عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی…

عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی روشنی میں

  ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری​

صفحہ 3 از 5
احسان کے ساتھ اتباع و پیروی کرنے سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے راضی ہونا اور ان کیلئے استغفار کرنا بھی شامل ہے۔
5: فرمان خداوندی ہے:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ۞
(سورۃ الحدید: آیت، 10)
ترجمہ: فتح مکہ سے قبل خرچ اور قتال کرنے والے کے برابرکوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو فتح مکہ کے بعد خرچ اور قتال کرنے والوں سے کہیں افضل ہیں۔ ہاں جنت کا وعدہ دونوں کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔
ثابت ہوا کہ تمام اصحاب رسولﷺ قطعی جنتی ہیں۔
6: اللہ کریم فرماتے ہیں:
لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞
(سورۃ التوبۃ: آیت، 117)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے محمد کریمﷺ اور وہ مہاجرین و انصار، جو مشکل گھڑی میں آپﷺ کے وفادار ساتھی بنے، سے درگزر فرمایا۔ قریب تھا کہ بعض دل کبیدہ خاطر ہو جاتے، مگر اللہ تعالیٰ نے انتہائی شفقت و مہربانی سے انہیں بھی معاف فرما دیا۔''
غزوہِ تبوک میں خواتین اور معذوروں کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شریک ہوئے۔ تین صحابی جو بغیر کسی شرعی عذر کے پیچھے رہ گئے، اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔
حدیثی دلائل:
1: سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں:
کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ، وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْء، فَسَبَّہُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِﷺ لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِی، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا، مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِہِمْ، وَلَا نَصِیفَہُ۔
ترجمہ: سیدنا خالد بن ولیدؓ اور سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے مابین تنازع ہوا، سیدنا خالد بن ولیدؓ نے سیدنا عبد الرحمٰنؓ کو نامناسب جملہ کہہ دیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے کسی بھی صحابی پر طعن و تشنیع مت کریں، آپ کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا ان کے مٹھی بھر جو خرچ کرنے کے اجر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
(صحیح البخاری: 3673 و صحیح مسلم: 2541 واللفظ لہ)
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں:
وکذلک قال الإمام أحمد وغیرہ: کل من صحب النَّبِیﷺ سنۃ أو شہرا أو یوما أو رآہ مؤمنا بہ فہو من أصحابہ لہ من الصحبۃ بقدر ذلک فإن قیل: فلم نہی خالد عن أن یسب أصحابہ إذا کان من أصحابہ أیضا؟ وقال: لو أن أحدکم أنفق مثل أحد ما بلغ مد أحدہم ولا نصیفہ قلنا لأن عبد الرحمٰن بن عوف ونظراء ہ ہم من السابقین الأولین الذین صحبوہ فی وقت کان خالد وأمثالہ یعادونہ فیہ وأنفقوا أموالہم قبل الفتح وقاتلوا وہو أعظم درجۃ من الذین أنفقوا من بعد الفتح وقاتلوا وکلا وعد اللہ الحسنی فقد انفردوا من الصحبۃ بما لم یشرکہم فیہ خالد ونظراؤہ ممن أسلم بعد الفتح الذی ہو صلح الحدیبیۃ وقاتل أن یسب أولئک الذین صحبوہ قبلہ ومن لم یصحبہ قط نسبتہ إلی من صحبہ کنسیۃ خالد إلی السابقین وأبعد۔
امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر ائمہ محدثین رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ جس نے بھی رسول اللہﷺ کی ایک سال، ایک ماہ یا ایک دن صحبت کا شرف حاصل کیا یا صرف ایمان کی حالت میں دیدار نصیب ہوا، وہ صحابی شمار ہوگا، لیکن مقدار صحبت میں فرق ہوگا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ سیدنا خالد بن ولیدؓ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں طعن سے منع کیا، جب کہ وہ خود بھی صحابی ہیں؟ ہمارا جواب یہ ہو گا کہ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سابقین اولین میں سے ہیں۔ یہ تو اس وقت آپ ﷺ کے ساتھی تھے، جب سیدنا خالد بن ولیدؓ وغیرہ آپ ﷺ کے معاندین میں سے تھے۔ ان سابقین اولین نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور قتال کیا ہے، مگر ہر ایک سے جنت کا وعدہ ہے۔ چونکہ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ وغیرہ کو شرفِ صحابیت کے ساتھ ساتھ ایک منفرد خوبی بھی حاصل ہے، جس میں سیدنا خالد بن ولیدؓ اور فتح مکہ یعنی صلح حدیبیہ کے بعد قبولِ اسلام اور قتال کرنے والے شریک نہیں ہیں، لہٰذا ان سے قبل شرفِ صحبت حاصل کرنے والوں پر طعن سے منع فرما دیا گیا۔ آپﷺ کی صحبت نہ پانے والوں کی نسبت صحبت پانے والوں کے ساتھ ویسے ہی ہے، جیسے سیدنا خالد بن ولیدؓ کی سابقین واولین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ ساتھ ہے۔ اسی طرح بعد والوں کی پہلوں کے ساتھ۔''
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول: صفحہ، 576)
2: سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا عمرؓ سے فرمایا:
وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللہَ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔
ترجمہ: کیا آپ جانتے نہیں! اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر جھانک کر فرمایا: جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
(صحیح البخاری: 3983 و صحیح مسلم: 2494)
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:
قیل: الامر فی قولہ إعملوا للتکریم، وأن المراد أن کل عمل عملہ البدری لا یؤخذ بہ لھذا الوعد الصادق وقیل: المعنیٰ إن أعمالھم السیئۃ تقع مغفورۃ، فکانما لم تقع۔
ترجمہ: ایک قول کے مطابق مذکورہ حدیث میں امر (إعملوا) تکریم کے لیے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اہلِ بدر کی ہر خطا معاف ہے۔ ایک قول میں بدریوں کی خطائیں واقع ہوتے ہی معاف کر دی گئیں، گویا کہ ان سے صادر ہی نہیں ہوئیں۔
(معرفۃ الخصال المکفرۃ: صفحہ، 31 و فتح الباری: جلد 4 صفحہ، 252)
حافظ نوویؒ فرماتے ہیں:
قَالَ الْعُلَمَاء: مَعْنَاہُ الْغُفْرَانُ لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَإِلَّا فَإِنْ تَوَجَّہَ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ حَدٌّ أَوْ غَیْرُہُ أُقِیمَ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَنَقَلَ الْقَاضِی عِیَاضٌ الْإِجْمَاعَ عَلَی إِقَامَۃِ الْحَدِّ وَأَقَامَہُ عُمَرُ عَلَی بَعْضِہِمْ قَالَ : وَضَرَبَ النَّبِیﷺ مِسْطَحًا الْحَدَّ وَکَانَ بَدْرِیًّا۔
صفحہ 3 از 5