علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات -…

علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات

  مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

صفحہ 4 از 4

(سورۃ التوبہ: آیت، 100) ’’سبقت کرنے والے مہاجرین وانصار اور وہ لوگ جو اخلاص سے اُن کی اتباع کرنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی‘‘۔ انتشار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان فیصلوں پر لوگوں کی نگاہ نہیں، ہر آدمی اپنے دل ودماغ ، خواہش وخیال کی پیروی کررہاہے۔ باقی کوئی مسئلہ آ جائے، آپ ماہرین شریعت کے پاس جائیں۔ دنیاوی کام کے لئے دکان ومکان کے کیس کے لئے آپ حضرات ماہر وکیل تلاش کرتے ہیں، اسی طرح دین سیکھنے کے لئے ماہرین دین کے پاس جائیں‘‘۔ یہ حضرت تونسویؒ کی تقریر اور بیان کے چند اقتباسات ہیں، جس کے ہر ہر جملہ میں اتحادِ امت کا درس، فرقہ اور تفرقہ سے نفرت کا اظہار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کی سنت کی پیروی سے دوری کے اسباب کو بہت ہی کھلے اور واضح الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ کاش! کہ امت مسلمہ اس مردِ درویش اور مردِ قلندر کی آواز پر کان دھرتی اور اپنے اندر موجود خامیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا علاج حضرت تونسویؒ کے ان فرمودات میں ڈھونڈتی۔ مجھے یاد پڑتا ہے غالباً ۱۹۸۵ء یا چھیاسی میں حضرت تونسویؒ نے دورانِ تقریر فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں ، تمہارا دشمن جب تم پر حملہ آور ہوگا، وہ تم سے مسلک نہیں پوچھے گا کہ تم دیوبندی، بریلوی ہو، سنی ، شیعہ یا اہل حدیث ہو، وہ صرف یہ جانتا ہے کہ تم کلمہ ایک پڑھتے ہو، تمہارا رسول ایک ہے، تمہاری کتاب ایک ہے، وہ تمہیں تقسیم در تقسیم کرکے کمزور کرے گا اور پھر وہ تم سب کو ملیا میٹ اور تباہ وبرباد کرکے رکھ دے گا، اس لئے میں کہتا ہوں کہ ملک میں تفرقہ نہ کرو، بھائی بھائی بن جاؤ اور قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجاؤ تو بچ سکوگے ۔ آج بالکل وہی حالات ہیں جن کا نقشہ اس مردِ قلندر نے چھبیس سال پہلے کھینچا تھا۔

حضرت تونسویؒ نے پہلی شادی ۱۹۴۴ء میں دورانِ تعلیم کی، ان سے آپؒ کے چار صاحبزادے ہوئے۔ پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد ۱۹۶۰ء میں دوسری شادی کی، جن سے چار صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں ہوئیں۔ حضرتؒ کا آخری دس روزہ تبلیغی دورہ گوجرانوالہ میں جاری تھا کہ بارش اور ٹھنڈ کی وجہ سے آپؒ کو نزلہ کی شکایت ہوئی، جو صبح تک کافی حد تک بڑھ گئی تھی۔ دورہ مختصر کرکے اپنے گھر تونسہ میں تشریف لائے، افاقہ نہ ہوا، مقامی ہسپتال میں آپ کو داخل کیا گیا، دو دن زیر علاج رہنے کے بعد ہمیشہ کے لئے اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔دوسرے دن تین بجے جنازہ کا وقت طے کیا گیا، لیکن ملک کے طول وعرض سے جنازہ میں شرکت کی غرض سے آنے والے قافلوں کی بنا پر ایک گھنٹہ کی تاخیر ہوئی۔ آپ کے جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد لاکھ سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ راقم الحروف کی بھی حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کی قیادت اور شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی معیت میں تعزیت کے لئے تونسہ میں حاضری ہوئی، جہاں حضرت کے صاحبزادگان : حضرت مولانا عبدالغفار صاحب جانشین حضرت تونسویؒ، مولانا عبداللطیف اور مولانا عبدالجبار سے تعزیت کی۔ ان حضرات کا کہنا تھا کہ حضرت تونسوی صاحبؒ تقریباً رات آٹھ بجے فوت ہوئے اور دوسرے دن تدفین تک حضرتؒ کے جسد خاکی سے پسینہ بہہ رہا تھا اور بدن بالکل نرم اور ملائم تھا، یوں محسوس ہورہا تھا جیسے تھکا ماندہ آدمی تھوڑی دیر کے لئے سستانے کے لئے بیٹھتا ہے، تو پسینہ بہتا ہے، ایسا پسینہ بہہ رہا تھا اور حضرتؒ کے چہرۂ انور کی دیر تک لوگ زیارت کرتے رہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس، نائب رئیس، اساتذۂ جامعہ اور ادارہ بینات حضرت کے صاحبزادگان، متعلقین اوراقرباء سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور حضرت کی جدائی کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرتؒ کی بال بال مغفرت فرمائے، آپؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور آپؒ کے شاگردوں، متوسلین اور عقیدت مندوں کو آپؒ کے مشن کو جاری وساری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ أجمعین


صفحہ 4 از 4