اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 7

ألم أبين لك أمر المزاج والطينتين من القرآن؟ قلت: بلى يا بن رسول الله; قال:

اقرأ يا إبراهيم: " الذين يجتنبون كبائر الاثم والفواحش إلا اللمم (١) إن ربك واسع المغفرة هو أعلم بكم إذا أنشأكم من الأرض " يعنى من الأرض الطيبة والأرض المنتنة " فلا تزكوا أنفسكم هو أعلم بمن اتقى " يقول: لا يفتخر أحدكم بكثرة صلاته وصيامه وزكاته ونسكه لان الله عز وجل أعلم بمن اتقى منكم، فإن ذلك من قبل اللمم و هو المزاج. (٢)

أزيدك يا إبراهيم؟ قلت: بلى يا بن رسول الله; قال: " كما بدأكم تعودون فريقا هدى وفريقا حق عليهم الضلالة إنهم اتخذوا الشياطين أولياء من دون الله " يعني أئمة الجور دون أئمة الحق " ويحسبون أنهم مهتدون " خذها إليك يا أبا إسحاق، فوالله إنه لمن غرر أحاديثنا وباطن سرائرنا ومكنون خزائنا وانصرف ولا تطلع على سرنا أحدا إلا مؤمنا مستبصرا فإنك إن أذعت سرنا بليت في نفسك ومالك وأهلك وولدك. (٣) " ص ٢٠١ - ٢٠٣ "

مختصر ترجمہ۔۔۔۔۔ابن بابویہ اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق لیثی سے روایت کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے ابو جعفر محمد ابن علی باقر رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا 

اے فرزند رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مومن با بصیرت کے بارے میں بتائے جب وہ معرفت میں کامل ہو جاتا ہے تو کیا زنا کرتا ہے ؟انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا کیا وہ شراب پیتا ہے ؟انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا کیا وہ ان کبیرا گناہوں یا بد کاریوں میں سے کسی بدکار یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے؟انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا اے جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے شیعہ میں ایسے لوگوں کو پاتا ہوں جو شراب پیتے ہیں زناکرتے ہیں راستوں میں دہشت پھیلاتے ہیں زنا اور لونڈے بازی کرتے ہیں سود کھاتے ہیں فواحش کا ارتکاب کرتے ہیں نماز زکوۃ اور روزے میں سستی کرتے ہیں قطع تعلقی کرتے ہیں اور کبیرہ گناہ کرتے ہیں یہ کس طرح ہے اور ایسا کیوں ہے ؟؟؟

انہوں نے کہا اے ابراہیم کیا تیرے دل میں ان کے علاوہ کوئی اور بات بھی کھٹکتی ہے ؟میں نے کہا ہاں اور وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے انہوں نے کہا ابو اسحاق وہ کو کیا ہے؟؟؟میں نے کہا اے فرزند رسول میں آپ کے دشمن اور نواصب یعنی اہلسنت کی طرف اشارہ ہے میں دیکھتا ہوں کہ وہ صوم و صلوۃ پر بڑی کثرت سے کاربند ہیں مسلسل حج اور عمرہ کرتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں جہاد کے بڑے آرزومند ہیں نیکی اور صلہ رحمی کو ترجیح دیتے ہیں اپنے بھائیوں کے حقوق پورے کرتے ہیں اپنے مال سے ان کی غمگساری کرتے ہیں شراب نوشی زناکاری لونڈے بازی اور تمام فواحش سے اجتناب کرتے ہیں یہ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے ۔

اے ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے اس کے دلائل اور براہین کے ساتھ تفسیر پیش کیجئے خدا کی قسم اس کے بارے میں سوچ سوچ کر میری راتوں کی نیند اڑ چکی ہے اور دل سے چین رخصت ہوچکا ہے 

 علل الشرائع جلد 2 صفحہ 605 610 

 بحارالانوار جلد 5 صفحه 228 تا 229 

ایک دوسرا سائل ابواسحاق قمی ابو جعفر باقر سے کہتا ہے 

یہ سائل پہلے سائل کے شکوے میں اپنے اصحاب کی بدمعاملگی خشونت اور بےوفائی کا اضافہ کرتا ہے جبکہ اہل سنت کو جو اس کے حریف اور دشمن ہیں اپنے ہم مذہب افراد سے زیادہ حسن سلوک کرنے والا جلدی ضرورت پوری کرنے والا اور اخلاقیات معاملات اور عبادات میں افضل پاتا ہے 

 علل الشرائع 2 صفحہ 490 

 بحارالانوار جلد 5 صفحہ346 

اسی سے ملتا جلتا ایک شکوہ اور شیعہ ابوعبداللہ سے بھی کرتا ہے 

 المحاسن صفحہ 147 138 

 بحارالانوار جلد 5 صفحہ 251 

ابوبصیر نامی ایک سائل ابوعبداللہ کے پاس آتا ہے اور وہ بھی کچھ اسی طرح کے سوالات کرتا ہے 

 بحارالانوار جلد 5 صفحہ 246 

نعمت اللہ جزائری کہتا ہے ہمارے اصحاب نے یہ روایات بہت زیادہ سندوں کے ساتھ اصول مصادر میں نقل کی ہیں اس لئے ان کے انکار کی کوئی مجال ہے نہ ان پر اخبار آحاد ہونے ہی کا حکم لگایا جا سکتا ہے بلکہ یہ مشہور بلکہ متواتر ہوچکی ہیں 

 انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 295 

 الکافی جلد 2 صفحہ 2۔ 6 مستقل ایک باب باندھا ہے مومن اور کافر کے خمیر اور سات روایات نقل کی ہیں

 ملا باقر مجلسی نے اپنے کتاب کے باب الطینت والمیثاق میں 27 روایت نقل کی ہیں 

 بحارالانوار جلد 5 صفحه 225 تا 276  

 سائلوں کو ائمہ نے کیا جواب دیا ملاحظہ فرمائیں 

صفحہ 5 از 7