شیعہ کی معتبر کتابوں سے کلمہ اہلسنت کا ثبوت
علامہ علی شیر حیدریشیعہ کی معتبر کتابوں سے کلمہ اہلسنت کا ثبوت
اسلام اور ایمان کی بنیاد کلمہ کی دو شہادتیں ہیں:
1۔ شیعوں کا رئیس المحدثین شیخ صدوق قمی لکھتا ہے:
اصل الايمان أنما هو الشهادتان فجعل شهادتين شهادتين كما جعله في سائر الحقوق شاهدين فاذا اقر العبد لله عز وجل بالوحدانية واقر للررسول اللہﷺ بالر سألة فقد أقر بجملة الايمان ، لان اصل الايمان انما هو بالله و برسوله۔
( من لا يحضره الفقيه جلد صحفہ 19ء باب الاذان والا قامت طبع ایران )
ترجمہ "ایمان کی بنیاد صرف دو شہادتیں ( دو گواہی) ہیں اس وجہ سے اذان میں بھی دو شہادتیں رکھی گئیں ہیں، جس طرح کہ تمام حقوق میں بھی دو دو گواہ ضروری ہیں، پس جب بندہ اللہ عزوجل کی وحدانیت اور رسول اللہﷺ کی رسالت کا اقرار کر لیتا ہے تو گویا وہ ایمان کی تمام باتوں کو مان لیتا ہے کیونکہ ایمان کی بنیاد اللہ اوراس کے رسول کے اقرار پر ہے۔"
2۔ "شیعوں کا شہید ثالث ، قاضی نور اللہ شوستری (م: 1019) لکھتا ہے:
اول آنکه اسلام منی است بر اصل شهادتین ، شهادت وحدانیت و شهادت رسالت ...... هریک از کلمات لا اله الا الله محمد رسول الله دوازده حرف است."
(مجالس المومنین جلد (صحفہ 20 ایران )
سب سے پہلے اسلام کا دارو مدار دو شہادتوں پر ہے۔
1۔توحید کی شہادت
2۔رسالت کی شہادت۔
دونوں میں سے ہر ایک شہادت میں بارہ بارہ کلمات ہیں۔
شیعوں کا علامہ شیخ علی بن عیسی اربلی (م 693ھ) لکھتا ہے :
"ان الايمان والاسلام مبنى على كلمتي لا اله الا الله محمد رسول الله"
*( کشف الغمه جلد 1 صفحہ 54 فی ذکر الامامة، مطبوعه ایران)*
ایمان اور اسلام کا دار و مدار دو باتوں یعنی لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدرسُولُ اللہ پر ہے۔"
برادرانِ اسلام : گذشتہ سطروں سے آپ کو معلوم ہوا کہ شیعوں کے بڑے بزرگ شیخ صدوق قمی نے بھی ایمان کی بنیاد صرف دو شہادتوں پر بتائی ہے، ایک لا اله الااللہ۔۔۔ دوسری مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله یعنی توحید اور رسالت کا اقرار۔
قاضی نور اللہ شوستری بن عیسی اربلی نے بھی انہی دوشہادتوں کو ایمان اور اسلام کی بنیاد اوراصل مدار قرار دیا ہے اور مسلمان مومنوں کا کلمہ یہی ہے۔