علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات -…

علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات

  مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

صفحہ 2 از 4

حضرت علامہ عبدالستار تونسوی نور اللہ مرقدہٗ نے ۱۹۲۶ء میں بمقام تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں مولانا حکیم اللہ بخش کے ہاں آنکھ کھولی۔ آپؒ کے والد ماجد نہایت نیک سیرت، متقی، پاکباز، ذاکر وشاغل ، تہجد گزار اور شب بیدار انسان تھے۔ضلع ڈیرہ غازی خان کے مختلف اسکولوں میں تدریسی خدمت انجام دینے کے ساتھ خدمت خلق کے جذبہ کے تحت حکمت کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ غریب ، نادار اور مفلوک الحال اشخاص کے بلامعاوضہ علاج ومعالجہ کے علاوہ ان کی مالی خدمت بھی کیا کرتے تھے۔ اپنے محلہ کی مسجد ’’خلفائے راشدینؓ ‘‘میں چوبیس سال تک بلاتنخواہ امامت کے منصب پر فائز رہے۔ ہزاروں آدمیوں کو کتاب وسنت کی تعلیمات سے روشناس کیا، اسی کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت تونسویؒ جیسی اولاد سے آپ کو نوازا۔ حضرت تونسویؒ نے ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے والد صاحب سے لی۔ ناظرہ قرآن کریم حافظ محمد عثمانؒ سے پڑھا، درجہ کتب کی تعلیم کے لئے آپؒ کو تونسہ شریف کی معروف ومشہور دینی درس گاہ مدرسہ محمودیہ میں داخل کرایا گیا، جہاں آپؒ نے فارسی، عربی، فقہ، منطق، فلسفہ، علم کلام، علم تفسیر سے لے کر دورہ حدیث کی تعلیم مکمل کی۔ اساتذہ کا آپؒ پر اتنا اعتماد تھا کہ دورانِ تعلیم آپؒ کو نچلے درجات کے اسباق پڑھانے پر مأمور فرمایا۔ حضرت تونسویؒ کے نواسہ اور آپؒ کے مشن کے امین حضرت مولانا عبدالحمید تونسوی مدظلہ لکھتے ہیں: ’’حضرت والا نے فارسی وصرف کی کتب ماہرِ صرف وعلومِ فارسی جناب مولانا خالق داد صاحبؒ سے پڑھیں، دیگر نحووفقہ کی کتابیں مولانا احمد جراحؒ، مولانا اللہ بخشؒ اور ادب کی کتب مولانا غلام رسولؒ سے پڑھیں۔ منطق ومعقول اور فلسفہ کے فنون جامع المعقول مولانا عبدالستار شہلانی ؒفاضل ریاست رام پور سے حاصل کئے۔ اور فقہ، میراث،تفسیر وحدیث کی مبسوط کتب استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا خان محمد صاحبؒ فاضل دارالعلوم دیوبند سے پڑھیں۔ ابتدائی کتب سے لے کر دورہ حدیث تک تمام علوم وفنون کی تکمیل جامعہ محمودیہ تونسہ میں ہی کی‘‘۔ یہ جامعہ محمودیہ حضرت خواجہ محمود صاحبؒ نے قائم کیا، جسے ترقی وتوسیع آپؒ کے فرزند حضرت خواجہ نظام الدین تونسویؒ نے دی۔ موصوف صاحب فہم وذکاء ، پابند صوم وصلوٰۃ ، ذاکر اور علم دوست تھے۔ آپؒ کو اکابرین دیوبند سے والہانہ محبت تھی، خصوصاً حضرت مدنیؒ سے عشق کی حد تک تعلق تھا۔ تقسیم ہند کے حوالہ سے بھی آپؒ حضرت مدنیؒ کے موقف کے حامی تھے۔ جب حضرت مدنیؒ کے انتقال کی خبر حضرت خواجہ نظام الدینؒ کے ہاں پہنچی تو آبدیدہ ہوگئے ، فوراً مدرسہ محمودیہ تشریف لائے، جہاں حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ پڑھارہے تھے۔ حضرت کی درس گاہ میں پہنچ کر روتے ہوئے فرمایا: آج آپ کے استاذ بلکہ پورے ہند کے استاذ انتقال فرماگئے ہیں۔ اس لئے آپ کو اطلاع دینے اور آپ سے تعزیت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ افسوس! اگر میرے پاس ہوائی جہاز ہوتا تو میںضرورحضرت مدنیؒ کے جنازہ میں شریک ہوتا، مگر افسوس یہ سہولت میسر نہیں ۔ حضرت خواجہ نظام الدینؒ کی اکابرین دیوبند سے محبت وشیفتگی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے تونسہ میں کئی مرتبہ جلسوں کا اہتمام کیا، مگر علمائے دیوبند کے علاوہ کسی دوسرے عالم کو دعوت نہیں دی، چنانچہ حضرت تونسویؒ کے بیان کے مطابق خواجہ صاحبؒ کے جلسہ میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، بطل حریت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، اور خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تشریف لاتے رہے، جن کے بیانات سے ہزاروں لوگ مستفیض ہوئے۔ آپ کے استاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ، حضرت خواجہ نظام الدین تونسویؒ مہتمم جامعہ محمودیہ اور والد صاحبؒ نے باہمی مشورہ سے طے کیا کہ اُنہیں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہٗ کی خدمت میں اکتسابِ علم کے لئے دارالعلوم دیوبند بھیجا جائے، چنانچہ ۱۹۴۵ء کے اواخر میں آپؒ کو دیوبند بھیجا گیا۔ حضرت مولانا عبدالحمید تونسوی صاحب لکھتے ہیں: ’’دارالعلوم دیوبند میں جن اساطین علم وفن اور اکابر اساتذہ سے آپؒ نے علم حدیث میں کسب فیض کیا، اُن کے اسماء گرامی یہ ہیں: شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒسے بخاری شریف وترمذی شریف، شیخ الادب والفقہ مولانا اعزاز علی صاحبؒ سے ابوداؤد شریف اور شمائل ترمذی، استاد الحدیث مولانا بشیر احمدؒ سے مسلم شریف ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیبؒ سے ابن ماجہ شریف اور استاذالحدیث مولانا فخرالحسنؒ سے نسائی شریف پڑھیں ۔ علاوہ ازیں مؤطا امام محمد اور طحاوی شریف علی الترتیب استادالحدیث مولانا عبدالخالق صاحبؒ، حضرت مولانا نافع گلؒ اور مولانا عبدالحقؒ آف اکوڑہ خٹک سے پڑھیں اور یوں علوم دینیہ سے سیراب ہوکر فیضیاب ہوئے۔ …… آپ کو مولانا شبیر احمد عثمانیؒ سے بھی استفادہ کا موقع ملا، چونکہ مولانا عثمانیؒ کی رہائش دیوبند ہی میں تھی تو آپ وقتاً فوقتاً ان کے پاس جاکر فن تفسیر وحدیث سے متعلق معلومات حاصل کرتے رہے اور حضرتؒ کی علمی مجالس اور دروس وبیانات میں شریک ہوتے رہے۔……ایک دن حضرت تونسویؒ نے شیعہ وسنی کے نزاع پر مختلف سوالات کئے اور حضرت مدنیؒ نے بڑی فراخدلی سے جوابات دیئے، یہاں تک کہ گفتگو طویل ہوگئی۔ بعد از کلام حضرت شیخ ؒنے فرمایا کہ مولوی عبدالستار! آپ کا ذوق قابل داد ہے، میرا مشورہ ہے کہ یہاں سے فراغ کے بعد لکھنؤ چلے جاؤ، وہاں امامِ اہلسنت علامہ عبدالشکور صاحب لکھنوی سے ضرور استفادہ کرو ‘‘۔ حضرت تونسویؒ نے اپنے استاذ کے حکم کی تعمیل کے لئے دو سال حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کے پاس گزارے اور ان سے ردِ شیعیت سیکھی اور اس کے امام ومناظر بنے۔ حضرتؒ نے تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے مادرِ علمی جامعہ محمودیہ تونسہ کو تدریس کے لئے منتخب کیا اور دس سال تک گلستان، بوستان سے لے کر سنن ترمذی اور صحیح بخاری تک تمام کتب پڑھائیں۔ حضرت تونسویؒ کا معمول تھا کہ شعبان، رمضان میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں دورہ حدیث سے فراغت پانے والے طلبہ کو دورہ تدریبیہ کے دوران رد شیعیت ، فن مناظرہ کے اصول وضوابط اور اہل سنت اور تشیع کے درمیان مابہ النزاع مسائل کا حل عمدہ انداز میں ذہن نشین کرواتے تھے۔ ایک دن دورانِ سبق فرمایا کہ میں نے دس سال مدرسہ میں پڑھایا ہے، لیکن طلبہ کی عدمِ توجہ ، ان کی روایتی سستی اور غفلت کے سبب میں نے فیصلہ کیا کہ عام مسلمانوں میں جاکر اُن کو سچے عقائد ، اتباعِ سنت اور دین کی تبلیغ وتعلیم دوں، اس لئے میں نے تدریس ترک کی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرتؒ اپنی ہر تقریر کی ابتداء میں دین کا خلاصہ اور نچوڑ سامعین کے سامنے ضرور بیان فرماتے تھے۔ عام سننے والا آدمی سمجھتا تھا کہ شاید تونسوی صاحب ایک ہی تقریر کرتے ہیں، لیکن درحقیقت حضرتؒ لوگوں کو دین کا خلاصہ بتاکر اس پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتے تھے۔ حضرتؒ کے بیان کے چند اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں، جن سے اندازہ ہوگا کہ حضرتؒ امت مسلمہ کی صلاح وفلاح اور ہدایت واستقامت کے لئے اپنے اندر کتنا درد اور جذبہ رکھتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ماہنامہ بینات کے توسط سے آپؒ کا پیغام قارئین بینات تک پہنچ جائے گا۔حضرتؒ کابیان خطبہ مسنونہ کے بعد اکثر وبیشتر ان اشعار اور درج ذیل جملوں سے شروع ہوتا: ‘‘محمد از تو می خواہم خدارا خدایا از تو عشق مصطفیؐ را ایمانِ ما اطاعتِ خلفاء راشدینؓ اسلامِ ما محبتِ آلِ محمد است یعنی ’’اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق مانگتے ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کی اطاعت ہمارا ایمان ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آلؓ سے محبت کرنا ہمارا اسلام ہے۔‘‘ پھر فرماتے :یہ خالص مذہبی ، اسلامی ، اصلاحی، دینی وتبلیغی ، تعلیمی اور خیرخواہی کا پروگرام ہے، جس کی غرض وغایت رضائے الٰہی ہے۔ضروریاتِ دین کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ کے دربار میں وہ نیکی قابل قبول نہیں جو اللہ کے دین کی تعلیم کے مطابق نہیں۔ آج کے دور میں اکثر لوگ اپنے دل و دماغ، خواہش وخیال کی پیروی کررہے ہیں، اس لئے ملک میں بڑا انتشار ہے، کئی فرقے ہیں، کئی جماعتیں ہیں، کئی گروہ ہیں۔ آپ حضرات کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات دیکھ لیں گے کہ تفرقہ مستقل اللہ کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب مقدس میں فرمایا: میں جس قوم پر ناراض ہوتا ہوں، اس پر آسمان سے پتھر برساتا ہوں، یا زمین میں دھنسا دیتا ہوں یا گروہ گروہ اور پارٹیاں پارٹیاں بنادیتا ہوں۔ یہ فرقہ، تفرقہ، فتنہ وفساد ، بغض وعناد اللہ کا عذاب ہے۔ میرے مشائخ کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں اتحاد ہو، یگانگت ہو، محبت وپیار ہو، اتحاد واتفاق ہو،

صفحہ 2 از 4