مکالمہ فدک (چوتھی قسط) میراث انبیاء کرام پر شیعہ دلائل اور…

مکالمہ فدک (چوتھی قسط) میراث انبیاء کرام پر شیعہ دلائل اور رد

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

اگر آیت میں کل شی میں مال ملکیت بھی مراد ہوتا تو صرف ایک بیٹے کو وارث بنانے سے دوسرے بیٹوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔

اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر شئے میں مال ملکیت کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے۔

جعفری: تمہارا استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ آیت میں حضرت سلیمان کا ذکر ہے، لیکن “صرف” وہی وارث بنے یہ ضروری نہیں، ہوسکتا ہے دوسرے بیٹوں کو بھی حصہ ملا ہو۔

صدیقی: بیشک مال ہر شئے میں داخل ہے، لیکن یہاں استشناء ہے۔ کیونکہ مال بھی شامل ہوتا تو دوسرے وارث بھی مذکور ہوتے۔ ایک بیٹے کا نام بتانے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت داؤد کی مالی وراثت کا ذکر نہیں ورنہ قرآن میں معاذاللہ نقص ہو جائے گا۔ "وورث سلیمان داؤد" سلیمان وارث بنے داؤد کے، ان الفاظ سے ہم یہ کیسے سمجھ لیں کہ حضرت داؤد کے تمام بیٹے ہی وارث بنے؟ اگر واقعی ایسا ہوتا تو پھر قرآن میں کیوں بیان ہوتا؟ والد کے وارث تمام اولاد بنتی ہے، خاص حضرت سلیمان کا نام بیان کرنے کی ضرورت کیوں آئی؟ دوسرے بیٹوں کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟

بالفرض دوسرے بیٹے بھی وارث بنے تھے تو پھر حضرت سلیمان کو ہی وارث بنانے کا ذکر کیوں؟

بھائی! تمہارے استدلال سے معاذاللہ قرآن کریم میں نقص ہو جاتا ہے جبکہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔

جعفری: میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ کل شی میں مال ملکیت بھی شامل ہے۔

صدیقی: عجیب ہٹ دھرمی ہے۔ فرض کرو اگر یہاں کل شی میں مال بھی شامل ہے۔ تو تمہیں حیرانگی نہیں ہو رہی کہ والد کے کئی بیٹے ہوں لیکن مال حضرت سلیمان کو ورثہ میں دیا جا رہا ہے۔

اچھا میں اگر تمہارے امام معصوم سے واضح دکھا دوں کہ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان بنے تھے تو اس وراثت میں مال ملکیت شامل نہیں تھی۔ تو تسلیم کر لوگے؟

جعفری: ہمارے علماء کرام سورت النمل کی یہ آیت میراث انبیاء کرام کے حق میں دیتے رہے ہیں، اگر کسی امام معصوم کا قول ہوگا بھی تو کسی غیر معتبر کتاب میں ہوگا۔

صدیقی: اگر اہل تشیع کی اصول اربعہ میں شامل کتاب ہو؟ بلکہ اول نمبر کی کتاب سے دکھا دوں تو؟

جعفری: کیا مطلب؟ الکافی کی بات کر رہے ہو؟

صدیقی: جی بالکل۔ ٹھیک سمجھے ہو۔

جعفری: تعجب ہے!!! الکافی میں کس امام معصوم کا قول ہے کہ حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کی مالی میراث نہیں ملی تھی؟ واضح روایت دکھاؤ، تاویل کر کے من مانی تشریح کا تسلیم نہیں کروں گا۔

صدیقی: بالکل! واضح الفاظ سے ثابت کرتا ہوں۔ الکافی جلد 1 سامنے ہی شیلف میں پڑی ہے، خود اٹھا کر لاؤ۔

(جعفری فوراً اٹھ کر الکافی جلد 1 اٹھا کر لاتا ہے۔)

جعفری: بتاؤ کس صفحہ پر امام معصوم کا قول ہے؟

صدیقی: صفحہ نمبر 133 کھولو۔

اور اس کا آخری پیراگراف پڑھو۔

جعفری پڑھنے لگا:

محمد بن يحيى، عن سلمة بن الخطاب، عن عبد الله بن محمد، عن عبد الله بن القاسم، عن زرعة بن محمد، عن المفضل بن عمر قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: إن سليمان ورث داود، وإن محمدا ورث سليمان، وإنا ورثنا محمدا، وإن عندنا علم التوراة والإنجيل والزبور، وتبيان ما في الألواح (1)، قال: قلت: إن هذا لهو العلم؟ قال: ليس هذا هو العلم، إن العلم الذي يحدث يوما بعد يوم وساعة بعد ساعة

ترجمہ: حضرت امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ سلیمان علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے اور محمد علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے اور ہم وارث ہوئے محمد علیہ السلام کے۔ بیشک ہمارے پاس توریت زبور انجیل کا علم ہے اور الواح موسیٰ کا بیان ہے: راوی نے کہا علم اسی کا نام ہے فرمایا یہ وہ علم ہے جس کا تعلق ہر روز ہر گھڑی کے واقعات سے ہے۔

( اصول الکافی: الشیخ الکلینی: جلد 1 صفحہ 133)

یہی روایات الکافی کے علاوہ دوسری شیعہ کتب میں بھی موجود ہے۔

1: أحمد بن إدريس، عن محمد بن عبد الجبار، عن صفوان بن يحيى، عن شعيب الحداد، عن ضريس الكناسي قال: كنت عند أبي عبد الله عليه السلام وعنده أبو بصير فقال أبو عبد الله عليه السلام: إن داود ورث علم الأنبياء، وإن سليمان ورث داود، وإن محمدا صلى الله عليه وآله ورث سليمان، وإنا ورثنا محمدا صلى الله عليه وآله وإن عندنا صحف إبراهيم وألواح موسى، فقال أبو بصير: إن هذا لهو العلم ، فقال: يا أبا محمد ليس هذا هو العلم، إنما العلم ما يحدث بالليل والنهار، يوما بيوم وساعة بساعة۔

(الکافی: جلد 1 صفحہ 225)

2:حدثنا سلمة بن الخطاب عن عبد الله بن القاسم عن ذرعة عن المفضل قال قال أبو عبد الله عليه السلام ورث سليمان داود وأن محمدا ورث سليمان وانا ورثنا محمدا صلى الله عليه وآله وانا عنده علم التورية والأنجيل والزبور وتبيان ما في الألواح قال قلت إن هذا لهو العلم قال ليس هذا العلم إنما العلم ما يحدث يوما بيوم وساعة بساعة۔

(بصائر الدرجات: صفحہ 158، 159)

عن أحمد بن إدريس، عن محمد بن عبد الجبار، عن صفوان بن يحيى، عن شعيب الحداد، عن ضريس الكناسي، قال: كنت عند أبي عبد الله و عنده أبو بصير، فقال أبو عبد الله «إن داود ورث علم الأنبياء، و إن سليمان ورث داود، و إن محمدا ورث سليمان، و إنا ورثنا محمدا ، و إن عندنا صحف إبراهيم، و ألواح موسى » 

فقال أبو بصير: إن هذا لهو العلم فقال: «يا أبا محمد، ليس هذا هو العلم، إنما العلم ما يحدث بالليل و النهار، يوما بيوم، و ساعة بساعة» 

(البرھان فی تفسیر القرآن)



جعفری: اوہ! میرے مولا

یار! مجھے یقین نہیں آ رہا۔

صدیقی: آرام سے تصدیق کر لو۔ حضرت امام جعفر صادقؓ واضح الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث بنے اور ہم نبی کریمﷺ کے وارث بنے آگے اس وراثت کی تفصیل کو بھی بیان کیا ہے۔ یعنی توریت، زبور، انجیل کا علم اور الواح موسیٰ وغیرہ۔

اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سورت النمل کی اس آیت میں مالی وراثت کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کی علمی وراثت ملی تھی۔

الحمدللہ میں تمہاری پہلی دلیل سے پیش کیا گیا استدلال مختلف دلائل سے اور امام کے واضح قول سے رد کر چکا ہوں۔ تمہیں چاہیے کہ میرے دلائل کا جوابی رد کرو یا کوئی اور دلیل پیش کرو۔

صفحہ 2 از 3