حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ کا سانحہ ارتحال -…

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ کا سانحہ ارتحال

  مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

صفحہ 3 از 3

حضرت علامہ خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ اور تربیت یافتہ محترم جناب سجاد ضیغم صاحب آپ کی تصنیف ’’مطالعۂ بریلویت‘‘ کے بارہ میںلکھتے ہیں کہ: ’’اس موقع پر جسٹس (ر) ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ کی آٹھ جلدوں پر مشتمل کتاب ’’مطالعۂ بریلویت‘‘ کے حوالے سے ایک توضیح ضروری ہے ، کیونکہ کچھ لوگوں نے اس کو تحقیقی اصولوں پر پرکھے اور بالاستیعاب پڑھے بغیر اس پر بے بنیاد تبصرے شروع کر رکھے ہیں، یہ فرقہ واریت پر مبنی نہیں، یہ Bacically ایک بہت وسیع عالمانہ ومحققانہ مطالعہ ہے، اس خاکسار نے علامہ صاحبؒ سے سنا تھا کہ جس وقت انہیں شریعت اپیلٹ بینچ سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا جارہا تھا تو اس وقت Comitte Appointment نے یہی سوال کیا تھا کہ آپ کی یہ کتاب فرقہ وارانہ ہے؟ آپ نے انہیں جواب دیا تھا کہ میں بنیادی طور پر ریسرچ کا آدمی ہوں تو یہ میرا ریسرچ ورک ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے اس میں فلاں فلاں حوالہ غلط ہے، تو کوئی محقق اس کا رد کردے یا اگر کسی کو اس سے اختلاف ہے تو وہ اس کا استناد و استدلال کے ساتھ جواب لکھے، جو کہ آج تک نہیں ہوسکا۔ صرف یہ کہنا کہ یہ فرقہ وارانہ ہے تو یہ تو کوئی بات نہیں۔ اگر معترضین کے اس موقف کو اصول بنانا ہے تو اس الزام سے تو شاید ان کی اپنی کوئی کتاب نہ بچ سکے۔ میرا انہیں چیلنج ہے ، وہ اسی کلیے کے ساتھ سامنے آجائیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرلیتے ہیں۔ جہاں تک شریعت اپیلٹ بینچ کے فیصلوں کا تعلق ہے وہ میں نے قرآن وسنت کے معیار پر کرنے ہیں۔ اس بیان پر انٹرویو وتقرری کمیٹی کی تسلی ہوئی اور علامہ صاحب کو جج تعینات کردیا گیا۔‘‘

آپؒ کا بیعت کا تعلق یکے بعد دیگرے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا مسیح اللہ خان شیروانی ؒ اور مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی ؒسے رہا۔اور آخر میں حضرت مولانا مسیح اللہ خانؒ کے خلیفہ مولانا وصی اللہ صاحب سے تھا، ان سے اجازتِ خلافت بھی تھی۔

آپ کی دینی و علمی خدمات سے مسلمانانِ اہلِ مشرق اور اہلِ مغرب دونوں نے فائدہ حاصل کیا، آپ کا زیادہ وقت اہلِ یورپ کو دین کی دعوت دینے میں گزرا۔ آپ کے اہل وعیال برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں قیام پذیر ہیں۔ علامہ صاحبؒ قلیل عرصے کے لیے ہر سال پاکستان تشریف لاتے تھے اور قیامِ پاکستان کے دوران مختلف اداروں اور جماعتی احباب کے ہاں وقت گزارتے تھے۔

آپ قدیم و جدید فکر و فلسفہ کے بھی عظیم شناور تھے، جو کہ آپ کی تصانیف سے نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے، آپ قیام پاکستان کے دوران مختلف اوقات میں مرے کالج سیالکوٹ، ڈگری کالج خانیوال اور ایم او کالج لاہور میں بطور پروفیسر خدمات سر انجام دیتے رہے اور بطور خاص عصری تعلیمی اداروں میں علمِ دین کے خلاف پروپیگنڈوں اور باطل کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کرتے رہے۔ حضرت علامہ خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ کی ذات وصفات کا احاطہ کرنا بہت ہی مشکل ہے، آپ کی شخصیت علومِ نبوت کی برکت سے مالا مال اور دفاعِ اسلام کی مجسم تصویر تھی، سفر و حضر میں آپ کو ایک طویل عرصہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ، امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی رفاقت حاصل رہی ہے۔آپ کچھ عرصہ بیمار رہے، بیماری سے پہلے ضعف کی بناپر آپ گر گئے تھے، جس سے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، برطانیہ کے ایک ہسپتال میں اس کے علاج کے سلسلے میں داخل تھے کہ وہاں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

آپ نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹے دو بیٹیاں ہزاروں شاگرد اور لاکھوں عقیدت مند سوگوار چھوڑے۔

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، ناظم تعلیمات حضرت مولانا مفتی امداد اللہ یوسف زئی، تمام اساتذہ و انتظامیہ حضرت علامہ خالد محمودؒ کے انتقال سے اپنے آپ کو تعزیت کا مستحق سمجھتے ہیں اور حضرت کے اہل وعیال ، پسماندگان اور جملہ متوسلین سے تعزیت کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت علامہ صاحبؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آپ کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے، آپ کے جملہ متعلقین، احباب، مریدین اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اُمتِ مسلمہ کو جانے والوں کا بدل عطا فرمائے،

آمین بجاہ سید الأبرار والمرسلین ، اللّٰہم لاتحرمنا أجرہ ولاتفتنا بعدہ

’’بینات‘‘ کے باتوفیق قارئین سے حضرتؒ کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست

ہے۔



صفحہ 3 از 3