عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی…

عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی روشنی میں

  ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری​

صفحہ 4 از 5
ترجمہ:  اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے آخرت میں معافی مراد ہے، ورنہ بدری پر حد واجب ہو جاتی، تو دنیا میں حد قائم ہو جاتی۔ قاضی عیاض نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ سیدنا عمرؓ نے (سیدنا قدامہ بن مظعونؓ) پر حد قائم کر کے فرمایا تھا کہ رسول اللہﷺ نے بھی سیدنا مسطح بن اثاثہؓ پر باوجود بدری ہونے کے حد قائم کی تھی۔
(شرح صحیح مسلم: 56، 57، 16)
شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی، ابن قیم جوزیہؒ فرماتے ہیں:
وَاللہ أعلم أَن ہَذَا خطاب لقوم قد علم اللہ سُبْحَانَہُ أنّہم لَا یفارقون دینہم بل یموتون علی الْإِسْلَام وَأَنَّہُمْ قد یقارفون بعض مَا یقارفہ غَیرہم من الذُّنُوب وَلَکِن لَا یترکہم سُبْحَانَہُ مصرِّین عَلَیْہَا بل یوفّقہم لتوبۃ نصوح واستغفار وحسنات تمحو أثر ذَلِک وَیکون تخصیصہم بِہَذَا دون غَیرہم لِأَنَّہُ قد تحقق ذَلِک فیہم وَأَنَّہُمْ مغْفُور لَہُم وَلَا یمْنَع ذَلِک کَون الْمَغْفِرَۃ حصلت بِأَسْبَاب تقوم بہم کَمَا لَا یَقْتَضِي ذَلِک أَن یعطّلوا الْفَرَائِض وثوقا بالمغفرۃ فَلَو کَانَت قد حصلت بِدُونِ الِاسْتِمْرَار علی الْقیام بالأوامر لما احتاجوا بعد ذَلِک إِلَی صَلَاۃ وَلَا صِیَام وَلَا حج وَلَا زَکَاۃ وَلَا جِہَاد وَہَذَا محَال۔
ترجمہ: اللہ اعلم! یہ خطاب ان سے ہے، جو اللہ کے علم میں مرتد ہو کر فوت نہیں ہوں گے، دوسروں کی طرح ان سے بھی گناہوں کا سرزد ہونا ممکن ہے، لیکن اللہ تعالیٰ انہیں گناہ پر مصر نہیں رہنے دیتا، بلکہ سچی توبہ و استغفار یا گناہوں کو مٹا دینے والی نیکیوں کی توفیق خاص سے نوازتا ہے۔ اس طرح اہلِ بدر دوسروں سے ممتاز ہیں، کیوں کہ ان خصائل جمیلہ کی بنا پر وہ مغفور ہیں۔ یقیناً ان کی مغفرت کا موجب ان میں موجود چند اوصاف ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فرائض کے تارک بن جائیں۔ یہ مغفرت اوامر و نواہی کے قیام کے بغیر ہی حاصل ہو جانی ہوتی، تو انہیں اس کے بعد کسی نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور جہاد وغیرہ کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ 
(الفوائد: صفحہ، 16)
3: سیدنا عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
خیر أمتی قرنی، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، قال عمران: فلا أدريأ ذکر بعد قرنہ قرنین أو ثلاثا؟
ترجمہ: میرے امت کے بہترین لوگ میرے زمانہ کے ہیں، پھر بعد والے، پھر ان کے بعد والے۔ سیدنا عمران بن حصینؓ فرماتے ہیں مجھے یہ ازبر نہیں کہ آپﷺ نے اپنے زمانے کے دو زمانوں کا ذکر فرمایا یا تین کا۔''
(صحیح البخاری: 3650 صحیح مسلم: 5253)
4: سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَاء فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَاء مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی، فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتَی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی، فَإِذَا ذَہَبَ أَصْحَابِی أَتَی أُمَّتِی مَا یُوعَدُونَ۔
ترجمہ: ستارے آسمان کی امان ہیں، جب یہ جھڑ جائیں گے، تو آسمان تباہ ہو جائے گا۔ میں آپ کی امان ہوں، میرے جانے کے بعد آپ فتنوں سے دو چار ہو جائیں گے اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میری امت کے لیے امان ہیں، یہ فوت ہو گئے، تو میری امت کو فتنے آن لیں گے۔
(صحیح مسلم: 2531)
5: سیدنا واثلہ بن اسقعؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لَا تَزَالُونَ بِخَیْرٍ مَا دَامَ فِیکُمْ مَنْ رَآنِی وَصَاحَبَنِی، وَاللَّہِ لَا تَزَالُونَ بِخَیْرٍ مَا دَامَ فِیکُمْ مَنْ رَأَی مَنْ رَآنِی وَصَاحَبَ مَنْ صَاحَبَنِی۔
ترجمہ: آپ خیر پر رہیں گے، جب تک میرا کوئی صحابی حیات رہے گا۔ اللہ کی قسم! جب تک آپ میں تابعی زندہ رہے گا، خیر پر ہی رہیں گے۔
(مصنف ابنِ أبی شیبۃ: ح، 32417، السنۃ لابنِ ابی وعاصم: جلد، 2 صفحہ، 630، وسندہ، حسنٌ)
6: سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا:
آیۃ الایمان حب الانصار، وآیۃ النفاق بغض الانصار۔
ترجمہ: ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے نفاق کی علامت انصار سے بغض ہے۔
(صحیح البخاری: 17 صحیح مسلم: 74)
مزید ارشاد فرمایا: 
لَا یُحِبُّہُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا یُبْغِضُہُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ۔
ترجمہ: ان سے مؤمن ہی محبت کرتے ہیں اور منافق ہی بغض رکھتے ہیں۔ 
(صحیح البخاری: 3783، صحیح مسلم: 75)
7: سیدنا جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: لا تمس النار مسلما رآنی او رای من رآنی۔ 
ترجمہ: اس مسلمان کو آگ نہیں چھو سکتی، جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے (صحابی) کو دیکھا۔
(سنن الترمذی: 3858، وسندہ حسن)
مذکورہ دلائل کا خلاصہ
ذکر کردہ قرآنی و حدیثی دلائل سے مندرجہ ذیل فوائد اخذ ہو تے ہیں:
1: اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ظاہری و باطنی تزکیہ فرمایا ہے۔ مثلاً ظاہری عدالت میں اعلیٰ اخلاق حمیدہ سے متصف کرنا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
أَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ الخ۔
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
اور فرمایا:
وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ
(سورۃ الحشر: آیت، 8)
نیز اللہ کا فرمان ہے :
وَلَا یَجِدُونَ فِی صُدُورِہِمْ حَاجَۃً مِمَّا أُوتُوا وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ
(سورۃ الحشر: آیت، 9)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی باطنی عدالت کا معاملہ صرف اللہ علیم بذات الصدور ہی جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے کھرے پن اور نیک نیتی سے ہمیں باخبر کیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے فرامین عالی شان ہیں:
1: فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکِینَۃَ عَلَیْہِمْ الخ۔
(سورۃ الفتح: آیت، 18)
2: یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْہِمْ الخ۔
(سورۃ الحشر: آیت 9)
3: یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا۔
(سورۃ الفتح: آیت، 29)
4: لَقَدْ تَابَ اللَّہُ عَلَی النَّبِی وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ۔
(سورۃ التوبۃ: آیت 117)
آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیک نیتی اور سچی توبہ کی بنا پر گناہ بخشی فرما دی، کیونکہ توبہ دلی معاملہ ہے۔
صفحہ 4 از 5