ ایک بدکردار شیعہ کو بچانے کے لیے ایک لاکھ ناصبیوں کو اس کے عوض میں جہنم میں کیوں ڈالا جاتا ہے جبکہ پہلی روایت کے مطابق انسان بھی پیدا ہی ایسی طینت سے کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود ہی جہنم میں جانے والے ہیں 

چوتھی بات یہ کہ شیعہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں اور باقی امت کو مسلمان سمجھتے ہیں اور آیت کریمہ میں بھی لفظ مسلم ہے تو شیعہ اس سے امامت کو ماننے والا کیوں کر مراد لیتے ہیں ساری تضادبیانیاں بتا رہی ہیں کہ مذہب شیعہ درحقیقت سبائی جماعت کا من گھڑت نظریہ ہے نہ کہ دین اسلام اگر شیعہ مردوں اور عورتوں کے تمام گناہ ناصبیوں  کی گردن میں ڈالے جانے والی بات سچ ہے 

 نتیجہ۔۔۔

اس تضاد بیانی کا آخر حل کیا ہے کیا یہ ائمہ حضرات کی تعلیم ہے یا شیعہ مصنفین کی من گھڑت ایجادات؟؟؟؟

 شیعہ مرد اور عورتوں کے تمام گناہ ناصبیوں کی گردن میں ڈالے جانے والی بات سچ ہے تو شیعہ مرد اور عورتیں اپنے دشمنوں کو سزا دلوانے کے لیے کیا کیا برائیاں نہ کریں گے ؟؟؟؟

جب شیعہ مرد اور عورتیں تین دن تک مرفوع القلم رہیں تو خود سوچیں کہ وہ کیا کیا برائیاں نہ کریں گے ؟؟؟؟

 شیعہ مصنفین نے عدل کی عجیب مثالیں پیش کی ہیں کہ برائی کرے شیعہ اور اس کا جرمانہ بھرےناصبی 

یہ ہے شیعہ مذہب کا انوکھا عدل

شیعہ مصنفین نے اپنی ایمانیات یعنی اصول دین میں سے ایک اصل عدل کے نام سے شامل کیا ہے لیکن اللہ تعالی کے عدل کی جو انوکھی باتیں انہوں نے اپنے اماموں کی طرف منسوب کرکے ذکر کیں ہیں ایسا عدل کسی نے بھی کہی نہیں دیکھا ہوگا۔درحقیقت وہ عدل نہیں بلکہ سراسر وہ ظلم ہے جس کو انہوں نے عدل کا نام دیا ہے بھلا جس مذہب کی ایمانیات میں کتاب اللہ کو ہی شامل نہ کیا گیا وہ تو اس مذہب کا بتایا ہوا عدل کتاب اللہ کے بتائے ہوئے عدل کے مطابق کیسے ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔یہ عدل نہیں بلکہ امت مسلمہ کو ایمانیات اور اسلام کے نام پر دنیا میں نیکی اور بھلائی عدل و انصاف اور آخرت کی فکر سے بھٹکانے کا ایک ڈھونگ ہے الحفظ والامان۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو ایسے دھوکے پر مبنی مذہب سے بچائے آمین      

 ماقبل ہم نے جو بحث کی ہے اس میں ہمارے سامنے دو لفظ آئیں ہیں 

 ناصبی۔

 طینت

یہ دونوں لفظ شیعہ نظریہ میں شامل ہیں اس لیے ان پر بحث کرنا ضروری ہے تاکہ عدل کا درست مفہوم جو شیعہ کے نزدیک ہے وہ سمجھ آسکے

اور شیعت کی خباثتیں بھی ہمارے سامنے کھل سکیں اور یہ بات بھی کہ شیعہ طینت کے نظریے کو اپنے عام عوام سے کیونکر چھپاتے ہیں تو پہلی بحث ہم ناصبیت پر کرتے ہیں 

 ناصبی 

عدل کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں ان میں شیعہ مفسرین ومحققین محدثین نے لفظ ناصبی کا استعمال کیا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ روایات میں ناصبی سے مراد کون لوگ ہیں

 ناصبی کی تعریف۔۔۔۔

١۔۔۔۔ابن ادریس در کتاب سرائر از کتاب مسائل محمد بن علی بن عیسی روایت کرده است که نوشتند بخدمت امام علی نقی سوال کردند که آیا محتاج هستیم در دانستن ناصبی بر زیاده ازیں کہ ابوبکر و عمر را تقدیم کند بر امیرالمومنین و اعتقاد بر امامت آن ها داشته باشد حضرت درجواب نوشت هر کس این اعتقاد داشته باشد اوباصبی است 

  ترجمہ۔۔۔

ابن ادریس نے کتاب سرائر میں محمد ابن علی بن عیسیٰ کی کتاب مسائل سے روایت نقل کی ہے کہ لوگوں نے امام علی نقی کی خدمت میں لکھا کہ کیا ہمارے لیے اس سے زیادہ جاننا ضروری ہے کہ ناصبی منافق اول و دوم ابوبکر و عمر کو جناب امیر پر مقدم کرتا ہے اور ان کی امامت پر اعتقاد رکھتا ہے حضرت نے جواب میں لکھا کہ جو شخص یہ  اعتقاد رکھتا ہوں وہ ناصبی ہے 

 حق الیقین فارسی صفحہ 521 دربیان جماعتی کہ داخل جہنم میں شودد

 اردو مترجم صفحہ-17 جلد2

 فصل الخطاب کرمانی صفحه 196  

٢۔۔۔۔۔در احادیث معتبره علل و ثواب الاعمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناصبی آن نیست که دشمنی مااهلبیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکن ناصبی کسے است۔۔۔۔۔۔۔شیعیان دشمنی کند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

 ترجمہ۔۔۔۔۔۔۔اور علل وثواب  اعمال میں معتبر حدیث وارد ہوئی ہیں کہ ناصبی وہ نہیں ہے جو ہم اہل بیت سے دشمنی رکھتا ہوں اور کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ میں محمد و آل محمد کا دشمن ہوں لیکن ناصبی وہ ہے جو تم شیعوں کے ساتھ دشمنی کرے یہ سمجھ کر کہ تم ہمارے شیعہ ہوہماری ولایت کا اعتقاد رکھتے اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کرتے  ہو

 حق الیقین فارسی صفحہ 520 

 اردو مترجم جلد 2 صفحہ، 216

٣۔۔۔۔در آیاتی بسیار که در عذاب ابدی کفارومشرکین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔۔۔۔۔۔۔اور بہت سی حدیثوں میں ان آیتوں کی تاویل جو کفار و مشرکین کے عذاب ابدی میں وارد ہوئی ہیں اہلسنت اور مخالفین سے کی ہے یعنی جو کفار اور مشرکین ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ان سے مراد اہل سنت ہیں 

 حق الیقین فارسی صفحہ 520   

 اردو ترجمہ صفحہ 216 جلد 2 

۴۔۔۔۔۔۔شیعہ مصنف نور اللہ شوستری نے لکھا ہے کہ اہل سنت ہمہ ناصبی ومبغض امیرالمومنین اند۔ 

 ترجمہ۔۔۔۔۔سارے اہلسنت ناصبی ہیں اور امیر المومنین سے بغض رکھتے ہیں

 مجالس المومنین صفحہ 529  

 اور دوسری جگہ لکھا ہے کہ جو امیر المومنین پر کسی کو مقدم سمجھتا ہے وہ ناصبی ہے 

 مجالس المومنین فارسی مجلس نمبر 5 صفحه 383  

اور اس کے علاوہ ضمیہ مقبول کی وہ عبارت جس میں طینت کی آمیزش کا ذکر کیا گیا ہے اس میں کہ شہادتیں کا کلمہ پڑھتے ہیں نماز اور روزہ حج و زکاۃ کے پابند ہوتے ہیں جہاد کرتے ہیں اعمال خیر اعمال نیک کثرتسےبجالاتے ہیں حاجت مند اور ضرورت مند کی خدا کی خوشنودی کے لئے حتی المقدور مدد کرتے ہیں اور ہر برائی سے بچتے رہتے ہیں یہ ناصبی ہیں

 ضمیمہ مقبول صفحہ 179 181  

 نتیجہ۔۔۔۔

ان تمام عبارات سے روزروشن کی طرح واضح ہوا کہ شیعہ اہل سنت کو ہی ناصبی کہتے ہیں اور ناصبی کہہ کر کافر کہتے ہیں 

اکثر عام لوگ سوال کرتے ہیں کہ شیعہ کلمہ پڑھتا ہے تو اس کو کافر کیوں کہا جاتا ہے۔آپ خود ملاحظہ فرمالیں جہاں انہوں نے اسلامی شریعت کے متبادل شریعت گھڑی وہاں ابتداءا صحابہؓ کرام اور ان کے ماننے والوں کو کافر لکھا ہے جبکہ شیعہ کا ہر نظریہ اور عقیدہ اسلام وقرآن  کے مخالف اورسب سے پہلے مسلمانوں پر کفر کا فتوے لگانے والے اہل بیت و صحابہؓ پر کفر کے فتوے لگانے والے شیعہ روافض ہی ہیں۔ 

 طینت۔۔۔۔

 تعارف۔۔۔۔۔۔اس کے تعرف اور تفصیل کے لیے ہم علل الشرائع کی ایک تفصیلی روایت جو پانچ صفحات پر مشتمل ہے پیش کرتے ہیں 

 روایت۔۔۔۔۔۔

علل الشرائع: آبي رحمه اله، عن سعد بن عبد الله، عن محمد بن أحمد السياري، عن محمد بن عبد الله بن مهران الكوفي؟ عن حنان بن سدير، عن أبيه، عن أبي إسحاق الليثي قال:

قلت لأبي جعفر محمد بن علي الباقر عليه السلام: يا بن رسول الله أخبرني عن المؤمن المستبصر إذا بلغ في المعرفة وكمل هل يزني؟ قال: اللهم لا، قلت: فيلوط؟ قال: اللهم لا، قلت:

فيسرق؟ قال: لا، قلت: فيشرب الخمر؟ قال: لا; قلت: فيأتي بكبيرة من هذه الكبائر أو فاحشة من هذه الفواحش؟ قال: لا; قلت: فيذنب ذنبا؟ قال: نعم وهو مؤمن مذنب مسلم; قلت: ما معنى مسلم؟ قال: المسلم بالذنب لا يلزمه ولا يصير عليه، (١) قال فقلت:

سبحان الله ما أعجب هذا! لا يزني ولا يلوط ولا يسرق ولا يشرب الخمر ولا يأتي كبيرة (٢) من الكبائر ولا فاحشة؟! فقال: لا عجب من أمر الله، إن الله عز وجل يفعل ما يشاء ولا يسأل عما يفعل وهم يسألون; فمم عجبت يا إبراهيم؟ سل ولا تستنكف ولا تستحسر (٣) فإن هذا العلم لا يتعلمه مستكبر ولا مستحسر; قلت: يا بن رسول الله إني أجد من شيعتكم من يشرب، ويقطع الطريق، ويحيف السبيل، ويزني ويلوط، ويأكل الربا، ويرتكب الفواحش، ويتهاون بالصلاة والصيام والزكاة، ويقطع الرحم. ويأتي الكبائر، فكيف هذا؟ ولم ذاك؟ فقال: يا إبراهيم هل يختلج (٤) في صدرك شئ غير هذا؟ قلت: نعم يا بن رسول الله أخرى أعظم من ذلك; فقال: وما هو يا أبا إسحاق قال: فقلت: يا بن رسول الله وأجد من أعدائكم ومناصبيكم من يكثر من الصلاة ومن الصيام، ويخرج الزكاة، ويتابع بين الحج والعمرة، ويحض على الجهاد، ويأثر على البر وعلى صلة الأرحام، ويقضي حقوق إخوانه، ويواسيهم من ماله، (١) ويتجنب شرب الخمر والزنا واللواط وسائر الفواحش، فمم ذاك؟ ولم ذاك؟ فسره لي يا بن رسول الله وبرهنه وبينه فقد والله كثر فكري وأسهر ليلي وضاق ذرعي!

قال: فتبسم صلوات الله عليه ثم قال: يا إبراهيم خذ إليك بيانا شافيا فيما سألت، وعلما مكنونا من خزائن علم الله وسره، أخبرني يا إبراهيم كيف تجد اعتقادهما؟ قلت: يا بن رسول الله أجد محبيكم وشيعتكم على ما هم فيه مما وصفته من أفعالهم لو أعطي أحدهم مما (٢) بين المشرق والمغرب ذهبا وفضة أن يزول عن ولايتكم ومحبتكم إلى موالاة غيركم وإلى محبتهم ما زال، ولو ضربت خياشيمه (٣) بالسيوف فيكم، ولو قتل فيكم ما ارتدع (٤) ولا رجع عن محبتكم وولايتكم; وأرى الناصب على ما هو عليه مما وصفته من أفعالهم لو أعطي أحدهم ما بين المشرق والمغرب ذهبا وفضة أن يزول عن محبة الطواغيت وموالاتهم إلى موالاتكم ما فعل ولا زال ولو ضربت خياشيمه بالسيوف فيهم، ولو قتل فيهم ما ارتدع ولا رجع، وإذا سمع أحدهم منقبة لكم وفضلا اشمأز من ذلك (٥) وتغير لونه، ورئي كراهية ذلك في وجهه، بغضا لكم ومحبة لهم.

قال: فتبسم الباقر عليه السلام ثم قال: يا إبراهيم ههنا (٦) هلكت العاملة الناصبة، تصلى نارا حامية، تسقى من عين آنية، (٧) ومن أجل ذلك قال عز وجل: " وقدمنا إلى ما عملوا من عمل فجعلناه هباء منثورا " (١) ويحك يا إبراهيم أتدري ما السبب والقصة في ذلك؟ وما الذي قد خفي على الناس منه؟ قلت: يا بن رسول الله فبينه لي واشرحه وبرهنه.

قال: يا إبراهيم إن الله تبارك وتعالى لم يزل عالما قديما خلق الأشياء لا من شئ ومن زعم أن الله عز وجل خلق الأشياء من شئ فقد كفر لأنه لو كان ذلك الشئ الذي خلق منه الأشياء قديما معه في أزليته وهويته كان ذلك أزليا; بل خلق الله عز وجل الأشياء كلها لا من شئ، فكان مما خلق الله عز وجل أرضا طيبة، ثم فجر منها ماءا عذبا زلالا، فعرض عليها ولايتنا أهل البيت فقبلتها، فأجرى ذلك الماء عليها سبعة أيام حتى طبقها وعمها، ثم نضب ذلك الماء عنها، (٢) وأخذ من صفوة ذلك الطين طينا فجعله طين الأئمة عليهم السلام، ثم أخذ ثفل ذلك الطين فخلق منه شيعتنا، ولو ترك طينتكم يا إبراهيم على حاله كما ترك طينتنا لكنتم ونحن شيئا واحدا.

قلت: يا بن رسول الله فما فعل بطينتنا؟ قال: أخبرك يا إبراهيم خلق الله عز وجل بعد ذلك أرضا سبخة (٣) خبيثة منتنة، ثم فجر منها ماءا أجاجا، آسنا، مالحا، فعرض عليها ولايتنا أهل البيت ولم تقبلها فأجرى ذلك الماء عليها سبعة أيام حتى طبقها وعمها، ثم نضب ذلك الماء عنها، ثم أخذ من ذلك الطين فخلق منه الطغاة وأئمتهم، ثم مزجه بثفل طينتكم، ولو ترك طينتهم على حاله ولم يمزج بطينتكم لم يشهدوا الشهادتين ولا صلوا ولا صاموا ولا زكوا ولا حجوا ولا أدوا أمانة ولا أشبهوكم في الصور، وليس شئ أكبر على المؤمن من أن يرى صورة عدوه مثل صورته.

قلت: يا بن رسول الله فما صنع بالطينتين؟ قال: مزج بينهما بالماء الأول والماء الثاني، ثم عركها عرك الأديم، ثم أخذ من ذلك قبضة فقال: هذه إلى الجنة ولا أبالي وأخذ قبضة أخرى وقال: هذه إلى النار ولا أبالي; ثم خلط بينهما فوقع من سنخ المؤمن وطينته على سنخ الكافر وطينته، ووقع من سنخ الكافر وطينته على سنخ المؤمن وطينته، فما رأيته من شيعتنا من زنا، أو لواط، أو ترك صلاة، أو صيام، أو حج، أو جهاد، أو خيانة، أو كبيرة من هذه الكبائر فهو من طينة الناصب وعنصره الذي قد مزج فيه لان من سنخ الناصب وعنصره وطينته اكتساب المآثم والفواحش والكبائر; وما رأيت من الناصب ومواظبته على الصلاة والصيام والزكاة والحج والجهاد وأبواب البر فهو من طينة المؤمن وسنخه الذي قد مزج فيه لان من سنخ المؤمن وعنصره وطينته اكتساب الحسنات واستعمال الخير واجتناب المآثم، فإذا عرضت هذه الاعمال كلها على الله عز وجل قال: أنا عدل لا أجور، ومنصف لا أظلم، وحكم لا أحيف ولا أميل ولا أشطط، (١) الحقوا الاعمال السيئة التي اجترحها المؤمن بسنخ الناصب وطينته، وألحقوا الاعمال الحسنة التي اكتسبها الناصب بسنخ المؤمن وطينته ردوها كلها إلى أصلها، فإني أنا الله لا إله إلا أنا، عالم السر وأخفى وأنا المطلع على قلوب عبادي، لا أحيف ولا أظلم ولا ألزم أحدا إلا ما عرفته منه قبل أن أخلقه.

ثم قال الباقر عليه السلام: يا إبراهيم أقرأ هذه الآية، قلت: يا بن رسول الله أية آية؟ قال: قوله تعالى: " قال معاذ الله أن نأخذ إلا من وجدنا متاعنا عنده إنا إذا لظالمون " هو في الظاهر ما تفهمونه، وهو والله في الباطن هذا بعينه، يا إبراهيم إن للقرآن ظاهرا وباطنا، ومحكما ومتشابها، وناسخا ومنسوخا.

ثم قال: أخبرني يا إبراهيم عن الشمس إذا طلعت وبدا شعاعها في البلدان، أهو بائن من القرص؟ قلت: في حال طلوعه بائن; قال: أليس إذا غابت الشمس اتصل ذلك الشعاع بالقرص حتى يعود إليه؟ قلت: نعم، قال: كذلك يعود كل شئ إلى سنخه و جوهره وأصله، فإذا كان يوم القيامة نزع الله عز وجل سنخ الناصب وطينته مع أثقاله وأوزاره من المؤمن فيلحقها كلها بالناصب، وينزع سنخ المؤمن وطينته مع حسناته و أبواب بره واجتهاده من الناصب فيلحقها كلها بالمؤمن. أفترى ههنا (٢) ظلما وعدوانا؟

قلت: لا يا بن رسول الله; قال: هذا والله القضاء الفاصل والحكم القاطع والعدل البين، لا يسأل عما يفعل وهم يسألون، هذا - يا إبراهيم - الحق من ربك فلا تكن من الممترين هذا من حكم الملكوت. (١)

قلت: يا بن رسول الله وما حكم الملكوت؟ قال: حكم الله وحكم أنبيائه، و قصة الخضر وموسى عليهما السلام حين استصحبه فقال: " إنك لن تستطيع معي صبرا وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا ".

افهم يا إبراهيم واعقل، أنكر موسى على الخضر واستفظع أفعاله (٢) حتى قال له الخضر يا موسى ما فعلته عن أمري، إنما فعلته عن أمر الله عز وجل، من هذا - ويحك يا إبراهيم - قرآن يتلى، وأخبار تؤثر عن الله عز وجل، من رد منها حرفا فقد كفر و أشرك ورد على الله عز وجل.

قال الليثي: فكأني لم أعقل الآيات - وأنا أقرؤها أربعين سنة - إلا ذلك اليوم، فقلت: يا بن رسول الله ما أعجب هذا! تؤخذ حسنات أعدائكم فترد على شيعتكم، وتؤخذ سيئات محبيكم فترد على مبغضيكم؟ قال: إي والله الذي لا إله إلا هو، فالق الحبة، وبارئ النسمة، وفاطر الأرض والسماء، ما أخبرتك إلا بالحق: وما أتيتك إلا بالصدق، وما ظلمهم الله وما الله بظلام للعبيد، وإن ما أخبرتك لموجود في القرآن كله.

قلت: هذا بعينه يوجد في القرآن؟ قال: نعم يوجد في أكثر من ثلاثين موضعا في القرآن، أتحب أن أقرأ ذلك عليك؟ قلت: بلى يا بن رسول الله; فقال: قال الله عز وجل:

" وقال الذين كفروا للذين آمنوا اتبعوا سبيلنا ولنحمل خطاياكم وما هم بحاملين من خطاياهم من شئ إنهم لكاذبون وليحملن أثقالهم وأثقالا مع أثقالهم " الآية.

أزيدك يا إبراهيم؟ قلت: بلى يا بن رسول الله قال: ليحملوا أوزارهم كاملة يوم القيمة ومن أوزار الذين يضلونهم بغير علم ألا ساء ما يزرون " أتحب أن أزيدك؟ قلت:

بلى يا بن رسول الله، قال: " فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات وكان الله غفورا رحيما " يبدل الله سيئات شيعتنا حسنات، ويبدل الله حسنات أعدائنا سيئات; وجلال الله ووجه الله إن هذا لمن عدله وإنصافه لا راد لقضائه، ولا معقب لحكمه وهو السميع العليم.

ألم أبين لك أمر المزاج والطينتين من القرآن؟ قلت: بلى يا بن رسول الله; قال:

اقرأ يا إبراهيم: " الذين يجتنبون كبائر الاثم والفواحش إلا اللمم (١) إن ربك واسع المغفرة هو أعلم بكم إذا أنشأكم من الأرض " يعنى من الأرض الطيبة والأرض المنتنة " فلا تزكوا أنفسكم هو أعلم بمن اتقى " يقول: لا يفتخر أحدكم بكثرة صلاته وصيامه وزكاته ونسكه لان الله عز وجل أعلم بمن اتقى منكم، فإن ذلك من قبل اللمم و هو المزاج. (٢)

أزيدك يا إبراهيم؟ قلت: بلى يا بن رسول الله; قال: " كما بدأكم تعودون فريقا هدى وفريقا حق عليهم الضلالة إنهم اتخذوا الشياطين أولياء من دون الله " يعني أئمة الجور دون أئمة الحق " ويحسبون أنهم مهتدون " خذها إليك يا أبا إسحاق، فوالله إنه لمن غرر أحاديثنا وباطن سرائرنا ومكنون خزائنا وانصرف ولا تطلع على سرنا أحدا إلا مؤمنا مستبصرا فإنك إن أذعت سرنا بليت في نفسك ومالك وأهلك وولدك. (٣) " ص ٢٠١ - ٢٠٣ "

مختصر ترجمہ۔۔۔۔۔ابن بابویہ اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق لیثی سے روایت کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے ابو جعفر محمد ابن علی باقر رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا 

اے فرزند رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مومن با بصیرت کے بارے میں بتائے جب وہ معرفت میں کامل ہو جاتا ہے تو کیا زنا کرتا ہے ؟انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا کیا وہ شراب پیتا ہے ؟انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا کیا وہ ان کبیرا گناہوں یا بد کاریوں میں سے کسی بدکار یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے؟انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا اے جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے شیعہ میں ایسے لوگوں کو پاتا ہوں جو شراب پیتے ہیں زناکرتے ہیں راستوں میں دہشت پھیلاتے ہیں زنا اور لونڈے بازی کرتے ہیں سود کھاتے ہیں فواحش کا ارتکاب کرتے ہیں نماز زکوۃ اور روزے میں سستی کرتے ہیں قطع تعلقی کرتے ہیں اور کبیرہ گناہ کرتے ہیں یہ کس طرح ہے اور ایسا کیوں ہے ؟؟؟

انہوں نے کہا اے ابراہیم کیا تیرے دل میں ان کے علاوہ کوئی اور بات بھی کھٹکتی ہے ؟میں نے کہا ہاں اور وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے انہوں نے کہا ابو اسحاق وہ کو کیا ہے؟؟؟میں نے کہا اے فرزند رسول میں آپ کے دشمن اور نواصب یعنی اہلسنت کی طرف اشارہ ہے میں دیکھتا ہوں کہ وہ صوم و صلوۃ پر بڑی کثرت سے کاربند ہیں مسلسل حج اور عمرہ کرتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں جہاد کے بڑے آرزومند ہیں نیکی اور صلہ رحمی کو ترجیح دیتے ہیں اپنے بھائیوں کے حقوق پورے کرتے ہیں اپنے مال سے ان کی غمگساری کرتے ہیں شراب نوشی زناکاری لونڈے بازی اور تمام فواحش سے اجتناب کرتے ہیں یہ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے ۔

اے ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے اس کے دلائل اور براہین کے ساتھ تفسیر پیش کیجئے خدا کی قسم اس کے بارے میں سوچ سوچ کر میری راتوں کی نیند اڑ چکی ہے اور دل سے چین رخصت ہوچکا ہے 

 علل الشرائع جلد 2 صفحہ 605 610 

 بحارالانوار جلد 5 صفحه 228 تا 229 

ایک دوسرا سائل ابواسحاق قمی ابو جعفر باقر سے کہتا ہے 

یہ سائل پہلے سائل کے شکوے میں اپنے اصحاب کی بدمعاملگی خشونت اور بےوفائی کا اضافہ کرتا ہے جبکہ اہل سنت کو جو اس کے حریف اور دشمن ہیں اپنے ہم مذہب افراد سے زیادہ حسن سلوک کرنے والا جلدی ضرورت پوری کرنے والا اور اخلاقیات معاملات اور عبادات میں افضل پاتا ہے 

 علل الشرائع 2 صفحہ 490 

 بحارالانوار جلد 5 صفحہ346 

اسی سے ملتا جلتا ایک شکوہ اور شیعہ ابوعبداللہ سے بھی کرتا ہے 

 المحاسن صفحہ 147 138 

 بحارالانوار جلد 5 صفحہ 251 

ابوبصیر نامی ایک سائل ابوعبداللہ کے پاس آتا ہے اور وہ بھی کچھ اسی طرح کے سوالات کرتا ہے 

 بحارالانوار جلد 5 صفحہ 246 

نعمت اللہ جزائری کہتا ہے ہمارے اصحاب نے یہ روایات بہت زیادہ سندوں کے ساتھ اصول مصادر میں نقل کی ہیں اس لئے ان کے انکار کی کوئی مجال ہے نہ ان پر اخبار آحاد ہونے ہی کا حکم لگایا جا سکتا ہے بلکہ یہ مشہور بلکہ متواتر ہوچکی ہیں 

 انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 295 

 الکافی جلد 2 صفحہ 2۔ 6 مستقل ایک باب باندھا ہے مومن اور کافر کے خمیر اور سات روایات نقل کی ہیں

 ملا باقر مجلسی نے اپنے کتاب کے باب الطینت والمیثاق میں 27 روایت نقل کی ہیں 

 بحارالانوار جلد 5 صفحه 225 تا 276  

 سائلوں کو ائمہ نے کیا جواب دیا ملاحظہ فرمائیں 

 اے اسحاق تم جانتے ہو کہاں سے لائے گئے ہو میں نے کہا نہیں آپ پر قربان جاؤں بخدا میں نہیں جانتا ہاں اگر آپ بتا دیں تو اس نے کہا ایک ساتھ جب اللہ تعالی وحدانیت کے ساتھ اکیلا تھا اس نے اشیاء کی کسی شے کے بغیر ابتدا کی اس نے سات دنوں اور ساتھ راتوں پر زرخیز اچھی زمین میں میٹھا پانی چلا دیا  اس کے بعد پانی خشک ہوگیا تو اس نے اس گارے اور خمیر کے صاف اور خالص  سے ایک مٹھی بھر ی یہ ہمارا اہل بیت کا خمیر ہے اس کے بعد اس نے گارے کے سب سے نچلے حصے سے ایک مٹھی بھری  جو ہمارے شیعہ کا خمیر ہے اس کے بعد اس نے ہم کو اپنے لئے چن لیا اگر ہمارے شیعہ کا خمیر اس طرح چھوڑ دیا جاتا جس طرح ہمارے خمیر کو چھوڑ دیا گیا تو ان میں سے کوئی بھی زنا کرتا نہ لونڈے بازی کرتا نہ کوئی نشہ آور چیز ہی نوش کرتا اور ان گناہوں میں سے کسی کا بھی ارتکاب نہ کرتا جن کا تم نے ذکر کیا ہے لیکن اللہ تعالی نے سات دنوں اور سات راتوں تک ملعون زمین پر نمکین پانی چلایا اس کے بعد اس سے پانی خشک ہوگیا پھر اس نے اس سے ایک مٹھی بھری یہ گندے کیچڑ سے بنا ہوا معلوم خمیر اور فاسد خمیر ہے جو ہمارے دشمنوں کا خمیر ہے اگر اللہ تعالی ان کی مٹی اور خمیر کو اس طرح چھوڑ دیتے جس طرح اس سے مٹھی بھری تھی تو تم ان کو آدمیوں کے خلقت میں نہ دیکھتے نہیں یہ لوگ کلمہ توحید و رسالت کا اقرار کرتے نہ نماز روزے کے پابند ہوتے نہ زکوۃ دیتے نہ حج کرتے اور تم ان میں سے کسی ایک کو بھی حسن اخلاق کا مالک نہ دیکھتے لیکن اللہ تعالی نے دونوں خمیروں کو یعنی تمہارے اور ان کے خمیر کو اکھٹا کر دیا ان دونوں کا آمیزہ بنا دیا چمڑے کے رگڑنے کی طرح ان دونوں کو رگڑا پھر ان دونوں کو دونوں پانیوں کے ساتھ ملا دیا چنانچہ جو تم نے اپنے بھائی میں شر زناکار یا شراب نوشی اور دیگر فواحش کا تذکرہ کیا ہےیہ اس کی فطرت جوہر اور ایمان میں داخل نہیں بلکہ یہ ناصبی کا اثر ہے جس کی وجہ سے اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا جن کا تم نے ذکر کیا ہے اور جو ناصبی میں تم حسن سیرت حسن اخلاق صوم و صلاۃ کی پابندی حج کو ادا کرنا صدقہ خیرات اور نیکی دیکھتے ہو تو وہ اس کی فطرت اور جوہریت میں شامل نہیں بلکہ یہ تمام افعال ایمان کا اثر ہیں جو اس نے کمایا تو یہ حقیقت میں ایمان کے اثر اور نشان کا اکتساب ہے۔ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں قیامت کے دن کیا ہوگا اس نے مجھ سے کہا ایسا کہ اللہ تعالی اچھائی اور برائی کو ایک جگہ اکٹھا کریں گے ؟؟؟قیامت کے دن اللہ تعالی ان سے ایمان کا اثر اور چھاپ نکال لیں گے اور اسے ہمارے شیعہ کی طرف لوٹا دیں گے اور شیعہ نے جو تمام گناہ کیئے ہونگے یہ ناصبی کا اثر اس سے نکال دے گا اور ہمارے دشمن کو واپس کر دے گا اور ہر چیز اپنے عنصر اول کی طرف لوٹ جائے گی میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں کیا ان کی نیکیاں لے کر ہمیں دے دی جائیں گی اور ہماری برائیاں ان کو دے دی جائیں گی اس نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں 

 علل الشرائع صفحہ 490 491    

  بحارالانوار جلد 5 صفحہ 247 248  

 علل الشرائع جلد 2 صفحہ 607 

 نقد و تبصرہ

 یہ عقیدہ شیعہ کے ان کو بھی عقائدونظریات میں شامل ہے جن کو چھپانے کی حد تک کہ اپنے عام عوام سے بھی پوشیدہ رکھنے کی وہ تلقین اور وصیت کرتے ہیں کیونکہ اگراس نظریےکی بھنک پڑ گئی تو وہ دنیاوی لذت کے حصول کے لیے جان بوجھ کر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کر دے گا کیونکہ اس کو علم ہو جائے گا کہ اس کا اخروی وبال کسی دوسرے کے سر ہوگا

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 295  

 یہ نظریہ مرتضی اور ابن ادریس جیسے شیعہ کے متقدمین اصحاب عقل و دانش کی نگاہ میں بھی قابل نفرین ہے ان کی رائے کے مطابق اگرچہ اس کے متعلق روایات شیعہ کی کتابوں میں سرایت کر چکی ہیں لیکن یہ اخبار آحاد کا درجہ رکھتی ہیں جو کتاب وسنت اور اجماع کے مخالف ہیں جن کا رد کرنا واجب ہے 

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 293 

 یہ روایت خود اپنی تردید آپ کرتی ہیں ان شیعی سوالات میں آپ نے دیکھا کہ جرائم کی گہرائی میں ڈوبا ہوا نافرمانی اور گناہوں کے دلدل میں آخر تک پھنسا ہوا ہےمعاملات میں بدترین اور اخلاق اور دین میں انتہائی گھٹیا اور پست ہے تو جس شخص کی حالت ہے وہ افضل خمیر سے گوندھا گیا ہونا اور پاکیزہ ترین مخلوق ہونا کیسے ہو سکتا ہے۔

 اللہ سبحانہ و تعالی نے تمام لوگوں کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا ہے ارشاد باری تعالی ہے  

 Surat No 30 : Ayat No 30 

فَاَقِمۡ  وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ  الَّتِیۡ فَطَرَ  النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ  لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ  اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٭ۙ۳۰﴾

 پس آپ یک سو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کر دیں  اللہ تعالٰی کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے  اللہ تعالٰی کے بنائے کو بدلنا نہیں  یہی سیدھا دین ہے  لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔  

 شیعہ نے طینت کی روایات میں افعال العباد کے بارے میں اپنے مذہب کی خود تردید کی ہے کیونکہ ان روایت کا تقاضا ہے کہ بندہ اپنے فعل پر مجبور ہے اس کو کوئی اختیار نہیں کیوں کے اس کے تمام افعال اس کے خمیر کا تقاضہ ہے حالانکہ ان کا مذہب معتزلہ کے مذہب کی طرح ہے کہ انسان اپنے فعل کا خود خالق ہے 

 یہ بات عادل ربانی کے خلاف شریعت اور اصول اسلام تو ایک طرف رہے یہ صریح عقل اور سلیم فطرت کے ساتھ بھی اتفاق نہیں کرتی  

Surat No 39 : Ayat No 7  

 اِنۡ  تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ  عَنۡکُمۡ ۟ وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ  الۡکُفۡرَ ۚ وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ  وِّزۡرَ  اُخۡرٰی ؕ ثُمَّ  اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ  فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ  عَلِیۡمٌۢ  بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾

اگر تم ناشکری کرو تو  ( یاد رکھو کہ )  کہ اللہ تعالٰی تم  ( سب سے )  بے نیاز ہے  اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا ۔  اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے ۔  تمہیں وہ بتلا دے گا جو تم کرتے تھے ۔  یقیناً وہ دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے ۔  

 Surat No 6 : Ayat No 164 

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡ رَبًّا وَّ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ  اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ  وِّزۡرَ  اُخۡرٰی ۚ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ  فِیۡہِ  تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

 آپ فرما دیجئے کہ میں اللہ کے  کیا  سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حالانکہ وہ مالک ہے ہرچیز کا  اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اور وہ اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا  پھر   تم کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا ،  پھر تم کو جتلا  ئے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے  ۔

 Surat No 52 : Ayat No 21 

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ  ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ  اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ  ذُرِّیَّتَہُمۡ  وَ مَاۤ  اَلَتۡنٰہُمۡ  مِّنۡ عَمَلِہِمۡ  مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِ ئٍۢ بِمَا کَسَبَ  رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾

 اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے  ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے ۔  

 Surat No 74 : Ayat No 38 

کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾

 ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے ۔  

 Surat No 99 : Ayat No 7 

فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾

پس جس نے ذرہ برابر  نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔  

 Surat No 99 : Ayat No 8 

وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ  شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ 

 اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔  

 Surat No 40 : Ayat No 17 

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ  نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ  لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ  الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾

 آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج  ( کسی قسم کا )  ظلم نہیں ،  یقیناً اللہ تعالٰی بہت جلد حساب کرنے والا ہے ۔  

 نتیجہ۔۔۔

 دیگر بھی بہت ساری آیات ہیں جواس نظریے کا باطل ہوناثابت کرتی ہیں اس کے فساد اور خرابی کو جاننے کے لئے اس کا صرف تصور پیش کرنا ہی کافی ہے اور یہ اثنا عشری مذہب کی رسوائیوں اور شرمناکیوں میں ایک فضیحت ہے 

 واللہ اعلم بالصواب 

 اذا لم تستح فاصنع ما شئت 

 اگر تجھے شرم نہ آئے تو جو جی میں آئے کرتا پھر