امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح…

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

صفحہ 5 از 7
مولانا لکھنوی صاحبؒ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عبدالحئ فرنگی محلی اور فقیہ النفس، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہما اللہ کے بہ یک واسطہ شاگرد تھے اور استاذ الوقت مولانا سید عین القضاۃ صاحبؒ کے براہِ راست شاگرد تھے، اس لیے ان کا وہی فقہی مسلک تھا جو ان علماء کا تھا، اسی طرح لکھنوی صاحب مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری صاحب رحمہمااللہ کے بھی معتمدین میں سے تھے، مزید برآں قدیم ہندی علماء میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ کے فقہی خیالات سے بھی متاثر تھے، چنانچہ وہ حنفی المسلک اور مقلد تھے، "تقلید" کے جواز میں انہوں نے ایک رسالہ "دُرفرید" کے نام سے لکھا تھا جو اب ناپید ہو چکا ہے، النجم میں ایک موقع پر لکھنوی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:
"ہندوستان میں بالخصوص امامنا الاعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی تقلید اہم واجبات میں سے ہے"۔
البتہ بعض مسائل میں آپ کی رائے دیگر علماء سے ہٹ کر ہے۔
تردیدِ شیعت:
لکھنو کے مخصوص حالات اور وہاں مقبول شیعی کی آمد اور شیعہ ذاکرین کی شر انگیزیوں کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے، جن سے مجبور ہو کر علمائے اہلِ سنت نے مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کو لکھنو میں قیام اور ردِ رافضیت پر کام کی دعوت دی تھی، لکھنو آ کر لکھنوی صاحبؒ نے اس کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تھا، جہاں کہیں سن لیتے کہ وہاں اہلِ سنت کو تنگ کیا جا رہا ہے، یا جہاں کہیں بھی مناظرہ کے چیلنج دیئے جاتے تو مولانا لکھنوی صاحبؒ فوراً وہاں پہنچ جاتے تھے۔
مولانا لکھنوی صاحبؒ نے تقریباً اہلِ سنت اور روافض کے درمیان تمام نزاعی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، اور جس موضوع پر لکھنوی صاحبؒ قلم اٹھاتے ہیں تو اس موضوع کا حق ادا کر دیتے ہیں، چنانچہ یہ بات جب ان کی تصانیف میں دیکھی جائے تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے، اور مولانا لکھنوی صاحبؒ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ فریقِ مخالف کو عام طور سے انہی کے مذہب کی کتابوں سے غلط ثابت کرتے تھے۔
ردِ شیعت میں آپؒ کا تحقیقی کام اس سلسلہ کے اور دوسرے موضوعات کے علاوہ خاص طور سے ان کے "عقیدہ تحریفِ قرآن" اور "عقیدہ امامت" پر ہے، ان دونوں بنیادی عقائد پرجس شرح و بسط کے ساتھ آپؒ نے تحریری و تقریری بحث کی ہے وہ آپ کا خاصہ ہے اور ان ہی دونوں عقائد کے بنیاد پر آپؒ نے اس فرقہ کے بارے میں حتمی فیصلہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ شیعت ایک مستقل دین ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ جس کا ایمان اس موجودہ قرآن مجید پر نہ ہو اور جو حضرت نبی کریمﷺ کی نبوت کے متوازی "عقیدہ امامت" کو مانتا ہو اس کا تعلق اسلام سے کچھ نہیں ہو سکتا۔
لکھنوی صاحبؒ کے نزدیک شیعہ موجودہ قرآن مجید کو محرّف مانتے ہیں اس لیے ان کا ایمان قرآن مجید پر نہیں ہو سکتا اور جب قرآن مجید پر سے ایمان اٹھ گیا تو پھر اسلام سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہ سکتا، بس یہی سے ہماری اور ان کی راہ الگ ہو جاتی ہے، اس مسئلہ کی بنیاد پر مولانا فرماتے ہیں:
"اس مسئلہ نے اب دوسرے مسائل میں شیعوں سے بحث کرنے کی حاجت نہیں رکھی، اب نہ شیعوں سے "مطاعنِ صحابہؓ" کی بابت بحث کرنے کی حاجت، نہ مسئلہ "امامت و خلافت" پر بحث کرنے کی ضرورت، نہ توہینِ انبیاء علیہ السلام میں ان سے الجھنے کی ضرورت، اور نہ متعہ و زنا و شراب خوری و تقیہ وغیرہ پر ردّ و کد کی حاجت (باقی رہی) جب ان کا ایمان ہی قرآن شریف پر نہیں ہے تو ان مباحث سے ان کا کیا تعلق ہے۔
لیکن پھر بھی لکھنوی صاحبؒ کا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ رفض کی تکفیر کی بنیاد عقیدہ تحریفِ قرآن ہے اور اس پر ان کی جو تحقیق ہے وہ اس تحقیق میں تمام امت سے ممتاز ہیں اور تحقیق بھی ایسی کہ باوجود دنیائے شیعت کے بڑے بڑے مجتہدین کو چیلنج دینے کہ وہ اس کا رد پیش نہ کر سکے اور نہ کبھی کر سکتے ہیں اور لکھنوی صاحبؒ نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاں تحریفِ قرآن کی روایتیں متواتر ہیں، غرض لکھنوی صاحبؒ کی تحقیق کے مطابق ان کے کفر کی بنیاد عقیدہ تحریفِ قرآن ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں "تنبیہ الحائرین"۔
عبادت و ریاضت:
مولانا لکھنوی صاحبؒ انتہائی درجہ کے متبع سنت بزرگ تھے، آپؒ کے شب و روز سنتِ نبوی کے آئینہ دار تھے، اپنے اعمال و معمولات میں اخفا کا اہتمام کیا کرتے تھے، زہد و قناعت میں اسلاف کے پر تو تھے، رمضان المبارک میں اکابر و اسلاف کی طرح آپؒ کے یہاں بھی اعمالِ خیر اور تلاوت، دعا، نوافل، ختم خواجگان، درسِ قرآن و حدیث وغیرہ کا خوب اہتمام ہوا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو سات مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت عطا فرمائی۔
وفات:
1381ھ بمطابق 1962ء میں دارالمبلغین کے بالائی حصہ سے اترتے ہوئے گر گئے جس سے علالت کا آغاز ہوا، پھر یہی علالت آگے چل کر مرض الموت میں تبدیل ہو گئی، بالآخر 17 ذیقعدہ 1381ھ بمطابق 1962ء بروز دوشنبہ بعد نمازِ عصر 6 بج کر بیس منٹ پر روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ نے غسل دیا، صاحبزادگان اور دیگر علماء نے معاونت کی، بلامبالغہ جنازہ میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی، نمازِ جنازہ حضرت کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالسلام فاروقی صاحبؒ نے پڑھائی، اور مرزا چپ شاہ میاں کے احاطہ میں تدفین عمل میں لائی گئی۔
امامِ اہلِ سنت اپنے معاصر علماء کی نظر میں:
مولانا حکیم سید عبدالحئ حسنیؒ (صاحب نزہۃ الخواطر) سابق ناظم ندوۃ العلماء لکھنو (المتوفیٰ 1923ء) لکھتے ہیں:
"شیخ (وقت)، فقیہ و عالم (مولانا) عبدالشکور ابنِ ناظر علی بن فضل علی کاکوریؒ مشہور علماء میں سے ہیں"، آگے لکھتے ہیں:
صفحہ 5 از 7