رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ…

رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ پر امام کرنے کا حکم فرمایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہے۔

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 2 از 3

ثم اشتد به المرض و كان عند خفة مرضه يصلي بالناس بنفسه و قد اختلف في صلاته بهم فالشيعة تزعم أنه لم يصل بهم إلا صلاة واحدة و هي الصلاة التي خرج رسول الله صلی الله عليه وسلم فيها يتهادى بين علي ع و الفضل فقام في المحراب مقامه و تأخر أبو بكر۔و الصحيح عندي و هو الأكثر الأشهر أنها لم تكن آخر صلاة في حياته صلی الله عليه وسلم بالناس جماعة و أن أبا بكر صلى بالناس بعد ذلك يومين ثم مات 

پھر آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ اور آپﷺاس وقت لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، جب تک بیماری میں تخفیف رہی۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ شیعہ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف ایک ہی نماز پڑھائی ہے، جس کے لئے آپ ﷺحضرت علی اور فضل بن عباسؓ کے سہارے گھر سے مسجد تشریف لائے اور محراب میں اپنی جگہ پر آکر کھڑے ہوگئے اور صدیق اکبر پیچھے ہوگئے۔ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی زندگی میں یہ آخری نماز نہ تھی۔ بلکہ اس کے بعد بھی دو دن ابوبکرؓ نماز پڑھاتے رہے۔ پھر رسول اللہﷺ کا وصال ہوا۔

¹-الدّرۃ النجفیّہ شرح نہج البلاغہ 225 دیکھیں عکس صفحہ 154

²-ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد1 صفحہ 184 مطبوعہ قم ایران۔ عکس صفحہ152

شیعہ مکتبہ شاملہ: شرح نهج البلاغة - ابن ابي الحديد (198/ 2)

 شیعوں کا محدث احمد بن علی بن ابی طالب طبرسی (المتوفی 558ھ )اور علی بن ابراہیم قمی (المتوفی 307ھ) لکھتے ہیں:

ثُمَّ قَامَ وَتَهَيَّأَ لِلصَّلاةِ، وَحَضَرَ الْمَسْجِدِ، وَصَلّٰى خَلْفَ أَبِيْ بَكْرٍ

 پھر حضرت علیؓ اٹھے اور نماز کے لئے تیار ہوئے اور مسجد میں جاکر ابوبکرؓ کے پیچھے نماز ادا کی۔

¹-احتجاج طبرسی جلد1 صفحہ 126 مطبوعہ نجف عراق۔ دیکھیں عکس صفحہ363

²- تفسیر قمی جلد2 صفحہ 159مطبوعہ نجف عراق

شیعہ مکتبہ شاملہ:الإحتجاج (10/ 18)

وكان علي عليه السلام يصلي في المسجد الصلوات الخمس. فكلما صلى قال له أبو بكر وعمر: (كيف بنت رسول الله)؟ 

حضرت علیؓ پانچوں وقت کی نماز مسجد میں ادا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہﷺ کی بیٹی کی صحت کیسی ہے؟

(کتاب سلیم بن قیس ہلالی صفحہ353 مطبوعہ قم ایران)

شیعہ مکتبہ شاملہ: سليم بن قيس الهلالي (22/ 16)

واضح ہوکہ کتاب سلیم بن قیس شیعہ مذہب کی انتہائی معتبر و مستند کتاب ہے، جس کے بارے میں شیعہ، امام جعفر صادقؒ (المتوفی 148ھ) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جس کے پاس کتاب سلیم بن قیس نہیں ہے تو اس کے پاس ہماری احادیث ہی نہیں ہیں۔ ہماری محبت کا دم بھرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ کتاب اپنے پاس رکھیں۔ اِسی کتاب سے ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علیؓ مسجد میں اکٹھے نماز پڑھتے تھے۔ اور حضرت علیؓ سے رسول اللہﷺ کی دختر نیک اختر کی طبیعت کا حال بھی معلوم کرتے رہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے درمیان محبت، الفت، ہمدردی اور بے انتہا پیار تھا۔ دشمنی و رنجش وغیرہ کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ یہ حضرات تو رُحَمآءُ بَیْنَھُمْ کی زندہ مثال تھے۔

شیعوں کے رئیس المحدثین عبداللہ بن جعفر الحمیری قمی (المتوفی 292ھ) جو حضرت امام حسن عسکریؒ کا بلا واسطہ خاص شاگرد ہے، وہ روایت کرتا ہے:

عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ عَلَیْھِ السَّلَامُ قَال لَمَّا اسْتَخْلَفَ اَبُوْبَکْرٍ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فِیْ یَوْمِ الْجُمْعَۃِ وَقَدْ تَھَیَّأ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ لَلْجُمْعَۃِ

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ مقرر ہوئے تو بروز جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حضرت حسن و حسینؓ نے جمعہ نماز پڑھنے کی تیاری کی۔

(الجعفریات مع قرب الاسناد صفحہ، 212 مطبوعہ قم ایران)

مقام غور

(شیعہ و سنی) فریقین کی کتابوں سے واضح ہوا کہ رسول اللہﷺ کے ایام مرض میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی نماز پڑھاتے رہے اور ان کو حکم بھی یہی تھا۔ تمام صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت عظامؓ آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے نماز کی امامت کے لئے سیدنا ابوبکرؓ کے علاوہ کسی اور شخص کو منتخب نہیں فرمایا کہ میرے چچا سیدنا عباسؓ یا سیدنا علیؓ نماز پڑھائیں بلکہ یوں فرمایا کہ اللہ اور مسلمان سیدنا ابوبکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو امامت کے لئے تسلیم نہیں کرتے اور خود سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ نے بھی آپﷺ کی زندگی مبارک میں،سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء میں نمازیں ادا کیں، اسی طرح بعد میں بھی آپؓ ہی کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہیں۔ تاریخ سے کوئی بھی شخص اس بات کو ثابت نہیں کرسکتا کہ نبی آخرالزمان، سیدالمرسلین امام القبلتین، حضرت محمد مصطفیٰﷺ، احمد مجتبیٰﷺ نے اپنے مبارک مصلیّٰ پر اپنی زندگی کے آخری ایام میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے علاوہ کسی دوسرے کو نماز کے لئے امام مقرر فرمایا ہو۔ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ

صفحہ 2 از 3