Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

امام اہلِ سنت عبدالشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

نام و نسب:
نام عبدالشکور اور والد ماجد کا نام مولوی حافظ ناظر علی ہے، اور فاروقی خاندان سے تعلق ہے اور اسی وجہ سے آپ کو فاروقی کہا جاتا ہے اور اکتیس (31) واسطوں کے بعد سلسلہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم و تربیت:
مولانا عبدالشکور رحمۃ اللہ لکھنو سے 11 کلومیٹر دور "اودھ" کے تاریخی اور مردم خیز قصبہ کاکوری ضلع لکھنو میں 23 ذی الحجہ 1293ھ بمطابق 1876ء میں بوقتِ صبح صادق مولوی حافظ ناظر علی رحمۃ اللہ کے گھر میں پیدا ہوئے، آپؒ کی پیدائش کی خوش خبری حضرت مولانا عبدالسلام ہنسوی صاحبؒ (المتوفیٰ 1881ھ) نے پہلے ہی آپ کے والد ماجد کو دے دی تھی، اور فرما دیا تھا کہ ان شاءاللہ تم کو ایک نیک فرزند عطا ہو گا جس سے تمہارے گھر میں خیر و برکت ہو گی، عقیقہ کے بعد حضرت شاہ صاحب ہنسویؒ نے اس بچہ پر توجہ باطنی بھی فرمائی اور کہا کہ بیج ڈال دیا گیا ہے اور ان شاءاللہ بارآور ہو گا، ان مبشرات کے ساتھ آپؒ کا بچپن گزرا۔
کم سنی کا زمانہ ختم ہوا اور سنِ شعور کو پہنچے تو والد ماجد نے اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ عبدالسلام صاحب رحمۃ اللہ سے آپ کی بسم اللہ کرائی، اس موقع پر حضرت شاہ صاحبؒ نے آپ کے لیے یہ دعا بھی فرمائی تھی کہ"خدا تعالیٰ بَرخوردارا از علومِ نافعہ بہرہ ورگرداند"۔
آپؒ کی ابتدائی تعلیم ضلع فتح پور میں ہوئی، قاعدہ بغدادی، پارہ عمَّ، اور فارسی کی چند ابتدائی کتابیں مولوی عبدالوہاب، ساکن ہنسوہ ضلع فتح پور سے پڑھیں، اس کے بعد فارسی کی باقی کتبِ درسیہ مولانا سید مظہر حسین، متوطن کوڑا جہان آباد، ضلع فتح پور سے پڑھیں، انہوں نے بڑی توجہ اور دلسوزی سے پڑھایا اور فارسی بولنے اور لکھنے کی مشق بھی کرائی۔
فارسی سے فراغت پانے کے بعد میزان، پنج گنج، وزبدہ وغیرہ بھی وہیں پڑھیں، دوسری کتابیں مولوی سید تعشق حسین صاحبؒ کوڑوی اور مولوی محمد یاسین خان صاحبؒ، ساکن گتنی، ضلع پرتاب گڑھ سے تحصیل کوڑا اور فتح پور میں پڑھیں، اس کے بعد کچھ کتابیں فصول اکبری، شرح جامی، قطبی میر تک، فقہ میں شرح وقایہ اولین و ہدایہ آخرین، اصولِ فقہ میں اصول الشاشی اور نورالانوار وغیرہ مختلف اساتذہ منجملہ مولانا سید مظہر حسین صاحبؒ سےضلع فتح پور اور دیگر مقامات میں پڑھیں۔
آپ کے والد ماجد کو یہ بڑی تمنا تھی کہ آپ کو مسندِ وقت علامہ ابوالحسنات، مولانا عبدالحئ فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ کی شاگردی میں دے دیں، مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا، چنانچہ 1310 ہجری بمطابق 1892ء میں جب آپؒ اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنو پہنچے تو اس وقت حضرت مولانا فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ وفات پا چکے تھے، لہٰذا اُن کے شاگرد رشید اور جان نشین حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحب رحمۃ اللہ کی خدمت میں آپؒ کی حاضری ہوئی۔
اس طرح آپؒ اپنے اصلی مربی و استادِ خصوصی مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ کے حلقۂ درس میں داخل کر دیئے گئے اس سلسلہ میں لکھنوی صاحبؒ خود تحریر فرماتے ہیں:
"اس وقت حضرت مرحوم نے پڑھانے کا سلسلہ بہت کم، بلکہ قریب قریب ترک کر دیا تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ اب دماغ بھی بہت ضعیف ہو گیا ہے اور طلبہ کی حالت دیکھ کر نہ مطالعہ میں محنت کرتے ہیں اور نہ ہی کتاب کو سمجھنے و یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لہٰذا پڑھانے کو دل نہیں چاہتا، اس جواب نے مجھے مایوس تو بہت کیا، مگر میں نے حاضری کا سلسلہ برابر قائم رکھا، تھوڑے دنوں کے بعد فرمایا کہ ایک صاحب نے علم الفرائض شروع کی ہے اگر آپ کا جی چاہے تو شریک ہو جائیں، چنانچہ میں نے شرکت شروع کر دی، دوسرے ہی دن جب آپ نے دیکھا کہ وہ صاحب جو اصل سبق پڑھنے والے تھے سبق یاد کرنے میں مجھ سے پیچھے رہ گئے تو آپ نے میری طرف خصوصی نظر التفات مبذول کی جو یوماً فیوماً بڑھتی گئی"۔
اس طرح مولانا عین القضاۃ صاحبؒ کی خدمت میں مسلسل سات سال تک آپ نے باضابطہ بقیہ علوم و فنون کی تکمیل فرمائی، آپ نے یہاں حسبِ ذیل کتبِ درسیہ پڑھیں، علم الفرائض، حمد اللہ، حواشی میر زاہد برملا جلال، رسالہ میر زاہد، قاضی مبارک، تحقیقاتِ مرضیہ، میبذی، شمسِ بازغہ، صدرا، میر زاہد، شرح شرح مواقف، خیالی مع حاشیہ عبدالکریم، مسلم الثبوت، ریاضی میں شرح الملخص للعلامہ چغمینی اور اقلیدس، حدیث میں مشکوٰۃ، سنن ترمذی، اور صحیح بخاری اور اصولِ حدیث میں شرح نخبۃ الفکر وغیرہ، ان ساری کتابوں میں سوائے ترمذی اور شمسِ بازغہ کے ساری کتابوں کی اول سے آخر تک استاد کے سامنے خود قرأت کرتے تھے۔
استاد محترم کا قاعدہ یہ تھا کہ جو طالب علم غلط عبارت پڑھتا، یا صرف و نحو میں اس کی استعداد اچھی نہ ہوتی تو اس کو قرأت کی اجازت نہ دیتے تھے، چوں کہ لکھنوی صاحبؒ شروع ہی سے ذہین اور محنتی تھے اور علمی استعداد بھی پختہ تھی اس لیے اپنے معاصرین اور ہم سبقوں میں قرأت کا شرف بھی انہیں کو حاصل ہوتا رہا، اور مولانا سید عین القضاۃؒ سے پڑھنے کا سلسلہ 1317ھ میں ختم ہوا اور آپؒ مکمل طور پر فارغ التحصیل ہو گئے۔
مندرجہ بالا بیان سے یہ بات متعین ہو گئی کہ مولانا کو حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ کے ذریعے سے بہ یک واسطہ، استاذ الاساتذہ، مولانا عبدالحئ فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ سے تلمذ کا فخر حاصل تھا اور مولانا فرنگی محلیؒ کو بہ طرق کثیرہ شاہ عبدالغنی محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ اور شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ سے شرفِ استناد حاصل تھا، حضرت کو اس سلسلۃ الذہب کے علاوہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے بھی بہ یک واسطہ رشتہ شاگردی حاصل تھا۔
اس کے علاوہ آپؒ نے علمِ طب میں حکیم عبدالولی صاحبؒ سے جو (مولانا عبدالحئ فرنگی محلیؒ اور سید عین القضاۃ صاحبؒ کےانتہائی معتقدین میں سے تھے) طب کی تعلیم حاصل کی۔
آپ بچپن سے حافظِ قرآن نہ تھے، بلکہ تحریکِ مدح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دنوں میں جب بار بار آپ کو جیل جانا پڑا تو ان دنوں میں آپ نے جیل کی تنہائیوں کو ایک غنیمت موقع جان کر حفظِ قرآن کی دولت حاصل کر لی۔
درس و تدریس:
درس و تدریس کا آغاز آپ نے سب سے پہلے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے کیا، حضرت مولانا محمد علی مونگیری صاحب رحمۃ اللہ اس وقت ناظم تھے، انہی کی خواہش پر آپ نے بحیثیتِ مدرس کام کرنا قبول کیا تھا، مولانا سید سلیمان ندوی صاحبؒ اس دور میں وہاں طالب علم تھے، کم و بیش ایک سال کی تدریس کے بعد آپ نے وہاں سے از خود استعفیٰ دے کے سبک دوشی حاصل کر لی۔
1904ء سے 1915ء تک آپ اپنے استاد محترم مولانا عین القضاۃ صاحبؒ کے مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنو سے وابستہ رہے اور اس وقت سے لے کر 1909ء تک آپ اپنے استاد علیہ الرحمۃ کے ساتھ معاون مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے، 1909ء سے 1911ء تک آپؒ نے مدرس عربی و فارسی کی حیثیت سے بھی کام کیا، مدرسہ کی زیادہ تر ذمہ داری آپؒ ہی کے سپرد تھی ، 1921ء سے 1923ء تک مدرسہ عالیہ عربیہ امروہہ کے آپؒ صدرِ مدرس رہے۔
تصنیف و تالیف و دیگر دینی خدمات:
مولانا لکھنوی صاحبؒ کو تصنیف و تالیف سے مناسبت بچپن ہی سے تھی چنانچہ زمانہ طالب علمی ہی میں آپؒ نے لکھنو کے مشہور مجتہد، مولوی حامد حسین کی کتاب "استقصاء الافہام" کے بعض حصوں
کے جواب میں ایک رسالہ فارسی میں"انتصار الاسلام بجواب استقصاء الافہام" تحریر کیا تھا۔
اپنے اسی فطری ذوق کی بناء پر آپ نے 1899ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد فوراً تدریسی مشاغل کے ساتھ ساتھ ایک ماہوار علمی رسالہ "علم الفقہ" کے نام سے لکھنو میں جاری کیا، جو پورے چھے سال تک پابندی سے نکلتا رہا، یہ رسالہ خالص فقہی مضامین پر مشتمل ہوتا تھا۔
ماہنامہ النجم کا اجراء:
1904ء میں شیعوں کی طرف سے لکھنو میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی مذموم کوششیں ہونے لگیں، شیعہ واعظ مقبول دہلوی کی شعلہ فشانیوں اور مناظرے کے چیلنج نے ہر طرف کشیدگی پیدا کر دی تھی اور ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ اخبارات و رسائل نے مذہبی چھیڑ چھاڑ کا بازار گرم کر رکھا تھا، اہلِ سنت عقائد کی تردید اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر (العیاذ باللہ) کھل کر تبرّا کیا جاتا تھا۔
ان حالات میں مولانا لکھنوی صاحبؒ نے مسلمان عوام کو گمراہی، شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے سے بچانے اور رفض کی تردید میں 7 رمضان المبارک 1322ھ بمطابق 26 اکتوبر 1904ء کو "النجم" کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار لکھنو سے جاری کیا، اور یہ اخبار کم و بیش 33 سال تک شائع ہوتا رہا، اور مولانا لکھنوی صاحبؒ کی جتنی تصانیف، تراجم، و تالیفات ہیں وہ سب "النجم" کے ذریعے ہی منصۂ شہود پر آئیں ہیں۔
النجم نے بہت سارے خاص نمبر شائع کیے، جن میں سے چند یہ ہیں: خلافت نمبر، رسالت نمبر، عاشوراء نمبر، خاتون نمبر، صحابہ نمبر، ذبیح اللہ نمبر، شہداء نمبر، ہجرت نمبر، مدح صحابہ نمبر، ناموسِ اسلام نمبر، احتجاج نمبر، امامت نمبر، استقلال نمبر، تحریک نمبر، کربلا نمبر، عتیق نمبر، کمیشن نمبر۔
النجم مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کے علمی و مذہبی برکات و فیوض کا مجموعہ و ترجمان ہے اور ہندوستان بھر میں صرف یہی ایک جریدہ ہے کہ جو دشمنانِ اسلام کے مقابلہ میں سینہ سپر بنا ہوا ہے کہ جس کی تجلی نے عالمِ تشیع پر ایک عام بجلی گرا رکھی ہے، ہم افراد و قوم سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مجلہ کی توسیع و اشاعت میں ہر ممکن سعی سے دریغ نہ فرمائیں۔
دارالمبلغین کا قیام:
لکھنو شہر کے مخصوص سنی شیعہ حالات کے پیشِ نظر وہاں کے عمائدین کے اصرار پر 2 ذیقعدہ 1351ھ کو بمطابق 1932ء میں "دارالمبلغین" کے نام سے ایک دینی ادارہ قیامِ عمل میں لایا، تاکہ اسلام کی تبلیغ کے ساتھ مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کے عقائد حقہ کی نشر و اشاعت اور فرقِ باطلہ کے الزامات کی تردید بھی خصوصی طور پر کی جائے، تاحیات آپؒ نے اس ادارے کا انتظام و انصرام بڑے اہتمام سے کیا۔
علامہ لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کے مشہور تلامذہ و شاگرد:
ویسے تو لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کے تلامذہ کی ایک لمبی فہرست ہے ہم یہاں ان میں سے چند کا نام ذکر کرتے ہیں، مولانا عبدالسلام فاروقیؒ، مولانا عبدالرحیم فاروقی صاحبؒ، صاحبزادگان، مولانا مصطفیٰ حسن صاحبؒ، رکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند، و استاد عربی لکھنو یونیورسٹی، مولانا مغیث الدین الہ آبادیؒ، مولانا عبدالحق صاحب بلیاویؒ، مولانا عبدالحق خان صاحبؒ فتح پوری، مؤلف اشرف السوانح، مولانا محمد اسباط صاحبؒ استاد مدرسہ عالیہ فرقانیہ، لکھنو، مولانا انصارالحق امروہیؒ، مولانا عبدالسلام زید پوریؒ، مولانا محمد یحیٰ صاحب مبارکپوریؒ، وغیرہ۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے آپؒ کے تلامذہ جنہوں نے آپؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، مولانا عبدالستار تونسوی صاحبؒ، مشہور مناظر و رافضیت، مولانا سید نورالحسن بخاری صاحبؒ، مولانا احمد حسین بخاری صاحبؒ، مولانا لال حسین اختر صاحبؒ، مشہور مناظر ختمِ نبوت، مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحبؒ برادرِ اصغر مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ، مولانا اللہ یار خان صاحبؒ، مولانا مجید الدین اثری زبیری صاحبؒ، وغیرہ ۔
بیعت و ارشاد:
حضرت لکھنوی صاحبؒ اوائل عمر ہی سے نقشبندی سلسلہ کے مختلف بزرگوں سے منسلک رہے، جن میں مولانا عبدالسلام ہنسوی رحمۃ اللہ، مولانا عین القضاۃؒ، مولانا شاہ ابو الخیر دہلویؒ، اور اپنے والد مولانا ناظر علی صاحبؒ اور 1921ء میں خانقاہ عالی جاہ مجددیہ میں حضرت مولانا شاہ ابو احمد صاحب بھوپالؒ سے بیعت کی سعادت حاصل کی۔
حضرت لکھنوی رحمۃ اللہ اپنے شیخ سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے، ان کا حددرجہ ادب و احترام کیا کرتے تھے، کاکوری کے ایک سفر میں حضرت لکھنوی صاحبؒ کو خلافت و اجازت بھی عطا فرمائی، حضرت لکھنوی صاحبؒ سلسسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے بزرگوں کے مقرر کردہ وظائف و اوراد کے پابند رہے اور اپنے متوسلین کو بھی ان کی پابندی کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
تحریکِ مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:
لکھنو کے مخصوص شیعہ سنی ماحول میں مقبول دہلوی شیعی کی آمد نے مزید گرمائش پیدا کر دی تھی، مجلس عزاء میں اعلانیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرا کیا جاتا تھا، العیاذ باللہ ازواجِ مطہراتؓ پر طرح طرح کی بے بنیاد تہمتیں تراشی جاتی تھی، مقبول دہلوی کے علاوہ معروف شیعہ علماء بھی لکھنو میں شیعہ سنی منافرت پھیلانے میں پیش پیش تھے، جن میں مولوی ناصر حسین مجتہد، مولوی نجم الحسن مجتہد، مولوی مہدی حسین مجتہد، ڈپٹی راحت علی، مرزا محمد عباس، حکیم نذیر حسین، وکیل شہنشاہ حسین، بیرسٹر یوسف حسین اور راجہ علی محمد آف محمود آباد وغیرہ قابلِ ذکر ہیں، جو شیعوں کی مذہبی زندگی کے محرک تھے۔
حضرت مولانا لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی لکھنو آمد اور امامِ اہلِ سنت کا خطاب:
جب لکھنو میں حالات بہت زیادہ کشیدہ ہونے لگے، اور اہلِ سنت کو آئے دن مذہبی اعتبار سے تنگ کیا جانے لگا تو اس وقت علماء کے سرخیل مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ جو علامہ ابو الحسنات عبدالحئ لکھنوی صاحبؒ کے جانشین تھے، آپؒ نے اہلِ سنت کی طرف سے مدافعت کا بیڑہ اٹھایا اور علمائے وقت کو اس نازک مسئلہ کی طرف متوجہ کیا اور ہر طرح سے اہلِ سنت کے معتقدات و مفادات کی حفاظت پر کمر بستہ ہو گئے۔
جب آپؒ نے دیکھا کہ یہ معاملات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور فریقِ مخالف کی طرف سے برابر مناظروں کا چیلنج دیا جانے لگا ہے، تو آپؒ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کو دہلی سے لکھنو بلایا جائے اور ان کو سنیوں کی طرف سے مناظروں کی جواب دہی کے لیے آمادہ کیا جائے، اس وقت لکھنوی صاحبؒ دہلی میں مرزا حیرت کے مطبع میں بحیثیتِ مصنف و مؤلف کام کر رہے تھے۔
جس وقت مولانا عین القضاۃ صاحبؒ نے حضرت لکھنوی صاحبؒ کو لکھنو آنے کی دعوت دی اس وقت بعض معاصرین نے استاد محترم سے کہا کہ ہم خدّام تو ہر حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہیں لہٰذا دہلی سے مولانا عبدالشکور صاحبؒ کو بلانے کی کیا ضرورت ہے؟مولانا اس پر سخت چیں بہ جبیں ہوئے اور فرمایا:
"ہاں میں نے اسی کام کے لیے انہیں بلایا ہے، وہ اس معاملہ میں ہم اہلِ سنت کے امام ہیں"۔
مولانا کا یہی جملہ مستقبل میں ایک تاریخی حیثیت بن گیا اور برِصغیر کے تمام علماء، عوام و خواص نے آپ کو امامِ اہلِِ سنت کا لقب دے دیا، آج آپ کو اسی لقب کے ساتھ لکھا پڑھا جاتا ہے۔
شیعوں کی دل آزار حرکتیں:
مقبول شیعی کی دیکھا دیکھی دوسرے شیعہ واعظین بھی مسلسل اشتعال انگیزیاں پھیلانے لگے، ان کی دل آزار و مذموم حرکتیں تو زیادہ ہیں، بطورِ مثال درج ذیل حرکتیں باعثِ عبرت ہیں، جو تقریباً کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہیں اور ملک پاکستان میں بھی ہو رہی ہیں۔
1: "صحبت قدیمانہ" کے عنوان سے شہر بھر میں تبرائی مجالس منعقد کرتے، جس میں سوائے خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اجمعین پر العیاذ باللہ تبرا کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔
2: "بزمِ فیروزی" کے نام سے ملعون مجوسی قاتل سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مدح و تعریف اور اس واقعہ شہادت کی یاد تازہ کرنے کے لیے محفلیں منعقد کی جاتی تھیں۔
3: سنیوں کو مزید اشتعال دلانے کے لیے آذان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام اور "خلیفتہ النبی بلا فصل" کے بے اصل جملوں کا اضافہ کیا، جو کہ خود بتصریح کتبِ شیعہ آذان کا جزو نہیں۔
4: مزید برآں "عیدِ غدیر" کو جوش و خروش کے ساتھ علی الاعلان منایا جانے لگا۔
5: شیعہ شعراء خاص کر میاں شیر لکھنوی وغیرہ نے اشعار کے ذریعہ اکابر اہلِ سنت اور بزرگانِ دین کا مضحکہ اڑانا شروع کر دیا، اس کے لیے نہایت رکیک اور فحش اور تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کر کے اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے لگے۔
6: "انجمنِ امامیہ" کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور سنی و شیعہ علیحدگی پر مستقل قوانین وضع کیے اور حکام سے نافذ بھی کروا دیا۔
اس طرح کے قوانین کے نفاذ پر سنیوں نے 13 فروری 1908ء کو احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں حکام نے تبرائی جلوسوں پر پابندی لگا دی، شیعوں نے 1908ء ہی میں انگریز حکام کو درخواست دی کہ سنیوں کے "مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم" پر بھی پابندی عائد کر دی جائے، جو فی الوقت تو بے اثر ہو گئی، لیکن اہلِ سنت کو یقین ہو گیا کہ ان کے مذہبی معاملات میں بے جا دخل اندازی کی جا رہی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے دفاع کے لیے سوچنا شروع کیا، یوں انتہائی مجبوری و اضطرار کی حالت میں تحریکِ مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آغاز ہوا اور مسلسل 36 سال تک یہ تحریک چلی، جس میں حکومت کی طرف سے کئی کمیشن اور کمیٹیاں بھی بنائی گئیں، لیکن حالات سدھرنے کے بجائے مزید بگڑنے لگے، بالآخر سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی۔
ہندوستان بھر کے اہلِ سنت علماء کی کانفرنس بلائی گئی، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، ناظم جمیعت علمائے ہند، امامِ اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب، سید سلیمان ندوی صاحبؒ، مولوی سید علی حسن صاحب، مولانا عبدالرحیم فاروقی صاحب، ظفرالملک علوی صاحب رحمہم اللہ، وغیرہ حضرات نے شرکت فرمائی، اور قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ نے اپنے تحریری بیان کے ذریعہ سے تحریکِ مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تائید فرمائی۔
اس تحریک کےدوران حضرت لکھنوی صاحبؒ اور ان کے رفقاء کار کو کئی دفعہ پابندِ سلاسل اور پسِ دیوارِ زنداں بھی جانا پڑا، مگر انہوں نے اسلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خاطر یہ سب کچھ بخوشی قبول کر لیا۔
اسی تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا ہوئی، انہیں اپنے عقائد معلوم ہوئے، اور مخالفینِ اسلام و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سازشوں سے واقفیت ہوئی اور ان کے سدّباب کی کوششوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔
مناظرے و مباحثے:
اسلام ایک دعوتی مذہب ہے، دعوت کے دوران داعی کو کبھی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کو سمجھانے، یا ان کے شکوک و شبہات اور دینِ برحق پر ان کے اعتراضات کے دفاع کے لیے داعی کو مناظرہ و مباحثہ، علمی مدافعت سے بھی کام لینا پڑتا ہے، انیسویں صدی میں ہندوستان میں عیسائیوں سے تو مناظروں و مباحثوں کا بازار گرم تھا ہی، اس کے ساتھ ساتھ اہلِ تشیع و اہلِ بدعت سے بھی مناظروں کی نوبت آ گئی تھی۔
چنانچہ لکھنو میں 1894ء میں شیعوں کے ساتھ پہلا مناظرہ ہوا، اس وقت مولانا عبدالشکور صاحبؒ طالب علم تھے، مولانا عین القضاۃ صاحبؒ کے ساتھ آپؒ معاون خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔
اور دوسرا مناظرہ لکھنو ہی میں 1908ء میں اور تیسرا مناظرہ مولوی سجاد لکھنوی سے 1910ء میں لکھنو میں ہوا، جن میں امامِ اہلِ سنت نے مدِ مقابل کو واضح اور یقینی شکست سے دو چار کیا۔
ردِّ روافض کے سلسلے میں 1913ء ضلع سیوان (بہار) کا پہلا سفر اور 1916ء میں ضلع سیوان کا دوسرا سفر کیا، اور 1916ء میں ہی مناظرہ بمبئ، اور 1918ء میں مناظرہ چکوال، ضلع جہلم پنجاب، 1920ء میں مناظرہ مکیریان ضلع ہوشیار پور، 1920ء میں مناظرہ امروہہ ضلع مراد آباد، 1922ء میں مناظرہ بشیر کوٹ ضلع چوبیس پرگنہ (مغربی بنگال)، 1923ء میں مناظرہ کولو تارڑ، ضلع گوجرانوالہ، 1930ء میں مناظرہ منٹمگری ساہیوال کا مناظرہ ہوا، جن میں امامِ اہلِ سنت نے مدِ مقابل کو شرمناک اور ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا۔
اس کےعلاوہ امامِ اہلِ سنت نے اہلِ بدعت، قادیانیوں، آریہ سماج، غیرمقلدین، عیسائیوں اور دیگر کئی گمراہ فرقوں اور ادیانِ باطلہ سے بھی مناظرے و مباحثے کیے اور اہلِ حق کی ترجمانی کے فرائض انجام دیئے۔
تصنیفات و تالیفات:
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مولاناؒ کو شروع ہی سے تصنیف و تالیف کے کام سے بے حد لگاؤ اور شوق تھا، اسی وجہ سے مولاناؒ کی تالیفات بھی بہت زیادہ ہے، یہاں ہم صرف ان کے ناموں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔
قرآن کریم:
ترجمۃ القرآن، مسلک المرجان فی مصادر القرآن، مقدمہ تفسیر آیات خلافت و امامت، تفسیر آیاتِ قرآنیہ، قرآن کریم کی وہ آیات کریمہ جن کا آپ نے مخصوص انداز میں ترجمہ و تفسیر فرمایا ہے وہ درج ذیل ہیں:
تفسیر آیتِ استخلاف، تفسیر آیاتِ حفاظتِ قرآن، تفسیر آیتِ تطہیر، تفسیر آیاتِ میراث، تفسیر آیتِ قتالِ مرتدین، تفسیر آیتِ ولایت، تفسیر آیتِ تمکین، تفسیر آیتِ دعوتِ اعراب، تفسیر آیتِ مباہلہ، تفسیر آیتِ اولی الامر، تفسیر آیاتِ ملک طالوت، تفسیر آیاتِ اظہارِ دین، تفسیر آیاتِ مدحِ مہاجرین، تفسیر آیتِ تبلیغ، تفسیر آیاتِ امامت، تفسیر آیاتِ مذمتِ منافقین، تفسیر آیاتِ متفرقہ، تفسیر آیتِ معیت، تفسیر آیتِ رضوان وغیرہ۔
سیرتِ نبویہ علیٰ صاحبہا الف الف سلام و تحیہ:
تحفۃ الانصاف لصاحب الاختلاف فی تفسیر آیۃ الاستخلاف، رسالہ ہدایت بجواب "غوایت" مختصر سیرتِ قدسیہ، سیرت الحبیب الشفیع من الکتاب العزیز الرفیع، نفحہ عنبریہ بذکرِ میلاد خیر البریہ، اردو ترجمہ شمائلِ ترمذی، اردو ترجمہ چہل حدیث للامام شیخ احمد سرہندی۔
فقہ و عقائد:
علم الفقہ (6 جلدوں میں)، اردو ترجمہ فقہ اکبر، وصّاف اردو ترجمہ "الانصاف"۔
فضائل و مناقب اور سیر و سوانح:
سیرتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم، اول المؤمنین، اردو ترجمہ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، تنویر الایمان اردو ترجمہ تطہیر الجنان، کراماتِ
موسویہ، الخطبۃ الشوقیۃ فی حضرۃ المجددیہ، اردو ترجمہ تاریخ طبری، شجرہ طیبہ، راحۃ القلوب بذکر المحبوب۔
تائیدِ حق:
ابو الائمہ کی تعلیمات، اردو ترجمہ ازالۃ الخفاء، بنامِ کشف الغطاء عن السنۃ البیضاء، افاضۃ العینین علیٰ شہادۃ الحسین ملقب بہ تحقیقی شہادت نامہ، احیاء المیت فی تحقیق الآل و اہل البیت، باقیات صالحات فارسی ترجمہ آیات بینات، مدحِ صحابہؓ کی مخالفت میں آیت قرآنی سے غلط استدلال اور اس کا جواب، مدحِ صحابہؓ شیعوں کی معتبر کتابوں سے، ارشاد الامم بجواب "مصباح الظلم"، قاطع اللسان بجواب "دافع البہتان، نصرۃ الشریعہ شرح "نصیحۃ الشیعہ" ،ترجمہ و تحشیہ "تحفہ اثناء عشریہ"، عقلِ سلیم اور صراطِ مستقیم، ائمہ اثناء عشریہ اور ان کا مذہب، القول الصواب۔
تردیدِ شیعت:
حرمتِ متعہ کا ثبوت آیاتِ قرآنیہ سے، کشف الاسرار (استبصار کا ترجمہ اور تنقید)، کشف اللفافہ لاظہار ما فی النبوۃ و الخلافہ، معجزۃ القرآن، نصرۃ القرآن، قاتلانِ حسین کی خانہ تلاشی، قصہ قرطاس کا مختتم فیصلہ، تنبیہ الحائرین بحمایۃ الکتاب المبین، تفضیح الجائرین (تکملہ تنبیہ الحائرین)، انتصار الاسلام برد استقصاء الافحام، مولوی حسین بدایونی کا جواب، مناظرہ اور اظہارِ حق (9جلدوں میں)۔
مخالفین اہلِ سنت کے دو سو مسائل:
(الاول من المأتین) اقامۃ البرہان علیٰ انّ الشیعۃ اعداء القرآن (حصہ اول)، قطع الوتین من الذی یستبدل الشک بالیقین (حصہ دوم)، نہایت الخسران لمن ترک القرآن (حصہ سوم)، اجوبۃ المتحرفین فی ترک الکتاب المبین (حصہ چہارم)۔
(الثانی من المأتین) تحذیر المسلمین عن خداع الکاذبین (حصہ اول)، الحجۃ القویہ بذکر مواقع التقیہ (حصہ دوم)، التحفۃ البہیۃ فی نتائج التقیۃ (حصہ سوم)۔ (الثالث من الماتین) مسئلہ بداء کی تحقیق، الرابع من الماتین شرح حدیث ثقلین، الخامس من الماتین شرح مسئلہ امامت، تین حصوں پر مشتمل ہے، مقدمہ جائس، النصرۃ الغیبیۃ علی الفرقۃ الشیعیہ۔
ردِ قادیانیت و بدعت:
اردو ترجمہ ازاحۃ العیب عن مبحث علم الغیب، رفع النزاع عما یتعلق بالسماع، صداقت کا نشان بجواب نبی کی پہچان، ہدایت اہلِ امریکہ القول الاحکم، نبوت کی ضرورت، تحفہ محمدیہ۔
کتاب الصلوٰۃ، تحفۃ الاسلام لجمیع الاقوام، ان کے علاوہ 20 کے قریب مناظرے و مباحثے بھی ہیں جو مختلف عنوانات سے مطبوع ہو چکے ہیں۔
فقہی جامعیت، افکار و نظریات:
مولانا لکھنوی صاحبؒ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عبدالحئ فرنگی محلی اور فقیہ النفس، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہما اللہ کے بہ یک واسطہ شاگرد تھے اور استاذ الوقت مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ کے براہِ راست شاگرد تھے، اس لیے ان کا وہی فقہی مسلک تھا جو ان علماء کا تھا، اسی طرح لکھنوی صاحب مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری صاحب رحمہمااللہ کے بھی معتمدین میں سے تھے، مزید برآں قدیم ہندی علماء میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ کے فقہی خیالات سے بھی متاثر تھے، چنانچہ وہ حنفی المسلک اور مقلد تھے، "تقلید" کے جواز میں انہوں نے ایک رسالہ "دُرفرید" کے نام سے لکھا تھا جو اب ناپید ہو چکا ہے، النجم میں ایک موقع پر لکھنوی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:
"ہندوستان میں بالخصوص امامنا الاعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی تقلید اہم واجبات میں سے ہے"۔
البتہ بعض مسائل میں آپ کی رائے دیگر علماء سے ہٹ کر ہے۔
تردیدِ شیعت:
لکھنو کے مخصوص حالات اور وہاں مقبول شیعی کی آمد اور شیعہ ذاکرین کی شر انگیزیوں کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے، جن سے مجبور ہو کر علمائے اہلِ سنت نے مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کو لکھنو میں قیام اور ردِ رافضیت پر کام کی دعوت دی تھی، لکھنو آ کر لکھنوی صاحبؒ نے اس کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تھا، جہاں کہیں سن لیتے کہ وہاں اہلِ سنت کو تنگ کیا جا رہا ہے، یا جہاں کہیں بھی مناظرہ کے چیلنج دیئے جاتے تو مولانا لکھنوی صاحبؒ فوراً وہاں پہنچ جاتے تھے۔
مولانا لکھنوی صاحبؒ نے تقریباً اہلِ سنت اور روافض کے درمیان تمام نزاعی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، اور جس موضوع پر لکھنوی صاحبؒ قلم اٹھاتے ہیں تو اس موضوع کا حق ادا کر دیتے ہیں، چنانچہ یہ بات جب ان کی تصانیف میں دیکھی جائے تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے، اور مولانا لکھنوی صاحبؒ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ فریقِ مخالف کو عام طور سے انہی کے مذہب کی کتابوں سے غلط ثابت کرتے تھے۔
ردِ شیعت میں آپؒ کا تحقیقی کام اس سلسلہ کے اور دوسرے موضوعات کے علاوہ خاص طور سے ان کے "عقیدہ تحریفِ قرآن" اور "عقیدہ امامت" پر ہے، ان دونوں بنیادی عقائد پرجس شرح و بسط کے ساتھ آپؒ نے تحریری و تقریری بحث کی ہے وہ آپ کا خاصہ ہے اور ان ہی دونوں عقائد کے بنیاد پر آپؒ نے اس فرقہ کے بارے میں حتمی فیصلہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ شیعت ایک مستقل دین ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ جس کا ایمان اس موجودہ قرآن مجید پر نہ ہو اور جو حضرت نبی کریمﷺ کی نبوت کے متوازی "عقیدہ امامت" کو مانتا ہو اس کا تعلق اسلام سے کچھ نہیں ہو سکتا۔
لکھنوی صاحبؒ کے نزدیک شیعہ موجودہ قرآن مجید کو محرّف مانتے ہیں اس لیے ان کا ایمان قرآن مجید پر نہیں ہو سکتا اور جب قرآن مجید پر سے ایمان اٹھ گیا تو پھر اسلام سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہ سکتا، بس یہی سے ہماری اور ان کی راہ الگ ہو جاتی ہے، اس مسئلہ کی بنیاد پر مولانا فرماتے ہیں:
"اس مسئلہ نے اب دوسرے مسائل میں شیعوں سے بحث کرنے کی حاجت نہیں رکھی، اب نہ شیعوں سے "مطاعنِ صحابہؓ" کی بابت بحث کرنے کی حاجت، نہ مسئلہ "امامت و خلافت" پر بحث کرنے کی ضرورت، نہ توہینِ انبیاء علیہ السلام میں ان سے الجھنے کی ضرورت، اور نہ متعہ و زنا و شراب خوری و تقیہ وغیرہ پر ردّ و کد کی حاجت (باقی رہی) جب ان کا ایمان ہی قرآن شریف پر نہیں ہے تو ان مباحث سے ان کا کیا تعلق ہے۔
لیکن پھر بھی لکھنوی صاحبؒ کا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ رفض کی تکفیر کی بنیاد عقیدہ تحریفِ قرآن ہے اور اس پر ان کی جو تحقیق ہے وہ اس تحقیق میں تمام امت سے ممتاز ہیں اور تحقیق بھی ایسی کہ باوجود دنیائے شیعت کے بڑے بڑے مجتہدین کو چیلنج دینے کہ وہ اس کا رد پیش نہ کر سکے اور نہ کبھی کر سکتے ہیں اور لکھنوی صاحبؒ نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاں تحریفِ قرآن کی روایتیں متواتر ہیں، غرض لکھنوی صاحبؒ کی تحقیق کے مطابق ان کے کفر کی بنیاد عقیدہ تحریفِ قرآن ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں "تنبیہ الحائرین"۔
عبادت و ریاضت:
مولانا لکھنوی صاحبؒ انتہائی درجہ کے متبع سنت بزرگ تھے، آپؒ کے شب و روز سنتِ نبوی کے آئینہ دار تھے، اپنے اعمال و معمولات میں اخفا کا اہتمام کیا کرتے تھے، زہد و قناعت میں اسلاف کے پر تو تھے، رمضان المبارک میں اکابر و اسلاف کی طرح آپؒ کے یہاں بھی اعمالِ خیر اور تلاوت، دعا، نوافل، ختم خواجگان، درسِ قرآن و حدیث وغیرہ کا خوب اہتمام ہوا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو سات مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت عطا فرمائی۔
وفات:
1381ھ بمطابق 1962ء میں دارالمبلغین کے بالائی حصہ سے اترتے ہوئے گر گئے جس سے علالت کا آغاز ہوا، پھر یہی علالت آگے چل کر مرض الموت میں تبدیل ہو گئی، بالآخر 17 ذیقعدہ 1381ھ بمطابق 1962ء بروز دوشنبہ بعد نمازِ عصر 6 بج کر بیس منٹ پر روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ نے غسل دیا، صاحبزادگان اور دیگر علماء نے معاونت کی، بلامبالغہ جنازہ میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی، نمازِ جنازہ حضرت کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالسلام فاروقی صاحبؒ نے پڑھائی، اور مرزا چپ شاہ میاں کے احاطہ میں تدفین عمل میں لائی گئی۔
امامِ اہلِ سنت اپنے معاصر علماء کی نظر میں:
مولانا حکیم سید عبدالحئ حسنیؒ (صاحب نزہۃ الخواطر) سابق ناظم ندوۃ العلماء لکھنو (المتوفیٰ 1923ء) لکھتے ہیں:
"شیخ (وقت)، فقیہ و عالم (مولانا) عبدالشکور ابنِ ناظر علی بن فضل علی کاکوریؒ مشہور علماء میں سے ہیں"، آگے لکھتے ہیں:
"اس طرح انہوں نے شیعوں کے عقائد ان کے خیالات اور ان تمام چیزوں سے جن کو ان لوگوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں درج کر رکھا تھا پردہ ہٹایا، جن سے اخصّ الخواص حضرات کے سوا عوام اور عام علماء ناواقف تھے، اس لیے وہ ہند اور بیرونِ ہند میں اس خاص علم میں یکتائے روزگار اور امام وقت تسلیم کر لیے گئے، اس موضوعِ خاص میں ان کے معاصرین علماء میں کوئی بھی ان کا مدِ مقابل اور ہم پلہ نہیں ہو سکا، سوائے اس کے کہ جس کا علم اللہ ہی کو ہے"، آگے لکھتے ہیں:
"ان سب باتوں کے باوجو انہیں تقویٰ و پرہیز گاری، تواضع و انکساری، اصلاحِ نفس، ترک تکلف، وگوشہ نشینی، مداومت گریہ زاری، زہد و توکل، اور ذکر و مراقبہ کی بھی دولت حاصل تھی"۔
مفتی اعظم ہند، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ (المتوفیٰ 1953ء) سابق صدر جمیعۃ علماء ہند لکھتے ہیں:
"جامع المعقول والمنقول وحاوی الاصول والفروع حضرت مولانا محمد عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ مدیر النجم علماء احناف اہلِ سنت والجماعت میں ایک متبحر اور مقدس عالم ہیں، مذاہبِ باطلہ خصوصاً شیعوں کے مقابل میں مولانا موصوفؒ کی خدمات قابلِ قدر و تحسین ہیں، حضرت مولانا اس کے مستحق ہیں کہ مذاہبِ باطلہ کے مقابلے میں اہلِ اسلام ان کو اپنا نمائندہ منتخب کریں، مولانا عبدالشکور صاحبؒ اس دور کے شاہ عبدالعزیز ہیں"۔
محدثِ جلیل، ابو المآثر حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اعظمی رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1992ء) لکھتے ہیں: سالہائے
"میں نے امامِ اہلِ سنت کو دراز تک ہزاروں مجلسوں میں، سینکڑوں جلسوں میں، سفر میں، حضر میں، اور اپنے گھر میں بھی، درس دیتے ہوئے بھی، وعظ فرماتے ہوئے بھی، اور نماز پڑھتے ہوئے بھی، سوتے ہوئے بھی، جاگتے ہوئے بھی، ریل میں بھی اور پانی کے جہاز میں بھی، ہندوستان میں بھی اور مکہ و مدینہ اور عرفات و منیٰ میں بھی، مولانا اسباطؒ کو سبق پڑھاتے ہوئے بھی، عبدالغنی کو کھلاتے ہوئے بھی، اور مولانا عبدالرحیم صاحب کو ڈانٹتے ہوئے بھی، غرض ہر رنگ اور ہر حال میں بہت ہی نزدیک سے دیکھا ہے، ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین و ائمہ دین، علماء و مشائخ، صوفیا اور فقہاء و محدثین کے تذکرہ اور حالات خوب پڑھ کر اور وسیع مطالعہ کر کے امامِ اہلِ سنت کی کتابِ زندگی کا مطالعہ میں نے اپنی آنکھوں سے پوری بصیرت کے ساتھ کیا ہے، اس کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ امامِ اہلِ سنت، مرد باصفا و حق آگاہ، ہم رنگ کاملین و اہل اللہ، عالم باعمل کے صحیح مصداق، علومِ االہٰیہ و عالیہ میں فرد و طاق، صاحبِ بصیرت، فقیہ اور نکتہ رس، مفسر، تحفظِ ناموسِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پُرجوش حامی ردِ شیعہ و احقاقِ حق میں اس عہد کے ابنِ تیمیہؒ اور شاہ عبدالعزیزؒ، معارف صوفیہ حقہ سے کامل بہرور، مکتوبات امام ربانی کےحافظ، نماز کے عاشق، سنت کے شیدائی، دنیا سے بے رغبت، اور حطام دنیا سے متنفر اور مختصر یہ کہ وہ اس دور کے عالم ربانی تھے، مزید آگے لکھتے ہیں: حضرت مولانا رحمۃ اللہ اپنے علمی و عملی کمالات کے لحاظ سے اس دور میں بے نظیر اور ان کی شخصیت بالکل منفرد شخصیت تھی"۔
حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحبؒ (مدیر الفرقان) (المتوفیٰ 1997ء) لکھتے ہیں:
"ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں حضرت مولانا کی شہرت مسلکِ اہلِ سنت کے ایک لائق اور کامیاب مناظر و متکلم کی حیثیت سے رہی ہے اور اس کام کے لیے یہ واقعہ ہے کہ ہمارے اس زمانہ میں کسی خاص درجہ کے رسوخِ علمی کی ضرورت نہیں رہی ہے اس لیے جن لوگوں کو مولانا کے قریب رہنے کا زیادہ اتفاق نہیں ہوا ان کو غالباً بالکل اندازہ نہیں ہو گا کہ ممدوح صرف مناظر اور مصنف ہی نہیں، بلکہ علمائے راسخین میں سے تھے، نامور اصحابِ درس کی سی ٹھوس علمی استعداد اور اپنے دائرے میں مطالعہ بہت وسیع تھا، اسی کے ساتھ قدرت نے حافظہ بھی بےنظیر دیا تھا، راقم السطور نے اپنی عمر میں بہت کم ایسے قوی الحافظہ دیکھے ہیں"۔
حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمٰن صاحب عثمانی رحمۃ اللہ (دارالعلوم دیوبند)(المتوفیٰ 1928ء) لکھتے ہیں:
"حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کی مساعی جمیلہ و خدماتِ اسلامیہ جو انہوں نے ادیانِ باطلہ کی تردید اور فرقِ ضالّہ کے ابطال و ازہاق میں فرمائی ہیں وہ ہر طرح پسندیدہ و مستحسن ہیں، درحقیقت حضرت مولانا نے تمام اہلِ سنت والجماعت کی طرف سے اس فرض کفایہ کو ادا فرما کر سب کو مرہونِ منت و سبکدوش فرمایا ہے"
مزید آگے لکھتے ہیں:
"ہم ان کو ہمیشہ کے لیے فرقِ ضالّہ کے مقابلہ میں اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور ان کا ساختہ و پرداختہ اور ان کی ہار جیت کو اپنی ہار جیت تصور کرتے ہیں"۔
حضرت مولانا اسعداللہ صاحب رحمۃ اللہ (سابق ناظم مظاہرالعلوم سہارنپور المتوفیٰ 1979ء)لکھتے ہیں:
"حضرت مولانا علوم آلیہ اور عالیہ دونوں میں یکساں دستگاہ رکھنے والے متبحر عالم تھے، قدیم بزرگانہ وضع اور سادگی کا پیکر تھے، وہ مجددی تھے، اور ان کے کارناموں میں اس چیز کا ایک مخصوص رنگ نمایاں تھا، وہ فاروق و فارق بین الحق والباطل بھی تھے اور فاروقی بھی، ان کی ذات گرامی مجموعۂ کمالات تھی"۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ (سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو)(المتوفیٰ 1999ء) لکھتے ہیں:
"مولانا اس وقت دنیائے اسلام کے ممتاز ترین علماء و مصلحین اور ان چند برگزیدہ شخصیتوں میں سے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے تاریخِ اسلام کے مختلف زمانوں میں خاص اصلاحی اور تجدیدی کام لیا ہے، وہ علاوہ اس کے کہ ایک متبحر عالم اور عمیق النظر فقیہ تھے ایک کامیاب مصنف اور متکلم صاحبِ سلوک اور صاحبِ سلسلہ شیخ اور خوش بیان مقرر بھی تھے"۔
حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ (سابق ناظم جمیعۃ علمائے ہند)(المتوفیٰ 1975ء) لکھتے ہیں:
"انتہائی رنج و غم کا مقام ہے کہ علم و فضل کا ایک اور آفتاب غروب ہوا، دنیائے اسلام کے مقبول ترین اور مشہور فاضل اجل، امامِ اہلِ سنت والجماعت، حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب کی دینی اصلاحی اور کلامی خدمات سے مسلمانانِ ہند نصف صدی تک فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، مرحوم صاحبؒ تصنیف اور اہلِ قلم تھے، مجلہ النجم کے ادارتی فرائض بھی انجام دیتے رہے، بہت سی عربی اور فارسی کتابوں کو اردو کا جامہ پہنایا، فقہ پر چھے سات جلدوں میں ایک مبسوط کتاب لکھی"۔
حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃ اللہ (خلیفہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ و بانی تحریکِ خدّامِ اہلِ سنت، چکوال) لکھتے ہیں:
"آپ حقیقی معنوں میں امامِ اہلِ سنت والجماعت ہیں اور مذہبِ اہلِ سنت والجماعت کے تحفظ اور خلفائے راشدین کرام رضی اللہ عنہم اورحضور خاتم النبین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین حضرت محمد رسول اللہﷺ کےجمیع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اہلِ بیتؓ کے دفاع کا فريضہ ادا کرنے میں وہ اپنے دور کے عظیم محسن امت ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے سنی شیعہ نزاعی مسائل میں ایک اجتہادی شان عطا فرمائی تھی، آپ نے فاروقی اور مجددی نسبتوں کو مال و جاہ کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ توفیقِ ربانی سے حضرت فاروق اعظم اور امام ربانی مجدد الف ثانی کی عظیم نسبتوں کا پرچم بلند کیا"۔
سید علی مطہر نقوی صاحب امروہویؒ، متوطن کراچی لکھتے ہیں:
"مولانا موصوفؒ کے علمی و دینی مقام کے تعین کے اصل مجاز تو علماء اور ارباب فہم و بصیرت ہی ہیں، مگر مجھ ناچیز کا تاثر یہ ہے کہ پوری تاریخ اسلامی میں امام موصوف کو مذہب مذکورہ بالا کی تحقیق اور اس کے متوازن تجزیہ میں اللہ تعالیٰ نے مجدد، اور حجۃ اللہ فی الارض بنا کر بھیجا تھا"۔
ہندوستان میں تبلیغی سلسلہ کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندہلوی رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1944ء) ایک بار تبلیغی اجتماع کے موقع پر 1943ء میں ایک بڑی جماعت کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو تشریف لائے تھے، اس موقع پر آپ نے دارالعلوم کے کچھ اساتذہ کی موجودگی میں مولانا معین اللہ صاحب ندویؒ کو مخاطب کر فرمایا:
"میاں مولوی معین اللہ حضرت مولانا عبدالشکور صاحبؒ کو جانتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں! حضرت جانتا ہوں اور زیارت بھی کی ہے، فرمایا: نہیں! تم نہیں جانتے، پھر فرمایا: وہ امامِ وقت ہیں، ان مشرقی دیار میں حضرت مولانا عبدالشکور صاحبؒ کا وہی مقام ہے جو ہمارے مغربی دیار میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کا تھا"۔
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1949ء) نے ایک موقع پر فرمایا:
"شیعوں کے متعلق مولانا عبدالشکور صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ شیعہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور ہم مولانا عبدالشکور صاحبؒ پر اعتماد کرتے ہیں"۔
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1977ء) نے اپنے ایک تبصرہ میں لکھا تھا:
"حضرت العلامہ مولانا عبدالشکور صاحب لکھنویؒ قدس سرہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، حق تعالیٰ شانہ نے ان کی زبان و قلم سے حفاظتِ سنت اور ردِ روافض و بدعت کی عظیم خدمت لی، جس کی بنا پر انہیں "امام اہلِ سنت" کا خطاب عطا کیا گیا، جب تک "النجم" لکھنو حضرت کی ادارت میں جاری رہا ہندوستان اور ایران کے تمام روافض مل کر بھی اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے"۔
آپ کے وفات پر بہت سارے شعراء نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کی، عبدالرشید خان قمر افغانی لکھنویؒ نے لکھا ہے کہ:
اپنی مثال عالمِ اسلام میں تھا آپ
یکتائے عالمانِ زمانا کہیں جسے
سب ہیں امام اہلِ تسنن نہیں کوئی
غماضِ سنت شہِ بطحا کہیں جسے
عبدالشکور بانی دار المبلغین
اسلام کا مبلغِ اعلیٰ کہیں جسے
روشن کیا ہے محفل دنیا میں وہ چراغ
حل کردہ مسائل عقبا کہیں جسے
رخصت ہوا ہے آج وہ کچھ اس طرح قمر
بے ساختہ مشیتِ مولیٰ کہیں جسے