امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح…

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

صفحہ 3 از 7
لکھنو کے مخصوص شیعہ سنی ماحول میں مقبول دہلوی شیعی کی آمد نے مزید گرمائش پیدا کر دی تھی، مجلس عزاء میں اعلانیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرا کیا جاتا تھا، العیاذ باللہ ازواجِ مطہراتؓ پر طرح طرح کی بے بنیاد تہمتیں تراشی جاتی تھی، مقبول دہلوی کے علاوہ معروف شیعہ علماء بھی لکھنو میں شیعہ سنی منافرت پھیلانے میں پیش پیش تھے، جن میں مولوی ناصر حسین مجتہد، مولوی نجم الحسن مجتہد، مولوی مہدی حسین مجتہد، ڈپٹی راحت علی، مرزا محمد عباس، حکیم نذیر حسین، وکیل شہنشاہ حسین، بیرسٹر یوسف حسین اور راجہ علی محمد آف محمود آباد وغیرہ قابلِ ذکر ہیں، جو شیعوں کی مذہبی زندگی کے محرک تھے۔
حضرت مولانا لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی لکھنو آمد اور امامِ اہلِ سنت کا خطاب:
جب لکھنو میں حالات بہت زیادہ کشیدہ ہونے لگے، اور اہلِ سنت کو آئے دن مذہبی اعتبار سے تنگ کیا جانے لگا تو اس وقت علماء کے سرخیل مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ جو علامہ ابو الحسنات عبدالحئ لکھنوی صاحبؒ کے جانشین تھے، آپؒ نے اہلِ سنت کی طرف سے مدافعت کا بیڑہ اٹھایا اور علمائے وقت کو اس نازک مسئلہ کی طرف متوجہ کیا اور ہر طرح سے اہلِ سنت کے معتقدات و مفادات کی حفاظت پر کمر بستہ ہو گئے۔
جب آپؒ نے دیکھا کہ یہ معاملات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور فریقِ مخالف کی طرف سے برابر مناظروں کا چیلنج دیا جانے لگا ہے، تو آپؒ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کو دہلی سے لکھنو بلایا جائے اور ان کو سنیوں کی طرف سے مناظروں کی جواب دہی کے لیے آمادہ کیا جائے، اس وقت لکھنوی صاحبؒ دہلی میں مرزا حیرت کے مطبع میں بحیثیتِ مصنف و مؤلف کام کر رہے تھے۔
جس وقت مولانا عین القضاۃ صاحبؒ نے حضرت لکھنوی صاحبؒ کو لکھنو آنے کی دعوت دی اس وقت بعض معاصرین نے استاد محترم سے کہا کہ ہم خدّام تو ہر حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہیں لہٰذا دہلی سے مولانا عبدالشکور صاحبؒ کو بلانے کی کیا ضرورت ہے؟مولانا اس پر سخت چیں بہ جبیں ہوئے اور فرمایا:
"ہاں میں نے اسی کام کے لیے انہیں بلایا ہے، وہ اس معاملہ میں ہم اہلِ سنت کے امام ہیں"۔
مولانا کا یہی جملہ مستقبل میں ایک تاریخی حیثیت بن گیا اور برِصغیر کے تمام علماء، عوام و خواص نے آپ کو امامِ اہلِِ سنت کا لقب دے دیا، آج آپ کو اسی لقب کے ساتھ لکھا پڑھا جاتا ہے۔
شیعوں کی دل آزار حرکتیں:
مقبول شیعی کی دیکھا دیکھی دوسرے شیعہ واعظین بھی مسلسل اشتعال انگیزیاں پھیلانے لگے، ان کی دل آزار و مذموم حرکتیں تو زیادہ ہیں، بطورِ مثال درج ذیل حرکتیں باعثِ عبرت ہیں، جو تقریباً کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہیں اور ملک پاکستان میں بھی ہو رہی ہیں۔
1: "صحبت قدیمانہ" کے عنوان سے شہر بھر میں تبرائی مجالس منعقد کرتے، جس میں سوائے خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اجمعین پر العیاذ باللہ تبرا کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔
2: "بزمِ فیروزی" کے نام سے ملعون مجوسی قاتل سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مدح و تعریف اور اس واقعہ شہادت کی یاد تازہ کرنے کے لیے محفلیں منعقد کی جاتی تھیں۔
3: سنیوں کو مزید اشتعال دلانے کے لیے آذان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام اور "خلیفتہ النبی بلا فصل" کے بے اصل جملوں کا اضافہ کیا، جو کہ خود بتصریح کتبِ شیعہ آذان کا جزو نہیں۔
4: مزید برآں "عیدِ غدیر" کو جوش و خروش کے ساتھ علی الاعلان منایا جانے لگا۔
5: شیعہ شعراء خاص کر میاں شیر لکھنوی وغیرہ نے اشعار کے ذریعہ اکابر اہلِ سنت اور بزرگانِ دین کا مضحکہ اڑانا شروع کر دیا، اس کے لیے نہایت رکیک اور فحش اور تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کر کے اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے لگے۔
6: "انجمنِ امامیہ" کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور سنی و شیعہ علیحدگی پر مستقل قوانین وضع کیے اور حکام سے نافذ بھی کروا دیا۔
اس طرح کے قوانین کے نفاذ پر سنیوں نے 13 فروری 1908ء کو احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں حکام نے تبرائی جلوسوں پر پابندی لگا دی، شیعوں نے 1908ء ہی میں انگریز حکام کو درخواست دی کہ سنیوں کے "مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم" پر بھی پابندی عائد کر دی جائے، جو فی الوقت تو بے اثر ہو گئی، لیکن اہلِ سنت کو یقین ہو گیا کہ ان کے مذہبی معاملات میں بے جا دخل اندازی کی جا رہی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے دفاع کے لیے سوچنا شروع کیا، یوں انتہائی مجبوری و اضطرار کی حالت میں تحریکِ مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آغاز ہوا اور مسلسل 36 سال تک یہ تحریک چلی، جس میں حکومت کی طرف سے کئی کمیشن اور کمیٹیاں بھی بنائی گئیں، لیکن حالات سدھرنے کے بجائے مزید بگڑنے لگے، بالآخر سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی۔
ہندوستان بھر کے اہلِ سنت علماء کی کانفرنس بلائی گئی، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، ناظم جمیعت علمائے ہند، امامِ اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب، سید سلیمان ندوی صاحبؒ، مولوی سید علی حسن صاحب، مولانا عبدالرحیم فاروقی صاحب، ظفرالملک علوی صاحب رحمہم اللہ، وغیرہ حضرات نے شرکت فرمائی، اور قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ نے اپنے تحریری بیان کے ذریعہ سے تحریکِ مدحِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تائید فرمائی۔
اس تحریک کےدوران حضرت لکھنوی صاحبؒ اور ان کے رفقاء کار کو کئی دفعہ پابندِ سلاسل اور پسِ دیوارِ زنداں بھی جانا پڑا، مگر انہوں نے اسلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خاطر یہ سب کچھ بخوشی قبول کر لیا۔
اسی تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا ہوئی، انہیں اپنے عقائد معلوم ہوئے، اور مخالفینِ اسلام و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سازشوں سے واقفیت ہوئی اور ان کے سدّباب کی کوششوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔
مناظرے و مباحثے:
صفحہ 3 از 7