اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 7

 اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل 

 بنام مفتی عبدالعزیز عزیزی دامت برکاتھم 

 فہرست

 ابتدایہ

 عدل کی تعریف عندالشیعہ

 عدل کےواقعات عندالشیعہ

 تبصرہ

 نتیجہ

 ناصبی کی تعریف

 روایات

 خلاصہ 

 نتیجہ

 طینت کی تعریف

 روایات

 خلاصہ

 نتیجہ

 نقدوتبصرہ

 نتیجہ

 ابتدایہ

تمام امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی عادل ہے اور اس کا کوئی فعل عدل کے خلاف نہیں اور وہ عدل کو پسند کرتا ہے۔اس لیے اس نے اپنے بندوں کو بھی عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔اور جس طرح اللہ تعالی کی ذات پر ایمان لانے سے اس کی تمام صفات پر ایمان لایا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالی کی ذات پر ایمان لانے سے تمام صفتوں کی طرح عدل والی صفت پر بھی ایمان ہو جاتا ہے۔

شریعت نے جس طرح کسی صفت کو اللہ تعالی سے جدا کرکے ایمان لانے کا حکم نہیں کیا اسی طرح شریعت نے عدل والی صفت پربھی علیحدہ ایمان لانے کا حکم نہیں کیا ہے۔لیکن شیعہ مذہب کی ایمانیات میں عدل کو مستقل طور پر علیحدہ شامل کیا گیا ہے لگتا ہے کہ اس میں بھی ان کی کوئی انوکھی بات ہوگی اب ہم شیعہ کتب سے عدل کی تعریف اور کچھ عدل کے واقعات نقل کرتے ہیں۔

تعریف عدل عند شیعہ

 عدل کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا ہر کام انکی حکمت اور مصلحت کے مطابق اور موقع کی مناسبت کے عین موافق ہے۔ان کے افعال میں ظلم و بے اعتدالی ناممکن ہے اس کا نتیجہ ہے کہ بندہ اپنے افعال میں مختار ہے اور ان کا ذمہ دار ہے۔

 تحفہ العوام مقبول جدید صفحہ34 

 عدل کامعنی ہر شے کو اپنے موضوع مقام پر رکھنا اور حقدار کو حق پہنچانا۔عدل مخلوق کے درمیان اللہ کا میزان ہے۔

 شیعیت کا مقدمہ صفحہ 98 

 بحوالہ اصل و اصول شیعہ  

 اب ہم دیکھتے ہیں واقعتا شیعہ مذہب میں یہی عدل ہے جس بندے نے جو عمل کیا اس کے جزا و سزا کا وہی مستحق ہے اس کو حق پہنچانا اللہ تعالی کا عدل ہے یا شیعہ مذہب میں عدل کی حقیقت کچھ اور ہے۔

 عدل کے واقعات عند الشیعہ  

 روایت نمبر 1 ۔۔

 علل الشرائع میں جناب امام محمد باقر سے منقول ہے کہ خدا تعالی جب کسی مومن کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی طینت میں کافر کی طینت کا بھی کچھ حصہ ملا دیتا ہے۔اور مومن سے جو بدی برائی ظاہر ہوتی ہے اس کا باعث وہ طینت کفر ہے اور اس طرح کافر کے پیدا کرنے کا جب ارادہ کرتا ہے تو اس کی طینت میں مومن کی طینت کا حصہ ملا دیتا ہے۔بس کافر سے جو نیکیاں بن پڑتی ہیں ان کا باعث طینت ایمان ہے۔آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دشمن ناصبی سے مومن کی طینت اور اس کے متعلقات مع کل اعمال نیک لے کر مومن کو واپس عنایت کر دے گا۔اور ہر مومن سے ناصبی کی طینت اور اس کے متعلقات مع کل اعمال بد کے لیکرناصبی کو واپس کردیگااور یہی مقتضی عدالت ہے اس لئے کہ ناصبی سے ارشاد فرمائے گا کہ یہ اعمال خبیثہ تیری طینت سے تیرے مزاج کے موافق ہیں۔تو ہی ان کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور یہ اعمال نیک مومن کی طینت سے ہیں اور اس کے مزاج کے موافق ہیں وہ ان کا زیادہ مستحق ہے۔آج کے دن کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا بےشک خدا تعالی جلد حساب لینے والا ہے۔

 ترجمہ مقبول صفحات 288 سوره انفال کی آیت نمبر 37 کی تفسیر 

 اس معنی کی اور روایات۔

 مرآۃ العقول جلد 3 صفحہ 19 

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 85         

 ترجمہ مقبول سوره مومن رکوع نمبر 2 

 ضمیمہ مقبول صفحہ 178 سے 182 سورہ انفال کی آیت 37 رکوع 4 کی تفسیر میں 

 شیعہ مفسر مقبول احمد دہلوی اس روایت کو پختہ بنانے کے لئے قول مترجم کا عنوان دے کر لکھتا ہے۔اس حدیث کو دیکھنے والے شاید شبہ کریں۔جب خداتعالی نے ایسی طینت سے پیدا کیا تو کفار منافقین اور مجرمین کا قصور ہی کیا ہے۔

جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں تو وہ یہ سمجھ لیں کہ ابتدا عالم ارواح میں روحوں کی طینت پر جداگانہ ولایت محمدوآل محمد پیش کی گئی ہے تو حجت ان پر وہی تام ہوچکی اور جن جن چیزوں نے اس ولایت کو قبول نہ کیا انہیں سے کفار و منافقین کی پیدائش کی گئی۔لہذا خدا کی حجت غالب ہے اس پر کسی دوسرے کی حجت غالب نہ آ سکے گی۔

 ضمیمہ مقبول صفحہ 183 

 خلاصہ روایات۔

 اللہ تعالی کا عدل یہ ہے کہ قیامت میں ناصبیوں کے تمام نیک اعمال غضب کرکے شیعوں کو عنایت فرمائےگا۔اور شیعوں کی ہر برائی ناصبیوں پر تھوپ کر تمام ناصبیوں کو جہنم میں ڈالے گا۔

 ترجمہ مقبول صفحہ 288 سوره انفال آیه 37 

ایک بدکار سے بدکار شیعہ جس نے ایک عمل بھی اچھا نہیں کیا ہوگا لایا جائے گا اور اس کے عوض ایک لاکھ متقی پرہیزگار ناصبیوں کو جہنم میں ڈال کر اس بدکار شیعہ کو جنت میں بھیجا جائے گا۔

 ترجمہ مقبول صفحہ 11 سورہ بقرہ آیت 48 کی تفسیر میں 

 نو ربیع الاول سے تین دن تک شیعہ مرد ہو یا عورت مرفوع القلم ہوتے ہیں۔

جتنا چاہے منہ کالا کر لیں ان کا کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 111 

  محمد وآل محمد قیامت کے دن شیعوں کی شفاعت اس طرح کریں گے کہ اللہ کے حکم سے ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو یہ حضرات ان کو جہنم سے شکاری باز کی طرح اچک کر نکال لیں گے۔

 ترجمہ مقبول سورۃ بقرہ آیت نمبر 48 کی تفسیر میں  

 تبصرہ۔۔۔ 

شیعہ مفسر نے امام محمد باقر کی طرف منسوب کرکے جو من گھڑت روایت نقل کرکے اس میں جو اللہ کا عدل بتایا ہو اس پر غور کرنے سے ہر ایک منصف مزاج وذی شعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ عدل نہیں بلکہ یہ سراسر ظلم ہے۔کیا کرے کوئی اور بھرے کوئی اگر یہ ظلم نہیں تو پھر ظلم کی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی جبکہ انصاف یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے 

 يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ

 یعنی اللہ کسی نفس کو اس کے وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اب جو کچھ اس نے اچھا کیا اس کا نفع اس کے لیے ہے اور جو کچھ اس نے برا کیا اس کا نقصان اس کے لئے ہے 

 ترجمہ مقبول احمد شیعہ 

 فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (54)

 بس اس دن نہ تو کسی نفس پر کوئی ظلم کیا جائے گا اور نہ تم کو کوئی بدلہ دیا جائے گا سوائے اس کے جو عمل تم کیا کرتے تھے 

 ترجمہ مقبول احمد شیعہ 

 جس آیت کا حوالہ خود شیعہ مصنف نےروایت میں دیا ہے 

صفحہ 1 از 7