امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح…

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

صفحہ 1 از 7

امام اہلِ سنت عبدالشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

نام و نسب:
نام عبدالشکور اور والد ماجد کا نام مولوی حافظ ناظر علی ہے، اور فاروقی خاندان سے تعلق ہے اور اسی وجہ سے آپ کو فاروقی کہا جاتا ہے اور اکتیس (31) واسطوں کے بعد سلسلہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم و تربیت:
مولانا عبدالشکور رحمۃ اللہ لکھنو سے 11 کلومیٹر دور "اودھ" کے تاریخی اور مردم خیز قصبہ کاکوری ضلع لکھنو میں 23 ذی الحجہ 1293ھ بمطابق 1876ء میں بوقتِ صبح صادق مولوی حافظ ناظر علی رحمۃ اللہ کے گھر میں پیدا ہوئے، آپؒ کی پیدائش کی خوش خبری حضرت مولانا عبدالسلام ہنسوی صاحبؒ (المتوفیٰ 1881ھ) نے پہلے ہی آپ کے والد ماجد کو دے دی تھی، اور فرما دیا تھا کہ ان شاءاللہ تم کو ایک نیک فرزند عطا ہو گا جس سے تمہارے گھر میں خیر و برکت ہو گی، عقیقہ کے بعد حضرت شاہ صاحب ہنسویؒ نے اس بچہ پر توجہ باطنی بھی فرمائی اور کہا کہ بیج ڈال دیا گیا ہے اور ان شاءاللہ بارآور ہو گا، ان مبشرات کے ساتھ آپؒ کا بچپن گزرا۔
کم سنی کا زمانہ ختم ہوا اور سنِ شعور کو پہنچے تو والد ماجد نے اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ عبدالسلام صاحب رحمۃ اللہ سے آپ کی بسم اللہ کرائی، اس موقع پر حضرت شاہ صاحبؒ نے آپ کے لیے یہ دعا بھی فرمائی تھی کہ"خدا تعالیٰ بَرخوردارا از علومِ نافعہ بہرہ ورگرداند"۔
آپؒ کی ابتدائی تعلیم ضلع فتح پور میں ہوئی، قاعدہ بغدادی، پارہ عمَّ، اور فارسی کی چند ابتدائی کتابیں مولوی عبدالوہاب، ساکن ہنسوہ ضلع فتح پور سے پڑھیں، اس کے بعد فارسی کی باقی کتبِ درسیہ مولانا سید مظہر حسین، متوطن کوڑا جہان آباد، ضلع فتح پور سے پڑھیں، انہوں نے بڑی توجہ اور دلسوزی سے پڑھایا اور فارسی بولنے اور لکھنے کی مشق بھی کرائی۔
فارسی سے فراغت پانے کے بعد میزان، پنج گنج، وزبدہ وغیرہ بھی وہیں پڑھیں، دوسری کتابیں مولوی سید تعشق حسین صاحبؒ کوڑوی اور مولوی محمد یاسین خان صاحبؒ، ساکن گتنی، ضلع پرتاب گڑھ سے تحصیل کوڑا اور فتح پور میں پڑھیں، اس کے بعد کچھ کتابیں فصول اکبری، شرح جامی، قطبی میر تک، فقہ میں شرح وقایہ اولین و ہدایہ آخرین، اصولِ فقہ میں اصول الشاشی اور نورالانوار وغیرہ مختلف اساتذہ منجملہ مولانا سید مظہر حسین صاحبؒ سےضلع فتح پور اور دیگر مقامات میں پڑھیں۔
آپ کے والد ماجد کو یہ بڑی تمنا تھی کہ آپ کو مسندِ وقت علامہ ابوالحسنات، مولانا عبدالحئ فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ کی شاگردی میں دے دیں، مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا، چنانچہ 1310 ہجری بمطابق 1892ء میں جب آپؒ اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنو پہنچے تو اس وقت حضرت مولانا فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ وفات پا چکے تھے، لہٰذا اُن کے شاگرد رشید اور جان نشین حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحب رحمۃ اللہ کی خدمت میں آپؒ کی حاضری ہوئی۔
اس طرح آپؒ اپنے اصلی مربی و استادِ خصوصی مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ کے حلقۂ درس میں داخل کر دیئے گئے اس سلسلہ میں لکھنوی صاحبؒ خود تحریر فرماتے ہیں:
"اس وقت حضرت مرحوم نے پڑھانے کا سلسلہ بہت کم، بلکہ قریب قریب ترک کر دیا تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ اب دماغ بھی بہت ضعیف ہو گیا ہے اور طلبہ کی حالت دیکھ کر نہ مطالعہ میں محنت کرتے ہیں اور نہ ہی کتاب کو سمجھنے و یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لہٰذا پڑھانے کو دل نہیں چاہتا، اس جواب نے مجھے مایوس تو بہت کیا، مگر میں نے حاضری کا سلسلہ برابر قائم رکھا، تھوڑے دنوں کے بعد فرمایا کہ ایک صاحب نے علم الفرائض شروع کی ہے اگر آپ کا جی چاہے تو شریک ہو جائیں، چنانچہ میں نے شرکت شروع کر دی، دوسرے ہی دن جب آپ نے دیکھا کہ وہ صاحب جو اصل سبق پڑھنے والے تھے سبق یاد کرنے میں مجھ سے پیچھے رہ گئے تو آپ نے میری طرف خصوصی نظر التفات مبذول کی جو یوماً فیوماً بڑھتی گئی"۔
اس طرح مولانا عین القضاۃ صاحبؒ کی خدمت میں مسلسل سات سال تک آپ نے باضابطہ بقیہ علوم و فنون کی تکمیل فرمائی، آپ نے یہاں حسبِ ذیل کتبِ درسیہ پڑھیں، علم الفرائض، حمد اللہ، حواشی میر زاہد برملا جلال، رسالہ میر زاہد، قاضی مبارک، تحقیقاتِ مرضیہ، میبذی، شمسِ بازغہ، صدرا، میر زاہد، شرح شرح مواقف، خیالی مع حاشیہ عبدالکریم، مسلم الثبوت، ریاضی میں شرح الملخص للعلامہ چغمینی اور اقلیدس، حدیث میں مشکوٰۃ، سنن ترمذی، اور صحیح بخاری اور اصولِ حدیث میں شرح نخبۃ الفکر وغیرہ، ان ساری کتابوں میں سوائے ترمذی اور شمسِ بازغہ کے ساری کتابوں کی اول سے آخر تک استاد کے سامنے خود قرأت کرتے تھے۔
استاد محترم کا قاعدہ یہ تھا کہ جو طالب علم غلط عبارت پڑھتا، یا صرف و نحو میں اس کی استعداد اچھی نہ ہوتی تو اس کو قرأت کی اجازت نہ دیتے تھے، چوں کہ لکھنوی صاحبؒ شروع ہی سے ذہین اور محنتی تھے اور علمی استعداد بھی پختہ تھی اس لیے اپنے معاصرین اور ہم سبقوں میں قرأت کا شرف بھی انہیں کو حاصل ہوتا رہا، اور مولانا سید عین القضاۃؒ سے پڑھنے کا سلسلہ 1317ھ میں ختم ہوا اور آپؒ مکمل طور پر فارغ التحصیل ہو گئے۔
مندرجہ بالا بیان سے یہ بات متعین ہو گئی کہ مولانا کو حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ کے ذریعے سے بہ یک واسطہ، استاذ الاساتذہ، مولانا عبدالحئ فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ سے تلمذ کا فخر حاصل تھا اور مولانا فرنگی محلیؒ کو بہ طرق کثیرہ شاہ عبدالغنی محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ اور شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ سے شرفِ استناد حاصل تھا، حضرت کو اس سلسلۃ الذہب کے علاوہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے بھی بہ یک واسطہ رشتہ شاگردی حاصل تھا۔
اس کے علاوہ آپؒ نے علمِ طب میں حکیم عبدالولی صاحبؒ سے جو (مولانا عبدالحئ فرنگی محلیؒ اور سید عین القضاۃ صاحبؒ کےانتہائی معتقدین میں سے تھے) طب کی تعلیم حاصل کی۔
آپ بچپن سے حافظِ قرآن نہ تھے، بلکہ تحریکِ مدح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دنوں میں جب بار بار آپ کو جیل جانا پڑا تو ان دنوں میں آپ نے جیل کی تنہائیوں کو ایک غنیمت موقع جان کر حفظِ قرآن کی دولت حاصل کر لی۔
درس و تدریس:
صفحہ 1 از 7