رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ…

رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ پر امام کرنے کا حکم فرمایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہے۔

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 1 از 3

رسول اللّٰہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اپنے مصلّیٰ پر امام کرنے کا حکم فرمایا، سیدنا علیؓ اور دیگر صحابہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہے

 مصلّٰی نبویﷺ پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی امامت پر اہلِ سنت والجماعت کی کتابوں سے واضح ثبوت

نبی اکرمﷺ ایک مرتبہ ایامِ مرض میں بار بار فرما رہے تھے کہ کیا لوگ عشاء نماز پڑھ چکے ہیں؟ عرض کیاگیا کہ حضورﷺ! نہیں بلکہ آپﷺ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپﷺ نے ایک شخص کو سیدنا ابوبکرؓ کی طرف بھیجا کہ آکر نماز پڑھائیں:

فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ

پس اس شخص نے کہا کہ (اے ابوبکر صدیقؓ) آپؓ کو رسول اللّٰہﷺحکم فرماتے ہیں کہ آپؓ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

(بخاری کتاب الاذان، مسلم کتاب الصلوٰۃ دیکھیں عکس صفحہ467)

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ. فَقَالَ:مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ

 اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے ایامِ مرض میں سیدنا بلالؓ نے آپﷺ کو نماز پڑھانے کے لئے عرض کیا تو آپ ﷺنے فرمایا ابوبکرؓ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

(مسلم کتاب الصلٰوۃ، دیکھیں عکس صفحہ469)

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ 

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے مرض الموت کے دوران سیدنا ابوبکرؓ نماز پڑھاتے رہے۔

(مسلم کتاب الصلوٰۃ ملاحظہ فرمائیں عکس صفحہ470)

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ 

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے آخری ایام مرض میں تین دن تک نماز پڑھانے نہیں نکلے۔ اس دوران نماز کے لئے اقامت ہوتی تو سیدنا ابوبکرؓ آگے بڑھ کر نماز پڑھاتے۔

(مسلم کتاب الصلوٰۃ ملاحظہ فرمائیں عکس صفحہ471)

سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان کچھ اختلاف ہوا۔ جس کی خبر رسول اللہﷺکو دی گئی۔ تو نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز پڑھا کر ان میں صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے اور سیدنا بلالؓ کو حکم فرمایا:

يَا بِلَالُ إِذَا حَضَرَ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» . فَلَمَّا حَضَرَتْ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَقَدَّمْ , فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ،

اے بلال! جب نمازِ عصرکا وقت ہوجائے اور میں نہ آؤں توسیدناابوبکرؓ کو کہنا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (جب عصر کا وقت ہوا) تو سیدنا بلالؓ نے اذان دی۔ پھر اقامت کہی اورسیدنا ابوبکرؓ سے کہا کہ نماز پڑھائیں پس سیدنا ابوبکرؓ نے نماز شروع کی۔

(نسائی باب استخلاف الامام اذا غاب ملاحظہ فرمائیں عکس صفحہ 482)

 سیدنا عبداللہ بن زمعہؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ بیماری کی تکلیف میں تھے، اس وقت بعض صحابہ کرامؓ کے ساتھ میں بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ اتنے میں سیدنا بلالؓ آئے اور نماز پڑھانے کے لئے عرض کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کسی کو کہیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں (عبداللہ) باہر آیا تو دیکھا کہ سیدنا عمر بن خطابؓ لوگوں میں موجود تھے۔ اس وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ موجود نہ تھے۔ میں نے سیدنا عمرؓ کو کہا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدنا عمرؓ آگے ہوئے اور تکبیر کہی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سُنی، (کیونکہ سیدنا عمرؓ بلند آواز والے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکرؓ کہاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکرؓ کے سوا کسی دوسرے شخص کا انکار کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو بلوایا تو انہوں نے لوگوں کو وہی نماز پڑھائی، جو سیدنا عمرؓ پڑھا رہے تھے۔

ابو داؤد باب استخلاف ابی بکرؓ صفحہ 518 دیکھیں عکس صفحہ468

سیدنا عبداللہ بن زمعہؓ فرماتے ہیں:

جب رسول اللہﷺنے سیدنا عمرؓ کی آواز سنی تو آپﷺ نے حجرہ مبارکہ سے سر مبارک باہر نکال کر فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں! لوگوں کو ابوقحافہ کے بیٹے (ابوبکرؓ) ہی نماز پڑھائیں گے۔ اس وقت نبی اکرمﷺ غصّہ کی حالت میں تھے۔

(ابوداؤد عربی مع اردو صفحہ 518 دیکھیں عکس صفحہ479)

 قطب ربانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادیؒ (المتوفی561 ھ) سیدنا علیؓ سے روایت نقل کرتے ہیں:

اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلِیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ اَبَا بَکْرِ نِ الصِّدِّیْقَ رَضِیَ اللہُ فِیْٓ اِقَامَۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ اَیَّامَ مَرْضِہ

 نبی اکرمﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اپنے مرض میں فرض نماز پڑھانے کے لئے اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔

(غنیۃ الطالبین عربی مع اردو جلد1 صفحہ 278طبع کراچی عکس صفحہ 490)

محترم قارئین! حوالے تو بہت ہیں، لیکن کتاب کی ضخامت بڑھنے کی خوف سے اختصار کرتے ہوئے چند حوالے شیعوں کی معتبر کتابوں سے بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ سیدنا علیؓ بشمول سیدنا حسنینؓ و جمیع صحابہ کرامؓ ،سیدنا ابوبکرؓ کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء میں سیدنا علیؓ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ رسول اللّٰہﷺکی زندگانی مبارک میں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں بھی نماز پڑھتے رہے

شیعوں کےعلامہ ابراہیم بن حسین الدنبلی (المتوفی 1291ھ) الدرۃ النجفیہ شرح نہج البلاغہ صفحہ 225 مطبوعہ عراق اور ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 543 مطبوعہ بیروت میں لکھتے ہیں:

صفحہ 1 از 3