امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح…

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

صفحہ 2 از 7
درس و تدریس کا آغاز آپ نے سب سے پہلے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے کیا، حضرت مولانا محمد علی مونگیری صاحب رحمۃ اللہ اس وقت ناظم تھے، انہی کی خواہش پر آپ نے بحیثیتِ مدرس کام کرنا قبول کیا تھا، مولانا سید سلیمان ندوی صاحبؒ اس دور میں وہاں طالب علم تھے، کم و بیش ایک سال کی تدریس کے بعد آپ نے وہاں سے از خود استعفیٰ دے کے سبک دوشی حاصل کر لی۔
1904ء سے 1915ء تک آپ اپنے استاد محترم مولانا عین القضاۃ صاحبؒ کے مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنو سے وابستہ رہے اور اس وقت سے لے کر 1909ء تک آپ اپنے استاد علیہ الرحمۃ کے ساتھ معاون مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے، 1909ء سے 1911ء تک آپؒ نے مدرس عربی و فارسی کی حیثیت سے بھی کام کیا، مدرسہ کی زیادہ تر ذمہ داری آپؒ ہی کے سپرد تھی ، 1921ء سے 1923ء تک مدرسہ عالیہ عربیہ امروہہ کے آپؒ صدرِ مدرس رہے۔
تصنیف و تالیف و دیگر دینی خدمات:
مولانا لکھنوی صاحبؒ کو تصنیف و تالیف سے مناسبت بچپن ہی سے تھی چنانچہ زمانہ طالب علمی ہی میں آپؒ نے لکھنو کے مشہور مجتہد، مولوی حامد حسین کی کتاب "استقصاء الافہام" کے بعض حصوں
کے جواب میں ایک رسالہ فارسی میں"انتصار الاسلام بجواب استقصاء الافہام" تحریر کیا تھا۔
اپنے اسی فطری ذوق کی بناء پر آپ نے 1899ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد فوراً تدریسی مشاغل کے ساتھ ساتھ ایک ماہوار علمی رسالہ "علم الفقہ" کے نام سے لکھنو میں جاری کیا، جو پورے چھے سال تک پابندی سے نکلتا رہا، یہ رسالہ خالص فقہی مضامین پر مشتمل ہوتا تھا۔
ماہنامہ النجم کا اجراء:
1904ء میں شیعوں کی طرف سے لکھنو میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی مذموم کوششیں ہونے لگیں، شیعہ واعظ مقبول دہلوی کی شعلہ فشانیوں اور مناظرے کے چیلنج نے ہر طرف کشیدگی پیدا کر دی تھی اور ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ اخبارات و رسائل نے مذہبی چھیڑ چھاڑ کا بازار گرم کر رکھا تھا، اہلِ سنت عقائد کی تردید اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر (العیاذ باللہ) کھل کر تبرّا کیا جاتا تھا۔
ان حالات میں مولانا لکھنوی صاحبؒ نے مسلمان عوام کو گمراہی، شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے سے بچانے اور رفض کی تردید میں 7 رمضان المبارک 1322ھ بمطابق 26 اکتوبر 1904ء کو "النجم" کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار لکھنو سے جاری کیا، اور یہ اخبار کم و بیش 33 سال تک شائع ہوتا رہا، اور مولانا لکھنوی صاحبؒ کی جتنی تصانیف، تراجم، و تالیفات ہیں وہ سب "النجم" کے ذریعے ہی منصۂ شہود پر آئیں ہیں۔
النجم نے بہت سارے خاص نمبر شائع کیے، جن میں سے چند یہ ہیں: خلافت نمبر، رسالت نمبر، عاشوراء نمبر، خاتون نمبر، صحابہ نمبر، ذبیح اللہ نمبر، شہداء نمبر، ہجرت نمبر، مدح صحابہ نمبر، ناموسِ اسلام نمبر، احتجاج نمبر، امامت نمبر، استقلال نمبر، تحریک نمبر، کربلا نمبر، عتیق نمبر، کمیشن نمبر۔
النجم مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کے علمی و مذہبی برکات و فیوض کا مجموعہ و ترجمان ہے اور ہندوستان بھر میں صرف یہی ایک جریدہ ہے کہ جو دشمنانِ اسلام کے مقابلہ میں سینہ سپر بنا ہوا ہے کہ جس کی تجلی نے عالمِ تشیع پر ایک عام بجلی گرا رکھی ہے، ہم افراد و قوم سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مجلہ کی توسیع و اشاعت میں ہر ممکن سعی سے دریغ نہ فرمائیں۔
دارالمبلغین کا قیام:
لکھنو شہر کے مخصوص سنی شیعہ حالات کے پیشِ نظر وہاں کے عمائدین کے اصرار پر 2 ذیقعدہ 1351ھ کو بمطابق 1932ء میں "دارالمبلغین" کے نام سے ایک دینی ادارہ قیامِ عمل میں لایا، تاکہ اسلام کی تبلیغ کے ساتھ مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کے عقائد حقہ کی نشر و اشاعت اور فرقِ باطلہ کے الزامات کی تردید بھی خصوصی طور پر کی جائے، تاحیات آپؒ نے اس ادارے کا انتظام و انصرام بڑے اہتمام سے کیا۔
علامہ لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کے مشہور تلامذہ و شاگرد:
ویسے تو لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کے تلامذہ کی ایک لمبی فہرست ہے ہم یہاں ان میں سے چند کا نام ذکر کرتے ہیں، مولانا عبدالسلام فاروقیؒ، مولانا عبدالرحیم فاروقی صاحبؒ، صاحبزادگان، مولانا مصطفیٰ حسن صاحبؒ، رکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند، و استاد عربی لکھنو یونیورسٹی، مولانا مغیث الدین الہ آبادیؒ، مولانا عبدالحق صاحب بلیاویؒ، مولانا عبدالحق خان صاحبؒ فتح پوری، مؤلف اشرف السوانح، مولانا محمد اسباط صاحبؒ استاد مدرسہ عالیہ فرقانیہ، لکھنو، مولانا انصارالحق امروہیؒ، مولانا عبدالسلام زید پوریؒ، مولانا محمد یحیٰ صاحب مبارکپوریؒ، وغیرہ۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے آپؒ کے تلامذہ جنہوں نے آپؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، مولانا عبدالستار تونسوی صاحبؒ، مشہور مناظر و رافضیت، مولانا سید نورالحسن بخاری صاحبؒ، مولانا احمد حسین بخاری صاحبؒ، مولانا لال حسین اختر صاحبؒ، مشہور مناظر ختمِ نبوت، مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحبؒ برادرِ اصغر مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ، مولانا اللہ یار خان صاحبؒ، مولانا مجید الدین اثری زبیری صاحبؒ، وغیرہ ۔
بیعت و ارشاد:
حضرت لکھنوی صاحبؒ اوائل عمر ہی سے نقشبندی سلسلہ کے مختلف بزرگوں سے منسلک رہے، جن میں مولانا عبدالسلام ہنسوی رحمۃ اللہ، مولانا عین القضاۃؒ، مولانا شاہ ابو الخیر دہلویؒ، اور اپنے والد مولانا ناظر علی صاحبؒ اور 1921ء میں خانقاہ عالی جاہ مجددیہ میں حضرت مولانا شاہ ابو احمد صاحب بھوپالؒ سے بیعت کی سعادت حاصل کی۔
حضرت لکھنوی رحمۃ اللہ اپنے شیخ سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے، ان کا حددرجہ ادب و احترام کیا کرتے تھے، کاکوری کے ایک سفر میں حضرت لکھنوی صاحبؒ کو خلافت و اجازت بھی عطا فرمائی، حضرت لکھنوی صاحبؒ سلسسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے بزرگوں کے مقرر کردہ وظائف و اوراد کے پابند رہے اور اپنے متوسلین کو بھی ان کی پابندی کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔
تحریکِ مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:
صفحہ 2 از 7