رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ…

رسول اللہﷺنے اپنی زندگی میں ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ پر امام کرنے کا حکم فرمایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے رہے۔

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 3 از 3

 ان روایات اور احادیث سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوگئی کہ رسول اللہﷺ سیدنا ابوبکرؓ کو ہی امامت کے لائق اور حقدار سمجھتے تھے۔ اسی لئے تو اپنا مصلیّٰ مبارک، اپنی زندگی ہی میں سیدنا ابوبکرؓ کے سپرد کیا تاکہ لوگوں کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی عظمت و عزت کا علم ہو جائے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ رسول اللہﷺ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ایمان سے اچھی طرح واقف تھے، اسی لئے تو اپنا مصلیّٰ مبارک اور امامتّ نماز، جو سب سے اہم چیز اور بنیادی رکن ہے، سیدنا ابوبکرؓ کے سپرد کیا۔ اور رسول اللہﷺ نے اپنے اس فیصلہ سے ظاہر فرمایا کہ جو شخص سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر اعتماد نہیں کرتا، اس کو نبیﷺ پر اعتماد نہیں ہے۔ اور جس کو نبیﷺپر اعتماد نہیں، وہ اپنے آپ کو مسلمان یا مؤمن کہلانے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا علیؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ نے اس فیصلہ کو بغیر کسی تردد کے قبول فرمایا اور سیدنا ابوبکرؓ کے ساتھ اُسی پیار و محبت کا سلوک اختیار کیا، جس طرح آپ ﷺ حیّاتِ طیبہ میں کرتے تھے۔ اس معلوم ہوا کہ ان کے درمیان محبت و الفت یگانگت اور بھائی چارہ آخر دم تک بدستور قائم رہا۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ مؤمن نہیں تھے، بلکہ منافق تھے۔ (نعوذباللہ) گویا ایسے لوگ نبی اکرم ﷺ کے فیصلہ کو ٹھکرا کر، اپنی رائے ٹھونستے ہیں۔

 یہ سب اس لئے کرتے ہیں تاکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو موردِ الزام ٹھہرایا جاسکے۔ لیکن اس طرح سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر الزام بعد میں عائد ہوتا ہے، پہلے (معاذاللہ) رسول اللہﷺ پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسے شخص کو اپنے مصلیّٰ کا امام کیوں بنایا؟ جوکہ مؤمن ہی نہیں تھا؟ اس طرح تو رسول اللہﷺ کو ہدف تنقید بنانے والے اپنی بے ایمانی کا خود ثبوت دیتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئیے! نماز دین کا اہم رکن ہے۔ اس اہم رکن کے ادا کرنے کے لئے نبی اکرمﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب فرما کر ان کو نماز کے لئے امام مقرر فرمایا۔ معلوم ہوا کہ یہ کام نبی اکرمﷺ نے اپنی مرضی سے نہیں کیا، بلکہ وحی کے ذریعے کیا ہے حضورﷺ کا یہ فرمان: مُرُوْا اَبَابَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ یعنی ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ اس سے سیدنا ابوبکرؓ کے ایمان و تصدیق کی مہر مِنَ اللہِ وَ مِنَ الرَّسُوْلِ ثابت ہو چکی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ سچے مؤمن اور نِفاق سے پاک و صاف تھے اور جو نہ مانے تو اپنے ایمان کی خیر منائے۔ بعض متعصّب شیعہ یہ کہ دیتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ خود جاکر بزور امامت کرنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ ایسی من گھڑت بات ہے جو کوئی ذی علم و فہم انسان اس کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ بقول شیعہ اگر یہ بات ہوتی تو صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت عظامؓ نے ان کو مصلیّٰ سے کیوں نہ ہٹایا؟ آج بھی کوئی کسی مسجد میں، کسی امام کے مصلیّٰ یا منبر پر اس کی اجازت کے بغیر کھڑا نہیں ہوسکتا تو امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے مصلیّٰ یا منبر پر کون اپنی مرضی سے کھڑے ہونے کی جرأت کرسکتا تھا؟ یہاں سے ثابت ہوا کہ رسول اللہﷺ صدیق اکبرؓ کو ہی تمام صحابہؓ میں افضل واعلیٰ سمجھتے تھے۔ اور پھر امام صغریٰ ان کو سونپ کر بتلا دیا کہ جو شخص تم میں سب سے اعلیٰ و افضل ہے، میں اسی کو امام صغریٰ دیتا ہوں۔ اس لئے میرے بعد امامت کبریٰ یعنی خلافت کا حق بھی سیدنا ابوبکرؓ کو ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفۃُ الرّسول کہہ کر پکارتے تھے۔ یہ خصوصیت صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ہی ہے اور باقی خلفاء کو امیر المؤمنین کہا جاتا تھا۔


صفحہ 3 از 3