حضورﷺ اور آپﷺ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کی نماز جنازہ میں…

حضورﷺ اور آپﷺ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کی نماز جنازہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شرکت

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 2 از 3

مدینہ و مکہ کے گرد و نواح کے مسلمانوں کو اطلاع ہوئی تو لوگ جوق درجوق مدینہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور یہ کوئی معمولی واقعہ تو نہیں تھا۔ نبی آخرِالزمان، سید المرسلین، رحمۃ للعالمینﷺ کی رحلت کا سانحہِ عظیم تھا۔ اس کے علاوہ حجرۂ مبارکہ بھی اتنا وسیع نہیں تھا کہ جس میں بیک وقت زیادہ آدمی آپﷺ کے آخری دیدار کا شرف حاصل کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے دس دس کی جماعت حجرہ شریفہ میں داخل ہوکر، آپ پر درود پڑھ کر نکل جاتی۔ پھر دوسری جماعت اندر جاتی۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اتنی تعداد میں مسلمانوں کا مدینہ آنا، اور پھر سب کا آپﷺ کے آخری دیدار سے مشرف ہونا، معمولی بات نہیں تھی۔ اس اعتبار سے تین دن بھی بہت تھوڑا عرصہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ دن لگ جاتے تو کچھ بعید نہیں تھا، لیکن یہ صحابہ کرامؓ ہی ہیں، جنہوں نے اتنے تھوڑے عرصہ میں یہ کام مکمل کرلیا کہ قرب و جوار کا کوئی مسلمان آپﷺ کے آخری دیدار سے محروم نہیں رہا (دیکھیں حیات القلوب)

اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ تعلیم نبویﷺ سے پوری طرح واقف تھے۔ ان کو یہ حدیث بھی اچھی طرح یاد تھی کہ انبیآء علیہم السلام کے وصال کے بعد ان کے جسم اطہر میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوتا اور نہ ہی جسم اطہر کو زمین کھاتی ہے۔ ان کے جسم بالکل صحیح و سالم رہتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کو اس لئے تاخیر میں کسی قسم کا اندیشہ نہیں تھا۔

سیدنا حسنؓ کا جنازہ سیدنا سعید بن العاصؓ نے پڑھایا

غسله الحسين و العباس و محمد إخوته و صلى عليه سعيد بن العاص و كانت وفاته سنة تسع و أربعين

 سیدنا حسنؓ کو ان کے بھائیوں سیدنا حسینؓ، عباسؓ اور محمد نے غسل دیا اور نمازِ جنازہ سیدنا سعید بن العاصؓ نے پڑھائی۔ سیدنا حسنؓ کی وفات 49ھ میں ہوئی۔

(کشف الغمہ جلد1 صفحہ 583، مطبوعہ نجف عراق۔ دیکھیں عکس صفحہ 297)

ابوالفرج اصفہانی شیعی (المتوفی 356ھ) لکھتا ہے:

ان الحسين بن علي قدم سعيد بن العاص للصلاة على الحسن بن علي وقال تقدم

سیدنا حسینؓ نے سعید بن عاصؓ سے سیدنا حسنؓ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لئے کہا کہ آگے ہوکر نماز پڑھائیں۔

(مقاتل الطالبین صفحہ 50ذکر حسن بن علی مطبوعہ نجف عکس صفحہ 226)

شیعوں کے محدث میر زا محمد بن معتمد خان البدخشی

(المتوفی 1121ھ) کتاب نزل الابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ86 طبع ایران اور مورخ میر زا محمد تقی سپہر(المتوفی 1297ھ) ناسخ التواریخ جلد2 صفحہ 155 میں لکھتے ہیں:

سعید بن العاص وکان یومئذ امیرا علی المدینۃ فقدمہ الحسین فی الصلوٰۃ علیہ وقال ھی السُّنّۃ

 سعید بن العاصؓ ان دنوں میں مدینہ کے گورنر تھے۔ سیدنا حسنؓ کی نمازہ جنازہ پڑھانے کے لئے سیدنا حسینؓ نے ان کو آگے کیا اور پھر فرمایا کہ یہ طریقہ سنت ہے (یعنی حاکمِ وقت نماز پڑھائے)

سیّدہ فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے پڑھائی

العلامہ المحدث شیخ علی متقی ہندی (المتوفی 975ھ) نے ایک حدیث بیان کی ہے:

عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: ماتت فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم فجاء أبو بكر وعمر ليصلوا فقال أبو بكر لعلي بن أبي طالب: تقدم، فقال: ما كنت لأتقدم وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقدم أبو بكر فصلى عليها. 

سیدنا جعفر صادقؒ اپنے والد محمد باقرؒ سے روایت کرتے ہیں کہ سیّدہ فاطمہؓ دختر رسول اللہﷺ فوت ہوئیں تو سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں نماز جنازہ پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو (نماز پڑھانے کے لئے) کہا کہ آگے تشریف لائیں تو سیدنا علیؓ نے جواب دیا کہ آپ خلیفۂ رسول اللہﷺ ہیں، میں آپ سے پیش قدمی نہیں کرسکتا۔ پس سیدنا ابوبکرؓ نے آگے بڑھ کر نمازِ جنازہ پڑھائی۔

(کنز العمال جلد12صفحہ 515 باب فضائِل الصحابہؓ حدیث 35677 عکس صفحہ487)

(مکتبہ شاملہ: كنز العمال (12 / 515): حدیث نمبر 35677)

عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ فَاطِمَةَ، رضِيَ اللهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ دَفَنَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلًا، وَأَخَذَ بِضَبْعَيْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدَّمَهُ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهَا كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالصَّحِيحُ 

شعبی سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہؓ فوت ہوئیں تو سیدنا علیؓ نے ان کو رات میں دفن کیا اور (جنازہ کے موقعہ پر) سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھایا۔

(بیہقی جلد 4صفحہ 29 کتاب الجنائز)

(مکتبہ شاملہ: السنن الكبرى للبيهقي (4 / 46) حدیث نمبر 6896)

سیدہ اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے پڑھائی

یہ اُمِ کُلثوم بنتِ علیؓ سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ کی زوجۂ محترمہ تھیں۔ ان کی وفات 49ھ میں ہوئی۔ ہم گذشتہ اوراق میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے نو جنازے ایک ساتھ پڑھائے تھے۔ ان میں سیدہ اُمِ کلثومؓ کا جنازہ بھی تھا۔ (ملاحظہ فرمائیں نسائی کتاب الجنائز) شیعوں کی کتابوں میں بھی واضح طور پر یہ بات تحریر ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے سیدہ اُمِ کُلثومؓ کی نماز جنازہ پڑھائی ہے۔ آپ کی خدمت میں حوالے حاضر ہیں:

وَاَمَّا ام کلثوم زوجھا ابوھا من عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ لما مات عمر تزوجھا عون بن جعفر بن ابی طالب و بعد فوتھ تزوجھا اخوہ محمد بن جعفر فلما توفی محمد تزوجھا عبداللہ بن جعفر وماتت عندھٗ فی الوقت الذی مات فیہ ابنہا زید بن عمر بن الخطاب و صلی علیہما عبد اللہ بن عمر 

سیدہ اُمِ کُلثومؓ کی شادی ان کے والد(علیؓ ) نے عمر بن خطابؓ کے ساتھ کردی اور سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد ان کا نکاح عون بن جعفرؓ کے ساتھ ہوا اور ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی محمد بن جعفرؒ کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔ اور پھر ان کی وفات کے بعد ان کا نکاح عبداللہ بن جعفر کے ساتھ ہوا اور ان کی کے نکاح میں اس وقت فوت ہوئیں، جب ان کے بیٹے زید بن عمر بن خطاب فوت ہوئے تھے۔ ان دونوں کا جنازہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے پڑھایا۔

(نزل الابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ 78 ملاحظہ فرمائیں عکس صفحہ 394)

شیعہ مورخ میر زا عباس قلی خان سپہر لکھتا ہے:

صفحہ 2 از 3