جامع القرآن کون؟  سید کرار حیدر زیدی(اہل تشیع) اور ممتاز…

جامع القرآن کون؟  سید کرار حیدر زیدی(اہل تشیع) اور ممتاز قریشی (اہلسنت) کے مابین دلچسپ مکالمہ اور شیعوں کا دجل

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 8 از 13

شیعہ سید کرار : قرآن مجید کی آیت میں کون کونسے قرآن کی بات ہوئی ہے؟
ممتاز قریشی: کون کونسے قرآن سے مراد؟
میں عرض کرچکا ہوں۔ آپ کو اپنا مؤقف ثابت کرنا ہے۔ دلیل میں آیات پیش کر کے مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ثابت ہوا۔
شیعہ سید کرار : ٹھیک ہے اس کا مطلب آپ کو قرآن مجید کی مذکورہ آیات سمجھ نہیں آئیں میں سمجھاتا ہوں
ممتاز قریشی: جی سمجھائیں تاکہ سیدنا علی کا جمع کیا گیا قرآن آج والے قرآن کو تسلیم کیا جاسکے۔
سنیوں والا قرآن تو بقول آپ کے آج موجود نہیں ہے۔
اب آج ہم جو قرآن پڑھتے ہیں یہ بقول آپ کے
.1 سیدنا علی نے جمع کیا ہے۔
.2دور نبوی میں جمع کیا ہے۔
.3 دور نبوی میں صحابہ میں تقسیم بھی کردیا تھا، ظاہر تبھی تو آپ نے دلیل دی کہ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ حسبنا کتاب اللہ۔
شیعہ سید کرار : قرآن مجید کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خاص رسول اللہ کو مخاطب کرکے کہا ہے
1- قرآن کو پڑھوانا
2- جمع کرنا
3- اس کی تفسیر کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے
یہاں بات واضح ہے کہ قرآن مجید جمع ہونے کے ساتھ اس کی تفسیر بھی ہوئی
یہاں آیت میں قرانہ سے مراد قرآن مجید نہیں بلکہ پڑھوانا مراد ہے
سمجھ آیا؟
ممتاز قریشی: آگے بڑھیں۔ پوری رات گذر گئی۔ابھی تک یہ دلیل نہیں آئی کہ اللہ تعالی نے قرآن جمع کرنے اور امت تک پہنچانے کی ذمہ داری کیسے پوری کی جس سے آج گھر گھر میں قرآن محفوظ حالت میں موجود ہے۔
.1 صحابہ کرام
.2 سیدنا علی۔
شیعہ کے پاس آج کونسا قرآن ہے؟ سیدنا علی والا بغیر تفسیر والا یا تفسیر والا؟
اس کا جواب مشکل ہے؟
آپ کا مؤقف کچھ اس طرح ہے۔
.1 آج سنیوں والا قرآن نہیں ہے بلکہ آج شیعوں والا قرآن ہے۔
.2سیدنا علی نے قرآن جمع کیا تھا جو آج موجود ہے۔
.3حضرت عمر فاروقؓ کا حسبنا کتاب اللہ کہنا بھی اس لئے تھا کہ دور نبوی میں سیدنا علی نے قرآن جمع کر کے امت میں بانٹ دیا تھا۔
اس مؤقف سے متفق ہیں یا میں نے کوئی غلط بیانی کی ہے؟
شیعہ سید کرار : ان پر تفصیلی گفتگو ہوچکی اب میں اپنی پیش کی گئی دلیل کی وضاحت کررہا ہوں کیوں کہ قرآن مجید کی آیات آپ کو سمجھ نہیں آئی تھی۔
ممتاز قریشی: بس یہ بتادیں کہ اب بھی یہی مؤقف رکھتے ہیں ؟
کیونکہ آپ کے دلائل اسی مؤقف کی روشنی کے مطابق دیکھیں جائیں گے۔
شیعہ سید کرار : بالکل میرا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہے
بہتر ہے اب آگے چلیں کتابت قرآن مجید پر۔
یعنی قرآن مجید اور اس کی تفسیر کو کتابی صورت دینا رسول اللہ کی موجودگی میں ہی ہونا ہے کیوں کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی موجودگی میں ہی کروانا تھا یوں کہ قرآن مجید نازل قلب رسول پر ہوا ہے۔ان کی غیر موجودگی میں قرآن مجید اور اس کی تفسیر کو کتابی صورت دینا ممکن نہیں
ممتاز قریشی: دلیل دیں کہ نبی کریم نے قرآن بمعہ تفسیر کتابی شکل میں لکھوایا تھا اور وہ فریضہ سیدنا علی نے سر انجام دیا تھا۔
آپ کا مؤقف کچھ اس طرح ہے۔
.1آج سنیوں والا قرآن نہیں ہے بلکہ آج شیعوں والا قرآن ہے۔
.2سیدنا علی نے قرآن جمع کیا تھا جو آج موجود ہے۔ .3حضرت عمر فاروقؓ کا حسبنا کتاب اللہ کہنا بھی اس لئے تھا کہ دور نبوی میں سیدنا علی نے قرآن جمع کر کے امت میں بانٹ دیا تھا۔
سنیوں والا قرآن تو بقول آپ کے آج موجود نہیں ہے۔
اب آج ہم جو قرآن پڑھتے ہیں یہ بقول آپ کے
.1 سیدنا علی نے جمع کیا ہے۔
.2 دور نبوی میں جمع کیا ہے۔
.3 دور نبوی میں صحابہ میں تقسیم بھی کردیا تھا، ظاہر ہے تبھی تو آپ نے دلیل دی کہ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ حسبنا کتاب اللہ۔
شیعہ کے پاس آج کونسا قرآن ہے؟ سیدنا علی والا بغیر تفسیر والا یا تفسیر والا؟
شیعہ سید کرار : یہ بات آپ سمجھ گئے کہ قرآن مجید کی مذکورہ آیات کی روشنی میں کتابت قرآن مجید اور تفسیر ایک ساتھ ہی ہونی ہے ۔ البتہ امت قرآن مجید کی تفسیر سے آج محروم ہے
ممتاز قریشی: یہ نکتہ بھی کلیئر کردیں
شیعہ کے پاس آج کونسا قرآن ہے؟ سیدنا علی والا بغیر تفسیر والا یا تفسیر والا؟
شیعہ سید کرار : اس نکتے پر تین بار وضاحت کی ہے اوپر۔مین نشان دہی کر دیتا ہوں
ممتاز قریشی: اس کی بھی وضاحت کریں۔
.1 قرآن بمعہ تفسیر  ایک ہی کتاب
.2 قرآن اور تفسیر دو الگ کتابیں
مطلب دو کتابیں تھیں؟ ایک صرف قرآن اور دوسری تفسیر ؟
شیعہ سید کرار : دو الگ کتب
جی بالکل قرآن مجید آج سب کے پاس ہے البتہ اس کی حقیقی تفسیر سے امت محروم ہے۔
ممتاز قریشی: ٹھیک ہوگیا۔
اب آپ کو صرف سیدنا علی دور نبوی میں مکمل قرآن جمع کرنا ، کتابی شکل میں صحابہ کرام میں تقسیم کرنا ثابت کرنا ہے۔
آگے بڑھیں۔
یہ فوٹو اسٹیٹ کی ذمہ داری مجھ پر کیوں تھوپی جارہی ہے شیعہ سید کرار :
ممتاز قریشی: کیا مطلب؟؟ سیدنا علی کی طرف سے قرآن کتابی شکل میں جمع کرنے کا مقصد امت تک پہنچانا نہیں تھا؟ جبکہ آپ خود یہ کہہ رہےہیں کہ آج والا قرآن سیدنا علی کا جمع کردہ ہے۔
حضرت عمر فاروق نے حسبنا کتاب اللہ کہا تو مطلب سیدنا علی نے انہیں تو قرآن پہنچایا ہوگا۔ کیا خیال ہے؟
شیعہ سید کرار : ضروری نہیں ہے انہیں بھی دیا ہو۔ممکن ہے یہ دعویٰ جھوٹا ہو
ممتاز قریشی: پھر سیدنا علی نے یہ فریضہ کیسے پورا کیا؟ امت تک آج قرآن موجود ہے تو کیسے پہنچا
شیعہ سید کرار : امت تک پہنچانا نہیں ہوتا تو آپ تفسیر کی طرح قرآن مجید سے بھی محروم ہوتے
ممتاز قریشی: چلیں سیدنا علی نے کسی نہ کسی ایک صحابی کو قرآن جمع کر کے دیا ہوگا۔ ظاہر ہے کوئی مقصد تو ہوگا۔یہی تو پوچھ رہا ہوں۔ قرآن تو دور نبوی میں کئی صحابہ کرام نے مختلف حصوں میں اپنے پاس لکھ رکھا تھا۔
شیعہ سید کرار : کیا یہ ثبوت کافی نہیں کہ آج امت کے پاس مولا علی علیہ السلام کا جمع کردہ قرآن موجود ہے؟
ممتاز قریشی: کیا وجہ ہے کہ آپ اصل مؤقف پر کوئی دلیل نہیں دے رہے۔
ثبوت کہاں ہے؟
شیعہ سید کرار : اس لیے کہ آپ کو جو بات دلیل سے سمجھاتا ہوں آپ اسے چھوڑ کر نیا شوشہ چھوڑ دیتے ہو
ممتاز قریشی: قرآن ہے تو مطلب سیدنا علی نے جمع کیا ہے۔۔ یہ سمجھ لیں؟
شوشے تو آپ چھوڑ رہے ہیں، میں تو آپ کو اصل نکتہ سے ہٹنے نہیں دے رہا
شیعہ سید کرار : یہ میں دلیل سے ثابت کروں گا۔ اپ نے فوٹو اسٹیٹ کا شوشہ چھوڑا اس کی وضاحت کررہا تھا اب آپ پیچھے چلے گئے
ممتاز قریشی: حق تسلیم کرلیں عالم صاحب۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔
شیعہ سید کرار : یہاں پہنچا تھا میں۔جب آپ نے فوٹو اسٹیٹ کا شوشہ چھوڑا تھا
ممتاز قریشی: فوٹو اسٹیٹ کا شوشہ آپ کا ہے۔ میں تو آپ کے مؤقف کے ساتھ چل رہا ہوں۔
کیسے تسلیم کیا جائے کہ آج ہم جو قرآن پڑھتے ہیں وہ سیدنا علی نے جمع کیا تھا؟
میں نے اصل نکتہ کو واضح کیا۔
شیعہ سید کرار : سمجھ آیا یہاں تک؟
ممتاز قریشی: بغیر دلیل کیسے سمجھ آئے گا؟
شیعہ سید کرار : اس پر دلیل دینا ہے مجھے اور پھر آپ نے شیعت قبول کرنا ہے ٹھیک؟
ممتاز قریشی: تفسیر والا قرآن سیدنا علی نے نہیں دیا۔
لیکن جو اصل قرآن ہے وہ کب اور کس کو دیا تاکہ سمجھ آسکے کہ آج ہمارے پاس وہی قرآن ہے۔
شیعہ سید کرار : قرآن کریم کی آیات دے کر سمجھایا ہے
ممتاز قریشی: قرآن کریم سے اللہ کی ذمہ داری ثابت ہوئی، اب یہ ذمہ داری کن ذرائع سے پوری ہوئی؟ یہ اصل نکتہ ہے۔
شیعہ سید کرار : اور کتنے اعتراضات ہیں سب ایک ساتھ بیان کردیں
ممتاز قریشی: اعتراض کوئی نہیں۔
آپ صرف اپنا مؤقف ثابت کردیں۔
.1دلیل دیں کہ نبی کریم نے قرآن بمعہ تفسیر کتابی شکل میں لکھوایا تھا اور وہ فریضہ سیدنا علی نے سر انجام دیا تھا۔
.2تفسیر والا قرآن سیدنا علی نے نہیں دیا.
جو اصل قرآن ہے وہ کب اور کس کو دیا تاکہ سمجھ آسکے کہ آج ہمارے پاس وہی قرآن ہے۔
آپ کا مؤقف کچھ اس طرح ہے۔
.1آج سنیوں والا قرآن نہیں ہے بلکہ آج شیعوں والا قرآن ہے۔
.2 سیدنا علی نے قرآن جمع کیا تھا جو آج موجود ہے۔ .3 حضرت عمر فاروقؓ کا حسبنا کتاب اللہ کہنا بھی اس لئے تھا کہ دور نبوی میں سیدنا علی نے قرآن جمع کر کے امت میں بانٹ دیاتھا۔
سنیوں والا قرآن تو بقول آپ کے آج موجود نہیں ہے۔
اب آج ہم جو قرآن پڑھتے ہیں یہ بقول آپ کے
.1 سیدنا علی نے جمع کیا ہے۔
.2دور نبوی میں جمع کیا ہے۔. .3دور نبوی میں صحابہ میں تقسیم بھی کردیا تھا، ظاہر تبھی تو آپ نے دلیل دی کہ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ حسبنا کتاب اللہ۔
شیعہ سید کرار : نمبر 2 نقطہ ہماری بحث سے خارج ہوجائے گا جب نمبر 1 ثابت ہوگا کیوں کہ موجودہ قرآن امت کے پاس موجود ہے.
ممتاز قریشی: کیسے خارج ہوگا؟ امت کے پاس قرآن محفوظ حالت میں کیسے پہنچا؟
کوئی بھی کتاب ان مراحل سے گذرتی ہے۔
.1 تصنیف
.2 اشاعت یعنی مختلف نسخے چھپائی
.3 ترسیل یعنی پڑھنے والوں تک پہنچنا
شیعہ سید کرار : اشاعت حکومت وقت نے کی یہ تاریخی بات ہے۔ یہ بحث اس لیے خارج ہے کیوں کہ قرآن مجید آج ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ تفسیرقرآن کی طرح اگر قرآن مجید نا ہوتا تو محتاج دلیل ہوتا

صفحہ 8 از 13