اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 7

 اے اسحاق تم جانتے ہو کہاں سے لائے گئے ہو میں نے کہا نہیں آپ پر قربان جاؤں بخدا میں نہیں جانتا ہاں اگر آپ بتا دیں تو اس نے کہا ایک ساتھ جب اللہ تعالی وحدانیت کے ساتھ اکیلا تھا اس نے اشیاء کی کسی شے کے بغیر ابتدا کی اس نے سات دنوں اور ساتھ راتوں پر زرخیز اچھی زمین میں میٹھا پانی چلا دیا  اس کے بعد پانی خشک ہوگیا تو اس نے اس گارے اور خمیر کے صاف اور خالص  سے ایک مٹھی بھر ی یہ ہمارا اہل بیت کا خمیر ہے اس کے بعد اس نے گارے کے سب سے نچلے حصے سے ایک مٹھی بھری  جو ہمارے شیعہ کا خمیر ہے اس کے بعد اس نے ہم کو اپنے لئے چن لیا اگر ہمارے شیعہ کا خمیر اس طرح چھوڑ دیا جاتا جس طرح ہمارے خمیر کو چھوڑ دیا گیا تو ان میں سے کوئی بھی زنا کرتا نہ لونڈے بازی کرتا نہ کوئی نشہ آور چیز ہی نوش کرتا اور ان گناہوں میں سے کسی کا بھی ارتکاب نہ کرتا جن کا تم نے ذکر کیا ہے لیکن اللہ تعالی نے سات دنوں اور سات راتوں تک ملعون زمین پر نمکین پانی چلایا اس کے بعد اس سے پانی خشک ہوگیا پھر اس نے اس سے ایک مٹھی بھری یہ گندے کیچڑ سے بنا ہوا معلوم خمیر اور فاسد خمیر ہے جو ہمارے دشمنوں کا خمیر ہے اگر اللہ تعالی ان کی مٹی اور خمیر کو اس طرح چھوڑ دیتے جس طرح اس سے مٹھی بھری تھی تو تم ان کو آدمیوں کے خلقت میں نہ دیکھتے نہیں یہ لوگ کلمہ توحید و رسالت کا اقرار کرتے نہ نماز روزے کے پابند ہوتے نہ زکوۃ دیتے نہ حج کرتے اور تم ان میں سے کسی ایک کو بھی حسن اخلاق کا مالک نہ دیکھتے لیکن اللہ تعالی نے دونوں خمیروں کو یعنی تمہارے اور ان کے خمیر کو اکھٹا کر دیا ان دونوں کا آمیزہ بنا دیا چمڑے کے رگڑنے کی طرح ان دونوں کو رگڑا پھر ان دونوں کو دونوں پانیوں کے ساتھ ملا دیا چنانچہ جو تم نے اپنے بھائی میں شر زناکار یا شراب نوشی اور دیگر فواحش کا تذکرہ کیا ہےیہ اس کی فطرت جوہر اور ایمان میں داخل نہیں بلکہ یہ ناصبی کا اثر ہے جس کی وجہ سے اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا جن کا تم نے ذکر کیا ہے اور جو ناصبی میں تم حسن سیرت حسن اخلاق صوم و صلاۃ کی پابندی حج کو ادا کرنا صدقہ خیرات اور نیکی دیکھتے ہو تو وہ اس کی فطرت اور جوہریت میں شامل نہیں بلکہ یہ تمام افعال ایمان کا اثر ہیں جو اس نے کمایا تو یہ حقیقت میں ایمان کے اثر اور نشان کا اکتساب ہے۔ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں قیامت کے دن کیا ہوگا اس نے مجھ سے کہا ایسا کہ اللہ تعالی اچھائی اور برائی کو ایک جگہ اکٹھا کریں گے ؟؟؟قیامت کے دن اللہ تعالی ان سے ایمان کا اثر اور چھاپ نکال لیں گے اور اسے ہمارے شیعہ کی طرف لوٹا دیں گے اور شیعہ نے جو تمام گناہ کیئے ہونگے یہ ناصبی کا اثر اس سے نکال دے گا اور ہمارے دشمن کو واپس کر دے گا اور ہر چیز اپنے عنصر اول کی طرف لوٹ جائے گی میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں کیا ان کی نیکیاں لے کر ہمیں دے دی جائیں گی اور ہماری برائیاں ان کو دے دی جائیں گی اس نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں 

 علل الشرائع صفحہ 490 491    

  بحارالانوار جلد 5 صفحہ 247 248  

 علل الشرائع جلد 2 صفحہ 607 

 نقد و تبصرہ

 یہ عقیدہ شیعہ کے ان کو بھی عقائدونظریات میں شامل ہے جن کو چھپانے کی حد تک کہ اپنے عام عوام سے بھی پوشیدہ رکھنے کی وہ تلقین اور وصیت کرتے ہیں کیونکہ اگراس نظریےکی بھنک پڑ گئی تو وہ دنیاوی لذت کے حصول کے لیے جان بوجھ کر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کر دے گا کیونکہ اس کو علم ہو جائے گا کہ اس کا اخروی وبال کسی دوسرے کے سر ہوگا

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 295  

 یہ نظریہ مرتضی اور ابن ادریس جیسے شیعہ کے متقدمین اصحاب عقل و دانش کی نگاہ میں بھی قابل نفرین ہے ان کی رائے کے مطابق اگرچہ اس کے متعلق روایات شیعہ کی کتابوں میں سرایت کر چکی ہیں لیکن یہ اخبار آحاد کا درجہ رکھتی ہیں جو کتاب وسنت اور اجماع کے مخالف ہیں جن کا رد کرنا واجب ہے 

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحه 293 

 یہ روایت خود اپنی تردید آپ کرتی ہیں ان شیعی سوالات میں آپ نے دیکھا کہ جرائم کی گہرائی میں ڈوبا ہوا نافرمانی اور گناہوں کے دلدل میں آخر تک پھنسا ہوا ہےمعاملات میں بدترین اور اخلاق اور دین میں انتہائی گھٹیا اور پست ہے تو جس شخص کی حالت ہے وہ افضل خمیر سے گوندھا گیا ہونا اور پاکیزہ ترین مخلوق ہونا کیسے ہو سکتا ہے۔

 اللہ سبحانہ و تعالی نے تمام لوگوں کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا ہے ارشاد باری تعالی ہے  

 Surat No 30 : Ayat No 30 

فَاَقِمۡ  وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ  الَّتِیۡ فَطَرَ  النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ  لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ  اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٭ۙ۳۰﴾

 پس آپ یک سو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کر دیں  اللہ تعالٰی کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے  اللہ تعالٰی کے بنائے کو بدلنا نہیں  یہی سیدھا دین ہے  لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔  

 شیعہ نے طینت کی روایات میں افعال العباد کے بارے میں اپنے مذہب کی خود تردید کی ہے کیونکہ ان روایت کا تقاضا ہے کہ بندہ اپنے فعل پر مجبور ہے اس کو کوئی اختیار نہیں کیوں کے اس کے تمام افعال اس کے خمیر کا تقاضہ ہے حالانکہ ان کا مذہب معتزلہ کے مذہب کی طرح ہے کہ انسان اپنے فعل کا خود خالق ہے 

 یہ بات عادل ربانی کے خلاف شریعت اور اصول اسلام تو ایک طرف رہے یہ صریح عقل اور سلیم فطرت کے ساتھ بھی اتفاق نہیں کرتی  

Surat No 39 : Ayat No 7  

 اِنۡ  تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ  عَنۡکُمۡ ۟ وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ  الۡکُفۡرَ ۚ وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ  وِّزۡرَ  اُخۡرٰی ؕ ثُمَّ  اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ  فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ  عَلِیۡمٌۢ  بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾

صفحہ 6 از 7