عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی…

عدالت صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کتاب و سنت کی روشنی میں

  ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری​

صفحہ 5 از 5
2: اللہ تعالیٰ نے انہیں ظاہری و باطنی خوبیوں کی توفیق خاص سے نوازا ہے، اس لیے تو ان پر اپنی رضا، ان کی توبہ قبول کرنے اور ان کو جنت کی ضمانت دینے سے آگاہ کیا ہے۔
3: مذکورہ دلائل میں اللہ تعالیٰ کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے استغفار کا حکم، نبی ﷺ کا ان کی تکریم، حقوق کی حفاظت اور ان سے محبت کا حکم دینا اور ان سے بغض و عناد سے منع کرنا، بلکہ ان سے محبت کو علامت ایمان اور بغض کو علامت نفاق قرار دینا، عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا پتہ دیتا ہے۔
4: ان فضائل کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خیرُ القرون ہونا اور اس امت کے لیے امن و امان ہونا، ایک طبعی حقیقت ہے۔ یوں امت کے لیے ان کی اقتدا واجب ہے، بل کہ جنت کا یہی واحد راستہ ہے۔ جیسا کہ سیدنا عرباض بن ساریہؓ کہتے ہیں کہ
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء المہدیین الراشدین۔
ترجمہ: میرے اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقے کو اختیار کریں۔
(مسند احمد: 17142 سنن الترمذی: 2676، سنن ابنِ ماجۃ: 43، وسندہ، صحیحٌ)




صفحہ 5 از 5