سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سیدہ اسماء…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اہل بیت کے ساتھ اچھا سلوک

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 3 از 3

⁹-سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ زوجہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے، سیدہ فاطمہؓ کو آخری غسل دیا۔

 ناظرین کرام! آپ دیکھیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ اورسیدنا عثمانؓ کے خاندانِ نبوّت کے ساتھ کیسے خوشگوار اور بہترین برادرانہ تعلقات تھے اور یہ حضرات کس طرح ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی میں باہم شریک تھے۔ ان میں تو ایک دوسرے کے لئے نہایت ہی نیک حذبات تھے جیسا کہ مندرجہ بالا روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی آپس میں کسی قسم کی ناراضگی نہیں تھی۔ کیونکہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی زوجۂ محترمہ نے سیدہ فاطمہؓ کی احسن طریقے سے تیمارداری کی اور آخری غسل دینے کی سعادت بھی حاصل کی اور سیدنا ابوبکرؓ بھی سیدنا علیؓ سے سیّدہ فاطمہؓ کی صحت کا حال وقتاً فوقتاً پوچھتے رہتے تھے۔ یہ ایسی باتیں ہیں، جن سے ان حضرات کی باہمی محبت اور حسن سلوک ثابت ہوتا ہے نہ کہ عداوت و ناراضگی۔

 محترم قارئین! آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا علیؓ کے حبالۂ نکاح میں2ھ اور نبوت کے پندھرویں برس میں آئیں۔ اس مبارک نکاح میں خلفاء ثلاثہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ،سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ نے بہترین اور ایسا مثالی کردار ادا کیا ہے جو کہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں مرقوم ہے۔ جسے دیکھ کر دشمنانِ صحابہ کرامؓ کو ایسی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ چیخ اٹھتے ہیں اور روتے ہیں۔ ہم دشمنانِ صحابہؓ سے پوچھتے ہیں کہ اگر خلفاء ثلاثہؓ ایماندار نہ تھے بلکہ منافق تھے (نعوذباللہ!) تو پھر رسول اللہﷺ نے خاتونِ جنت کے اس عظیم نکاح میں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق منعقد ہوا۔سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ وغیرہ کو گواہ کیوں بنایا؟ اور سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کا مالی تعاون کیوں قبول فرمایا؟ اور پھر اس مال سے خاتونِ جنت کا جہیز کیوں خریدا؟ اور رسول اللہﷺ نے سامان خریدنے کے لئے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب کیوں فرمایا؟ اور اس کے علاوہ سیدنا عثمانؓ کے لئے دعائے خیر کیوں فرمائی؟ دشمنانِ صحابہ کرامؓ ان سوالات کا کیا جواب دیں گے؟

محترم دوستو! ان روایات سے بلکل روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ سیدنا عثمانؓ خاندانِ نبوّت کے کس قدر ہمدرد اور خیر خواہ تھے اور سیدنا علیؓ کے ساتھ ان کو کس قدر محبت ہے کہ اپنا مال اپنے دوست کی شادی میں خرچ کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں اور پھر نبی اکرمﷺ کو یہ کام اتنا پسند آیا کہ سیدنا عثمانؓ کے لئے دعائے خیر فرمائی۔

 بالفرض اگر سیدنا عثمانؓ مؤمن نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول اللہﷺ کو کبھی بھی ان کے حق میں دعائے خیر کرنے نہ دیتے۔ کیونکہ منافق کے لئے دعائے خیر کرنے کی ممانعت نصِ قرآن میں موجود ہے۔ یاد رکھیں! صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے باہمی محبت اور پیار کے رشتوں کی وجہ سے منافق قوم قیامت تک جلتی رہے گی اور روتی پیٹی رہے گی۔

؏ بغض جس سینہ میں ہو صدیقؓ و فاروقؓ کا

 ہے یہی بہتر کہ وہ سینہ سدا پٹتا رہے۔


صفحہ 3 از 3