حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ کا سانحہ ارتحال -…

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ کا سانحہ ارتحال

  مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

صفحہ 1 از 3

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ کا سانحۂ ارتحال

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

۲۰ رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۴ مئی ۲۰۲۰ء بروز جمعرات شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، مولانا بدرِعالم میرٹھی نور اللہ مراقدہم کے شاگردِ رشید، اسلامی اکیڈمی مانچسٹر کے ڈائریکٹر، سٹی جامع مسجد برطانیہ کے بانی، جامعہ ملیہ لاہور کے مہتمم وبانی، رئیس المحققین، قدوۃ المناظرین، عقیدہ ختم نبوت کے محافظ و ترجمان، عظمتِ صحابہؓ واہل بیتؓ کے پاسبان، عالمِ اسلام کے عظیم اسکالر، مناظرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ ۹۵ سال کی عمر گزار کر برطانیہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے،

إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔

آپ علم وعمل، ہمہ جہت وسعتِ مطالعہ اور فکر ونظر کی گہرائی، ذہانت وفطانت، قوتِ حافظہ، برجستہ وبرمحل مستدلات میں اپنی نظیر آپ تھے۔ دینی فتنوں کی سرکوبی کا خاص ملکہ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا، جس سے اُمتِ مسلمہ کے مختلف افراد، حلقے اور طبقے ہمیشہ استفادہ کرتے رہے۔ اس بنا پر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ثانی حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن نور اللہ مرقدہٗ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دورہ حدیث سے فراغت پانے والے طلبہ کو مقارنہ بین المذاہب پڑھانے کے لیے شعبان ورمضان میں جامعہ میں آپ کو مدعو کیا کرتے تھے اور آپ اپنے وسیع تر مطالعہ اور معلومات کی روشنی میں طلبہ کو اپنے علوم وتجربہ سے مستفید فرمایا کرتے تھے۔ آپؒ نے ایک عرصہ تک تنظیمِ اہلِ سنت کے ترجمان پہلے سہ روزہ، پھر ہفت روزہ رسالہ’’دعوت‘‘ میں بطور مدیر خدمات انجام دیں، جس سے اس رسالہ کو خوب مقبولیت اور ترقی ملی۔ اس رسالہ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دارالعلوم دیوبندکے اس وقت کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی قدس سرہٗ نے لکھا :

’’قدر الشہادۃ قدر الشہود‘‘ عربی مشہور ضرب المثل ہے، کسی تصنیف وتالیف کی عظمت اور خوبی اس کے مؤلف کی عظمت و شخصیت سے جانی جاسکتی ہے۔ ’’دعوت‘‘ کی تالیف اور سنجیدہ علمی مضامین کی عظمت ومقبولیت کے لیے یہ کافی ہے کہ فاضل محترم علامہ خالد محمود صاحب کا اسم گرامی لے لیا جائے، جو اس کی سرپرستی اور نگرانی کا مبارک کام سرانجام دے رہے ہیں۔ اس پرچہ کے اصلاحی اور محققانہ مضامین خود ہی اس کی خوبی کی ضمانت ہیں۔ ’’دعوت‘‘ اسم بامسمیٰ ہے، اس کے علمی اور دینی مضامین حقیقی معنی میں اسلام اور دین کی دعوت میں اس دورِ پرفتن میں اسلام کی صحیح اور معتدل آواز الحمد للہ! اس پرچہ کے ذریعہ سے بلند ہورہی ہے۔‘‘ (عبقات، جلد اول، ص:۲۱، ط: دارالمعارف، اردو بازار، لاہور)

اور اسی ہفت روزہ ’’دعوت‘‘کے تحت آپ کی ادارت اور نگرانی میں رسولِ کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نمبر ۱۹۶۲ء، صدیق اکبرؓ نمبر ۱۹۶۲ء، فاروق اعظمؓ نمبر ۱۹۶۲ء، عثمان غنیؓ نمبر۱۹۶۳ء، علی المرتضیٰؓ نمبر، خاتم النبیین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نمبر وغیرہ نکالے گئے، جنہوں نے اپنے وقت میں خوب داد سمیٹی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب حفظہ اللہ کے بقول:’’ایک زمانہ تھا کہ ملک کی کسی جماعت ومدرسہ کے جلسہ میں علامہ خالد محمودؒ کی شرکت ضروری تصور ہوتی تھی۔ آپ تحریکِ ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں گرفتار بھی ہوئے۔ ختمِ نبوت کانفرنس چنیوٹ وچناب نگر میں آپ کی شرکت لازمی ہوتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ سال ختمِ نبوت مدرسہ مسلم کالونی چناب نگر کے منتہی طلبہ سے خطاب کے لیے زحمت فرمائی۔ ختم نبوت کانفرنس لندن وبرمنگھم میں آپ ہر سال شریک ہوتے، بڑے اہتمام سے آپ کا بیان ہوتا۔ یورپ، افریقہ، امریکہ تک آپ نے ختم نبوت کے ترانے بلند کیے۔ وفاقی شرعی عدالت لاہور میں ردِ قادیانیت پر آپ کا بیان تحریری جمع کرایا گیا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور جمعیۃ علماء اسلام برطانیہ کے کاموں میں آپ نے قدرے حصہ ڈالا۔ آپ کا اصل میدان تنظیمِ اہل سنت ہی تھا۔ حضرت علامہ نے مانچسٹر میں اسلامک اکیڈمی ، پھر سٹی جامع مسجد قائم کی جو آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت ہیں۔

آپ بلا کے حاضر دماغ تھے، حاضر جوابی آپ پر ختم تھی۔ علمی تحقیقی جوابات کے علاوہ الزامی دندان شکن جوابات کے بلاشبہ بادشاہ تھے۔ اخیر عمر تک کھڑے ہوکر بیان کرتے۔ نکتہ رسی آپ پر ختم تھی۔ بات سے بات نکالنے اور بامقصد نتیجہ خیز بنانے میں مہارتِ تامہ کے حامل تھے۔ اس سال جامعہ اشرفیہ میں ملاقات کے لیے حاضری ہوئی۔ جناب رضوان نفیس ، دوسرے رفقاء ہمراہ تھے، دو باتیں بطور خاص یاد ہیں، فرمایاکہ: قادیانیت کے احتساب کا شکنجہ کسنے کے لیے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی تشکیل وارتقاء مولانا محمد علی جالندھریؒ کا مجددانہ کارنامہ ہے۔ میرے نزدیک اس عنوان پر آپ کا وجود مجددانہ شان کا حامل تھا۔ دوسرا فرمایا: ہمارے بہت سارے محاذ ہیں، ہم نے ان سب کو وقت دیا۔ آپ (فقیر) پچاس سال سے ایک محاذ پر آنکھیں بند کیے کاربند ہیں، اس کے صدقہ میں آپ کو جہاں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی، وہاں سیدنا مسیح بن مریم علیہ السلام کا دستِ شفقت بھی حاصل ہوگا۔ یہ کہتے ہوئے آواز بھرَّا گئی۔ پھر فرمایا کہ: میں عمر کے اس پیٹے میں ہوں کہ یہ بات بلاوجہ نہیں کہہ رہا، اس پر مجھے انشراح کا مقام حاصل ہے۔‘‘

حضرت علامہ خالد محمودؒ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی سمیت کئی زبانوںمیں یکساں عالمانہ دسترس رکھتے تھے، آپ انگلینڈ میں مقیم تھے، اس وقت علمائے دیوبند کی بزرگ ترین ہستیوں میں سے تھے، آپ نے مختلف دینی محاذوں پر کام کیا اور ہر محاذ کی صفِ اول کی قیادت میں رہے۔ کچھ عرصہ پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت کے جج رہے۔

صفحہ 1 از 3