اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل

  توقیر احمد

صفحہ 7 از 7

اگر تم ناشکری کرو تو  ( یاد رکھو کہ )  کہ اللہ تعالٰی تم  ( سب سے )  بے نیاز ہے  اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا ۔  اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے ۔  تمہیں وہ بتلا دے گا جو تم کرتے تھے ۔  یقیناً وہ دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے ۔  

 Surat No 6 : Ayat No 164 

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡ رَبًّا وَّ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ  اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ  وِّزۡرَ  اُخۡرٰی ۚ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ  فِیۡہِ  تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

 آپ فرما دیجئے کہ میں اللہ کے  کیا  سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حالانکہ وہ مالک ہے ہرچیز کا  اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اور وہ اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا  پھر   تم کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا ،  پھر تم کو جتلا  ئے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے  ۔

 Surat No 52 : Ayat No 21 

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ  ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ  اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ  ذُرِّیَّتَہُمۡ  وَ مَاۤ  اَلَتۡنٰہُمۡ  مِّنۡ عَمَلِہِمۡ  مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِ ئٍۢ بِمَا کَسَبَ  رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾

 اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے  ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے ۔  

 Surat No 74 : Ayat No 38 

کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾

 ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے ۔  

 Surat No 99 : Ayat No 7 

فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾

پس جس نے ذرہ برابر  نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔  

 Surat No 99 : Ayat No 8 

وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ  شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ 

 اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ۔  

 Surat No 40 : Ayat No 17 

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ  نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ  لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ  الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾

 آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج  ( کسی قسم کا )  ظلم نہیں ،  یقیناً اللہ تعالٰی بہت جلد حساب کرنے والا ہے ۔  

 نتیجہ۔۔۔

 دیگر بھی بہت ساری آیات ہیں جواس نظریے کا باطل ہوناثابت کرتی ہیں اس کے فساد اور خرابی کو جاننے کے لئے اس کا صرف تصور پیش کرنا ہی کافی ہے اور یہ اثنا عشری مذہب کی رسوائیوں اور شرمناکیوں میں ایک فضیحت ہے 

 واللہ اعلم بالصواب 

 اذا لم تستح فاصنع ما شئت 

 اگر تجھے شرم نہ آئے تو جو جی میں آئے کرتا پھر


صفحہ 7 از 7