اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 7

الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ(17)

 ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج کے دن کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔

 ان تمام آیات اور قرآن مجید کی بہت ساری آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ جو کرے گا وہ بھرے گا 

(6) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8)

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ مصنفین کی من گھڑت روایات جھوٹی ہیں ان کا اللہ تعالی کے عدل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مذہب تشیع کی ایمانیات میں جو عدل ہے وہ بھی ایک انوکھا عدل ہے۔مثال کے لئے ایک روایت

وتقو یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا ۔

جناب امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ اس یوم سے مراد یوم الموت ہے کیونکہ تاخیر موت کے بارے میں کوئی شفاعت قبول نہیں ہوسکتی ورنہ قیامت کے دن ہماری شفاعت سے کوئی مستثنی نہیں ہو سکتا پس ہم اور ہمارے کامل شیعہ سلمان مقدار ابوذر عمار وغیرہ کے اپنے کمزور شیعوں کی ہر طرح سے حمایت اور شفاعت کریں گے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی فاطمہ و حسن و حسین اور آئمہ علیہ السلام مقام اعراف پر جو جنت و جہنم کے مابین ہے کھڑے ہوں گے اور گناہ گار شیعوں کی شفاعت کریں گے اور جو کوئی ان میں سے جہنم میں بھیج دیے جائیں گے ان کو جہنم میں سے اس طرح اٹھا لائیں گے جیسے باز اپنے شکار کو اچک لیتا ہے کیسے کبوتر دانے چن لیتا ہے اور ایک شیعہ ہمارا ایسا لایا جائے گا جس نے اعمال صالحہ کچھ بھی نہ کیےہوں گے یعنی اول نمبر کا بدکردار ہوگا مگر ہماری دوستی اس کے دل میں موجود ہوگی اس کو ایک لاکھ ناصبیوں کے مابین کھڑا کیا جائے گا اور اسے یہ کہا جائے گا کہ چونکہ تو امامت کا قائل تھا اس وجہ سے ناصبی تیرے عوض جہنم میں بھیجے جاتے ہیں۔اور یہ خدا کے اس قول سے ثابت ہے

رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ (2)

یعنی بہت سے منکرین ولایت آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی امامت کو تسلیم کرنے والوں میں ہوتے 

 ترجمہ مقبول سورہ بقرہ کی آیت نمبر 48 کی تفسیر میں 

یا مفسر نے جو امام جعفر صادق کی طرف منسوب کرکے من گھڑت روایت سے جو شفاعت کا طریقہ لکھا ہے تو کیا یہ شفاعت ہے تو کیا ادھر اللہ کے حکم سے گنہگار شیعوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور ادھر یہ حضرات شکاری باز کی طرح ان کو اچک کر جہنم سے نکالتے جائیں گے۔یہ شفاعت ہے یا مقابلہ ؟؟؟اور دوسری بات یہ ہے کہ جب پہلی روایت کے مطابق شیعوں کے سارے اعمال بد ناصبیوں پر تھوپے جائیں گے تو پھر شیعوں کو محمد و آل محمد کی شفاعت کی ضرورت کب ہو سکتی ہے؟؟؟اور تیسری بات یہ کہ ایک بدکردار شیعہ کو بچانے کے لیے ایک لاکھ ناصبیوں کو اس کے عوض میں جہنم میں کیوں ڈالا جاتا ہے جبکہ پہلی روایت کے مطابق انسان بھی پیدا ہی ایسی طینت سے کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود ہی جہنم میں جانے والے ہیں 

چوتھی بات یہ کہ شیعہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں اور باقی امت کو مسلمان سمجھتے ہیں اور آیت کریمہ میں بھی لفظ مسلم ہے تو شیعہ اس سے امامت کو ماننے والا کیوں کر مراد لیتے ہیں ساری تضادبیانیاں بتا رہی ہیں کہ مذہب شیعہ درحقیقت سبائی جماعت کا من گھڑت نظریہ ہے نہ کہ دین اسلام اگر شیعہ مردوں اور عورتوں کے تمام گناہ ناصبیوں  کی گردن میں ڈالے جانے والی بات سچ ہے 

 نتیجہ۔۔۔

اس تضاد بیانی کا آخر حل کیا ہے کیا یہ ائمہ حضرات کی تعلیم ہے یا شیعہ مصنفین کی من گھڑت ایجادات؟؟؟؟

 شیعہ مرد اور عورتوں کے تمام گناہ ناصبیوں کی گردن میں ڈالے جانے والی بات سچ ہے تو شیعہ مرد اور عورتیں اپنے دشمنوں کو سزا دلوانے کے لیے کیا کیا برائیاں نہ کریں گے ؟؟؟؟

جب شیعہ مرد اور عورتیں تین دن تک مرفوع القلم رہیں تو خود سوچیں کہ وہ کیا کیا برائیاں نہ کریں گے ؟؟؟؟

 شیعہ مصنفین نے عدل کی عجیب مثالیں پیش کی ہیں کہ برائی کرے شیعہ اور اس کا جرمانہ بھرےناصبی 

یہ ہے شیعہ مذہب کا انوکھا عدل

شیعہ مصنفین نے اپنی ایمانیات یعنی اصول دین میں سے ایک اصل عدل کے نام سے شامل کیا ہے لیکن اللہ تعالی کے عدل کی جو انوکھی باتیں انہوں نے اپنے اماموں کی طرف منسوب کرکے ذکر کیں ہیں ایسا عدل کسی نے بھی کہی نہیں دیکھا ہوگا۔درحقیقت وہ عدل نہیں بلکہ سراسر وہ ظلم ہے جس کو انہوں نے عدل کا نام دیا ہے بھلا جس مذہب کی ایمانیات میں کتاب اللہ کو ہی شامل نہ کیا گیا وہ تو اس مذہب کا بتایا ہوا عدل کتاب اللہ کے بتائے ہوئے عدل کے مطابق کیسے ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔یہ عدل نہیں بلکہ امت مسلمہ کو ایمانیات اور اسلام کے نام پر دنیا میں نیکی اور بھلائی عدل و انصاف اور آخرت کی فکر سے بھٹکانے کا ایک ڈھونگ ہے الحفظ والامان۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو ایسے دھوکے پر مبنی مذہب سے بچائے آمین      

 ماقبل ہم نے جو بحث کی ہے اس میں ہمارے سامنے دو لفظ آئیں ہیں 

 ناصبی۔

 طینت

یہ دونوں لفظ شیعہ نظریہ میں شامل ہیں اس لیے ان پر بحث کرنا ضروری ہے تاکہ عدل کا درست مفہوم جو شیعہ کے نزدیک ہے وہ سمجھ آسکے

اور شیعت کی خباثتیں بھی ہمارے سامنے کھل سکیں اور یہ بات بھی کہ شیعہ طینت کے نظریے کو اپنے عام عوام سے کیونکر چھپاتے ہیں تو پہلی بحث ہم ناصبیت پر کرتے ہیں 

 ناصبی 

عدل کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں ان میں شیعہ مفسرین ومحققین محدثین نے لفظ ناصبی کا استعمال کیا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ روایات میں ناصبی سے مراد کون لوگ ہیں

 ناصبی کی تعریف۔۔۔۔

١۔۔۔۔ابن ادریس در کتاب سرائر از کتاب مسائل محمد بن علی بن عیسی روایت کرده است که نوشتند بخدمت امام علی نقی سوال کردند که آیا محتاج هستیم در دانستن ناصبی بر زیاده ازیں کہ ابوبکر و عمر را تقدیم کند بر امیرالمومنین و اعتقاد بر امامت آن ها داشته باشد حضرت درجواب نوشت هر کس این اعتقاد داشته باشد اوباصبی است 

  ترجمہ۔۔۔

صفحہ 2 از 7