حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ کا سانحہ ارتحال -…

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ کا سانحہ ارتحال

  مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

صفحہ 2 از 3

آپ۱۹۲۵ء میں قصور شہر میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام پیر محمد غنی تھا۔ آپ نے تعلیم کا آغاز قصور سے کیا، اس کے بعد امرتسر جا کر مزید تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۴ء میں جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل، گجرات سے دورہ حدیث شریف کی سعادت حاصل کی اور دوسری بار جب جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورہ حدیث کا آغاز ہورہا تھا تو حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کے کہنے پر کہ: ’’ آپ دورہ حدیث دوبارہ جامعہ اشرفیہ میں پڑھیں، اس سے ادارے کو اور آپ کو فائدہ ہوگا‘‘ حضرت کے حکم کی تعمیل میں دوبارہ دورہ حدیث کیا، یوں آپ دونوں اداروں کے فاضل ہیں۔

آپ کے اساتذہ میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ، محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ، مولانا محمد حسنؒ (بانی جامعہ اشرفیہ لاہور)، شیخ الکل مولانارسول خان ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ، حضرت مولانا شمس الحق افغانی ؒاور مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ وغیرہ شامل ہیں۔

آپ نے علومِ اسلامیہ کے چودہ سو سالہ ذخائر میں غوطہ زن ہو کر اہلِ علم کے استفادہ کے لیے گراں قدر علمی سرمایہ تیار کیا، آپ کی تصانیف میں سے چند مشہور یہ ہیں:

۱:- قرآن کریم کے موضوع پر آثار التنزیل۔ ۲ جلد۔ ۲:- حدیث کے موضوع پر آثار الحدیث، ۲جلد۔ ۳:- فقہ کے موضوع پر آثار التشریع ،۲ جلد۔ ۴:- تصوف کے موضوع پر آثار الاحسان، ۲ جلد۔ ۵:-سوال وجواب پر مشتمل عبقات، ۲ جلد۔ ۶:- ایک تاریخی وتحقیقی دستاویز مطالعۂ بریلویت، ۹ جلد۔ ۷:- عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ، ۱جلد۔یہ کتاب امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ کی زندگی میں ان کے حکم کی تعمیل میں لکھی تھی، جس پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ نے تاریخی جملہ فرمایا تھا: ’’اگر عصر کے وقت کوئی باطل فتنہ وجود میں آئے اور علامہ خالد محمود کو اس کے رد میں لکھنے کا کہا جائے تو مغرب تک اس فتنہ کے خلاف مدلل تصنیف فرماچکے ہوں گے‘‘۔ ۸:- عقیدۃ خیر الامم فی مقامات عیسی ابن مریم ؑ،۱ جلد۔ ۹:- تجلیاتِ آفتاب، ۱جلد۔ ۱۰:- حجیتِ حدیث (انگلش) ۱ جلد۔ ۱۱:-اسلام ایک نظر میں (انگلش) ۱ جلد۔ ۱۲:- معیارِ صحابیت، ۱جلد۔ ۱۳:- عقیدۃ السلام فی الفرق بین الکفر والاسلام۔ ۱۴:- مرزا قادیانی، شخصیت وکردار اپنی تحریرات اور پیش گوئیوں کے آئینہ میں۔

آپ کو علامہ کہنے کی وجہ کے بارے میں مولانا عبدالجبار سلفی لکھتے ہیں کہ :’’میں نے علامہ خالد محمودؒ سے خود پوچھا تھا تو آپ نے فرمایاکہ: ’’ابو العطاء مولوی اللہ دتہ قادیانی سیالکوٹ وارد ہوا اور اہلِ حدیث عالم مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے سینگ لڑانے کے چیلنج دینے لگا، تب مولانا موقع پہ موجود نہ تھے۔ میں نے کہا: پہلے مجھ سے مناظرہ کرو۔ تالی بج گئی کہ واہ واہ نوجوان نے چیلنج منظور کیا ہے، دیکھیے! نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے؟ گفتگو شروع ہوئی (اس دوران علامہ صاحب نے اپنا مخصوص جملہ دُہرایا کہ :’’ہمارا کیا ہے؟ گھڑی دیکھی اوربات کہہ دی!‘‘) چنانچہ چندمنٹوں میں ہی اللہ دتہ قادیانی عرق آلُود ہو چکا تھا۔ عوام توطالبِ حق ہونے سے زیادہ تماش بین ہوتے ہیں۔ لوگوں نے نعرہ بازی شروع کردی کہ ایک لڑکے نے مرزائی رِبّی کے اوسان خطا کردیئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کے اللہ دتہ قادیانی شرمسار ہوکر پنجابی لہجے میں یوں طعنہ زن ہوا کہ:’’جا اوئے جا، تیری تے اجے داڑھی ای نئیں آئی۔‘‘ (جااوجا! تمہاری تو ابھی ڈاڑھی ہی نہیں آئی) علامہ صاحبؒ نے فرمایاکہ: اللہ تعالیٰ نے میرے دماغ میں فی البدیہہ جواب ڈالا: اللہ دتہ قادیانی باریش تھا اورخاصی لمبی ڈاڑھی تھی، میں نے بھی برجستہ پنجابی لہجے میں کہا: ’’ میری داڑھی تے آئی نئیں، پَرتیری میں ریہن نئیں دینی۔‘‘ (میری ڈاڑھی توابھی نکلی ہی نہیں، مگرتیری بھی میں نے نہیں چھوڑنی) اس مکالمہ آرائی میں عوام کاجوش قابلِ دید تھا۔ اس دوران مجمع سے آواز آئی: ’’واہ بھئی علامہ واہ، واہ بھئی علامہ واہ‘‘ یہ الفاظ اللہ جانے کس قلندر کے منہ سے نکلے تھے کہ پھر ‘‘خالد محمود‘‘اور ’’علامہ‘‘ ایسے لازم وملزوم ہوئے کہ روح وجسم کا رشتہ بھی کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتا ہے، مگر ’’خالد محمود‘‘ اور ’’علامہ‘‘ آج دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اکٹھے ہی ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ :’’ علامہ صاحبؒ فرماتے تھے کہ جس زمانہ میں سینماؤں کا رواج تھا تو اُس دور میں لاہور کے اندر ایک کنونشن منعقد ہوا، جس کاعنوان تھا ’’سینما کے کچھ روشن پہلُو‘‘ فرمایا کہ: مجھے بھی اس میں دعوتِ خطاب دی گئی جو میں نے قبول کرلی۔ معاصر احباب نے کہا کہ علامہ صاحب! آخر آپ وہاں کیا خطاب کریں گے؟ تو میں نے وہی جواب دیا: ’’ہمارا کیا ہے؟ گھڑی دیکھ لی اور بات کہہ دی۔‘‘ چنانچہ میں نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ: ’’بھائیو! جو چیز اندھیرا کر کے دیکھی جاتی ہو، اُس کے روشن پہلو آخر کون سے ہوسکتے ہیں؟‘‘ سینمائی نظم کاعلم رکھنے والے جانتے ہیں کہ سینما میں جب شو کا آغاز ہوتا ہے تو لائٹیں بند کردی جاتی ہیں، تو میرا اشارہ اس طرف تھا۔ بس یہ کہنے کی دیرتھی، پوراہال تالیاں پیٹتے ہوئے کھڑا ہوگیا اور میں فورًا اپنی گفتگو ختم کرکے اسٹیج سے اُتر آیا۔‘‘

صفحہ 2 از 3