Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ (کتاب المختصر فی اخبار البشر لابی الفداء، الکامل فی التاریخ ابن الاثیر، العقد الفريد، محمد بن عبدربہ، حیاۃ الصحابہ)

  جعفر صادق

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ الزام نمبر۔16

 شیعہ الزام  
خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم نہیں کی۔
(کتاب المختصر فی اخبار البشر لابی الفداء، الکامل فی التاریخ ابن الاثیر، العقد الفريد، محمد بن عبدربہ، حیاۃ الصحابہ)

 (الجواب اہلسنّت) 

اقرار کو انکار اور سچ کو جھوٹ اسی طرح جھوٹ کو سچ بنا کر ایسی کاری گری سے پیش کرنا کہ دنیا نہ بھی مانے تو کم از کم شک میں ضرور پڑ جائے اس کام میں ہمارے کرم فرما رافضی شیعہ خوب مہارت رکھتے ہیں جن کتابوں سے یار لوگوں نے انکار خلافت ثابت کیا ہے در اصل انہیں کتابوں کے انہیں صفحات پر ان حضرات کا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنا لکھا ہوا ہے مگر حق بات کے دیکھنے کیلئے بھی آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر اللہ تعالی کا ارشاد سبقت کر جائے ختم الله على قلوبهم و على سمعهم و علی ابصارهم غشاوة
تو ایسی جگہ انسانی اختیارات اختتام کو پہنچ جاتے ہیں۔ ہم اپنے متلاشی حق احباب سے التجاء گزار ہیں کہ وہ ذرا ان کتابوں کے دیے گئے

عکسی صفحات کی عبارات ملاحظہ فرمائیں۔

 (الف) المختصر فی اخبار البشر، عکسی صفحہ ٦٣، تحقیقی دستاویز صحفہ ٦٣٠ باب ذکر اخبار ابی بکر الصدیق و خلاصتہ سطر نمبر (۴) تحت باب
فبايع عمر ابابکر رضی الله عنه و انشال الناس عليه فبايعونه الخ۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف جھک پڑے پس ان (بنی سقیفہ میں موجود لوگوں نے سوا چند ایک کے) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

 (ب) الکامل فی اسناریخ صفحہ ١٨٩ تحقیقی دستاویز صفحہ ۱۳۴ سطر نمبرہ۔
فبايعه عمرو بايعه الناس الخ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
  سطر نمبر۸ - لما سمع على بيعة أبي بكر خرج في قميص ما عليه ازار ولا رداء رضی الله عنه عجلا حتى بايعه ثم ستدعى ازاره و رداءه الخ . کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ( کیے جانے کے بارے میں) سنا تو صرف ایک قمیص میں جلدی جلدی تشریف لائے کہ ان پر ( قمیص کے علاوہ ) نہ کوئی چادر تھی نہ کپڑا حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر (بلا تاخیر ) بیعت کی پھر اس بیعت کر لینے کے بعد چادر وغیر ہ منگوا کر اوڑھ لی۔
 سطر نمبر14۔ پر ہے کہ جب حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنا کام آگے بڑھاؤ تا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کروں اور تیرے لئے پیدل اور سواروں کے لشکر جمع کر دوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صاف انکار کر دیا۔ فابی علی عليه السلام عليه الخ . که حضرت علی علیہ السلام نے (سختی سے ) انکار کر دیا، آگے دو شعروں کے بعد ہے فزجره على رضی اللہ عنہ و قال و الله انك ما اردت بهذا الا الفتنة و انك و الله طالما بغيت للاسلام شبرا لا حاجه لنا في نصيحتك. خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو (سخت ) ڈانٹا اور فرمایا اللہ کی قسم اس (بیعت وغیرہ) سے تیرا ارادہ سوی فتنہ بھڑکانے کے اور کسی چیز کا نہیں اور اللہ کی قسم تو ہمیشہ اسلام کیلئے شر کوہی بھڑکاتا رہا ہے ہمیں تیری نصیحت کی کوئی ضرورت نہیں۔

 (ج) العقد الفرید صفحه ٢٧١ شیعہ تحقیقی دستاویز صفحہ ۲۳۴ سطر نمرا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فيامر ابابكر فيصلي بالناس وقد تركني وهو يرى مكاني فلما قبض رسول الله رضي المسلمون الدنيا هم من رضیه رسول الله ة لدينهم فبايعه و پایعته.
مطلب عبارت کا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور مجھے نماز پڑھانے کا حکم نہیں دیا۔ اور (لوگوں سے زیادہ) میری حیثیت و مرتبہ کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح جانتے تھے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو لوگ دنیا کے معاملات میں ان کی (امارت پر) راضی ہو گئے جن
کے دین میں امامت پر رسول اللہ راضی ہو گئے تھے پس (سب) لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور میں نے بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

 سطر نمبر ١٦ کی عبارت ہے فرضی ابو سفیان و بایعه
پس ابوسفیان (حضرت ابوبکر صدیق) سے راضی ہو گئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

 (1) حیات صحابہ سے ۲۰ جلد٢ تحقیقی دستاویز صفحه ٦٣٦ سطر نمبر ٨، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بیعت میں کچھ
تاخیر کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ اول مشورہ بنی سقیفہ وغیرہ میں شریک نہ کیے جانے پر ہمیں دکھ تھا لیکن ہمارے دل میں بھی یہی تھا کہ
و انا نری ابابکر احق الناس بها بعد رسول الله، أنه لصاحب الغار و ثانی اثنین و انا لنعرف شرفه و كبره و لقد امره رسول الله صلى الله بالصلوة بالناس و ہو حی۔ مطلب یہ ہے کہ
"بے شک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بٹن کو لوگوں میں سب سے زیادہ امارت کا حق دار جانتے ہیں بے شک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار کے ساتھی اور غار میں دو کے دوسرے تھے اور ہم ان کے مرتبے اور مقام سے واقف ہیں رسول اللہ نے انہیں کو اپنی زندگی میں حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں"۔

 سطر نمبر ۱۵ پر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کو جواب دیا ولولا انا رأينا ابو بکر لذالك. اهلا ما خلينا و ایاها الخ.
مطلب یہ ہے کہ ہم اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت کا اہل نہ جانتے تو ان کو اس مقام پر کھڑا نہ رہنے دیتے ( چونکہ وہ مستحق خلافت تھے اسی لئے تو ہم خاموش رہے) آخری سطر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:
. وانا قد بايعنا ابابکر و كان لذالك اهلا۔
اور ہم نے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو وہ اس لئے کہ وہ اس وقت خلافت کی اہلیت رکھتے تھے۔
محترم حضرات یہی وہ چار کتابیں ہیں جن کے عکس دے کر یہ دعوی کیا گیا کہ ابو سفیان اور بنو ہاشم و متعدد صحابہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہ کی تھی حالانکہ ان کتابوں کی چیدہ چیدہ عبارات ہم نے نقل کر دی ہیں جن میں ابوسفیان صحابہ کرام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ حضرات کا صراحتاً بیعت کرنا اور حیدر کرار رضی اللہ عنہ کا دشمنان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا لگام ڈالنے والا جواب ارشاد فرمانا منقول ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خلافت کہ اہل تھے جب ہی تو ہم نے بیعت کی اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اور میرے خاندان کو اچھی طرح سے جانتے تھے اگر میں ابوبکر صدیق سے مقدم اور خلیفہ بلا فصل ہوتا تو خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نماز پڑھانے کا حکم دیتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سویٰ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کسی اور کے امام بنے پر راضی نہ ہوئے لہٰذا لوگوں نے اسی کو اپنا دنیا میں امام بنا لیا جس کو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے دین کا امام بنایا تھا پس لوگ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیعت ہو گئے اور میں بھی بیعت ہو گیا ۔
 ( العقد الفريد صفحہ ٢٧١ وغیره)
اب آپ ہی فرمایئے اس سے بڑھ کر اور کیا دھوکہ ہو گا کہ اقرار بیعت کو انکار بیعت بنا کر پیش کر دیا گیا اسے کہتے ہیں کہ جھوٹ وہ بول کہ سچ کو بھی مزا آجائے“۔
 (٢) قوم کو دھوکہ دینا اور آنکھوں پر پٹی باندھنے کی کوشش میں مصروف رہنا رافضی قوم کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے مذکورہ واقعہ
میں بھی اس فرض کی بجا آوری میں اپنی قوت کا بھر پور استعمال کیا ہے ورنہ ارباب علم جانتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دار فانی سے رحلت فرما جانا ایسا المناک واقعہ تھا جو قیامت صغری بن کر صحابه کرام (رض) پر ٹوٹ پڑا ایسے میں اگر صبر و استقامت کے ساتھ حالات پر قابو نہ پایا جاتا تو ارتدار و انکار زکوۃ وغیرہ جیسے بے شمار فتنے اسلامی قوت کو تر لقمہ کی طرح نگل چکے ہوتے مگر اللہ تعالی کی نصرت و امداد سے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف حالات کو قابو کیا بلکہ خلافت کے باب میں امت کا شیرازہ بکھرنے سے بجا طور پر بچا لیا۔ چنانچہ نبی سقیفہ میں اول بیعت ہوئی جس میں محدود لوگ شریک ہوئے پھر رفتہ رفتہ دور قریب کے لوگ وقتا فوقتاً بیعت کرتے رہے اب جو لوگ بنی سقیفہ کی بیعت میں شریک نہ ہوئے تھے ان کے بارے میں یہ اعلان داغ دینا کہ انہوں نے خلافت صدیقی کو تسلیم نہ کیا تھا پر لے درجہ کا جھوٹ اور دجل کی عدیم المثال داستان ہے۔

 (٣) حقیقی دستاویز و رد تحقیقی دستاویز کے مقدمہ کی بحث میں تفصیل کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ و دیگر حضرات کا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنا فریقین کی مسلمہ کتب سے ثابت کر چکے ہیں۔
قارئین و ہاں ملاحظہ فرمائیں۔ آخر میں دو شیعہ رہنماؤں کے اقتباسات قارئین کرام کی نظر کرتے ہیں۔

 نمبر (۱) جسٹس سید امیرعلی اپنی انگریزی کتاب میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت پر رقم طراز ہیں۔ عربوں میں کسی قوم کی سرداری اور سربراہی موروثی نہ تھی اس کا انحصار انتخاب پر ہوتا تھا عمومی حق رائے وہی کے اصول پر شدت سے عمل ہوتا تھا قبیلہ کے تمام افراد کی سردار کے انتخاب میں آواز ایک ہوتی تھی اس قدیم قانون کے مطابق جانشین پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتخاب میں بھی پابندی کی گئی چونکہ حالات کی نزاکت کسی تاخیر کی اجازت نہ دیتی تھی اس لئے ابوبکر جو اپنی عمر اور حیثیت و مرتبہ کی بنیاد پر جوان کو مکہ میں حاصل تھا اور وہ عربوں کے حساب و انداز میں بڑا مرتبہ رکھتے تھے بغیر کسی تاخیر کے خلیفہ یا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین منتخب ہو گئے ابوبکر اپنی دانشمندی اور اعتدال کی وجہ سے امتیاز خاص کے مالک تھے۔ ان کے انتخاب کو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت (بنو ہاشم نے اپنے روایتی خلوص اور اسلام سے وفاداری اور دلی وابستگی کی بنا پر تسلیم م کیا۔۔
 (جسٹس سید امیر علی بحوالہ خلفائے راشدین نے صفحہ ٩ الشیخ الاجل حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ ماضی قریب کے شیعہ راہنما ڈاکٹر موسیٰ الموسوی الشیعہ والتصحيح میں لکھتے ہیں:۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے وقت ارشاد فرمایا
بلاشبہ جن لوگوں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ در اور عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی انہیں لوگوں نے میری بیعت کی ہے اور اسی شرط پر
کی ہے جس پر ان کی بیعت کی تھی اس لئے کسی حاضر کو تر دد کا اور کسی غائب کو انکار کا حق نہیں ہے اور بلاشبہ مشورہ انصار و مہاجرین کا حق ہے اگر یہ حضرات کسی پر اتفاق کر لیں اور اسے امام بنا دیں تو یہ اللہ کی رضاء کی دلیل ہوگی اگر کوئی شخص ان پر طعنہ زنی کرے اور نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے ان کے احکامات سے روگردانی کرے تو ان کا حق ہے کہ مسلمانون کا راستہ چھوڑنے کے سبب اس سے جنگ کریں۔
 (التصحيح والشیعہ اردو ترجمه اصلاح شیعہ صفحہ ٣١ از نہج البلاغہ جلد ٣ صفحہ ٧) شیعہ رہنماؤں کے ان اقتباسات کے بعد تحقیقی دستاویز والوں کے اس اعتراض کی حثیت موری والے ٹکے کی بھی نہیں بچتی ۔ مزید وضاحت کیلئے عرض کیا جاتا ہے کہ مذکورہ کتابوں کی بنیاد پر جو الزام اہلسنت پر دھرا گیا وہ محض افترا اور دھوکہ کی ایک مثال ہے ورنہ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں ان کتابوں کے عکسی صفحات پر خلافت صدیقی پر بیعت کرنے کا ذکر ہے انکار کا نہیں ان عکسی صفحات پر خلافت صدیقی پر بیعت کرنے کا ذکر ھے نے انکار کا نہیں ان عکسی صفحات نے شیعہ قوم کی ناک کاٹنے کے سوا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔