عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی…

عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی روشنی میں

  ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری​

صفحہ 2 از 5
لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞ وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌۞وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞
(سورۃ الحشر: آیت 8، 9، 10)
ترجمہ:(مال فے) فقرا مہاجرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حق ہے، جنہیں بے گھر اور بے زر کر دیا گیا۔ وہ (صحابہ) فضل ورضائے الہیٰ کے طلبگار اور اللہ اور اس کے رسولﷺ (کے دین) کے مددگار ہیں، یہی سچے لوگ ہیں۔ (اور مال ِ فے) ان کے لئے بھی ہے، جنہوں نے ان سے قبل (مدینہ) کو مسکن بنایا اور ایمان کو دل میں راسخ کر لیا تھا۔ وہ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے شرف و فضل پر دل میں حسد نہیں رکھتے، اپنی ضرورت پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو بخل سے بچ گی، فوز و فلاح اسی کا مقدر ہے۔ ان (صحابہ) کے بعد مشرف بہ اسلام ہونے والے دعا گو رہتے ہیں، ہمارے رب! ہمیں اور ایمان میں سبقت لے جانے والے ہمارے بھائیوں کو بخش دے اور مؤمنوں کے بارے میں ہمارے دلوں میں بغض و کینہ پیدا نہ کیجئے، بلاشک تو مشفق و مہربان ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مالِ فے کے مستحقین کی صفات و احوال بیان کیے ہیں۔ یہ تین طرح کے لوگ ہیں:
1: لِلْفُقَرَاءِ الْمُہَاجِرِین الخ۔
2: وَالَّذِینَ تَبَوَّء ُوا الدَّارَ وَالْإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ الخ۔
3: وَالَّذِینَ جَاء ُوا مِنْ بَعْدِہِم الخ۔
مذکورہ بالا آیات سے عیاں ہے کہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سبِ و شتم کا نشانہ بنائیں، ان کا مالِ فے میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ ان میں وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ الخ
والا وصف مفقود ہے۔
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:
أُمِرُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِیﷺ فَسَبُّوہُمْ الخ۔
ترجمہ: انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے استغفار کا کہا گیا تھا، لیکن وہ انہیں برا بھلا کہنے لگے۔
(صحیح مسلم: 3022)
امام ابو نعیم اصبہانیؒ فرماتے ہیں:
فَمن أَسْوَأ حَالا مِمَّن خَالف اللہ وَرَسُولہ وآب بالعصیان لَہما والمخالفۃ عَلَیْہِمَا أَلا تری أَن اللہ تَعَالَی أَمر نبیہﷺ بِأَن یعْفُو عَن أَصْحَابہ ویستغفر لَہُم ویخفض لَہُم الْجنَاح قَالَ تَعَالَی: وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌وَقَالَ: وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَن اتبعک من لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ فَمن سبہم وأبغضہم وَحمل مَا کَانَ من تأویلہم وحروبہم علی غیر الْجَمِیل الْحسن، فَہُوَ الْعَادِل عَن أَمر اللہ تَعَالَی وتأدیبہ ووصیتہ فیہم، لَا یبسط لِسَانہ فیہم إِلَّا من سوء طویتہ فِي النَّبِیﷺ وصحابتہ وَالْإِسْلَام وَالْمُسْلِمین۔
ترجمہ: اللہ اور اس کے رسولﷺ کے اس مخالف اور نافرمان سے بڑھ کر کون برا ہو سکتا ہے؟ ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے در گزر، ان کے لئے استغفار اور نرم گوشہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ۞
(سورۃ آلِ عمران: آیت 159)
ترجمہ: آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے، تو لوگ آپ کے حلقہ بگوش نہ رہتے۔ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے درگزر کریں، ان کے لیے مغفرت و معافی مانگیں، اہم معاملات میں ان سے مشورہ کریں۔ عزمِ مصصم کے بعد اللہ پر توکل کریں، کیونکہ اسے توکل کرنے والے بہت بھاتے ہیں۔
مزید فرمایا: وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌۞
(سورۃ الشعراء: آیت، 215)
ترجمہ: آپ اپنے مومن متبعین کے لیے نرم گوشہ اختیار کریں۔
جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہا، ان سے بغض رکھا اور ان کی تاویلات اور جنگوں کو بطورِ مذمت پیش کیا، تو وہ ان کے بارہ میں اللہ کے حکم اور اس کے بیان کردہ ادب و وصیت سے عدول کر رہا ہے۔ نبی کریمﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسلام اور اہلِ اسلام کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے۔
(الامامۃ والرد علی الرافضۃ: صفحہ، 375، 376)
4: فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ۞
(سورۃ التوبۃ: آیت، 100)
ترجمہ: ایمان میں سبقت و اولیت حاصل کرنے والے مہاجرین و انصار اور احسان کے ساتھ ان کی پیرو ی کرنے والوں سے اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ ابد الاباد تک ان کے لیے ایسے باغات کا انتظام کیا ہے جن کے نیچے دریا جاری ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔''
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں:
فرضی عن السابقین من غیر اشتراط إحسان ولم یرض عن التابعین إلا أن یتبعوہم بإحسان۔ 
ترجمہ: سابقین کے ساتھ رضا کیلئے احسان کی کوئی شرط نہیں، جبکہ بعد والوں کیلئے رضا اتباع باحسان کے ساتھ مشروط ہے۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول: صفحہ، 572)
صفحہ 2 از 5