سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سیدہ اسماء…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اہل بیت کے ساتھ اچھا سلوک

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 2 از 3

رسول اللّٰہﷺ نے دو مٹھیاں درہموں کی بھر کر ابو بکرؓ کے حوالے کیں اور اس کو بازار جانے کا حکم دیا کہ فاطمۃ الزہریٰ کی شادی کے لئے کپڑے اور دوسرا سامان خرید کر لے آئے۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اور صحابہ کی ایک جماعت بھی ابوبکرؓ کے ساتھ روانہ ہوئی۔ جب بازار میں گئے تو ہر ایک جس چیز کو پسند کرتا، وہ چیز ابوبکرؓ کو دکھاتا۔ پھر انہی کے مشورہ سے ہر چیز خرید کی گئی۔

¹-جلاء العیون جلد1 صفحہ 176، زندگانی فاطمۃ الزہریٰ۔ ایران۔

²-امالی شیخ طوسی جلد1 صفحہ 42، مطبوعہ قم ایران۔

سیدہ فاطمہؓ کے لئے ان حضرات نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مرضی سے مندرجہ ذیل اشیاء خریدیں:

 ایک قمیص، ایک اوڑھنی، ایک خیبری سیاہ چادری، ایک بنی ہوئی چارپائی، بستر کے دو گدّے (ایک گدّا کھجور کی چھال سے بھرا ہوا اور دوسرا بھیڑ کی اُون سے) اور اذخر (گھاس) سے بھرا ہوا، ایک اونی کپڑا، ایک چمڑے کا مشکیزہ، دودھ کے لئے ایک لکڑی کا پیالہ، ایک گھڑا اور ایک مٹی کا کوزہ۔ بازار سے جب یہ سامان خریدا گیا تو سیدہ فاطمہؓ کے اس جہیز کے سامان کی کچھ اشیاء سیدنا صدیق اکبرؓ نے اٹھائیں اور باقی اشیاء دوسرے صحابہ کرامؓ نے اٹھائیں، جو سیدنا ابوبکرؓ کے ساتھ تھے۔ جب یہ سامان حضورﷺ کے سامنے رکھا گیا تو آپﷺ نے ایک چیز کو اٹھا کر ملاحظہ فرمایا اور ساتھ یہ دعا فرمائی۔

خدا وندا! مبارک گردان این رابر اہل بیت من 

اے اللہ! میرے اہلِ بیت پر ان چیزوں میں برکت عطا فرما۔

¹-جلاء العیون جلد1 صفحہ 176، زندگانی فاطمۃ مطبوعہ ایران۔

زوجہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے سیدہ فاطمہؓ کے ایامِ مرض میں خدمت کی اور پھر سیدہ فاطمہؓ کی رحلت کے بعد ان کو غسل بھی دیا

شیعوں کے بزرگ محدث باقر مجلسی (المتوفی 1111ھ) نے لکھا ہے:

در کشف الغمہ وغیرآن روایت کردہ اند کہ چوں وفات فاطمہ نزدیک شدٗ اسمآءبنت عمیس راگفت کہ آبی بیار کہ من وضو بازم، پس وضو ساخت۔

 کشف الغمہ اور دیگر کتب میں روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہؓ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کو کہا کہ پانی لے آؤ تاکہ میں وضو کروں۔ پھر وضو کیا۔

¹-جلاء العیون جلد1 صفحہ 235، زندگانی فاطمۃ مطبوعہ ایران

²-کشف الغمہ جلد1 صفحہ 500 فی وفاتہا علیہا السلام

³-منتہی الآمال جلد صفحہ 137، دربیان وفات فاطمہ علیہا السلام 

پس حضرت امیر المؤمنین و اسمآء اورا غسل دادند پس حضرت فاطمہؓ کو حضرت علی اور اسماء بنت عمیسؓ (زوجہ ابوبکرؓ) نے غسل دیا۔

¹-جلاء العیون جلد1 صفحہ 235، زندگانی فاطمۃ مطبوعہ ایران عکس 375

²-احتجاج طبرسی حاشیہ جلد1 صفحہ 126، احتجاج امیر المؤمنین دیکھیں عکس صفحہ 126

³-نزل الابرار فی مناقب اہل بیت الاطہار صفحہ 77 مطبوعہ ایران

⁴-بحارالانوار جلد43 صفحہ 190، تاریخ سیدۃ النسآء مطبوعہ بیروت

⁵-کشف الغمہ جلد1صفحہ 500، فی وفاتہا علیہا السلام ایران

سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علیؓ سے سیدہ فاطمہؓ کی صحت کا حال دریافت کیا

سلیم بن قیس ہلالی (المتوفی90ھ) لکھتا ہے:

وكان علي عليه السلام يصلي في المسجد الصلوات الخمس. فكلما صلى قال له أبو بكر وعمر: (كيف بنت رسول الله)؟

 اور حضرت علیؓ پانچوں نمازیں (باجماعت) مسجد میں ادا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کی دختر کی طبیعت کیسی ہے؟

¹-کتاب سلیم بن قیس صفحہ 253 مطبوعہ قم ایران

²- بحار الانوار جلد3 صفحہ 199، مطبوعہ بیروت لبنان۔

(شیعہ مکتبہ شاملہ: سليم بن قيس الهلالي (22/ 16)

سیدنا حسنؓ و حسینؓ بیمار ہوئے تو رسُول اللہﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے ان کی عیادت کی

و عن ابن عباس رضي الله عنه قال مرض الحسن و الحسين فعادهما جدهما رسول الله صلی الله عليه وسلم و معه أبو بكر و عمر رضي الله عنهما۔

 حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حسنؓ اور حسینؓ دونوں بیمار ہوئے تو ان کے نانا رسول اللہﷺ کے ساتھ ابوبکر و عمرؓ نے بھی ان کی عیادت کی۔

کشف الغمہ جلد1 صفحہ 302، مانزل فیہ علیہ السلام من القرآن

 (شیعہ مکتبہ شاملہ: كشف الغمة (2/ 78)

سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا حسنؓ کو کندھے پر اٹھایا تو سیدنا علیؓ مسکرا دیئے

صلىٰ أبو بكر رضي الله عنه صلوة العصر ثم خرج يمشي و معه علي علیه السلام ع فرأى الحسن يلعب بين الصبيان فحمله أبو بكر على عاتقه و قال بأبي شبيه بالنبي ليس شبيها بعلي و علي ع يضحك

 حضرت ابوبکرؓ عصر کی نماز ادا کرکے (مسجد سے) باہر نکلے۔ ان کے ساتھ حضرت علیؓ بھی تھے۔ جب حضرت حسنؓ کو دیکھا جو بچوں میں کھیل رہے ہیں تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت حسنؓ کو کندھے پر اٹھاکر فرمایا کہ میرے والدین آپ پر قربان! یہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں علیؓ سے مشابہت نہیں رکھتے۔ اس وقت حضرت علیؓ کھڑے ہنس رہے تھے۔

کشف الغمہ جلد1 صفحہ 550، فی فضائل مطبوعہ نجف عراق

 (شیعہ مکتبہ شاملہ: كشف الغمة (2/ 21)

خلاصہ کلام

اس باب سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:

¹-رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کے موقعہ پر خلفاء ثلاثہؓ کو گواہ بناکر ان کے ایمان اور اسلام اور فضیلت کو ظاہر فرمایا کیونکہ نکاح میں گواہ صرف مسلمان ہی ہوسکتا ہے جو کہ معزز بھی ہو۔ غیر مسلم یا منافق نہیں ہوسکتا۔

²- اس نکاح سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ بشمول سیدنا علیؓ بہت خوش ہوئے۔

³-سیدنا علیؓ کے ساتھ شادی میں، سیدنا عثمانؓ نے بھرپور مالی تعاون کیا، جس سے سیدہ فاطمہؓ کے جہیز وغیرہ کا انتظام کیا گیا۔

⁴-سیدنا عثمانؓ کے اس مالی تعاون سے نبی اکرم ﷺ بہت خوش ہوئے اور سیدنا عثمانؓ کے لئے دعائے خیر فرمائی۔

⁵-سیدہ فاطمہؓ کے لئے جہیز کا سامان خریدنے کے لئے رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب فرمایا۔ جو ان پر اعتماد کی دلیل ہے۔

⁶-سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علیؓ سے سیدہ فاطمہؓ کی صحت کا حال دریافت کیا۔

⁷-حسنین کریمینؓ کی عیادت کے لئے سیدنا ابوبکرؓ اورسیدنا عمرؓ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔

⁸-سیدنا ابوبکرؓ نے سیدناحسنؓ کو کندھوں پر اٹھایا توسیدنا علیؓ ہنس رہے تھے۔ یہ خوشی کی علامت ہے۔

صفحہ 2 از 3