امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح…

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

صفحہ 6 از 7
"اس طرح انہوں نے شیعوں کے عقائد ان کے خیالات اور ان تمام چیزوں سے جن کو ان لوگوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں درج کر رکھا تھا پردہ ہٹایا، جن سے اخصّ الخواص حضرات کے سوا عوام اور عام علماء ناواقف تھے، اس لیے وہ ہند اور بیرونِ ہند میں اس خاص علم میں یکتائے روزگار اور امام وقت تسلیم کر لیے گئے، اس موضوعِ خاص میں ان کے معاصرین علماء میں کوئی بھی ان کا مدِ مقابل اور ہم پلہ نہیں ہو سکا، سوائے اس کے کہ جس کا علم اللہ ہی کو ہے"، آگے لکھتے ہیں:
"ان سب باتوں کے باوجو انہیں تقویٰ و پرہیز گاری، تواضع و انکساری، اصلاحِ نفس، ترک تکلف، وگوشہ نشینی، مداومت گریہ زاری، زہد و توکل، اور ذکر و مراقبہ کی بھی دولت حاصل تھی"۔
مفتی اعظم ہند، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ (المتوفیٰ 1953ء) سابق صدر جمیعۃ علماء ہند لکھتے ہیں:
"جامع المعقول والمنقول وحاوی الاصول والفروع حضرت مولانا محمد عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ مدیر النجم علماء احناف اہلِ سنت والجماعت میں ایک متبحر اور مقدس عالم ہیں، مذاہبِ باطلہ خصوصاً شیعوں کے مقابل میں مولانا موصوفؒ کی خدمات قابلِ قدر و تحسین ہیں، حضرت مولانا اس کے مستحق ہیں کہ مذاہبِ باطلہ کے مقابلے میں اہلِ اسلام ان کو اپنا نمائندہ منتخب کریں، مولانا عبدالشکور صاحبؒ اس دور کے شاہ عبدالعزیز ہیں"۔
محدثِ جلیل، ابو المآثر حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اعظمی رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1992ء) لکھتے ہیں: سالہائے
"میں نے امامِ اہلِ سنت کو دراز تک ہزاروں مجلسوں میں، سینکڑوں جلسوں میں، سفر میں، حضر میں، اور اپنے گھر میں بھی، درس دیتے ہوئے بھی، وعظ فرماتے ہوئے بھی، اور نماز پڑھتے ہوئے بھی، سوتے ہوئے بھی، جاگتے ہوئے بھی، ریل میں بھی اور پانی کے جہاز میں بھی، ہندوستان میں بھی اور مکہ و مدینہ اور عرفات و منیٰ میں بھی، مولانا اسباطؒ کو سبق پڑھاتے ہوئے بھی، عبدالغنی کو کھلاتے ہوئے بھی، اور مولانا عبدالرحیم صاحب کو ڈانٹتے ہوئے بھی، غرض ہر رنگ اور ہر حال میں بہت ہی نزدیک سے دیکھا ہے، ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین و ائمہ دین، علماء و مشائخ، صوفیا اور فقہاء و محدثین کے تذکرہ اور حالات خوب پڑھ کر اور وسیع مطالعہ کر کے امامِ اہلِ سنت کی کتابِ زندگی کا مطالعہ میں نے اپنی آنکھوں سے پوری بصیرت کے ساتھ کیا ہے، اس کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ امامِ اہلِ سنت، مرد باصفا و حق آگاہ، ہم رنگ کاملین و اہل اللہ، عالم باعمل کے صحیح مصداق، علومِ االہٰیہ و عالیہ میں فرد و طاق، صاحبِ بصیرت، فقیہ اور نکتہ رس، مفسر، تحفظِ ناموسِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پُرجوش حامی ردِ شیعہ و احقاقِ حق میں اس عہد کے ابنِ تیمیہؒ اور شاہ عبدالعزیزؒ، معارف صوفیہ حقہ سے کامل بہرور، مکتوبات امام ربانی کےحافظ، نماز کے عاشق، سنت کے شیدائی، دنیا سے بے رغبت، اور حطام دنیا سے متنفر اور مختصر یہ کہ وہ اس دور کے عالم ربانی تھے، مزید آگے لکھتے ہیں: حضرت مولانا رحمۃ اللہ اپنے علمی و عملی کمالات کے لحاظ سے اس دور میں بے نظیر اور ان کی شخصیت بالکل منفرد شخصیت تھی"۔
حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحبؒ (مدیر الفرقان) (المتوفیٰ 1997ء) لکھتے ہیں:
"ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں حضرت مولانا کی شہرت مسلکِ اہلِ سنت کے ایک لائق اور کامیاب مناظر و متکلم کی حیثیت سے رہی ہے اور اس کام کے لیے یہ واقعہ ہے کہ ہمارے اس زمانہ میں کسی خاص درجہ کے رسوخِ علمی کی ضرورت نہیں رہی ہے اس لیے جن لوگوں کو مولانا کے قریب رہنے کا زیادہ اتفاق نہیں ہوا ان کو غالباً بالکل اندازہ نہیں ہو گا کہ ممدوح صرف مناظر اور مصنف ہی نہیں، بلکہ علمائے راسخین میں سے تھے، نامور اصحابِ درس کی سی ٹھوس علمی استعداد اور اپنے دائرے میں مطالعہ بہت وسیع تھا، اسی کے ساتھ قدرت نے حافظہ بھی بےنظیر دیا تھا، راقم السطور نے اپنی عمر میں بہت کم ایسے قوی الحافظہ دیکھے ہیں"۔
حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمٰن صاحب عثمانی رحمۃ اللہ (دارالعلوم دیوبند)(المتوفیٰ 1928ء) لکھتے ہیں:
"حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحبؒ کی مساعی جمیلہ و خدماتِ اسلامیہ جو انہوں نے ادیانِ باطلہ کی تردید اور فرقِ ضالّہ کے ابطال و ازہاق میں فرمائی ہیں وہ ہر طرح پسندیدہ و مستحسن ہیں، درحقیقت حضرت مولانا نے تمام اہلِ سنت والجماعت کی طرف سے اس فرض کفایہ کو ادا فرما کر سب کو مرہونِ منت و سبکدوش فرمایا ہے"
مزید آگے لکھتے ہیں:
"ہم ان کو ہمیشہ کے لیے فرقِ ضالّہ کے مقابلہ میں اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور ان کا ساختہ و پرداختہ اور ان کی ہار جیت کو اپنی ہار جیت تصور کرتے ہیں"۔
حضرت مولانا اسعداللہ صاحب رحمۃ اللہ (سابق ناظم مظاہرالعلوم سہارنپور المتوفیٰ 1979ء)لکھتے ہیں:
"حضرت مولانا علوم آلیہ اور عالیہ دونوں میں یکساں دستگاہ رکھنے والے متبحر عالم تھے، قدیم بزرگانہ وضع اور سادگی کا پیکر تھے، وہ مجددی تھے، اور ان کے کارناموں میں اس چیز کا ایک مخصوص رنگ نمایاں تھا، وہ فاروق و فارق بین الحق والباطل بھی تھے اور فاروقی بھی، ان کی ذات گرامی مجموعۂ کمالات تھی"۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ (سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو)(المتوفیٰ 1999ء) لکھتے ہیں:
"مولانا اس وقت دنیائے اسلام کے ممتاز ترین علماء و مصلحین اور ان چند برگزیدہ شخصیتوں میں سے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے تاریخِ اسلام کے مختلف زمانوں میں خاص اصلاحی اور تجدیدی کام لیا ہے، وہ علاوہ اس کے کہ ایک متبحر عالم اور عمیق النظر فقیہ تھے ایک کامیاب مصنف اور متکلم صاحبِ سلوک اور صاحبِ سلسلہ شیخ اور خوش بیان مقرر بھی تھے"۔
حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ (سابق ناظم جمیعۃ علمائے ہند)(المتوفیٰ 1975ء) لکھتے ہیں:
صفحہ 6 از 7