ناصبی کی تعریف اور اس کا حکم
جعفر صادقمحدث السلفیة، علامہ شوکانی فرماتے ہیں۔
وإذا ثبت أن الناصبي من يبغض عليا عليه السلام فقد ثبت بالأحاديث الصحيحة الصريحة في كتب الحديث المعتمدة أن بغضه نفاق وكفر ۔ وثبت أن من أبغض عليا فقد أبغض الله ورسوله وبغض الله ورسوله كفر ۔ وفي الباب أحاديث كثيرة من طرق عن جماعة من الصحابة.وفي هذا المقدار كفاية فإن به يثبت أن الناصبي كافر، وأن من قال لرجل يا ناصبي! فكأنه قال: له يا كافر ۔
اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ناصبی وہ ہوتا ہے جو علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو تو پھر صحیح اور صریح احادیث جو مستند کتب میں منقول ہوئی ہیں ان احادیث کی روشنی میں یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ علی [ع] سے بغض رکھنا نفاق اور کفر ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ جس نے علی سے بغض رکھا گویا اس نے اللہ اور رسول سے بغض رکھا اور اللہ اور رسول سے بغض رکھنا کفر ہے اور اس باب میں کافی احادیث ہیں جو کہ متعدد طرق سے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہوئی ہیں جن میں سے ہم نے بقدر کفایت چند احادیث نقل کردی ہیں ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ناصبی کافر ہے ۔ اور اگر کسی شخص نے دوسرے آدمی کو ناصبی کہا تو یہ ایسا ہی ہے کہ گویا اس نے اس شخص کو کافر کہا ہے ۔
الفتح الربانی من فتاوی الامام الشوکانی//جلد2//صفحہ873 ۔ 876//طبعہ مکتبۃ الجیل یمن۔
اہل تشیع کے نزدیک لفظ ’’ ناصبی‘‘ کی تعریف
اہلِ تشیع کے نزدیک ’’ناصبیت‘‘ کی تعریف کچھ مختلف ہے۔
اگر مثلاً انٹرنیٹ پر ناصبی، نواصب، ناصبیت قسم کے الفاظ عربی اور اردو میں سرچ کیے جائیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تمام اہلِ سنت ناصبی ہیں۔
ہر وہ شخص جو حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے عقیدت رکھتا ہو، ان کے نزدیک ناصبی میں شمار ہوتا ہے۔
ممکن ہے کہ اہلِ تشیع کے معتدل لوگوں کا موقف اس سلسلے میں مختلف ہو تاہم ان کے متشدد لوگوں کا مؤقف یہی معلوم ہوتا ہے۔
شیعہ عالم شیخ محمد حسن نجفی لکھتے ہیں کہ
عن شرح مقداد: ناصبی کا اطلاق ، پانچ طریقوں سے ہوتا ہے ۔
¹ـ الخارجی : جو امام علی (ع) پر قدح کریں۔
²$ایسا آدمی جو ائمہ (ع) کی طرف ایسی نسبت دے جس سے ان کی عدالت ساقط ہو جاتی ہو۔
³ـ ایسا آدمی جو اہلبیت (ع) کی فضیلت سن کر اس کا انکار کرے۔
⁴ـ ایسا آدمی جو علی (ع) پر کسی اور کو فضیلت دے۔
⁵ـ ایسا آدمی جو علی (ع) کے متعلق ، نص کو سننے کے بعد اس کا انکار کرے جبکہ وہ نص مصدقہ طریقے سے اس تک پہنچی ہو ۔
(جواھرالکلام ، جلد 6 صفحہ 66 کتاب الطہارۃ فی المراد من الناصب)
نوٹ: اہل سنت چوتھی قسم کے مطابق ناصبی تصور کئے جاتے ہیں
شیعہ رافضہ عوام اہل سنت کو اکثر یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ اہلِ سنت سے بغض نہیں رکھتے بلکہ ناصبیوں سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں۔ شیعہ کی معتبر کتب میں عام طور پر اہل سنت سے بغض کا اظہار ناصبی کہہ کر کیا جاتا ہے۔ آئیے مزید دیکھتے ہیں شیعہ رافضہ کے نزدیک ناصبی کسے کہا جاتا ہے۔
1) نعمت اللہ جزائری لکھتا ہے:
ولعلك تقول أن مخالفينايزعمون ايهم لا يبغضون عليا وهذا زعم وباطل وقد روي عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان علاقہ بغض على تقديم غیرہ علیہ و تفضیلہ
ترجمہ: شاید تم کہو کہ ہمارے مخالف سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت علی کو برا نہیں سمجھتے ، یہ خیال باطل ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے علی سے بغض کی علامت یہ بتائی ہے کہ حضرت علی پر کسی کو فضیلت دی جائے اور اس سے کسی کو مقدم سمجھا جائے۔
2) عن صادق علیه السلام انه ليس ناصب من نصب لنا أهل بيت فانه لا تجد ولا تقول أنا ابغضمحمد وال محمد ولكن الناصب من نصب لكم وهو يعلم انكم تولوناوانتم شيعتنا
(استبصار جلد1 صفحہ10)
ترجمہ
جعفر صادق کہتے ہیں ناصبی وہ ہیں جو ہم اہلِ بیت کی مخالفت کرے کیونکہ ایسا آدمی کوئی نہیں ملے گا جو کہے کہ میں محمد اور آل محمد سے بغض رکھتا ہوں بلکہ ناصبی وہ ہے جو تمہاری (شیعہ) کی مخالفت کرے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ تم ہم سے محبت کرتے ہو اور ہمارے شیعہ ہو۔
3) ملا باقر مجلسی لکھتا ہے: ابنِ ادریس نے محمد بن علی عیسی سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے علی نقی کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ ہم ناصبی کہ جاننے اور پہچاننے میں اس سے زیادہ محتاج ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین پر ابو بکرؓ و عمرؓ کو مقدم جانے اور دونوں کی امامت کا اعتقاد رکھے۔ حضرت نے فرمایا تو جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے وہ ناصبی ہے۔ (حق الیقین صفحہ 288)۔
مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ شیعہ کے نزدیک تمام اہل سنت چاہے ان کا کسی بھی فرقہسے تعلق ہو وہ ناصبی ہے کیونکہ اہل سنت کا مذہب شیعہ کے مخالف ہے ، اہل سنت کا ابو بکر وعمر کی امامت اور خلافت کے صحیح ہونے پر اجماع ہے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ ابو بکر و عمر سیدنا علی سے افضل ہیں۔