امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح…

امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات

  مفتی ابو الخیر عارف محمود صاحب

صفحہ 7 از 7
"انتہائی رنج و غم کا مقام ہے کہ علم و فضل کا ایک اور آفتاب غروب ہوا، دنیائے اسلام کے مقبول ترین اور مشہور فاضل اجل، امامِ اہلِ سنت والجماعت، حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب کی دینی اصلاحی اور کلامی خدمات سے مسلمانانِ ہند نصف صدی تک فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، مرحوم صاحبؒ تصنیف اور اہلِ قلم تھے، مجلہ النجم کے ادارتی فرائض بھی انجام دیتے رہے، بہت سی عربی اور فارسی کتابوں کو اردو کا جامہ پہنایا، فقہ پر چھے سات جلدوں میں ایک مبسوط کتاب لکھی"۔
حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمۃ اللہ (خلیفہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ و بانی تحریکِ خدّامِ اہلِ سنت، چکوال) لکھتے ہیں:
"آپ حقیقی معنوں میں امامِ اہلِ سنت والجماعت ہیں اور مذہبِ اہلِ سنت والجماعت کے تحفظ اور خلفائے راشدین کرام رضی اللہ عنہم اورحضور خاتم النبین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین حضرت محمد رسول اللہﷺ کےجمیع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اہلِ بیتؓ کے دفاع کا فريضہ ادا کرنے میں وہ اپنے دور کے عظیم محسن امت ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے سنی شیعہ نزاعی مسائل میں ایک اجتہادی شان عطا فرمائی تھی، آپ نے فاروقی اور مجددی نسبتوں کو مال و جاہ کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ توفیقِ ربانی سے حضرت فاروق اعظم اور امام ربانی مجدد الف ثانی کی عظیم نسبتوں کا پرچم بلند کیا"۔
سید علی مطہر نقوی صاحب امروہویؒ، متوطن کراچی لکھتے ہیں:
"مولانا موصوفؒ کے علمی و دینی مقام کے تعین کے اصل مجاز تو علماء اور ارباب فہم و بصیرت ہی ہیں، مگر مجھ ناچیز کا تاثر یہ ہے کہ پوری تاریخ اسلامی میں امام موصوف کو مذہب مذکورہ بالا کی تحقیق اور اس کے متوازن تجزیہ میں اللہ تعالیٰ نے مجدد، اور حجۃ اللہ فی الارض بنا کر بھیجا تھا"۔
ہندوستان میں تبلیغی سلسلہ کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندہلوی رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1944ء) ایک بار تبلیغی اجتماع کے موقع پر 1943ء میں ایک بڑی جماعت کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو تشریف لائے تھے، اس موقع پر آپ نے دارالعلوم کے کچھ اساتذہ کی موجودگی میں مولانا معین اللہ صاحب ندویؒ کو مخاطب کر فرمایا:
"میاں مولوی معین اللہ حضرت مولانا عبدالشکور صاحبؒ کو جانتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں! حضرت جانتا ہوں اور زیارت بھی کی ہے، فرمایا: نہیں! تم نہیں جانتے، پھر فرمایا: وہ امامِ وقت ہیں، ان مشرقی دیار میں حضرت مولانا عبدالشکور صاحبؒ کا وہی مقام ہے جو ہمارے مغربی دیار میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کا تھا"۔
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1949ء) نے ایک موقع پر فرمایا:
"شیعوں کے متعلق مولانا عبدالشکور صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ شیعہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور ہم مولانا عبدالشکور صاحبؒ پر اعتماد کرتے ہیں"۔
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ (المتوفیٰ 1977ء) نے اپنے ایک تبصرہ میں لکھا تھا:
"حضرت العلامہ مولانا عبدالشکور صاحب لکھنویؒ قدس سرہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، حق تعالیٰ شانہ نے ان کی زبان و قلم سے حفاظتِ سنت اور ردِ روافض و بدعت کی عظیم خدمت لی، جس کی بنا پر انہیں "امام اہلِ سنت" کا خطاب عطا کیا گیا، جب تک "النجم" لکھنو حضرت کی ادارت میں جاری رہا ہندوستان اور ایران کے تمام روافض مل کر بھی اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے"۔
آپ کے وفات پر بہت سارے شعراء نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کی، عبدالرشید خان قمر افغانی لکھنویؒ نے لکھا ہے کہ:
اپنی مثال عالمِ اسلام میں تھا آپ
یکتائے عالمانِ زمانا کہیں جسے
سب ہیں امام اہلِ تسنن نہیں کوئی
غماضِ سنت شہِ بطحا کہیں جسے
عبدالشکور بانی دار المبلغین
اسلام کا مبلغِ اعلیٰ کہیں جسے
روشن کیا ہے محفل دنیا میں وہ چراغ
حل کردہ مسائل عقبا کہیں جسے
رخصت ہوا ہے آج وہ کچھ اس طرح قمر
بے ساختہ مشیتِ مولیٰ کہیں جسے

صفحہ 7 از 7