عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی…

عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی روشنی میں

  ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری​

صفحہ 1 از 5

عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کتاب وسنت کی روشنی میں

عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ سنت کے نزدیک اعتقادی مسئلہ ہے یا یوں کہیے کہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ وہ اپنے اس عقیدہ پر کتاب و سنت سے کئی دلائل رکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
قرآنی دلائل:
1: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا۞
(سورۃ الفتح: آیت، 18)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کرنے والے مؤمنوں سے راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے باطن کی عدالت و طہارت سے بخوبی واقف ہے، اس نے انہیں اطمینان و سکون نصیب کیا اور عنقریب فتح سے ہمکنار بھی کرے گا۔
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ بیان فرماتے ہیں:
وکنا ألفا واربع مائۃ۔
ترجمہ: اس وقت ہم چودہ سو افراد تھے۔
(صحیح البخاری: 1453)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت بیان کی۔ دل کی خبر صرف اللہ ہی دے سکتا اور یہ باطن کی تعدیل ہے۔ تب ہی اللہ تعالیٰ نے ان سے راضی ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔
علامہ ابنِ حجر ہیثمیؒ کہتے ہیں:
وَمن رَضِی اللہ عَنہُ تَعَالیٰ لَا یُمکن مَوتہ علی الْکفْر لِأَن الْعبْرَۃ بالوفاۃ علی الْإِسْلَام فَلَا یَقع الرِّضَا مِنْہُ تَعَالٰی إِلَّا علی من علم مَوتہ علی الْإِسْلَام۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ جس سے اپنی رضا کا اعلان کر دے، وہ کفر پر فوت نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اللہ کی رضا اسی کے لیے ہوگی، جو اللہ کے علم میں اسلام پر فوت ہوگا، کیوں کہ اعتبار خاتمے کا ہوتا ہے۔
(الصواعق المحرقۃ علی اہلِ الرفض والضلال والزندقۃ: جلد، 2 صفحہ، 605)
اس کی تائید اس نبویﷺ فرمان سے ہوتی ہے:
لَا یَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاء اللہُ، مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ أَحَدٌ، الَّذِینَ بَایَعُوا تَحْتَہَا۔
ترجمہ: اللہ نے چاہا تو درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔
(صحیح مسلم: 2496)
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں:
والرضی من اللہ صفۃ قدیمۃ فلا یرضی إلا عن عبد علم أنہ یوافقہ علی موجبات الرضی ومن رضی اللہ عنہ لم یسخط علیہ أبدا فکل من أخبر اللہ أنہ رضی عنہ فإنہ من أہل الجنۃ وإن کان رضاہ عنہ بعد إیمانہ وعملہ الصالح فإنہ یذکر ذلک فی معرض الثناء علیہ والمدح لہ فلو علم أنہ یتعقب ذلک ما یسخط الرب لم یکن من أہل ذلک۔ رضا
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدیمہ ہے۔ وہ اسی سے راضی ہوتا ہے، جو اس کے علم میں رضا کے تقاضوں کو پورا کرے گا۔ راضی ہونے کے بعد کبھی اس سے ناراض نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے جس کے متعلق اپنی رضا کی خبر دے دی، وہ پکا جنتی ہے۔ قبولِ ایمان اور عملِ صالح کے بعد اللہ کی رضا ہو تو یہ مدح و ثنا ہے۔ نیز معلوم ہوجائے کہ اس نے رضا کے بعد ایسی معصیت کا ارتکاب کیا، جو اللہ کی ناراضی کا موجب ہو ،تو وہ اس مدح کا اہل نہیں ہو گا۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول: صفحہ، 572، 573)
علامہ ابنِ حزم فرماتے ہیں:
فَمن أخبرنَا اللہ عزوَجل أَنہ علم مَا فِی قُلُوبہم رَضِی اللہ عَنْہُم وَأنزل السکینَۃ عَلَیْہِم فَلَا یحل لأحد التَّوَقُّف فِی أَمرہم وَلَا الشَّک فیہم الْبَتَّۃَ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان کی خبر دی، وہ ان سے راضی ہوا اور ان پر تسکین نازل کی، ان کے ایمان میں ذرا برابر شک یا توقف کی گنجائش نہیں۔
(الفصل فی الملل والاہواء والنحل: جلد، 4 صفحہ، 148)
2: فرمانِ الہٰی ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا۞
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں آپ کے ساتھی (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کفار پر انتہائی سخت اور آپس میں بے حد مہربان ہیں۔ آپ انہیں رکوع و سجدہ کی حالت میں اپنے مالک و مختار کے فضل اور رضا کے متلاشی پائیں گے۔ ان کی پیشانیوں پر سجدہ کے نشان ہیں۔ ان کی مثال تورات و انجیل میں اس کھیتی کی مانند ہے، جو انگوریاں نکال کر انہیں مضبوط و گنی کرتی ہے اور تناور ہو جاتی ہے۔ کسان کو بھلی لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے کافروں کو غیظ و غضب دلایا ہے۔ نیز اس نے مومنوں اور نیکو کاروں سے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دیگر انبیاء و رسل علیہم السلام کے اصحاب سے افضل ہیں۔ امتِ محمدیہ کی آسمانی کتابوں میں عظمت بیان ہوئی ہے اور اس امت میں سب سے افضل اور اشرف رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کتب سماوی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکرِ خیر فرمایا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِي التَّوْرَاۃِ الخ۔
علامہ ابنِ الجوزیؒ فرماتے ہیں:
وہذا الوصف لجمیع الصحابۃ عند الجُمہور
ترجمہ: جمہور مفسرین کے ہاں یہ اوصاف جلیلہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تھے۔
(زاد المسیر: جلد، 4 صفحہ 138)
3: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
صفحہ 1 از 5