انکارِ حدیث کا مطلب اور منکر حدیث کا مصداق کون؟ - دورِ حاضر…

انکارِ حدیث کا مطلب اور منکر حدیث کا مصداق کون؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 3
ایک دوسری مثال : کسی عورت کو یکے بعد دیگرے تین طلاقیں مل جائیں ، یعنی وہ عورت مبتوتہ(طلاق بتّہ کی حامل ) ہو جائے تو ایسی عورت کا نکاح اب اسی خاوند سے دوبارہ نہیں ہوسکتا ۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے باقاعدہ ہمیشہ آباد رہنے کی نیّت سے نکاح کرے ، پھر اتفاقیہ اس کو وہاں سے طلاق مل جائے یا زوج ثانی فوت ہو جائے تو اس کا دوبارہ نکاح پہلے خاوند سے کرنا جائز ہوگا۔ اس کے لئے قرآن کے الفاظ یہ ہیں : [حَتّیٰ تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہٗ]( البقرہ-230) ’’یہاں تک کہ وہ زوج اوّل کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرے‘‘۔
اس آیت میں نکاح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی لغت میں نکاح کے دو معنی ہیں ۔ پہلا عقد نکاح ۔ دوسرا ، وطی ( ہم بستری) کرنا ۔ حدیث کی رو سے یہاں نکاح بمعنی وطی (ہم بستری کرنا) ہے۔ حدیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتّہ دے دی، ان کی بیوی نے ایک دوسرے شخص (عبدالرّحمٰن بن زبیرؓ  ) سے شادی کر لی۔ لیکن عورت ان سے مطمئن نہ ہو سکی اور ان کے درمیان (بغیر ہم بستری کے) جدائی ہو گئی ، وہ عورت نبیﷺ کے پاس آئی اور صورت حال سے آگاہ فرمایا، آپ نے اس کی گفتگو سے اندازہ فرما لیا کہ یہ عورت اپنے پہلے خاوند ہی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔ لیکن آپ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ جب تک دونوں ایک دوسرے کا مزہ نہ چکھ لیں ، عورت پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتی۔ آپﷺ  کے الفاظ ہیں:"لا حتی یذوق عسیلتک و تذوق عسیلتہ"[9]
اس حدیث نے قرآن کریم کے لفظ تنکح کے معنی متعین کر دئے کہ یہاں نکاح کا لفظ صرف عقدِ نکاح کے لئے نہیں ، بلکہ وطی کے معنی میں ہے۔ لیکن اصلاحی صاحب نے اس حدیث کو ردّ کر کے یہاں نکاح بمعنی عقد نکاح لیا ہے۔[10]
تفسیر ’’ تدبّرِ قرآن‘‘ میں اور بھی بعض مثالیں ایسی ہیں جہاں واضح حدیث کو نظر انداز کر کے لغوی معنی یا اپنا خود ساختہ مفہوم مراد لیا ہے۔ شاید اس کی کچھ مزید تفصیل آگے آئے ۔ ہمارا یہاں صرف اصلاحی صاحب کی منکرینِ حدیث کی ہم نوائی کو واضح کرنا مقصود ہے۔ اور وہ الحمدُ لِلّٰہ واضح ہے۔
مسلّمہ اصطلاحات کے مفہوم میں تبدیلی ، ان کا انکار ہے:
اس تفصیل سے واضح ہے کہ مسلّمہ اصطلاحات کے مفہوم میں تبدیلی ، ان کا انکار ہے۔ اس کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
’’ ختمِ نبوّت ایک اصطلاح ہے جو قرآن مجید کے لفظ خاتم النبیین سے مستفاد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں ، آپ پر وحی و رسالت کا خاتمہ فرمادیا گیا ۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اور یہ اصطلاح قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ پر مبنی ہے اور اہلِ سنّت کے ہاں مسلّم ہے۔
لیکن مرزائی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی مہر کے بغیر کوئی نبی نہیں آ سکتا اور مرزائے قادیانی پر آپ کی مہر لگی ہوئی ہے اس لئے مرزائے قادیان بھی (نعوذُ باللہ) سچا نبی ہے۔
ذرا سوچئے کہ ان مذکورہ شرعی اصطلاحات کی نئی تعبیر کرنے والے کیا صلوٰۃ ، زکوٰۃ اور ختم ِنبوت کے ماننے والے کہلائیں گے یا ان کے منکر؟ ظاہر بات ہے کہ کوئی باشعور مسلمان ایسے لوگوں کو ان مسلّمات اسلامیہ کا ماننے والا نہیں کہے گا ، بلکہ یہی کہے گا کہ یہ نماز کے بھی منکر ہیں، زکوٰۃ کے بھی منکر ہیں اور ختم نبوت کے بھی منکر ہیں ۔ وعلیٰ ھٰذا القیاس دوسرے گمراہ فرقوں کی اپنی وضع کردہ اصطلاحات ہیں۔
سنّت اور حدیث ، اہلِ سنت کی مسلّمہ اصطلاح ہے:
اس طرح سنت یا حدیث بھی شرعی اصطلاح ہے ۔علاوہ ازیں یہ صحابہؓ اور تابعین (سلف) اور محدثین کے نزدیک ایک ہی چیز ہے۔ اس کا مفہوم و مصداق بھی چودہ سوسال سے مسلّم چلا آ رہا ہے۔اس کو جو اس کے مسلّمہ مفہوم ومصداق کے مطابق مانے گا ، وہ اس کو ماننے والا تسلیم کیا جائے گا اور جو یہ کہے گا کہ میرے نزدیک سنّت کا یہ مفہوم ہے اور حدیث کا یہ مفہوم ہے اور وہ مفہوم اس کا خود ساختہ اورمسلّمہ مفہوم کے یکسر خلاف ہے تو وہ حدیث و سنت کا ماننے والا نہیں کہلا سکتا ، چاہے وہ زبان سے حدیث و سنت کو ماننے کا ہزار مرتبہ بھی دعویٰ کرے۔ جیسے مرزائی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ختمِ نبوّت کے قائل ہیں ، لیکن وہ منکر ہی کہلائیں گے کیونکہ وہ ختمِ نبوّت کا وہ مفہوم نہیں مانتے جو مسلّمہ ہے ، بلکہ خود ساختہ مفہوم کی روشنی میں مانتے ہیں ۔
اس وضاحت کی روشنی میں جہاں پرویزی حدیث کے منکر ہیں ، وہاں اسی کے منہج پر چلنے والے فراہی، اصلاحی اور غامدی اور دیگر ان کے ہم نوا بھی منکرِ حدیث ہی قرار پاتے ہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب
[1] مشیر وفاقی شرعی عدالت ،نگران شعبہ تحقیق وتصنیف المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی
[2] اس کی پوری تفصیل اور مدلل ردّ کے لئے ملاحظہ ہو، راقم کی دو کتابیں ــ"حدرجم کی شرعی حیثیت" اور "فتنہ غامدیت"۔
[3] دیکھئے ۔ "مبادئ تدبرحدیث ـ"اور مقدمہ تفسیر تدبر قرآن
[4] میزان -از جاوید احمد غامدی، ص 14 ، طبع سوم ، 2008
[5] سلیم کے نام153/151
[6] طلوع اسلام ، جولائی 1966ء ، صفحہ 62
[7] طلوعِ اسلام ، فروری 1971ء -صفحہ39 -ستمبر 1983 ء ، صفحہ36
[8] ہانہ ’’محدث‘‘ لاہور، نومبر 2012ء ، صفحہ 105-112
[9] صحیح بخاری ، الطلاق، حدیث: 5260
[10] ملاحظہ ہو : تدبّرِ قرآن ، جلد اوّل ، صفحہ493-495
صفحہ 3 از 3