علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات -…

علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات

  مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

صفحہ 3 از 4

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:

’’وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلَاتَفَرَّقُوْا‘‘

(آل عمران: آیت، 103)

’’اللہ (کے دین اسلام )والی رسی کو تھام لو، اور تفرقہ نہ کرو‘‘۔ میں باشندگانِ پاکستان کو یہ درخواست کرتا ہوں کہ بھائی بھائی بن کر پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر آئیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا علاج معالجہ کرائیں۔ میرے پیارے عزیزو!ہماری نجات ، ہماری کامیابی، ہماری سرخروئی پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے۔ میرے پیارے عزیزو!مومن کا دین مولوی یا وزیر کا بنایا ہوا نہیں، مومن کا دین کسی گورنر و صدر کا بنایا ہوا نہیں ، مومن کا دین علماء واولیاء کا بنایا ہوا دین نہیں، مومن کا دین انبیاء علیہم السلام کا بنایا ہوا نہیں، مومن کا دین خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا نہیں۔مومن کا دین وہ ہے جو اللہ نے بنایا ہے۔ میرے پیارے عزیزو!ہمارا دین دماغ انسانی کا بنایا ہوا نہیں، ہمارا دین خواہشاتِ نفسانی کا بنایا ہوا نہیں، ہمارا دین وہ ہے جو وحی ربانی سے حاصل ہوا۔ ہمارا دین وہ قواعد واصول ہیں جو اللہ تعالیٰ نے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کئے، جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کئے۔ نہ مجھے علمیت کا دعویٰ، نہ میرے اندر زہد وتقویٰ اور ریاضت ہے، میں مسلمانوں میں سے ادنیٰ درجہ کا مسلمان ہوں، میری جماعت تنظیم اہل سنت والجماعت کی کوشش ہے کہ ہر گھر میں پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آجائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ آپ بھائی بھائی بن کر پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر آئیں، جناب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلہ پر اپنی گردن جھکائیں۔ ہم ہر نیک کے قائل ہیں، ہر نیکی کے قائل ہیں،لیکن ایک بات ہے کہ ہر مسئلے کو اس طرح تسلیم کریں گے، جس طرح پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا اور سکھا گئے ہیں۔ ہمارے اس دور میں اکثر لوگ اس کوشش میں ہیں کہ دین ہمارے تابع ہو۔ میری یہ بات یاد رکھ لیں، دین ہمارے تابع نہیں، ہم دین کے تابع ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہمارے تابع نہیں، ہم شریعت کے تابع ہیں۔ اللہ کا قرآن ہمارے تابع نہیں، ہم قرآن کے تابع ہیں۔ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے تابع نہیں، ہم نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہیں۔ دل مانے یا نہ مانے، دماغ تسلیم کرے یا نہ کرے، مومن کی شان یہ ہے کہ پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلہ پر گردن جھکادے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد ہمیں سوچ وبچار کا کوئی حق نہیں۔ آپ حضرات آج کے بعد یہ عہد کریں کہ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد اپنی خواہش اور خیال کے پیچھے نہیں جائیں گے، اپنے دماغ کے پیچھے نہیں جائیں گے، پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں گے۔ میری تحقیق یہ ہے کہ اگر میری معروضات پر عمل کرلیا جائے تو سارا مذہبی انتشار ایک دن میں ختم ہوجائے گا۔ ہم دنیا میں امتحان کے لئے آئے ہیں، تھوڑی دنیا کے لئے تھوڑی محنت کریں، بڑی زندگی کے لئے بڑی محنت کریں۔ یہ مسئلہ یاد کرلو، اپنے بچوں کو سکھا دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۷۲؍ ٹولے جہنم میں جائیں گے، ایک ٹولہ جنت میں جائے گا، وہ ٹولہ ’’ماأنا علیہ وأصحابیؓ‘‘جس راستہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت گئی ہے، وہ راستہ جنت کا راستہ ہے، وہ راستہ بہشت کا راستہ ہے۔ سارے جھگڑے ختم ہوجائیں گے ، کوئی دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار نہیں کرے گا۔جناب رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدینؓ‘‘۔ ’’میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے خلفائے راشدینؓ کے طریقے کو لازم پکڑو‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خیرالقرون قرنی ، ثم الذین یلونہم ، ثم الذین یلونہم ‘‘۔ ’’میری جماعت سب سے بہترین جماعت ہے، پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں، پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں‘‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کی بہتری کی گواہی دی ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں ہمارے گھر میں وہی دین ہو جو بہترین لوگوں کے گھر میں تھا۔ یہ سارا دین ہے، یہ میرا سارا مذہب ہے، یہ میرے سارے مسئلے ہیں، ہر آدمی کو اگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فیصلے لمحہ بالمحہ یاد رہیں تو کوئی فرقہ آپ کو گمراہ نہیں کرسکے گا۔ قرآن کریم میں ہے: ’’لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘

(الاحزاب: آیت، 21) ’’رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے‘‘

’قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ‘‘۔(آل عمران: آیت، 31) ’’اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے گا‘‘۔ ’’وَالسَّابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ‘‘

صفحہ 3 از 4